Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المصافحة و المعانقة و غيرهما من وجوه الإكرام عند الالتقاء · حديث 8941

8941 - قال قتادة : و كان الحسن يصافح زاد بن عبدان في روايته و كان أنس يصافح و كان الحسن يصافح رواه البخاري في الصحيح عن عمرو بن عاصم عن همام

کہا قتادہ نے کہ حضرت حسن مصافحہ کیا کرتے تھے۔ ابن عبدان نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ مصافحہ کیا کر تے تھے اور حسن مصافحہ کیا کرتے تھے ۔اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں عمرو بن عاصم سے اس نے ہمام سے ۔

هَمَّامٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on shaking hands, embracing, and other aspects of honor upon meeting · Hadith 8941

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المصافحة و المعانقة و غيرهما من وجوه الإكرام عند الالتقاء · حديث 8942

8942 - و قال قتادة : قلت لأنس أكانت المصافحة في أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم أخبرناه أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو العباس بن يعقوب قال : نا يحيى بن أبي طالب قال : نا عبد الملك بن إبراهيم قال : نا همام فذكره بهذا اللفظ

فرمایا قتادہ نے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا اصحاب رسول میں مصافحہ مروج تھا ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں مروج تھا۔ ہمیں اس کی خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں کہ کہا یحییٰ بن ابی طالب نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عبد الملک بن ابراہیم نے ان کو ہمام نے ،اس کو ذکر کیا ہے اسی لفظ کے ساتھ ۔

و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on shaking hands, embracing, and other aspects of honor upon meeting · Hadith 8942

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المصافحة و المعانقة و غيرهما من وجوه الإكرام عند الالتقاء · حديث 8943

8943 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو العباس محمد بن يعقوب قال : نا يحيى بن أبي طالب قال : أنا عبد الوهاب بن عطاء قال : أنا هشام الدستوائي عن قتادة قال : سأل أياس بن نبهش أنسا قال : أرأيت الرجل يلقى أخاه جابيا من سفر يأخذ بيده ؟ قال : قد كان أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم يتصافحون

اور ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی یحییٰ بن ابی طالب نےان کو عبدالوهاب بن عطاء نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہشام دستوائی نے قتادہ سے وہ کہتے ہیں کہ سوال کیا ایاس بن نبہش نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا تم نے کسی آدمی کو دیکھا جو اپنے کسی بھائی کو ملے اور وہ سفر سے آیا ہو اور یہ اس کا ہاتھ تھام لے ۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تحقیق اصحاب رسول آپس میں مصافحہ کیا کر تے تھے ۔ (یعنی ہاتھ ملاتے تھے )۔

قد كان أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم يتصافحون ← أرأيت الرجل يلقى أخاه جابيا من سفر يأخذ بيده ← سأل أياس بن نبهش أنسا ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on shaking hands, embracing, and other aspects of honor upon meeting · Hadith 8943

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المصافحة و المعانقة و غيرهما من وجوه الإكرام عند الالتقاء · حديث 8944

8944 - أخبرنا أبو سعد الماليني قال : نا أبو أحمد بن عدي الحافظ قال : أنا الحسن ابن سفيان و أبو يعلى و اللفظ له قالا : نا خليفة بن خياط قال : نا درست بن حمزة قال : نا مطر الوراق عن قتادة عن أنس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من عبدين متحابين في الله يستقبل أحدهما صاحبه فيتصافحان و يصليان على النبي صلى الله عليه و سلم إلا لم يتفرقا حتى تغفر ذنوبهما ما تقدم و ما تأخر

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے حافظ سے ان کو حسن بن ابی سفیان نے اور ابویعلی نے اور الفاظ اسی کے ہیں ۔ دونوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے خلیفہ بن خیاط نے ان کو درست بن ضمر ہ نے ان کو مطر الوراق نے ان کو قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرمایا دو بندے جو باہم محبت کرتے ہیں اللہ کی رضا کے لئے ایک ان میں سے دوسرے کے پاس آ تا ہے اور دونوں با ہم مصافحہ کرتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے ہیں وہ ایک دوسرے سے جدانہیں ہوتے کہ دونوں کے گناہ معاف ہو جاتے میں جو پہلے ہوتے ہیں اور جو بعد میں ہوتے ہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← درست بن حمزة ← خَلِیفَۃُ بْنُ خَیَّاطٍ ← الحسن ابن سفيان و أبو يعلى و اللفظ له ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on shaking hands, embracing, and other aspects of honor upon meeting · Hadith 8944

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المصافحة و المعانقة و غيرهما من وجوه الإكرام عند الالتقاء · حديث 8945

8945 - و أخبرنا أبو سعد قال : أنا أبو أحمد قال : أنا محمد بن الحسين بن علي المطيوي قال : نا محمد بن يونس قال : نا يحيى بن راشد مستملي أبي عاصم قال : نا درست بن حمزة قال : نا مطر الوراق قال : نا قتادة عن أنس : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من متحابين تلاقيا فتصافحا إلا تحاتت ذنوبهما كما يتحات ورق الشجر

ہمیں خبر دی ابوسعد نے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ابواحمد نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی محمد بن حسین بن علی مطیری نے ان کو محمد بن یونس نے ان کو یحییٰ بن راشد مستملی نے ان کو ابو عاصم نے ان کو درست بن حمزہ نے ان کو مطر الوراق نے ان کو قتادہ نے انس سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دومحبت کرنے والے جب آپس میں ملتے ہیں اور دونوں مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← درست بن حمزة ← يحيى بن راشد مستملي أبي عاصم ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← محمد بن الحسين بن علي المطيوي ← أَبُو أَحْمَدَ ← أَبُو سَعْدٍ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on shaking hands, embracing, and other aspects of honor upon meeting · Hadith 8945

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المصافحة و المعانقة و غيرهما من وجوه الإكرام عند الالتقاء · حديث 8946

8946 - أخبرنا أبو سعد الماليني قال : أنا أبو أحمد بن عدي قال : أنا أبو يعلى قال : نا إبراهيم بت محمد بن عرعرة قال : نا يوسف بن يعقوب السدوسي قال : نا محمد بن عجلان عن ميمون بن سياه عن أنس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من مسلمين التقيا فأخذ أحدهما بيد صاحبه إلا كان حقا على الله عز و جل أن يحضر دعاءهما و لا يفرق بينهما حتى يغفر لهما

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو ابویعلی نے ان کو ابراہیم بن محمد بن عرعرہ نے ان کو یوسف بن یعقوب سدوسی نے ان کو محمد بن عجلان نے ان کو میمون بن سیاہ نے ان کو انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم سے وہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دومسلمان جب آپس میں ملتے ہیں اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے تو اللہ پر یہ حق ہو جا تا ہے کہ ان دونوں کی دعا کو قبول کرے اور دونوں کے جدا ہونے سے قبل ان کی مغفرت کر دے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← مَيْمُونِ بْنِ سِيَاهٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السَّدُوسِيُّ، ← إبراهيم بت محمد بن عرعرة ← أَبُو يَعْلَى ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on shaking hands, embracing, and other aspects of honor upon meeting · Hadith 8946

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المصافحة و المعانقة و غيرهما من وجوه الإكرام عند الالتقاء · حديث 8947

8947 - أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى قال : نا أبو العباس الأصم قال : نا أحمد بن عبد الحميد الحارثي قال : نا محمد بن بشار العبدي عن سفيان عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن الأسود قال : من تمام التحية الأخذ باليد و قد روى هذا من وجه آخر مرفوعا

ہمیں خبر دی ابوسعید محمد بن موسیٰ سے وہ کہتے ہیں کہ کہا ابوالعباس اصم نے ان کو احمد بن عبدالحمید حارث نے ان کو محمد بن بشار عبدی نے ان کو سفیان بن ابی اسحٰق نے ان کو عبدالرحمٰن بن اسود نے وہ کہتے ہیں کہ سلام کی تکمیل میں سے ہے ہاتھ تھامنا اور یہ حدیث مروی ہےدوسرے طریق سے بطور مرفوع حدیث کے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on shaking hands, embracing, and other aspects of honor upon meeting · Hadith 8947

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المصافحة و المعانقة و غيرهما من وجوه الإكرام عند الالتقاء · حديث 8948

8948 - حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : أنا عبد الله بن إبراهيم بن ماسي قال : نا أبو بكر محمد ابن علي بن شعيب قال : نا أبو بكر بن أبي شيبة قال : نا عبد الله بن المبارك عن يحيى بن أيوب عن عبيد الله بن زحر عن علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من تمام عيادة المريض أن يضع أحدكم يده عليه و يسأله كيف هو و تمام تحيتكم المصافحة

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو عبداللہ بن ابراہیم بن ماسی نے ان کو ابو بکرمحمد بن علی بن شعیب نے ان کو ابوبکر بن ابیشیبہ نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو عبیداللہ بن زحر نے ان کوعلی بن یزید نے ان کو قاسم نے ان کو ابوامامہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتے ہیں کہ مریض کی عیادت کی تکمیل میں سے ہے کہ ایک تمہارا اپنا ہاتھ اس پر رکھے اور اس سے پوچھے کہ اس کی کیا کیفیت ہے اور تمہارے سلام کی تکمیل ہاتھ ملانا اور مصافحہ کرتا ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أبو بكر محمد ابن علي بن شعيب ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَاسِيٍّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on shaking hands, embracing, and other aspects of honor upon meeting · Hadith 8948

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المصافحة و المعانقة و غيرهما من وجوه الإكرام عند الالتقاء · حديث 8949

8949 - و أخبرنا أبو سعد الماليني قال : أنا أبو أحمد بن عدي قال : نا بكر بن عبد الوهاب القزاز قال : نا أحمد بن عبده قال : أنا يحيى بن سليم قال : أنا سفيان الثوري عن منصور بن المعتمر عن خيثمة عن رجل عن ابن مسعود : إن تمام التحية الأخذ باليد

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو بکر بن عبدالوھاب قزاز نے ان کو احمد بن عبدہ نے ان کویحییٰ بن سلیم نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو منصور بن معتمر نے ان کو خیثمہ نے ایک آدمی سے اس نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک پورا اسلام ہاتھ تھام لیتا ہے۔

ابن مسعود إن تمام التحية الأخذ باليد ← رَجُلٌ: ← خيثمة ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← بكر بن عبد الوهاب القزاز ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on shaking hands, embracing, and other aspects of honor upon meeting · Hadith 8949

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المصافحة و المعانقة و غيرهما من وجوه الإكرام عند الالتقاء · حديث 8950

8950 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد قال : نا ابن أبي قماش قال : نا القواريري قال : نا سالم بن غيلان بن سالم قال : سمعت الجعد أبا عثمان قال : حدثني أبو عثمان النهدي عن سلمان الفارسي : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن المسلم إذا لقى أخاه فأخذ بيده تحاثت عنهما ذنوبهما كما يتحات الورق اليابس من الشجر في يوم عاصف وإلا غفر لهما و إن كانت ذنوبهما مثل زبد البحر

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عیینہ نے ان کو ابن ابی قماش نے ان کو قواریری نے ان کو سالم بن غیلان بن سالم نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا جعد ابوعثمان سے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے ابوعثمان نہدی نے ان کو سلمان فارسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک مسلمان جب اپنے بھائی سے ملتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے تو اس کے دونوں گناہ ایسے جھڑ تے ہیں جیسے سوکھے پتے درخت سے سخت تند ہوا کے دن چھٹر تے ہیں ۔ورنہ ان دونوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے اگر چہ ان کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ← أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ← الجعد أبا عثمان ← سالم بن غيلان بن سالم ← الْقَوَارِيرِيُّ ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on shaking hands, embracing, and other aspects of honor upon meeting · Hadith 8950

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المصافحة و المعانقة و غيرهما من وجوه الإكرام عند الالتقاء · حديث 8951

8951 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقري قال : أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : نا يوسف بن يعقوب قال : نا محمد بن أبي بكر قال : نا حميد بن الأسود قال : نا مصعب بن ثابت عن العلاء ابن عبد الرحمن قال : قال أبي : قال أبو هريرة : وقف نبي الله صلى الله عليه و سلم على حذيفة فقال : يا حذيفة هلم يدك فكف حذيفة فقال : الثانية فكفها حذيفة ثم قال : الثالثة فقال حذيفة : يا رسول الله إني جنب و إني أكره أن تمس يدي يدك قال : هلمها أما علمت يا حذيفة أن المرء المسلم إذا لقي أخاه فسلم عليه و صافحه تحاتت أو قال : تحاطت الخطايا والذنوب بينهما كما يتحات الورق من الشجر

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابی بکر نے ان کوحمید بن اسود نے ان کو مصعب بن ثابت نے ان کو علاء بن عبد الرحمٰن نے ان کو والد صاحب نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پاس ٹھہر گئے اور فرمایا اے حذیفہ اپنا ہاتھ لائیے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ رک گئے ۔ پھر دوسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ہاتھ روک لیا۔ پھر تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب والا ہوں ( مجھے غسل کی حاجت ہے ) اور میں نے ناپسند کیا ہے کہ اس حالت میں میرا ہاتھ آپ کے ہاتھک وچھوئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یالا یئے ۔ کیا تم نہیں جانتے اے حذیفہ کہ مسلمان آدمی جب اپنے کسی بھائی کو ملتا ہے اور اس پر سلام کہتا ہے اور اس کے ساتھ ہاتھ ملاتا ہے تو اس کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ۔ ( تحاتت یا تحاطت فرمایا تھا ) اس طرح ( خطا یا کہا تھا یا ذنوب کہا تھا ) دونوں کے درمیان جیسے پتے درخت سے۔

حُذَيْفَةَ ← الثَّالِثَةِ. ← الثانية فكفها حذيفة ثم ← يا حذيفة هلم يدك فكف حذيفة ← أبو هريرة وقف نبي الله صلى الله عليه و سلم على حذيفة ← أَبِي ← العلاء ابن عبد الرحمن ← مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on shaking hands, embracing, and other aspects of honor upon meeting · Hadith 8951

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المصافحة و المعانقة و غيرهما من وجوه الإكرام عند الالتقاء · حديث 8952

8952 - و روى عن الوليد بن رباح عن أبي هريرة عن معاذ : أنه لقي النبي صلى الله عليه و سلم و حذيفة أشبه و الله أعلم

اور روایت کی گئی ہے ولید بن رباح سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس نے معاذ سے وہ حضور صلی اللہ مایہ وسلم سے ملے تھے (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بات فرمائی تھی )اور حضرت حذیفہ کے ساتھ یہ واقعہ پیش انا زیادہ درست ہے۔ واللہ اعلم۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، ← و روي

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on shaking hands, embracing, and other aspects of honor upon meeting · Hadith 8952

chevron_left Previous
1…272829…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood