Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في قيام المرء لصاحبه على وجه الإكرام و البر · حديث 8929

8929 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : أنا جدي أبو عمرو قال : نا عبد الله بن محمد بن مسلم الاسفرايني قال : نا يونس بن عبد الأعلى قال : نا معن بن عيسى عن محمد بن هلال عن أبيه عن أبي هريرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أراد أن يدخل بيتا قمنا له

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ،ان کو میرے دادا ابوعمرو نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی عبداللہ بن محمد بن مسلم اسفرائنی نے ان کو یونس بن عبدالاعلیٰ نے ان کو حصن بن عیسیٰ نے ان کو محمد بن ہلال نے اپنے والد سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی گھر میں داخل ہونے کا ارادہ کر تے تھے تو ہم لوگ ان کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ هِلاَلٍ ← مَعْن بن عيسی ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← عبد الله بن محمد بن مسلم الاسفرايني ← جَدِّي أَبُو عَمْرٍو ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on standing up for one's companion in terms of honor and righteousness · Hadith 8929

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في قيام المرء لصاحبه على وجه الإكرام و البر · حديث 8930

8930 - و أخبرنا أبو علي الروذباري قال : أنا أبو بكر بن داسه قال : نا أبو داود قال : نا هارون بن عبد الله قال : نا أبو عامر قال : نا محمد بن هلال سمع أباه يحدث قال : قال أبو هريرة : و هو يحدثنا : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يجلس معنا في المسجد يحدثنا فإذا قمنا قياما حتى نراه قد دخل بعض بيوت أزواجه

ہمیں خبر دی ابوعلی روذ باری نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ہارون بن عبد اللہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابو عامر نے وہ کہتے ہیں ان کو خبر دی ہے محمد بن ہلال نے اس نے سنا اپنے والد سے دو حدیث بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے اور ہم لوگوں کو حدیث بیان کرتے تھے ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تھے تو ہم لوگ بھی کھڑے ہو جایا کرتے تھے اور دیکھتے رہتے تھے ، یہاں تک کہ آپ اپنی بعض بیویوں کے گھر چلے جاتے تھے۔

أَبَاهُ ← مُحَمَّدِ بْنِ هِلاَلٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on standing up for one's companion in terms of honor and righteousness · Hadith 8930

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في قيام المرء لصاحبه على وجه الإكرام و البر · حديث 8931

8931 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال أنا أحمد بن عبيد قال : نا محمود بن محمد الحلبي قال نا عبيد بن جناد قال نا عطاء بن مسلم عن الأعمش عن خيثمة عن عدي بن حاتم قال : ما دخلت على النبي صلى الله عليه و سلم قط إلا توسع لي أو قال تحرك لي قال : فجئت يوما و هي في بيت مملوء من أصحابه فلما رآني تحرك لي أو قال : توسع لي حتى جلست إلى جانبه

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کواحمد بن عبید نے ، ان کو محمود بن محمد حلیفی نے ان کو عبید بن جناد نے ان کو عطاء بن مسلم نے ان کو اعمش نے ان کوخثیم نے ان کوعدی بن حاتم نے وہ کہتے ہیں کہ میں جب بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے محفل میں گنجائش پیدا کی یا میرے لئے اپنی جگہ سے ہٹ گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ایک دن ان کے پاس آیا اور وہ ایک گھر میں بیٹھے ہوئے تھے جو آپ کے اصحاب سے بھرا ہوا تھا۔ جب مجھے دیکھا تو میرے لئے اپنی جگہ سے ہٹ گئے یا یوں کہا کہ میرے لئے ضرورت کی یہاں تک کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں بیٹھ گیا۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← خيثمة ← الْاَعْمَشِ ← عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ ← عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ ← محمود بن محمد الحلبي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on standing up for one's companion in terms of honor and righteousness · Hadith 8931

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في قيام المرء لصاحبه على وجه الإكرام و البر · حديث 8932

8932 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه قال : أنا أبو بكر القطان قال : نا أحمد بن يوسف قال : نا محمد بن يوسف الفريابي ح و أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : أنا إسماعيل بن عبد الله الميكالي قال : نا علي بن سعيد العسكري قال : نا جعفر بن محمد بن الفضيل الراسبي قال : نا محمد بن يوسف الفريابي قال : نا أبو الأسود مجاهد بن فرقد الطرابلسي قال : نا واثلة بن الخطاب القرشي قال : دخل رجل المسجد و النبي صلى الله عليه و سلم وحده فتحرك له النبي صلى الله عليه و سلم فقيل له يا رسول الله المكان واسع فقال : إن للمؤمن حقا لفظ حديث السلمي و قد أخرجته في كتاب المدخل على لفظ حديث الفقيه و رواه إسماعيل بن عياش عن مجاهد بن فرقد

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے ان کو محمد بن یوسف فرمائی نے ( ح ) اور ہمیں خبر دی ابوعبد الرحمٰن سلمی نے ان کو اسماعیل بن عبداللہ میکالی نے ان کو علی بن سعید عسکری نے ان کو جعفر بن محمد بن فضیل راسبی نے ان کو محمد بن یوسف فریابی نے ان کو ابوالاسود بن فرقد طرابلسی نے ان کو واثلہ بن خطاب قرشی نے فرمایا کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اکیلے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے اپنی جگہ سے ہٹ گئے ۔کہا گیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) جگہ تو بڑی کشادہ تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تو درست ہے لیکن مؤمن کا حق ہوتا ہے۔ یہ الفاظ حد یث سلمی کے ہیں اور میں نے اس کو درج کیا ہے کتاب المدخل میں فقیہ کے الفاظ کے مطابق اور اس کو روایت کیا ہے اسماعیل بن عیاش نے اس نے مجاہد بن فرقد سے ۔

واثلة بن الخطاب القرشى ← أبو الأسود مجاهد بن فرقد الطرابلسي ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفُضَيْلِ الرَّاسِبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ← إسماعيل بن عبد الله الميكالي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← و، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on standing up for one's companion in terms of honor and righteousness · Hadith 8932

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في قيام المرء لصاحبه على وجه الإكرام و البر · حديث 8933

8933 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد قال : نا عبيد بن شريك قال : نا عبد الوهاب قال : نا إسماعيل بن عياش عن مجاهد بن فرقد عن واثلة بن الخطاب قال : دخل رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو في المسجد قاعد فتزحزح له رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال الرجل يا رسول الله إن في المكان سعة فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن للمسلم حقا إذا رآه أخوه أن يتزحزح له و كذلك رواه المعافي عن إسماعيل

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو مجاہد بن فرقد نے ان کو واثلہ بن خطاب نے کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے اپنی جگہ چھوڑ دی ۔ آدمی نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) جگہ میں تو بہت وسعت تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک مسلمان کا ایک حق ہوتا ہے۔ اور اس کو روایت کیا ہے المعانی نے اسماعیلی سے ۔

واثلة بن الخطاب ← مجاهد بن فرقد ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on standing up for one's companion in terms of honor and righteousness · Hadith 8933

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في قيام المرء لصاحبه على وجه الإكرام و البر · حديث 8934

8934 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد الصفار قال : نا ابن ناجيه قال : نا حسين بن عمرو بن محمد العنقري قال : نا أبي عن عبد الله بن بديل بن ورقاء عن محمد بن المنكدر عن جابر : جاءت امرأة إلى النبي صلى الله عليه و سلم و رجل عنده فقام حتى قعدت فقال النبي صلى الله عليه و سلم أمك هي ؟ قال لا قال : أختك هي ؟ قال : لا قال : تعرفها ؟ قال : لا قال : رحمتها رحمك الله

ہمیں خبر وی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفان نے ان کو ابن ناجیہ نے ان کو حسین بن عمر بن محمد عنقری نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبداللہ بن بذیل بن ورقاء نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ ایک عورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور ان کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا وہ کھڑا ہو گیا ( گویا اس نے اپنی جگہ اس عورت کے لئے چھوڑ دی ) وہ بیٹھ گئی ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ یہ تیری ماں ہے؟ بولا کہ نہیں۔ پھر پوچھا کہ کیا یہ تیری بہن ہے؟ بولا کہ نہیں ۔ پھر آپ نے پوچھا کہ کیا تو اس کو جانتا ہے؟ بولا کہ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس پر شفقت کی ہے اللہ نے تمہارے اوپر شفقت فرمائی ہے۔

مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عبد الله بن بديل بن ورقاء ← أَبِي ← حسين بن عمرو بن محمد العنقري ← ابْنُ نَاجِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on standing up for one's companion in terms of honor and righteousness · Hadith 8934

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في قيام المرء لصاحبه على وجه الإكرام و البر · حديث 8935

8935 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق قال : أنا أبو عبد الله بن يعقوب قال : أنا محمد بن عبد الوهاب قال : أنا جعفر بن عون قال : أنا موسى عن يعقوب بن زيد قال : قال عمر رضي الله عنه : من أراد أن يصفو له ود أخيه فليوسع له في مجلسه و ليدعه بأحب الأسماء إليه و ليسلم عليه إذا لقيه

ہمیں خبر دی زکریا بن ابی اسحٰق نے ان کو ابوعبداللہ یعقوب نے ان کومحمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کوموسیٰ نے ان کو یعقوب بن زید نے ان کوعمر رضی اللہ عنہ نے جوشخص چاہتا ہے کہ اس کے دوست کی محبت اس کے لئے خالص ہو جائے اسے چاہئے کہ وہ اس کے لئے اپن محفل میں وسعت کرے اور اس کو ایسے نام سے پکارے جو اس کو محبوب ہو اور وہ جب ملے تو اس کو سلام کرے۔

يَعْقُوبَ بْنِ زَيْدٍ ← مُوسَى ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on standing up for one's companion in terms of honor and righteousness · Hadith 8935

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فمن كره القيام له تورعا مخافة الكبر · حديث 8936

8936 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : حضرت مجلس أبي محمد عبد الرحمن بن حمدان بن المزربان الخزار بهمدان محدث عصره فخرج إلينا و نحن قعود ننتظره فلما أقبل علينا قمنا عن آخرنا فزبرنا ثم قال : نا إبراهيم بن الحسين بن ديزيل قال : نا عفان بن مسلم قال : نا حماد بن سلمة عن حميد عن أنس قال : ما كان شخص أحب إليهم من رسول الله صلى الله عليه و سلم و كانوا إذا رأوه لم يتحركوا لما عرفوا من كراهيته لذلك

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں ابومحمد عبدالرحمٰن بن حمدان بن مرزبان خزاز کی مجلس میں ہمدان میں حاضر ہوا۔ وہ اپنے وقت کے محدث تھے ۔ وہ ہمارے پاس باہر نکل کر آئے تو ہم لوگ ان کے انتظار میں بیٹھے ہوئےتھے ۔ جب وہ ہمارے سامنے آ گئی تو ہم سب کھڑے ہو گئے ۔لہذا انہوں نے ہم سب کو ڈانٹا ۔ پھر فرمایا : ہمیں خبر دی ابراہیم بن حسین بن دیز یل نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی عفان بن مسلم نے ان کوحماد بن سلمہ نے حمید سے اس نے انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا کہ کوئی شخص ان لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب نہیں تھا اور وہ یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آتے ہوئے دیکھ لیتے تھے تو اپنی جگہ سے چلتے بھی نہیں تھے ۔اس لئے کہ وہ جانتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لئے ان کے کھڑے ہونے کو ناپسند فرماتے ہیں۔

أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Separation of the one who hates standing up for fear of arrogance · Hadith 8936

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فمن كره القيام له تورعا مخافة الكبر · حديث 8937

8937 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه قال : أنا أبو حامد بن بلال قال : نا أبو الأزهر قال : نا محمد بن بشر عن مسعر ح و أخبرنا أبو نصر بن قتادة قال : أنا أبو الحسن علي بن الفضل بن محمد بن عقيل الخزاعي قال : أنا الفريافي يعني جعفر بن محمد قال : نا أبو بكر بن أبي شيبة قال : نا عبد الله بن نمير عن مسعر عن أبي العنبس عن أبي العديس عن أبي مرزوق عن أبي غالب عن أبي أمامة قال : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم متوكئا على عصا فقمت إليه فقال : لا تقوموا كما تقوم الأعاجم يعظم بعضهم بعضا قال : و كأنا اشتهينا أن يدعو لنا فقال : اللهم اغفر لنا و ارحمنا و ارض عنا و تقبل منا و أدخلنا الجنة و نجنا من النار و أصلح لنا شأننا كله فكأن اشتهينا أن يزيدنا قال : قد جمعت لكم الأمور

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابوالا زھر نے ان کو محمد بن بشر نے ان کو مسعر نے ( ح ) اور ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے وہ کہتے ہیں ابوالحسن علی بن فضل بن محمد بن عقیل خزاعی نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو فریابی نے یعنی جعفر بن محمد نے ان کو ابوبکر بن شیبہ نے کو عبداللہ بن نمیر نے ان کو مسعر نے ان کو ابوالعنبس نے ان کو ابوالعد یس نے ان کو ابومرزوق نے ان کو ابو غالب نے ان کو ابوامامہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر ہمارے پاس آئے انہوں نے اپنی لاٹھی پر سہارا لگایا ہوا تھا۔ میں ان کی طرف اٹھ کھڑ اہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامت کھڑے ہوا کرو جیسے عجمی کھڑے ہوتے ہیں وہ ایک دوسرے کی تعظیم کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ گویا ہم نے چاہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے لئے دعا کر یں۔ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعافرمائی: اللهم اغفر لنا وارحمنا وارض عنا وتقبل منا وادخلنا الجنة ونجنا من النار واصلح لنا شأننا كله اے اللہ ہماری مغفرت فرما۔ ہمارے او پر رحم فرما اور ہم لوگوں سے راضی ہو جا اور ہم سے قبول فرما اور ہمیں جنت میں داخل فرما اور ہمیں جہنم سے نجات عطافرما اور ہماری ہر حالت کو درست فرما۔ اس کے بعد گویا کہ ہم نے یہ چاہا کہ ہمارے لئے اور زیادہ دعافرمائیں ۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لئے دعامیں تمام امور کو جمع کر دیا ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَبِي غَالِبٍ ← أَبِي مَرْزُوقٍ ← أَبِي الْعُدَيْسِ، ← أَبِي الَعَنَبَسِ ← مِسْعَرٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الفريافي يعني جعفر بن محمد ← أبو الحسن علي بن الفضل بن محمد بن عقيل الخزاعي، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← و، ← مِسْعَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Separation of the one who hates standing up for fear of arrogance · Hadith 8937

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فمن كره القيام له تورعا مخافة الكبر · حديث 8938

8938 - قال : وروينا عن معاوية : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أحب أن يمثل له الرجال قياما فليتبوأ مقعده من النار قال : أبو سليمان الخطابي رحمه الله في معنى هذا هو أن يأمرهم بذلك و يلزمه إياهم على مذهب الكبر و النخوة و قوله : يمثل معناه يقوم و ينتصب من بين يديه قال : و في حديث سعد دلالة على أن قيام المرء بين يدي الرئيس الفاضل والوالي العادل وقيام المتعلم للعالم مستحب غير مكروه قلت : وهذا القيام يكون على وجه البر والإكرام كما كان قيام الأنصار لسعد و قيام طلحة ـ لكعب بن مالك و لا ينبغي للذي يقام له أن يريد ذلك من صاحبه حتى إن لم يفعل حنق عليه أو شكاه أو عاتبه

فرمایا کہ اور ہم نے روایت کی ہے معاویہ سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص پسند کرے کہ لوگ اس کے لئے بت بن کر کھڑے ہو جائیں اس کو اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے ۔ حضرت ابوسلیمان خطابی نے فرمایا اس کا مطلب ہے کہ وہ لوگوں کو اس بات کا حکم دے اور ان پر یہ کام لازم کرے از راہ تکبر وغرور ۔اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کایہ قول کہ کمثل لہ کا مطلب ہے کھڑاہواور سیدھا نصب ہواس کے سامنے۔ فرمایا کہ حضرت سعد والی حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ کسی آدمی کا رئیس فاضل کے آگے قیام یا انصاف پرور حکمران کے آگے اور شاگرد کا استاد کے آگے کھڑا ہونا مستحب ہے مکروہ نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ قیام بوجہ نیکی اور بوجہ اکرام کے ہے۔ جیسے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لئے انصار کا قیام تھا اور جیسے حضرت طلحہ کا قیام حضرت کعب بن مالک کے لئے تھا اور اس کے لئے یہ قیام کیا جائے اس کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے ساتھی سے اس بات کا ارادہ کرے یا خواہش کرے یہاں تک کہ اگر وہ ایسانہ کرے تو اس پر ناراض ہو یا اس سے شکایت کرے یا اس کوسر زنش کرے۔

مُعَاوِيَةَ، ← وَرُوِّينَا

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Separation of the one who hates standing up for fear of arrogance · Hadith 8938

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فمن كره القيام له تورعا مخافة الكبر · حديث 8939

8939 - سمعت أبا عبد الله الحافظ يقول : سمعت الإمام أبا بكر أحمد أحمد إسحاق يقول : التقيت مع أبي عثمان يعني الحبري يوم عيد في المصلى و كان من عادته إذا التقى بواحد منا فسأله بحضرة الناس عن مسائل فقهية و يريد بذلك إجلاله وزيادة محله عند العوام فسألني بحضرة الناس في مصلى العيد عن مسائل فلما فرغ منها قلت له : أيها الأستاذ في قلبي شيء أردت أن أسألك عنه منذ حين قال : قلت : إني رجل قد دفعت إلى صحبة الناس و حضور هذه المحافل وإني ربما أدخل مجلسا يقوم لي بعض الحاضرين و يتقاعد عن القيام لي بعضهم فأجدني أنضم على المتقاعد حتى لو قدرت على الإساءة إليه فعلت قال : فلما فرغت من كلامي سكت أبو عثمان و تغير لونه و لم يجبني بشيء فلما رأيته قد تغير لونه سكت ثم انصرفت من المصلي فلما كان بعد العصر قعدت له و أذنت للناس فدخل علي عند المساء جار لي قال من كان يتخلف عن مجلس أبي عثمان فقلت له : من أين أقبلت ؟ قال : من مجلس أبي عثمان قلت : و فيما ذا كان يتكلم ؟ قال : أجرى المجلس من أوله إلى آخره في رجل كان ظنه به أجمل ظن فأخبر عن سره بشيء أنكره أبو عثمان و تغير به قال أبو بكر : فعلمت أنه حديثي قلت : وبما ختم حديث ذلك الرجل قال : قال أبو عثمان : أظهر لي من باطنه شيئا لم أشم منه رائحة الإيمان ويشبه أنه على الضلال ما لم يظهر توبته من الذي أخبرني به عن نفسه قال الشيخ أبو بكر : فوقع على البكاء وتبت إلى الله عز و جل مما كنت عليه

میں نے سنا ابوعبداللہ حافظ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا امام ابوبکر احمد بن اسحٰق سے وہ کہتے ہیں کہ میں عید کے دن عید گاہ میں حضرت ابوعثمان حبری سے ملا۔ ان کی عادت تھی کہ وہ ہم لوگوں میں سے کسی ایک سے جب ملتے تھے تو لوگوں کے سامنے اس سے فقہی مسائل پوچھتے تھے۔ وہ ایسا کر کے لوگوں کے سامنے ان کی بڑائی کرنا اور عوام کے سامنے اس کا مرتبہ و مقام ظاہر کرنا چاہتے تھے ۔ جب وہ مسائل پوچھ کر فارغ ہوئے تو میں نے ان سے کہا اسے استاد محترم میرے دل میں ایک بات ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میں اس بارے میں آپ سے پوچھوں ۔ طویل زمانے سے میری یہ خواہش ہے ۔ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ مجھے لوگوں کی صحبت میں رہنا پڑتا ہے اور ایسی محافل میں حاضری کا موقع ماتارہتا ہے، کبھی کبھی ایسی محافل میں جا تا ہوں جس میں بعض حاضر ین مجلس میرے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور بعض کھڑے نہیں ہوتے بلکہ بیٹھے رہتے ہیں ۔ مجھے یہ دیکھ کر غصہ آتا ہے کہ میں بیٹھنے والوں پر برس پڑوں یہاں تک کہ اگر میں ان پر قدرت رکھوں ان کے ساتھ برائی کرنے کی تو ان کے ساتھ برائی کروں ( یعنی ان کو تکلیف پہنچاؤں ) جب بات کر کے میں فارغ ہو گیا تو حضرت ابوعثمان خاموش ہو گئے اور ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ مگر انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے جب دیکھا کہ ان کا رنگ بدل گیا ہے اور وہ چپ بھی ہو گئے ہیں تو میں عید گاہ سے واپس لوٹ آیا۔ جب عصر کی نماز سے فارغ ہوئے تو میں بیٹھ گیا۔ لوگوں کو ملنے کی اجازت دے دی تو شام کے وقت میرے ایک پڑوسی میرے پاس آئےاور کہا کہ کون ہے جو ابوعثمان کی محفل سے پیچھے رہا۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ کہاں سے آ ر ہے ہیں؟ انہوں نے بتایا ابوعثمان کی محفل سے ۔ میں نے پوچھا کہ وہ کس چیز کے بارے میں بات کر رہے تھے؟ اس نے بتایا کہ آج تو انہوں نے اول سے آخر تک اپنی مجلس کسی ایسے شخص کے بارے میں جاری رکھی جس کے بارے میں ان کو بڑا حسن ظن تھا اور اس نے ان کو اپنے کسی راز سے آ گاہ کیا ہے جس کو وہ یعنی ابو عثمان برا سمجھتے ہیں اور اسی سے ان کا رنگ بھی فق پڑ گیا۔ ابوبکر کہتے ہیں کہ میں نے جان لیا کہ وہ بات میری ہی ہوگی ۔ میں نے اس پڑوسی سے پوچھا کہ شیخ ابوعثمان نے اس شخص کے بارے میں بات کہاں ختم کی ہے؟ اس نے بتایا کہ ابوعثمان نے کہا ہے کہ اس شخص نے اپنے باطن کے بارے میں ایسی چیز ظاہر کی ہے جس کی وجہ سے مجھے اس میں ایمان کی بوڑھی محسوس نہیں ہوتی اور زیادہ مناسب یہ ہے کہ وہ شخص گمراہی پر ہے جب تک وہ اس چیز سے تو بہ واضح طور پر نہ کرے جس بات کی اس نے مجھے خبر دی اپنی ذات کے بارے میں ۔ شیخ ابوبکر نے فرمایا کہ یہ بات سن کر مجھے رونا آ گیا اور میں نے رورو کر اللہ کی بارگاہ میں اس حالت سے تو بہ کر لی جس حالت پر میں رو رہا تھا۔

الإمام أبا بكر أحمد أحمد إسحاق ← أبا عبد الله الحافظ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Separation of the one who hates standing up for fear of arrogance · Hadith 8939

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المصافحة و المعانقة و غيرهما من وجوه الإكرام عند الالتقاء · حديث 8940

8940 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد قال : نا محمد بن أحمد العودي قال : نا هدبه ح و أخبرنا أبو عمرو محمد بن عبد الله الأديب قال : أنا أبو بكر الإسماعيلي قال : أنا أبو يعلى قال : نا هدبة قال : نا همام قال : نا قتادة قال : قلت لأنس كانت المصافحة على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی احمد بن عبید نے ان کومحمد بن احمد عودی نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ھدبہ نے (ح)اور ہمیں خبر دی ابو عمرو محمد بن عبداللہ ادیب نے ان کو ابو بکر اسماعیل نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو یعلی نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ھدبہ نے ان کو ہما م نے اس نے کہا کہ ان کو خبر دی قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ عہد رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی مصافحہ ہوتا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ جی ہا ں ہوتا تھا۔

قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ ← أَبُو يَعْلَى ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَدِيبُ ← و، ← هُدْبَةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعُودِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on shaking hands, embracing, and other aspects of honor upon meeting · Hadith 8940

chevron_left Previous
1…262728…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood