Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن قال فلان يقرأ عليك السلام · حديث 8917

8917 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أخبرني أبو منصور محمد بن القاسم العتكي قال : نا أحمد بن نصر قال : نا أبو نعيم نا زكريا بن أبي زائدة قال : سمعت عامرا يقول : حدثني أبو سلمة أن عائشة حدثته : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لها : إن جبريل يقرأ عليك السلام قالت : قلت و عليه السلام و رحمة الله

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابومنصور محمد بن قاسم عتکی نے ان کو احمد بن نصر نے ان کو ابونعیم نے ان کو زکریا بن ابی زائدہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عامر سے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے ابوسلمہ نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان سے: بے شک جبرئیل تمہیں سلام کہتے ہیں۔ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا اس پر سلام اور اللہ کی رحمت ۔

أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ ← عَامِرًا ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← أبو منصور محمد بن القاسم العتكي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in who said so-and-so read peace be upon you · Hadith 8917

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن قال فلان يقرأ عليك السلام · حديث 8918

8918 - و بمعنا رواه معمر و شعيب عن الزهري عن أبي سلمة عن عائشة : ـ

اوراسی مفہوم میں روایت کی ہے معمر نے اور شعیب نے زہری سے اس نے ابوسلمہ سے اس نے عائشہ سے ۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← و بمعنا رواه معمر و شعيب

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in who said so-and-so read peace be upon you · Hadith 8918

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن قال فلان يقرأ عليك السلام · حديث 8919

8919 - قال البخاري و قال يونس و النعمان عن الزهري و بركاته : ـ

بخاری نے کہا ہے اور کہا یونس نے اور نعمان نے زہری سے کہ وبر کاتہ یعنی اس لفظ کا اضافہ ہے۔

الزهري و بركاته ← يونس و النعمان ← البخاري و

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in who said so-and-so read peace be upon you · Hadith 8919

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن قال فلان يقرأ عليك السلام · حديث 8920

8920 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني قال : نعم نا محمد بن مسلمة قال نا يزيد بن هارون قال : أنا شعبة عن غالب القطان كنا تنتظر الحسن فحدثنا رجل من بني تميم عن أبيه عن جده أن أباه : أرسله إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله إن أبي يقرئك السلام فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم و على أبيك السلام

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کوابوعبداللہ محمد بن عبداللہ اصفہانی نے وہ کہتے ہیں کہ ہاں تمہیں خبر دی محمد بن مسلمہ نے ان کو یزید بن ہارون نے وہ کہتے ہیں ان کو خبر دی شعبہ نے ان کو غالب قطان نے کہ ہم لوگ انتظار کر تے تھے حسن کی مگر ہمیں حدیث بیان کی بنوتمیم کے ایک آدمی نے اپنے والد سے کہ اس نے ان کے دادا سے کہ ان کے والد نے اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا یا رسول اللہ ! بے شک میرا والد آپ کو سلام کہتا ہے۔

جده أن أباه أرسله إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال ← أَبِيهِ ← غالب القطان كنا تنتظر الحسن فحدثنا رجل من بني تميم ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ ← نَعَمْ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in who said so-and-so read peace be upon you · Hadith 8920

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن قال فلان يقرأ عليك السلام · حديث 8921

8921 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال نا أحمد بن منصور قال : نا عبد الرزاق قال : أنا معمر عن أيوب عن أبي قلابة : أن رجلا أتى سلمان الفارسي فوجده يعتجن فقال أين الخادم ؟ فقال أرسلته في حاجة قال لم يكن ليجتمع عليه شيآن أن نرسله و لا تكفيه عمله فقال له الرجل إن أبا الدرداء يقرأ عليك السلام قال متى قدمت ؟ قال : منذ ثلاث قال : أما إنك لو لم تؤدها كانت أمانة عندك

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو خبر دی عبدالرزق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے ابوقلابہ سے کہ ایک آدمی آیا سلمان فارسی کے پاس، اس نے دیکھا کہ وہ خود آٹا گوندھ رہے ہیں ۔اس نے پوچھا کہ خادم کہاں ہے؟ انہوں نے اسے بتایا کہ میں نے اس کو کسی کام سے بھیجا ہے ۔ اس نے کہا یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم اس سے دو دو کام لیں ۔ ہم اس کو کام کے لئے بھی بھیجیں۔ آپ اس کا کام نہیں کر سکیں گے۔ وہ آدمی گیا اور اس نے جا کر کہا کہ حضرت ابو درداء تجھے سلام کہتے ہیں ۔ اس نے پوچھا کہ آپ کب ان کومل کر آئے ہیں ؟ اس نے بتایا کہ تین دن سے ۔ اس نے کہا خبر دارا گر آپ یہ سلام نہ پہنچاتے تو یہ تیرے پاس امانت رہتے ۔

أما إنك لو لم تؤدها كانت أمانة عندك ← منذ ثلاث ← «مَتَى قَدِمْتَ؟» ← له الرجل إن أبا الدرداء يقرأ عليك السلام ← لم يكن ليجتمع عليه شيآن أن نرسله و لا تكفيه عمله ← أرسلته في حاجة ← أين الخادم ← أبي قلابة أن رجلا أتى سلمان الفارسي فوجده يعتجن ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in who said so-and-so read peace be upon you · Hadith 8921

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في سلام الواحد أورد الواحد عن الجماعة · حديث 8922

8922 - و روينا في كتاب السنن عن علي مرفوعا : يجزيء عن الجماعة إذا مروا أن يسلم أحدهم و يجزيء عن الجلوس أن يرد أحدهم

ہم نے روایت کی ہے کتاب السنن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بطور مرفوع روایت کے کہ جماعت کی طرف سے سلام کافی رہے گا ۔ جب ان پر کچھ لوگ گذریں ۔اگر جماعت میں سے ایک آدمی سلام کرے اور اسی طرح بیٹھی ہوئی جماعت میں سے یہ کافی رہے گا کہ ان میں سے ایک آدمی سلام کا جواب دے دے۔

الْجُلُوسِ أَنْ يَرُدَّ أَحَدُهُمْ ← الجماعة إذا مروا أن يسلم أحدهم و يجزيء ← علي مرفوعا يجزيء ← و روينا في كتاب السنن

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in the peace of the one listed one from the group · Hadith 8922

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في سلام الواحد أورد الواحد عن الجماعة · حديث 8923

8923 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال نا أحمد بن منصور قال : نا عبد الرزاق قال أنا معمر عن زيد بن أسلم : يرفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : يسلم الراكب على الماشي و الماشي على القاعد و القليل على الكثير و الصغير على الكبير و إذا مر القوم فسلم واحد منهم أجزأ عنهم و إذا رد عن الآخرين واحد أجزأ عنهم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زید بن اسلم نے وہ اس کو مرفوع کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوار پیدل پر سلام کرے اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے پر کرے اور قلیل کثیر پر کرے اور چھوٹا بڑے پر سلام کرے۔ جب قوم گذرے اور ان میں سے کوئی ایک سلام کرے وہ ان سب کی طرف سے کافی ہوگا اور جب ایک آدمی جواب دے تو وہ ان سب کی طرف سے کافی ہوگا ۔

زيد بن أسلم يرفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in the peace of the one listed one from the group · Hadith 8923

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في سلام الواحد أورد الواحد عن الجماعة · حديث 8924

8924 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق قال : نا أبو العباس الأصم قال : نا بحر بن نصر قال : نا ابن وهب قال : أخبرني عمرو بن الحارث عن سعيد بن أبي هلال الليثي قال : سلام الرجل يجزئ عن القوم و رد السلام يجزي عن القوم

ہمیں خبر دی ابوز کریا بن اسحٰق نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وھب نے ان کو خبر دی عمر و بن حارث نے ان کو سعید بن ابو ہلال لیثی نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کا سلام کرنا پوری جماعت کو کفایت کرتا ہے اور ایک آدمی کا جواب دینا سب کی طرف سے کافی ہوتا ہے۔

الْقَوْمَ ← القوم و رد السلام يجزي ← سلام الرجل يجزئ ← سعيد بن أبي هلال الليثي ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in the peace of the one listed one from the group · Hadith 8924

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في قيام المرء لصاحبه على وجه الإكرام و البر · حديث 8925

8925 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال أخبرني أبو النضرة الفقيه قال نا محمد بن أيوب قال : أخبرني أبو الوليد قال : نا شعبة قال أنبأني سعد بن إبراهيم قال : سمعت أبا أمامة بن سهل بن حنيف يحدث عن أبي سعيد الخدري : أن أهل قريظة نزلوا على حكم سعد فأرسل إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فجاء و قال قوموا إلى سيدكم أو خيركم فقعد عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إن هؤلاء قد نزلوا على حكمك قال فإني أحكم أن يقتل مقاتلتهم رواه البخاري في الصحيح عن أبي الوليد أتم في ذلك

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابونصر فقیہ نے ان کومحمد بن ایوب نے ان کو خبر دی ابوالولید نے ان کو شعبہ نے ان کو خبر دی سعد بن ابراہیم نے انہوں نے سنا ابوامامہ بن حنیف سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں ابوسعید خدری سے کہ اہل قریظہ کے کچھ لوگوں نےحضرت سعد کو ثالث بنایا (ہتھیار ڈال دیئے )اور اتراتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پیغام بھیجا۔ جب وہ آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے کہا کہ کھڑے ہو جاؤ تم لوگ اپنے سردار کے لئے یا فر مایا تھا کہ اپنے بہتر شخص کے لئے ۔حضرت سعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ یہ لوگ آپ کے حکم پر اترے ہیں ۔ یعنی آپ کو ثالث مان کر ۔ فرمایا کہ میں فیصلہ کرتا ہوں کہ جوان میں سے لڑنے والے ہیں جو جنگ کے قابل ہیں اور انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں ان کوقتل کر دیا جائے ۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہےصحیح میں ابوالولید سے جو کہ اس سے زیادہ مکمل ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو النضرة الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on standing up for one's companion in terms of honor and righteousness · Hadith 8925

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في قيام المرء لصاحبه على وجه الإكرام و البر · حديث 8926

8926 - و أخبرنا أبو علي الروذباري قال : أنا أبو بكر بن داسه قال نا أبو داود قال : نا محمد بن بشار قال : نا محمد بن جعفر عن شعبة بهذا الحديث قال : فلما كان قريبا من المسجد قال : للأنصار قوموا إلى سيدكم رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن بشار

ہمیں خبر دی ابوعلی روذ باری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ، وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ابوداؤد نے ان کو محمد بن بشار نے ان کو محمد بن جعفر نے ان کو شعبہ نے اس حدیث کے ساتھ وہ کہتے ہیں کہ وہ جب مسجد کے قریب ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ اپنے سردار کے لئے اٹھ کھڑے ہو۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ہمیں محمد بن بشار نے ۔

مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← للأنصار قوموا إلى سيدكم رواه مسلم في الصحيح ← فَلَمَّا کَانَ قَرِيبًا مِنْ الْمَسْجِدِ ← شُعْبَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on standing up for one's companion in terms of honor and righteousness · Hadith 8926

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في قيام المرء لصاحبه على وجه الإكرام و البر · حديث 8927

8927 - و روينا في كتاب الفضائل عن عائشة : عن النبي صلى الله عليه و سلم أن فاطمة كانت إذا دخلت عليه قام إليها فأخذ بيدها فقبلها و أجلسها في مجلسه و كان إذا دخل إليها قامت إليه فأخذت بيده فقبلته و أجلسته في مجلسها

اور ہم نے روایت کی ہے کتاب الفضائل میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہ سید ہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے اور ان کا ہاتھ تھام لیتے تھے اور ہاتھ کو بوسہ دیتے تھے اور اپنے ٹھکانے پر ان کو بٹھاتے تھے اور سید و فاطمہ رضی اللہ عنہا جب بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی تھیں تو آپ شب ان کو اپنی جگہ بٹھا دیتے تھے۔

عَائِشَةَ ← و روينا في كتاب الفضائل

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on standing up for one's companion in terms of honor and righteousness · Hadith 8927

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في قيام المرء لصاحبه على وجه الإكرام و البر · حديث 8928

8928 - و روينا في حديث توبة كعب بن مالك و خروجه إلى المسجد فقال : فقام إلي طلحة بن عبيد يهرول حتى صافحني و هنأني ما قام إلي رجل من الأنصار و المهاجرين غيره و لا أنساها لطلحة

ہم نے روایت کی ہے حدیث تو بہ کعب بن مالک میں اور اس کے مسجد کی طرف نکلنے والی حدیث میں ۔ وہ کہتے ہیں کہ طلحہ بن عبداللہ میری طرف کھڑے ہو گئے اور انہوں نے بھاگ کر میرے ساتھ مصافحہ کیا اور مجھے مبارکباد دی۔ میرے لئے مہاجرین وانصار میں اس کے بغیر کوئی نہیں اٹھا تھا۔ میں طلحہ کی اس بات کو نہیں بھولوں گا۔

و روينا في حديث توبة كعب بن مالك و خروجه إلى المسجد

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on standing up for one's companion in terms of honor and righteousness · Hadith 8928

chevron_left Previous
1…252627…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood