Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على أهل الذمة · حديث 8905

8905 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي قالا نا أبو العباس الأصم قال نا بحر بن نصر قال : نا عبد الله بن وهب قال : سمعت عبد الله بن عمر يحدث عن نافع : أن عبد الله بن عمر سلم على إناس من يهود فأخبر أنهم يهود فرجع إليهم فقال ردوا علي سلامي

ہمیں خبر دی ابوز کریا بن ابی اسحاق نے اور ابوبکر احمد بن حسن قاضی نے دونوں نے کہا ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے وہ کہتے ہیں ان کو عبداللہ بن وہب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن عمر سے وہ حد یث بیان کرتے ہیں نافع سے یہ کہ عبداللہ بن عمر نے یہود کے کچھ لوگوں کے اوپر سلام کیا۔ بعد میں ان کو بتایا گیا کہ یہ یہودی ہیں ۔ انہوں نے ان کی طرف رجوع کیا اور فر مایا کہ میرا سلام مجھ پر واپس کر دیجئے ۔

نَافِعٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in peace be upon the dhimmis · Hadith 8905

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على أهل الذمة · حديث 8906

8906 - قال : و نا عبد الله بن وهب قال : أخبرني السري بن يحيى عن سليمان التيمي عن عبد الله بن عمر : أنه مر برجل فسلم عليه فقيل إنه نصراني فرجع إليه فقال رد علي سلامي قال له نعم لقد رددته عليك قال ابن عمر أكثر الله مالك و ولدك

وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی عبداللہ بن وھب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی سری بن یحییٰ نے ان کو سلیمان تیمی نے ان کو عبد اللہ بن عمر نے کہ وہ ایک آدمی کے پاس سے گذرے اور اس کو انہوں نے سلام کیا ان سے کہا گیا کہ وہ نصرانی ہے ۔ لہذا انہوں نے اس کی طرف رجوع کیا اور کہا کہ میر اسلام واپس کر دیجئے۔ اس نے بھی کہا کہ میں نے اس کو تیرے اوپر واپس کر دیا ہے ۔ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہ اس عیسائی سے کہا اللہ نہ تیرے مال اور تیری اولاد میں اضافہ کرے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in peace be upon the dhimmis · Hadith 8906

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على أهل الذمة · حديث 8907

8907 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال نا أحمد بن منصور قال : نا عبد الرزاق قال : أنا معمر عن قتادة قال : التسليم على أهل الكتاب إذا دخلت عليهم بيوتهم أن تقول السلام على من اتبع الهدى

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ اہل کتاب پر سلام یہ ہے کہ جب آپ ان پر داخل ہوں ان کے گھروں میں تو یوں کہو سلام ہو اس پر جو ہدایت کا پیرو ہوا۔

قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in peace be upon the dhimmis · Hadith 8907

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على أهل الذمة · حديث 8908

8908 - قلت و قد روينا في حديث ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كتب إلى هرقل عظيم الروم سلام على من اتبع الهدي أخبرناه أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل قال : نا الرمادي قال نا عبد الرزاق قال : أنا معمر عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن ابن عباس فذكره

میں نے کہا اور تحقیق ہم نے روایت کی ہے حدیث ابن عباس میں یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا ہرقل سر براہ روم کی طرف ۔سلام على من اتبع الهدی۔اس پر سلام ہو جو ہدایت کا پیروکار ہے۔ ہمیں اس کی خبر دی ہے حسین بن بشران نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو اسماعیل نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو ر مادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے کہ زہری سے ان کو عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے ابن عباس سے اس نے ذکر کیا اس روایت کو ۔

قلت و قد روينا في حديث ابن عباس

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in peace be upon the dhimmis · Hadith 8908

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على أهل الذمة · حديث 8909

8909 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو علي الحسين بن علي الحافظ قال : أنا أبو النضر محمد بن أحمد المروزي من أصل كتابه قال : نا إسحاق بن منصور قال : نا النضر بن شميل قال : أنا شعبة عن المغيرة و سليمان الأعمش عن إبراهيم بن علقمة : أنه كان رديف عبد الله يعني ابن مسعود على حمار فصحبهم الناس من الدهاقين في الطريق فلما بلغوا قنطرة أخذوا طريقا آخر فالتفت عبد الله فلم ير منهم أحدا فقال أين أصحابنا قال : قلت أخذوا الطريق الآخر فقال عبد الله عليكم السلام قال : قلت أليس هذا يكره قال : هذا حق الصحبة قلت : هكذا روى عن عبد الله و لعله لم يبلغه ما بلغ غيره من السنة و متابعة السنة أولى و بالله التوفيق و قد رواه شريك القاضي عن منصور كما

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعلی حسین بن علی حافظ نے ان کو ابوالنضر محمد بن احمد مروزی نے اپنی اصل کتاب سے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی اسحاق بن منصور نے ان کو نضر بن شمیل نے ان کو شعبہ نے ان کو مغیرہ نے اور سلیمان اعمش نے ابراہیم سے اس نے علقمہ سے کہ وہ حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر سوار تھے ۔ گدھی پر راستے میں کسانوں میں سے کچھ لوگ بھی ان کے ساتھی بن گئے جب وہ سب ایک پل پر پہنچے تو سب نے دوسرا راستہ لے لیا۔ حضرت عبداللہ نے جب مڑ کر دیکھا تو ان میں سے کوئی بھی نظر نہ آیا۔ فرمانے لگے کہ ہم لوگوں کے ساتھی کہاں گئے ہیں؟ علقمہ کہتے ہیں میں نے کہا انہوں نے دوسرا راستہ پکڑ لیا ہے تو حضرت عبداللہ نے فرمایا علیکم السلام ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ یہ مکروہ نہیں ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ حق صحبت ہے۔ (امام بیہقی فرماتے ہیں ) میں کہتا ہوں کہ اسی طرح مروی ہے حضرت عبداللہ سے شاید کہ ان کو وہ احادیث نہیں پہنچی جوان کے علاوہ دیگر صحابہ کوپہنچی ہیں ۔ بہر حال سنت کی متابعت اولیٰ ہے۔ اور اللہ تعالی ٰتوفیق دیتا ہے۔ تحقیق اس کو روایت کیا ہے شریک القاضی نے منصور سے ۔ جیسے مندرجہ ذیل ہے۔

إبراهيم بن عَلْقَمَةَ؛ ← المغيرة و سليمان الأعمش ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← أبو النضر محمد بن أحمد المروزي من أصل كتابه ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in peace be upon the dhimmis · Hadith 8909

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على أهل الذمة · حديث 8910

8910 - أخبرنا ابن عبدان قال أنا أحمد بن عبيد قال : نا عباس بن الفضل قال نا يحيى الحماني قال : نا شريك عن منصور عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله : أنه صحبه دهقان فلما انتهى إلى القنطرة اتسعت له الطريق فأخذ فيه الدهقان فاتبعه عبد الله بن مسعود بالسلام قال : قلت أليس يكره هذا قال : بلى و لكن حق الصحبة

ہمیں خبر دی ابن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عباس بن فضل نے ان کو یحییٰ حمانی نے ان کو شریک نے منصور سے اس نے ابراہیم سے اس نے علقمہ سے اس نے عبداللہ بن مسعود سے کہ ایک کسان ان کا ساتھی بن گیا جب پل پر پہنچے تو وہاں سے دوسرا راستہ نکلا ۔ کسان اس راستے پر چلایا ۔ حضرت عبداللہ نے اس کے پیچھے سلام کیا۔ علقمہ کہتے ہیں میں نے پوچھا کہ یہ مکروہ نہیں ہے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں ہے سہی لیکن یہ حق صحبت بھی تو ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← شَرِيکٍ ← يحيى الحماني ← عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← ابن عبدان

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in peace be upon the dhimmis · Hadith 8910

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على أهل الذمة · حديث 8911

8911 - أخبرنا أبو بكر عبد الله بن محمد بن سعيد السكري قال : أنا أبو بكر محمد بن المؤمل قال نا الفضل بن محمد البيهقي قال نا النفيلي قال : نا عثمان بن عبد الرحمن عن طلحة بن زيد عن صور بن يزيد عن أبي الزبير عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تسلموا تسليم اليهود و النصارى فإن تسليمهم إشارة بالكفوف و الحواجب هذا إسناد ضعيف بمرة فإن طلحة بن زيد الرقي متروك الحديث متهم بالوضع و عثمان بن عبد الرحمن ضعيف

ہمیں خبر دی ابو بکر عبداللہ بن محمد بن سعید سکری نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو ابو بکر محمد بن مؤمل نے وہ کہتے ہیں ان کوفضل بن محمد بیہقی نے اور خبر دی نفیلی نے ان کو عثمان بن عبد الرحمٰن نے ان کو طلحہ بن زید نے ان کو صور بن یزید نے ان کو ابوز بیر نے ان کو حضرت جابر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، یہود و نصاری ٰوالا سلام نہ کیا کرو ۔ بے شک ان کا سلام ہتھیلیوں کے ساتھ اور بھنوؤں کے اشارے سے ہوتا ہے۔ یہ اسناد کئی بار ضعیف ہے۔ بے شک طلحہ بن زید رقی متروک الحدیث ہے اور حدیثیں وضع کرنے کا تہمت زدہ ہے اور عثمان بن عبد الرحمٰن ضعیف ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← صور بن يزيد ← طَلْحَةَ بْنِ زَيْدٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← النُّفَيْلِيُّ ← الفضل بن محمد البيهقي ← أبو بَكْر محمد بن المؤمل ← أبو بكر عبد الله بن محمد بن سعيد السكري

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in peace be upon the dhimmis · Hadith 8911

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على أهل الذمة · حديث 8912

8912 - و كيف يصح ذلك و المحفوظ في حديث صهيب و بلال : عن النبي صلى الله عليه و سلم أن الأنصار جاءوا يسلمون عليه و هو يصلي فكان يشير إليهم بيده

یہ کیسے صحیح ہوسکتی ہے اور محفوظ جو ہے وہ حد بیٹے صہیب و بلال میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ انصار آئے ،انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کیا جبکہ آپ نماز پڑھ ر ہے تھے۔ لہذا انہوں نے ان کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر دیا۔

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in peace be upon the dhimmis · Hadith 8912

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على أهل الذمة · حديث 8913

8913 - و كذلك في حديث جابر : أنه جاء و النبي صلى الله عليه و سلم يصلي فسلم عليه فلم يرد عليه و أومأ بيده

اور اسی طرح مروی ہے حدیث جابر میں کہ وہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے ۔ جابر نے ان کو سلام کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان سے اس کوکوئی جواب نہیں دیا بلکہ اپنے ہاتھ سے اشارہ کر دیا۔

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in peace be upon the dhimmis · Hadith 8913

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على أهل الذمة · حديث 8914

8914 - و في حديث ابن سيرين في قصة ابن مسعود : حين سلم على النبي صلى الله عليه و سلم و هو يصلي فأومأ برأسه و إنما الرواية المشهورة في ذلك عن ثور بن يزيد كما

اورابن سیرین والی حدیث میں ہے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قصے میں جب اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ ر ہے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں اپنے سر کے ساتھ اشارہ کر دیا۔ یقیناً اس بارے میں مشہور روایت ثوربن یزید کی ہے جو کہ درج ذیل ہے ۔

ثور بن يزيد كما

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in peace be upon the dhimmis · Hadith 8914

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على أهل الذمة · حديث 8915

8915 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد الصفار قال : نا ابن أبي قماش قال : نا عثمان بن أبي شيبة عن أبي خالد الأحمر عن ثور بن يزيد عن أبي الزبير عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تسليم الرجل على الرجل بإصبع واحدة فعل اليهود و يحتمل و الله أعلم أن يكون المراد به كراهية الاقتصار على الاشارة في التسليم دون التلفظ بكلمة التسليم إذا لم يكن في صلاة تمنعه من التكليم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابن ابی قماش نے ان کو عثمان بن ابی شیبہ نے ان کو ابو خالد احمر نے ان کو ثور بن یزید نے ان کو ابوز بیر نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی پر ایک انگلی سے سلام کرنا یہودیوں کا فعل ہے ۔ اور احتمال ہے کہ اس سے مراد صرف اشارے پر اکتفا کرنے کی کراہت ہے سلام کے اندر یعنی لفظ سلام کا کلمہ بولے بغیر جبکہ وہ بند ہ نماز میں بھی نہ ہو جو اس کے لئے کلام کرنے سے مانع ہوتی ہے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَبِي خَالِدٍ الْأَحْمَرِ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in peace be upon the dhimmis · Hadith 8915

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسليم على أهل المجلس فيه أخلاط المسلمين و المشركين · حديث 8916

8916 - أخبرنا علي بن محمد بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : نا أحمد بن منصور قال : نا عبد الرزاق قال : أنا معمر عن الزهري عن عروة بن الزبير أن أسامة بن زيد أخبره : أن النبي صلى الله عليه و سلم مر بمجلس فيه أخلاط من المسلمين و اليهود و المشركين عبدة الأوثان فسلم عليهم أجمعين أخرجاه في الصحيح

ہمیں خبر دی علی بن محمد بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے ان کو عروہ بن زبیر نے یہ کہ اسامہ بن زید نے اس کو خبر دی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی محفل کے پاس سے گذرے جن میں مسلمان اور یہودی اور مشرکین اور بت پرست سب ملے جلے بیٹھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب پر سلام کیا۔ اس کو بخاری ومسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے ۔

عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on greeting the people of the council in which there is mixing of Muslims and polytheists · Hadith 8916

chevron_left Previous
1…242526…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood