شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في الترحيب و التلبية و التغذية و غير ذلك · حديث 8893
8893 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : نا أحمد بن منصور قال : نا عبد الرزاق قال : أنا ومعمر عن قتادة أو غيره أن عمران بن حصين قال : كنا نقول في الجاهلية أنعم الله بك عينا و أنعم صباحا فلما كان الإسلام نهينا عن ذلك قال معمر : يكره أن يقول الرجل انعم الله بك عينا و لا بأس أن يقول لله عينك رواه أبو داود في كتاب السنن عن سلمة بن شبيب عن عبد الرزاق
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے یا ان کے علاوہ نے یہ کہ عمران بن حصین نے کہا کہ ہم لوگ جاہلیت میں کہتے تھے ۔ اللہ نے تیری وجہ سے آنکھ عطا کی ہے اور صبح انعام کی ہے۔ جب اسلام آیا تو ہمیں اس بات سے روک دیا گیا۔ معمر نے کہا کہ یہ مکروہ ہے کہ کوئی آدمی یہ کہے کہ اللہ نے تیری وجہ سے آنکھ دی ہے اور اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ یوں کہے اللہ نے تمہیں آنکھ دی ہے روایت کیا ہے اس کو ابوداؤد نے کتاب السنن میں سلمہ بن مسیب سے ،اس نے عبدالرزاق سے ۔
قَتَادَةَ، أَوْ غَيْرِهِ ← وَمَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on greeting, recitation, feeding, and more · Hadith 8893
