Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في الترحيب و التلبية و التغذية و غير ذلك · حديث 8893

8893 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : نا أحمد بن منصور قال : نا عبد الرزاق قال : أنا ومعمر عن قتادة أو غيره أن عمران بن حصين قال : كنا نقول في الجاهلية أنعم الله بك عينا و أنعم صباحا فلما كان الإسلام نهينا عن ذلك قال معمر : يكره أن يقول الرجل انعم الله بك عينا و لا بأس أن يقول لله عينك رواه أبو داود في كتاب السنن عن سلمة بن شبيب عن عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے یا ان کے علاوہ نے یہ کہ عمران بن حصین نے کہا کہ ہم لوگ جاہلیت میں کہتے تھے ۔ اللہ نے تیری وجہ سے آنکھ عطا کی ہے اور صبح انعام کی ہے۔ جب اسلام آیا تو ہمیں اس بات سے روک دیا گیا۔ معمر نے کہا کہ یہ مکروہ ہے کہ کوئی آدمی یہ کہے کہ اللہ نے تیری وجہ سے آنکھ دی ہے اور اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ یوں کہے اللہ نے تمہیں آنکھ دی ہے روایت کیا ہے اس کو ابوداؤد نے کتاب السنن میں سلمہ بن مسیب سے ،اس نے عبدالرزاق سے ۔

قَتَادَةَ، أَوْ غَيْرِهِ ← وَمَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on greeting, recitation, feeding, and more · Hadith 8893

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على الصبيان · حديث 8894

8894 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أخبرني أبو النضر الفقيه قال : نا صالح بن محمد بن حبيب بن أبي الأشرس الحافظ و يحيى بن بدر قالا نا علي بن الجعد قال : أنا شعبة عن سيار أبي الحكم عن ثابت البناني عن أنس : أنه مر على صبيان فسلم عليهم ثم حدثنا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر على صبيان فسلم عليهم رواه البخاري في الصحيح عن علي بن الجعد و أخرجه مسلم من وجه آخر عن شعبة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ابوالنضر فقیہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی صالح بن محمد بن خبیب بن اشر حافظ نے اور یحییٰ بن بدر نے ان کو علی بن جعد نے ان کو شعبہ نے ان کو سبار ابوالحکم نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو انس رضی اللہ عنہ نے کہ وہ بچوں کے پاس سے گذرے اور ان کو سلام کیا۔ پھر اس نے ہمیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے پاس گذرے اور ان پر سلام کیا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا صحیح میں علی بن جعد سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے دوسرے طریق سے شعبہ سے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سيار أبي الحكم ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← صالح بن محمد بن حبيب بن أبي الأشرس الحافظ و يحيى بن بدر ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in peace on boys · Hadith 8894

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على النساء · حديث 8895

8895 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب قال : نا محمد بن عمرو الحرشي قال : نا القعنبي قال : نا ابن أبي حازم ح و أخبرنا أبو عمرو الأديب قال : أنا أبو بكر الإسماعيلي قال : أخبرني المنيعي و القاسم قالا نا إسحاق بن إبراهيم المروزي هو ابن أبي اسرائيل قال : نا عبد العزيز بن أبي حازم عن أبيه عن سهل بن سعد قال : كنا نفرح بيوم الجمعة فقلت و لم ؟ قال : كانت لنا عجوز ترسل إلي بضاعة فتأخذ من أصول السلق فتصيره في قدرها ثم تأخذ حبات من شعير فتجعله فيها فكنا إذا صلينا الجمعة انصرفنا إليها نسلم عليها فتقدمه إلينا فكنا نفرح بيوم الجمعة من أجل ذلك و ما كنا نقبل ولا نتغدى إلا بعد الجمعة لفظ حديث الأديب رواه البخاري في الصحيح عن القعنبي و الحديث ورد في العجوز التي هي من القواعد

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد یعقوب نے ان کو محمد بن عمر حرشی نے ان کو خبر دی قعنبی نے ان کو ابن ابوحازم نے اور ہمیں خبر دی ہے ابوعمرو ادیب نے ان کو ابو بکر اسماعیل نے ان کو خبر دی فیضی نے اور قاصم نے دونوں نے اور کہا کہ ان کو اسحٰق بن ابراہیم مروزی نے وہ ابن اسرائیل میں ان کو عبدالعزیز بن ابی حازم نے ان کو ان کے والد نے ان کوسھل بن سعد نے کہ ہم لوگ جمعہ کے دن خوش ہوتے تھے۔ میں نے کہا کہ کیوں ؟ بتایا کہ ہمارے ہاں ایک بڑھیا ہوتی تھی وہ ہمارے پاس کچھ رقم کی پونجی بھیجتی تھی ہم اس کو چقند ر لا کر دیتے تھے وہ اس کو ہنڈیا میں ڈال دیتی تھی اور کچھ جو کے دانے بھی اس میں ڈال دیتی تھی اور پکا دیتی تھی ۔ ہم لوگ جب جمعہ پڑھ لیتے تھے تو ہم اس بڑھیا کے پاس جاتے ، اس کو سلام کرتے تھے ۔ وہ کھانے کے لئے اس کو پیش کرتی تھی ۔ ہم لوگ جمعے کے دن اس سے خوش ہوتے تھے اور ہم لوگ جمعہ کے بعد ہی کھاتے اور سوتے تھے۔ صبح سے کچھ نہیں کھاتے تھے ۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← إسحاق بن إبراهيم المروزي هو ابن أبي اسرائيل ← المنيعي و القاسم ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ ← و، ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Separated in peace be upon women · Hadith 8895

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على النساء · حديث 8896

8896 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : نا أحمد بن منصور قال : نا عبد الرزاق قال : أنا معمر عن يحيى بن أبي كثير قال : بلغني أنه يكره أن يسلم الرجل على النساء و النساء على الرجل

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کویحییٰ بن ابی کثیر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ یہ بات مکروہ ہے کہ مر دعورتوں پر سلام کرے اور عورتیں مرد پر ۔

بلغني أنه يكره أن يسلم الرجل على النساء و النساء على الرجل ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Separated in peace be upon women · Hadith 8896

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على النساء · حديث 8897

8897 - قال و أنا معمر قال كان قتادة يقول : أما امرأة من القواعد فلا بأس أن يسلم عليها و أما الثانية فلا

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے معمر نے وہ کہتے ہیں کہ قتادہ کہتے تھے بہر حال وہ عورت جو قواعد میں سے ہویعنی جو زیادہ ضعیف ہو چکی ہو حرج نہیں ہے کہ اس پر کوئی صرف سلام کرے ۔ رہی جوان عورت تو اس پر سلام کرنا جائز نہیں ۔ ( یہ قتادہ کا قول ہے ) ۔

كَانَ قَتَادَةُ ← مَعْمَرٌ، ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Separated in peace be upon women · Hadith 8897

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على النساء · حديث 8898

8898 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا أبو عمرو بن السماك قال : نا حنبل بن إسحاق قال : حدثني أبو عبد الله قال : نا سفيان قال : زرزر رجل من أهل مكة صالح قلت لعطاء أأسلم على النساء ؟ قال : إن كن شواب فلا

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو عمرو بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحٰق نے ان کو حدیث بیان کی ابوعبداللہ نے ان کو سفیان نے وہ کہتے ہیں کہ ذرذ راہل مکہ کا ایک آدمی تھا ، نیک آدمی تھا۔ میں نے عطاء سے پوچھا کہ کیا میں عورتوں پر سلام کروں؟ انہوں نے کہا کہ اگر جوان ہوتو پھر سلام ان پر نہ کرو ۔

إن كن شواب فلا ← زرزر رجل من أهل مكة صالح قلت لعطاء أأسلم على النساء ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Separated in peace be upon women · Hadith 8898

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على النساء · حديث 8899

8899 - أخبرنا محمد بن موسى قال : نا أبو العباس الأصم قال : نا الحسن بن علي بن عفان قال : نا أبو أسامة عن مبارك بن فضالة قال : سئل الحسن عن السلام على النساء قال : لم يكن الرجال يسلمون على النساء و لكن النساء هن يسلمن على الرجال

ہمیں خبر دی محمد بن موسیٰ نے ان کو العباس اصم نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابواسامہ نے مبارک بن فضالہ سے وہ کہتے ہیں حضرت حسن بصری سے پوچھا تھا عورتوں پر سلام کرنے کے بارے میں تو انہوں نے فرمایا مرد ایسے نہیں ہیں کہ وہ عورتوں پر سلام کریں بلکہ عورتیں مردوں پر سلام کیا کر یں۔

السلام على النساء ← سُئِلَ الْحَسَنُ ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Separated in peace be upon women · Hadith 8899

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على النساء · حديث 8900

8900 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد الصفار قال : نا الاسفاطي و هو عباس بن الفضل قال : نا أبو بكر بن أبي شيبة قال : نا ابن عيينة عن ابن أبي حسين عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قالت : مر بنا النبي صلى الله عليه و سلم و نحن في نسوة فسلم علينا رواه أبو داود عن أبي بكر بن أبي شيبة قال الحليمي يحتمل أن يقال أن النبي صلى الله عليه و سلم لم يكن يخشى الفتنة فلذلك سلم عليهن فمن وثق من نفسه بالتماسك فليسلم و من لم يأمن نفسه فلا يسلم فإن الحديث ربما جر بعضه بعضا و الصمت أسلم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسفاطی نے وہ عباس بن فضل ہیں ان کو ابوبکر بن ابی شیبہ نے ان کو ابن عیینہ نے ان کو ابن ابی حسین نے شہر بن حوشب سے اس نے اسماء بنت یزید سے وہ کہتی ہیں ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گذرے اور ہم لوگ عورتیں تھیں ۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر سلام کیا۔ روایت کیا ہے اس کو ابوداؤد نے ان کو ابو بکر بن ابی شیبہ نے ۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: احتمال ہے کہ یہ کہا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوفتنہ میں واقع ہونے کا اندیشہ نہیں تھا اس لئے انہوں نے ان پر سلام کیا۔ لہذا جس شخص کو اپنے نفس پر یقین ہواس کو چاہئے کہ وہ عورتوں پر سلام کرے اور جس کو اپنے نفس پر امن و یقین نہ ہو وہ سلام نہ کرے ۔ بے شک حدیث یعنی بات کر نابسا اوقات ایک دوسرے میں کشش پیدا کرتا ہے اور خاموشی زیاد ہ سلامتی والی ہے۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الأسفاطي و هو عباس بن الفضل ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Separated in peace be upon women · Hadith 8900

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على أهل الشرة إن صح الحديث الذي ورد فيه · حديث 8901

8901 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد قال نا العودي محمد بن أحمد قال : نا محمد بن المنهال قال : نا الفياض بن ثابت الموصلي عن أبان عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا مررتم بأهل الشرة فسلموا عليهم تطفأ عنكم شرتهم ونائرتهم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبید نے ان کو احمد بن عیینہ نے ان کوعودی محمد بن احمد نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی محمد بن منہال نے ان کوفیاض بن ثابت موصلی نے ان کو ابان نے ان کا انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جب تم لوگ گذروائل خصہ (یعنی اہل جھگڑا کے ساتھ )تو ان پر سلام کروان کا غصہ ٹھندا ہوگا اور ان کی آگ بجھے گی ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبَانُ، ← الفياض بن ثابت الموصلي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← العودي محمد بن أحمد ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter on peace be upon the people of Al-Shara if the hadith in which it is mentioned is true · Hadith 8901

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على أهل الشرة إن صح الحديث الذي ورد فيه · حديث 8902

8902 - وبهذا الإسناد عن أنس قال : شكى أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا يا رسول الله إن المنافقين يلحظوننا بأعينهم و يلفظوننا بألسنتهم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم اتقوهم بسهام الله قالوا : و ما سهام الله يا رسول الله ؟ قال : السلام ـ أبان هذا هو ابن أبي عياش متروك

اور اسی اسناد کے ساتھ مروی ہے انس سے وہ کہتے ہیں کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شکایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) بے شک منافقین ہمیں تیز نگاہوں کے ساتھ دیکھتے ہیں اوراپنی تیز زبانوں کے ساتھ باتیں کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے بندوں کے ساتھ ان کے تیروں کے ساتھ ان سے بچو ، انہوں نے پوچھا کہ اللہ کے تیر کیا ہیں یا رسول الله ؟ فرمایا کہ السلام ۔ ابان سے مراد بن ابی عیاش ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

أَنَسٍ، ← وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter on peace be upon the people of Al-Shara if the hadith in which it is mentioned is true · Hadith 8902

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على أهل الذمة · حديث 8903

8903 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : أنا أحمد بن منصور قال : نا عبد الرزاق قال : أنا معمر ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو الفضل بن إبراهيم قال : نا أحمد بن سلمة قال : نا قتيبة بن سعيد قال : نا عبد العزيز بن محمد كلاهما عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تبدأوا اليهود و النصارى بالسلام و إذا لقيتم أحدهم في طريق فاضطروهم إلى أضيقه وفي رواية معمر لا تبدأوا و قال فإذا لقيتموهم في طريق فاضطروهم إلى أضيقها رواه مسلم في الصحيح

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبد الرزاق نے ان کومعمر نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو قتیبہ بن سعد نے ان و عبدالعزیز بن محمد نے دونوں نے سہیل بن ابی صالح سے اس نے اپنے والد سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :یہود و نصاری ٰکے ساتھ سلام کرنے میں پہل نہ کیا کرو اورتم جب ان میں سے کسی کوملو راستے میں تو ان کو مجبور کر دو تنگ راستےکی طرف ۔اور معمرکی ایک روایت میں ہے کہ نہ ابتدا ء کرواور فرمایا کہ جب تم ان سے ملوراستے میں تو ان کو مجبور کر دو تنگ راستہ کے لئے ۔اس کو مسلم نے روایت کیا صحیح میں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عبد العزيز بن محمد كلاهما ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in peace be upon the dhimmis · Hadith 8903

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على أهل الذمة · حديث 8904

8904 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن أبي المعروف الفقيه و أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن قتادة قالا أنا عمرو بن إسماعيل بن نجيد السلمي قال أنا أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله الكجي قال : نا أبو عاصم عن عبد الحميد بن جعفر عن يزيد بن أبي حبيب عن مرثد بن عبد الله عن أبي نضرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لهم : إني راكب إلى يهود فمن انطلق معي منكم فلا تبدأوهم بالسلام فإن سلموا عليكم فقولوا وعليكم فلما جئناهم سلموا علينا فقلنا وعليكم

ہمیں خبر دی ابوالحسن محمد بن المعروف فقیہ نے اور ابونصر عمر بن عبدالعزیز بن قتادہ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابوعمر واسماعیل بن نجید سلمی نے ان کو ابو مسلم ابرا ہیم بن عبدا اللہ کجی نے ان کو ابو عا صم نے ان کو عبدالحمید بن جعفر نے یزید بن ابی حبیب سے اس نے مرثد بن عبداللہ سے اس نے ابو نضر ہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہا میں یہودیوں کی طرف سواری پر روانہ ہور ہا ہوں میرے ساتھ تم میں سےجو بھی چلے گا سلام کرنے میں ان پر پہل نہ کرے۔ اگر وہ تمہارے اوپر سلام کریں تو تم لوگ کہو وعلیکم۔ پھر جب ہم ان کے پاس گئے انہوں نے ہمار ے اوپر سلام کیا تو ہم نے کہا وعلیکم۔

أَبِي نَضْرَةَ ← مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله الكجي ← عَمْرُو بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in peace be upon the dhimmis · Hadith 8904

chevron_left Previous
1…232425…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood