Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية السلام و كيفية الرد · حديث 8881

8881 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن يعقوب الفقيه قال أنا أبو علي الصواف قال نا علي بن الحسين بن حبان قال : نا محمد بن حميد قال : نا أزهر بن المختار عن شعبة عن هارون بن سعد عن ثمامة بن عقبة عن زيد بن أرقم قال : كان النبي إذا سلم علينا فرددنا عليه السلام قلنا و عليك و رحمة الله و بركاته ومغفرته تابعه محمد بن غالب عن محمد بن حميد و هذا إن صح قلنا به غير أن في إسناده إلى شعبة من لا يحتج به و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابوالحسن محمد بن یعقوب فقیہ نے ان کو ابوعلی صواف نے ان کوعلی بن حسین بن حبان نے ان کو محمد بن حمید نے ان کو از هر بن مختار نے ان کو شعبہ نے ان کو ہارون بن سعد نے ان کو ثمامہ بن عقبہ نے ان کو زید بن ارقم نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہم لوگوں پر سلام کرتے اور ہم ان کا جواب دیتے تھے تو ہم یوں کہتے تھے وعلیک ورحمۃ اللہ و برکاته ومغفرتہ،۔ محمد بن غالب نے محمد بن حمید سے اس کا متابع بیان کیا ہے ۔یہ اگر صحیح ہوتو ہم نے اس کو بیان کر دیا ہے مگر اس کی اسناد میں شعبہ تک وہ راوی ہیں جس کے ساتھ حجت نہیں پکڑی جاتی ۔

مغفرته تابعه محمد بن غالب ← كان النبي إذا سلم علينا فرددنا قلنا و عليك و و بركاته ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← ثمامة بن عقبة ← هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ، ← شُعْبَةُ، ← أزهر بن المختار ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ حِبَّانَ ← أَبُو عَلِيٍّ الصَّوَّافُ، ← أبو الحسن محمد بن يعقوب الفقيه

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on how to peace and how to respond · Hadith 8881

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية السلام و كيفية الرد · حديث 8882

8882 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال نا أبو العباس محمد بن يعقوب قال : نا العباس بن محمد الدوري قال نا عبيد الله بن موسى قال : أنا شقيق بن أبي عبد الله عن أنس بن مالك : أنه كان إذا جاء إلى مجلسه لم يسلم حتى يستوي في موضعه ثم يقبل عليهم فيقول السلام عليكم

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو عبید اللہ بن موسیٰ نے ان کو خبر دی شفیق بن ابوعبداللہ نے انس بن مالک سے کہ وہ جب اپنی مجلس میں آتے تھے ۔ تو سلام نہیں کرتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی جگہ سید ھے بیٹھ جاتے تھے اس کے بعد وہ ان کی طرف متوجہ ہوتے اور کہتے السلام علیکم ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← شَقِيقِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on how to peace and how to respond · Hadith 8882

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية السلام و كيفية الرد · حديث 8883

8883 - و رواه أيضا سفيان بن عيينة عن شقيق قرأت في كتاب الغربيين عن أبي بكر يعني الدريدي قال : في تفسير قوله السلام عليكم ثلاثة أوجه يقال معناه السلام عليكم و معكم و يقال معناه : الله عليكم أي على حفظكم و يقال معناه : نحن مسالمون لكم فصل في كراهية قول من قال ابتداء عليك السلام

اور اس کو بھی روایت کیا سفیان بن عیینہ نے شقیق سے کہ میں نے پڑھا ہے کتاب الغربین میں ابوبکر در یدی سے انہوں نے کہا حضور کے اس قول کی تفسیر میں السلام علیکم ۔ اس میں تین وجوہ ہیں ۔ کہا جا تا ہے کہ اس کا معنی ہے السلام علیکم تم پر سلام ہو اور جوتمہارے ساتھ ہیں ان پر بھی ۔ اور کہا جاتا ہے کہ اس کا معنی ہے کہ اللہ تمہارے اوپر ہے یعنی وہ تمہاری حفاظت کرے ۔ اور کہا جاتا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ہم سب تمہارے ساتھ صلح کرتے ہیں ۔

أبي بكر يعني الدريدي ← في كتاب الغربيين ← شَقِيقٍ، ← و رواه أيضا سفيان بن عيينة

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on how to peace and how to respond · Hadith 8883

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية السلام و كيفية الرد · حديث 8884

8884 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال نا أحمد بن منصور قال نا عبد الرزاق قال : أنا معمر عن سعيد الجريري عن أبي تميمة الهجمي قال : سلم أبو جزى على النبي صلى الله عليه و سلم فقال عليكم السلام فقال النبي صلى الله عليه و سلم عليكم السلام تحية الموتى و لكن قل سلام عليكم هذا مرسل

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو سعید جریری نے ان کو ابوتمیمہ ہجمی نے وہ کہتے ہیں کہ ابوجزی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کیا اور یوں کہا علیکم السلام تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علیکم السلام مردوں کا سلام ہے بلکہ یوں کہو سلام علیکم یہ روایت مرسل ہے ۔

عليكم السلام ← سلم أبو جزى على النبي صلى الله عليه و سلم ← أبي تميمة الهجمي ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on how to peace and how to respond · Hadith 8884

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية السلام و كيفية الرد · حديث 8885

8885 - و أخبرنا أبو علي الروذباري قال : أنا محمد بن بكر قال : نا أبو داود قال : نا أبو بكر بن أبي شيبة قال : نا أبو خالد الأحمر عن أبي غفار عن أبي تميمة الهجمي عن أبي جري الهجيمي قال : أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت عليك السلام يا رسول الله قال : لا تقل عليك السلام فإن عليك السلام تحية الموتى

ہمیں خبر دی ابوعلی روذ باری نے ان کومحمد بن بکر ان کو ابوداؤد نے وہ کہتے ہیں کہ کہا ابو بکر بن ابی شیبہ نے ان کو ابو خالد احمد نے ان کوابوغفار نے ان کو ابوتمیمہ بھی نے ان کو ابو جزی ہجیمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ کے پاس آیا اور میں نے کہا علیک السلام یا رسول اللہ کہتے ہیں کہ حضور نے فرمایامت کہوعلیک السلام بے شک علیک السلام مردوں کا سلام ہے ۔

أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت عليك السلام ← أَبِي جُرَيٍّ الْهُجَيْمِيِّ ← أبي تميمة الهجمي ← أَبِي غِفَارٍ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on how to peace and how to respond · Hadith 8885

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية السلام و كيفية الرد · حديث 8886

8886 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق قال : نا أبو العباس الأصم قال : نا بحر بن نصر قال : نا ابن وهب قال : حدثني يعقوب بن عبد الرحمن الزهري عن أبيه : أنه كان عند عمر بن عبد العزيز إذا جاءه رجل فقال السلام عليك يا أمير المؤمنين فقال له عمر عم سلامك و قد

ہمیں خبر دی ابوز کر یا بن ابی اسحاق نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو حدیث بیان کی یعقوب بن عبدالرحمٰن زہری نے ان کو ان کے والد نے کہ وہ عمر بن عبدالعزیز کے پاس بیٹھے تھے اچانک ان کے پاس ایک آدمی آیا اور بولا السلام علیک یا امیرالمؤمنین۔ عمر نے ان سے کہا تیرا سلام عام ہے۔

له عمر عم سلامك و قد ← السَّلاَمُ عَلَيْك يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ← أبيه أنه كان عند عمر بن عبد العزيز إذا جاءه رجل ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on how to peace and how to respond · Hadith 8886

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية السلام و كيفية الرد · حديث 8887

8887 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا أبو عمرو بن السماك قال : نا حنبل بن إسحاق قال : نا محمد بن الصلت قال : نا موسى بن محمد الأنصاري عن شيخ يقال له إسحاق قال : دخل ابن سيرين على ابن هبيرة و عنده الناس فقال السلام عليكم فغضب ابن هبيرة و أرسل إليه فدخل على ابن هبيرة و هو وحده فقال السلام عليك أيها الأمير فقال ابن هبيرة جئتني و عندي الناس فقلت السلام عليكم و جئت الآن فقلت السلام عليك أيها الأمير فقال ابن سيرين إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا سلم عليه و هو في القوم قالوا : السلام عليكم و إذا كان وحده قالوا السلام عليك يا رسول الله و هذا إن صح إسناده فهو بالمتابعة أولى غير أنه منقطع و في بعض رواته نظر و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوعمرو بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحاق نے ان کو محمد بن صلت نے ان کو موسیٰ بن محمد انصاری نے ایک شیخ سے جس کو اسحاق کہا جا تا تھا وہ کہتے ہیں کہ ابن سیرین ابن ھبیرہ کے پاس گئے اور ان کے پاس بھاگ موجود تھے انہوں نے جان کر کہا السلام علیکم لہذا ابن ہبیرہ ناراض ہو گئے انہوں نے ان کو بلوایا وہ اندر داخل ہوئے تو وہ اکیلے بیٹھے تھے انہوں نے کہا السلام علیک اے امیر ۔لہذا ابن ہبیرہ نے کہا تم جب میرے پاس آئے تھے تو میرے پاس لوگ بیٹھے تھے اور تم نے کہا السلام علیکم اور اب تم آئے ہو اور تم نے کہا ہے السلام علیک اے امیر ۔ ابن سیرین نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب ان پر سلام کیا جا تا تھا اور وہ لوگوں میں بیٹھے ہوتے تھے تو یوں سلام کرتے السلام علیکم ۔ اور جب آپ اکیلے ہوتے تو یوں کہتے السلام علیک یا رسول اللہ ۔ اگر اس کی استادصحیح ہے تو یہ متابعت کے لئے سب سے بہتر سے علاوہ ان کے یہ منقطع بھی ہے ۔ اور اس کے بعض راویوں میں نظر ہے واللہ اعلم ۔

شيخ يقال له إسحاق ← مُوسَى بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on how to peace and how to respond · Hadith 8887

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في الترحيب و التلبية و التغذية و غير ذلك · حديث 8888

8888 - قد روينا في حديث مالك عن أبي النضر أن أبا مرة أخبره أنه سمع أم هانئ تقول : ذهبت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم عام الفتح فوجدته يغتسل و فاطمة تستره بثوب قالت : فسلمت فقال : من هذا ؟ قلت : أنا أم هانئ قال : مرحبا بأم هانئ و ذكر الحديث أخبرناه أبو أحمد المهرجاني قال : أنا أبو بكر بن جعفر قال : نا محمد بن إبراهيم قال نا ابن بكير قال : نا مالك فذكره

تحقیق ہم نے روایت کی ہے حدیث مالک میں ابوالنضر سے یہ کہ ابومرہ نے اس کو خبر دی ہے کہ اس نے سنام ہانی سے وہ کہتی تھیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی فتح مکہ والے سال، میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوغسل کر تے ہوئے پایا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کپڑے کا پردہ بنایا ہوا تھا۔ کہتی ہیں کہ میں نے جا کر سلام کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پردے کے پیچھے سے پوچھا کہ یہ کون آئی ہے؟ میں نے خود کہا کہ میں ام ہانی ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام ہانی کومرحباہو ( خوش آمدید ہو) ۔ اور راوی نے حدیث ذکر کی ہے۔ اور ہمیں اس کی خبر دی ابواحمد مہر جانی نے ان کو ابوبکر بن جعفر نے وہ کہتے ہیں کہ ان کومحمد بن ابراہیم نے ان کو ابن بکیر نے ان کو مالک نے ، انہوں نے اس حدیث کو ذکر کیا۔

أَبِي النَّضْرِ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on greeting, recitation, feeding, and more · Hadith 8888

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في الترحيب و التلبية و التغذية و غير ذلك · حديث 8889

8889 - و في حديث عكرمة بن أبي جهل قال : قال لي النبي صلى الله عليه و سلم يوم جئت مرحبا بالراكب المهاجر قاله ثلاثا أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال نا محمد بن عبد الله الزاهد قال : نا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي نا أبو حذيفة نا سفيان عن أبي إسحاق عن مصعب بن سعد عن عكرمة بن أبي جهل فذكره

اورعکرمہ بن ابی جہل کی حدیث میں ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا تھا جس دن میں آیا تھا مرحبا ہے ( خوش آمدید ہے )سوار کو جو ہجرت کر کے آیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہی فرمایا تھا۔ ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن عبداللہ زاہد نے ان کو احمد بن محمد بن عیسی ٰقاضی نے ان کو ابوحذیفہ نے ان کو سفیان نے ان کو ابواسحاق نے ان کو مصعب بن سعد نے ان کوعکرمہ بن ابی جہل نے ۔ پھر اس نے ذکر کیا ہے اس حدیث کو ۔

و في حديث عكرمة بن أبي جهل

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on greeting, recitation, feeding, and more · Hadith 8889

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في الترحيب و التلبية و التغذية و غير ذلك · حديث 8890

8890 - و أخبرنا أبو علي الروذباري قال : أنا أبو بكر بن داسة قال نا أبو داود قال نا موسى بن إسماعيل حدثنا حماد بن أبي سليمان عن زيد بن وهب عن أبي ذر قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : يا أبا ذر فقلت : لبيك و سعديك يا رسول الله و أنا فداؤك

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابوداؤد نے وہ کہتے ہیں کہا موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو حدیث بیان کی ہے حماد بن ابوسلیمان نے ان کو زید بن وہب نے ان کو ابوذر نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذ رتو میں نے کہا کہ میں حاضر ہوں اور سعادت حاصل کرتا ہوں یا رسول اللہ اور میں آپ کے اوپر قربان ہوں ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on greeting, recitation, feeding, and more · Hadith 8890

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في الترحيب و التلبية و التغذية و غير ذلك · حديث 8891

8891 - و روى أبو عبد الرحمن الفهري في قصة حنين : أنه جاء النبي صلى الله عليه و سلم فقال له السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله و بركاته قد حان الرواح فقال أجل ثم قال : يا بلال فثار من تحت الشجرة فقال : لبيك و سعديك و أنا فداؤك أخبرناه أبو علي الروذباري قال : أنا أبو بكر بن داسة قال : نا أبو داود قال : نا موسى بن إسماعيل قال : نا حماد قال : أنا يعلى بن عطاء عن أبي همام أن أبا عبد الرحمن الفهري قال : شهدت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم حنينا فذكر القصة و أما الحديث الذي

اور روایت کیا ابوعبدالرحمن فہری نے قصہ حنین کے بارے میں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا۔ السلام علیک یا رسول اللہ ورحمۃ اللہ و برکاتہ روانگی کا وقت ہو چکا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جی ہاں ۔اس کے بعد فرمایا اے بلال وہ درخت کے نیچے سے اچھل کر کھڑے ہوئے ۔ کہنے لگے لبیک وسعد یک اور میں آپ کے اوپر قربان ہوں ۔ ہمیں اس کی خبر دی ہے ابوعلی روذباری نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابوبکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے وہ کہتے ہیں کہ کہا موسی ٰبن اسماعیل نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی حماد نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی یعلی بن عطاء نے ان کو ابو ہمام نے ، یہ کہ ابوعبد الرحمٰن فہری نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین میں حاضر ہوا۔ اس کے طبعد راوی نے قصہ ذکر فرمایا۔

له السلام عليك

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on greeting, recitation, feeding, and more · Hadith 8891

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في الترحيب و التلبية و التغذية و غير ذلك · حديث 8892

8892 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ في التاريخ قال أنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المذكر قال نا أحمد بن سلمة قال : نا محمد بن أسلم قال : نا أبو نعيم عن مبارك عن الحسن قال : دخل الزبير بن العوام على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال جعلني الله فداءك فقال النبي صلى الله عليه و سلم أما تركت أعرابيتك أما علمت أن المسلم لا يفدي المسلم فهذا منقطع و إن صح فهو محمول على التنزيه والله أعلم بدليل ما مضى

ہمیں اس کی خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے تاریخ میں ان کو ابوالفضل محمد بن ابراہیم واعظ نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو محمد بن اسلم نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابونعیم نے ان کو مبارک نے ان کو حسن نے ، وہ کہتے ہیں کہ زبیر بن العوام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہا کہ اللہ مجھ کو آپ کے اوپر قربان کرے۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے ابھی تک اپنادیہاتی پن نہیں چھوڑا۔ کیونکہ آپ کو معلوم نہیں ہے کہ ایک مسلمان مسلمان پر قربان نہیں ہوتا۔ یہ روایت منقطع ہے اور اگر یہ صحیح ہوتو تنزیہہ پرمحمول ہے ۔ اس دلیل کے ساتھ جو پہلے گذر چکی ہے۔

جعلني الله فداءك ← دخل الزبير بن العوام على رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكٌ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم المذكر ← أبو عبد الله الحافظ في التاريخ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on greeting, recitation, feeding, and more · Hadith 8892

chevron_left Previous
1…222324…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood