شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية السلام و كيفية الرد · حديث 8881
8881 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن يعقوب الفقيه قال أنا أبو علي الصواف قال نا علي بن الحسين بن حبان قال : نا محمد بن حميد قال : نا أزهر بن المختار عن شعبة عن هارون بن سعد عن ثمامة بن عقبة عن زيد بن أرقم قال : كان النبي إذا سلم علينا فرددنا عليه السلام قلنا و عليك و رحمة الله و بركاته ومغفرته تابعه محمد بن غالب عن محمد بن حميد و هذا إن صح قلنا به غير أن في إسناده إلى شعبة من لا يحتج به و الله أعلم
ہمیں خبر دی ابوالحسن محمد بن یعقوب فقیہ نے ان کو ابوعلی صواف نے ان کوعلی بن حسین بن حبان نے ان کو محمد بن حمید نے ان کو از هر بن مختار نے ان کو شعبہ نے ان کو ہارون بن سعد نے ان کو ثمامہ بن عقبہ نے ان کو زید بن ارقم نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہم لوگوں پر سلام کرتے اور ہم ان کا جواب دیتے تھے تو ہم یوں کہتے تھے وعلیک ورحمۃ اللہ و برکاته ومغفرتہ،۔ محمد بن غالب نے محمد بن حمید سے اس کا متابع بیان کیا ہے ۔یہ اگر صحیح ہوتو ہم نے اس کو بیان کر دیا ہے مگر اس کی اسناد میں شعبہ تک وہ راوی ہیں جس کے ساتھ حجت نہیں پکڑی جاتی ۔
مغفرته تابعه محمد بن غالب ← كان النبي إذا سلم علينا فرددنا قلنا و عليك و و بركاته ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← ثمامة بن عقبة ← هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ، ← شُعْبَةُ، ← أزهر بن المختار ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ حِبَّانَ ← أَبُو عَلِيٍّ الصَّوَّافُ، ← أبو الحسن محمد بن يعقوب الفقيه
Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on how to peace and how to respond · Hadith 8881
