شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية السلام و كيفية الرد · حديث 8869
8869 - روينا في الحديث الثابت عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم في خلق آدم عليه السلام قال فلما خلقه قال اذهب فسلم على أولئك النفر و هم نفر من الملائكة جلوس فاستمع ما يحيونك فإنها تحيتك و تحية ذريتك قال : فذهب فقال السلام عليكم فقالوا و عليك السلام و رحمة الله قال : فزاده و رحمة الله أخبرناه أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : نا أحمد بن منصور قال : عبد الرزاق قال : أنا معمر عن همام بن منبه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره و الحديث مخرج في الصحيحين و هو مذكور بتمامه في كتاب الأسماء و الصفات
ہم نے روایت کی ہے حدیث ثابت میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بارے میں ۔ کہتے ہیں کہ اللہ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو فرمایا کہ جائیے اور سلام کیجئے اس جماعت کووہ فرشتوں کی جماعت تھی جو کہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اور آپ سنیئے کہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں بے شک وہ تیرا سلام ہے اور تیری اولاد کا سلام ہے ۔ کہتے ہیں کہ حضرت آدم گئے اور جا کر کہا السلام علیکم انہوں نے جواب دیا وعلیک السلام ورحمۃ اللہ لہذا اس نے بھی اس میں ورحمۃ اللہ کا اضافہ کر لیا۔ ہمیں اس کی خبر دی ابوالحسین بن بشران نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے اسماعیل بن صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ہے ہمام بن منبہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس انہوں نے اس کا ذکر کیا۔ اور حدیث منقول ہے بخاری مسلم میں اور وہ مکمل طور پر جو مروی ہے وہ کتاب الاسماء والصفات میں ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← رُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ
Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on how to peace and how to respond · Hadith 8869
