Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في سلام من خرج من بيته · حديث 8845

8845 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : نا أحمد بن منصور قال : نا عبد الرزاق قال : أنا معمر عن قتادة قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : إذا دخلتم بيتا فسلموا على أهله فإذا خرجتم فأودعوا أهله بسلام هكذا جاء مرسلا

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کومعمر نے ان کو قتادہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کسی گھر میں داخل ہودہ تو اس گھر والوں پر سلام کرو اور جب تم باہر نکلو تو اس گھر والوں کو سلام کے ساتھ الوداع کرو۔ اسی طرح یہ روایت مرسل آئی ہے۔

قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Separate in peace the one who left his home · Hadith 8845

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام عند دخول المجلس و عند القيام منه · حديث 8846

8846 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه ح و اخبرنا أبو الحسن محمد بن محمد بن رحم الفقيه قال : أنا أبو عمرو إسماعيل بن نجيد قال نا أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله قال : نا أبو عاصم عن ابن عجلان عن المقبري عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أتى أحدكم المجلس فليسلم فإن قام و القوم جلوس فليسلم فإن الأولى ليست بأحق من الثانية و رواه ابن جريج و الليث بن سعد عن ابن عجلان عن سعيد المقبري

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحاق فقیہ نے اور ہمیں خبر دی ابوا لحسن محمد بن محمد بن اصم فقیہ نے ان کو ابو عمرواسماعیل بن نجید نے دونوں نے کہا ان کو ابومسلم ابراہیم بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو ابو عاصم نے ابن عجلان سے اس نے مقبری سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی مجلس میں آئے اس کو چاہئے کہ وہ سلام کرنے اور جب مجلس سے اٹھے اور لوگ بھی کھڑے ہوں اس کو چاہئے کہ د و سلام کرے بے شک پہلی باری دوسری سے زیادہ ضروری نہیں ہے ۔ اور روایت کیا ہے اس کو ابن جریج نے اور لیث بن سعد نے اس نے ابن عجلان سے اس نے سعید مقبری سے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ ← أبو الحسن محمد بن محمد بن رحم الفقيه ← و، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Separated in peace upon entering the council and upon standing up from it · Hadith 8846

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام عند دخول المجلس و عند القيام منه · حديث 8847

8847 - و حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي قال : أنا أبو حامد أحمد بن محمد بن يحيى بن بلال البزاز قال : نا أحمد بن حفص بن عبد الله قال : حدثني إبراهيم بن طهمان قال : حدثني يعقوب بن زيد أبو يوسف عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة أنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا جاء أحدكم إلى المسجد و فيه القوم فليسلم إذا جلس فإذا قام فليسلم ما عمل الأولى أولى من الآخرة

اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوالحسن محمد بن حسین علوی نے ان کو ابو حامد احمد بن محمد بن یحییٰ بن بلال بزار نے ان کو احمد بن حفص بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے یعقوب بن زید ابو یوسف نے سعید بن ابوسعید مقبری سے اس نے ابو ہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے اور اس میں لوگ ہوں اس کو چاہئے کہ سلام کرے جب بیٹھے اور جب اٹھے تو بھی سلام کرے پہلی بار سلام کرنا دوسری بار کرنے سے زیادہ بہتر نہیں ہے یعنی دونوں مرتبہ سلام کرنا بہتر ہے اور اولی ٰہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← يَعْقُوب بن زيد أَبُو يُوسُف ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Separated in peace upon entering the council and upon standing up from it · Hadith 8847

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام عند دخول المجلس و عند القيام منه · حديث 8848

8848 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد الصفار قال : نا محمد بن إسحاق قال : نا يحيى بن عثمان قال : نا ابن عياش قال : نا رشدين بن سعد عن زبان بن فائد عن سهل بن معاذ بن أنس الجهني عن أبيه معاذ قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : حق على من يجلس في مجلس أن يسلم عليهم و حق على من قام من مجلسه أن يسلم عليهم فقام رجل و رسول الله صلى الله عليه و سلم يتكلم فقال ما أسرع ما نسي

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے احمد بن عبید صفار نے ان کو محمد بن اسحاق نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی یحییٰ بن عثمان نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو رشد ین بن سعد نے ان کوزبان بن فائد نے ان کو سہل بن معاذ نے انس جہنی رحمتہ اللہ علیہ سے ان کوان کے والد معاذ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص پرحق ہے جو کسی مجلس میں بیٹھے کہ وابل مجلس پر سلام کرے اور اس پر بھی حق ہے جو مجلس سے اٹھے کہ وہ بھی اہل مجلس پر سلام کرے چنانچہ ایک آدمی کھڑ ا ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی کلام فرمارہے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس قدر جلدی یہ شخص بھول گیا ہے ۔

أبيه معاذ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، ← زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، ← رشدين بن سعد ← ابْنُ عَيَّاشٍ ← يَحْيَی بْنُ عُثْمَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Separated in peace upon entering the council and upon standing up from it · Hadith 8848

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في أهل الخيام و الحوانيت · حديث 8849

8849 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال نا أبو العباس محمد بن يعقوب قال : يحيى بن أبي طالب قال نا عبد الوهاب بن عطاء قال : أنا عمران بن حدير قال : قالوا لعكرمة إن ابن عمر كان لا يدخل الحوانيت حتى يستأذن فقال و من يطيق ما كان ابن عمر يفعله كان ابن عمر لا يلبس ثوبا مصلبا قال عبد الوهاب يعني ثوبا فيه صليب ـ و كان يجوع نفسه و كان يأتي أهله فيدعو بالطعام فيمثل و يقول كلوا فإني صائم و هذا يدل على أن عكرمة كان لا يرى الاستئذان على أهلها و إليه ذهب الحسن البصري و إبراهيم النخعي و كأن أهل الحوانيت إنما فتحوها و قعدوا فيها لمجيء الناس إليهم في البيع و الشراء فقام ذلك بمقام الإذن و كان ابن عمر يحتاط فيستأذن

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے کہتے ہیں کہ یحییٰ بن ابی طالب کہتے ہیں کہ ہمیں کہا عبدالوہاب بن عطاء نے ان کوعمران بن جریر نے وہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے عکرمہ سے کہا کہ حضرت ابن عمر دوکانوں میں بھی بغیر اجازت داخل نہیں ہوتے تھے انہوں نے فرمایا کہ ابن عمر جو کچھ کرتے تھے اس کی کون طاقت رکھتا ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ تو مصلب کپڑابھی نہیں پہنتے تھے ۔عبدالوہاب نے کہا کہ اس سے مراد ہے وہ کپڑا جس میں صلیب کا نشان بنا ہوا ہو ۔ اور حضرت ابن عمر اپنے آپ کو بھوکا رکھتے تھے ۔ وہ اپنے گھر میں آتے اور کھانا منگوانے اور کھانے کی شکل بناتے اور گھر والوں سے کہتے کہ تم لوگ کھالو میراروزہ ہے یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت عکرمہ نہیں قائل تھے اجازت لینے کے دکانوں سے اور اسی طرف گئے ہیں حسن بصری اور براہیم نخعی بھی ۔ اور جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دوکانوں والوں نے دوکانوں کو کھولا ہوا ہے اور ان میں اسی لئے بیٹھے ہیں کہ لوگ خرید وفروخت کے لئے ان کے پاس آئیں تو یہ بات ان کی طرف سے اجازت کے قائم مقام ہے اور ر ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ تو و محتاط انسان تھے لہذاوہ ان سے بھی اجازت مانگتے تھے۔

لعكرمة إن ابن عمر كان لا يدخل الحوانيت حتى يستأذن ← عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in the people of tents and shops · Hadith 8849

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في أهل الخيام و الحوانيت · حديث 8850

8850 - و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق قال : نا أبو العباس الأصم قال : نا بحر بن نصر قال : نا ابن وهب قال : حدثني يونس أن نافعا حدثه : أن عبد الله بن عمر كان لا يلج طلال أهل السوق حتى يستأذن

اور ہمیں خبر دی ہے ابوز کر یا بن ابواسحٰق نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو یونس نے کہ نافع نے ان کو حدیث بیان کی ہے کہ عبداللہ بن عمر اہل بازار کے پردے میں داخل نہیں ہوتے تھے یہاں تک کہ وہ اجازت لے لیتے تھے ۔

يُونُسَ أَنَّ نَافِعًا ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in the people of tents and shops · Hadith 8850

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في أهل الخيام و الحوانيت · حديث 8851

8851 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال نا أبو العباس هو الأصم قال نا الحسن بن مكرم قال عثمان بن عمر قال أنا يونس عن نافع : أن ابن عمر كان لا يلج حوانيت أهل السوق حتى يستأذن قال الحليمي رحمه الله : و هذا كأنه جعل السوق بمنزلة البيت لأهله إذا لم يكن فيها ممر و إن كان فيها ممر فهي كسائر الطرق و لا معنى فيها للاستئذان و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو عثمان بن عمر نے ان کو یونس بن نافع نے کہ ابن عمر اہل بازار کی دوکانوں میں داخل نہیں ہوتے تھے بلکہ پہلے اجازت لیتے تھے شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے بازار کو گھر کے بمنزلہ کر دیا تھا بازار والوں کے لئے جب اس میں راستہ نہ ہو اور اگر اس میں راستہ ہوتو یہ دیگر تمام راستوں کی طرح ہے پھر اس بارے میں اجازت مانگے کا کوئی معنی نہیں ہے واللہ اعلم ۔

نافع أن ابن عمر كان لا يلج حوانيت أهل السوق حتى يستأذن ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in the people of tents and shops · Hadith 8851

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في أهل الخيام و الحوانيت · حديث 8852

8852 - و روينا عن ابن عون قال : كنا مع مجاهد بالكوفة فإذا خيام متقابلة فقال : كان ابن عمر يستأذن في مثل هذه يقول السلام عليك أألج ثم يلج كما هو قيل أن يؤذن له

ہم نے روایت کی ہے ابن عون سے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ مجاہد کے ساتھ تھے کونے میں وہاں آمنے سامنے خیمے نصب تھے۔ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ایسی صورت میں اجازت مانگتے تھے۔ کہتے تھے السلام علیکم۔ کیا میں اندر داخل ہوسکتا ہوں؟ پھر وہ داخل ہوتے تھے۔

كان ابن عمر يستأذن في مثل هذه ← كنا مع مجاهد بالكوفة فإذا خيام متقابلة ← ابْنِ عَوْنٍ ← و روينا

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in the people of tents and shops · Hadith 8852

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في أهل الخيام و الحوانيت · حديث 8853

8853 - قال و كان ابن سيرين يأتي حانوتيا في السوق يقول السلام عليكم ثم يلج و هذا فيما أنبأني أبو عبد الرحمن السلمي قال : أنا أبو عمر بن مطر قال نا إبراهيم بن إسحاق الأنماطي قال نا الحسن بن عيسى قال : نا ابن المبارك قال : أنا ابن عون : فذكره قال الحليمي : يحتمل أنه كان يستأذن استطابة لنفس صاحب الخيمة التاجر و لو رأى أنه عليه استئذانا لتربص حتى يؤذن له

اور حضرت ابن سیرین بازار میں دکان دار کے پاس آتے اور کہتے تھے السلام علیکم اس کے بعد اندر داخل ہوتے تھے ۔ یہ اس کے مطابق ہے جو مجھے خبر دی ہے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ابراہیم بن اسحٰق انماطی نے ان کو حسن بن عیسی نے ان کو ابن مبارک نے وہ کہتے ہیں کہ میں ابن عون ہوں پھر اس نے مذکورہ روایت نقل کی ہے۔ شیخ حلیمی نے فرمایا: احتمال ہے کہ وہ صاحب خیمہ تاجر کو خوش کرنے کے لئے اجازت مانگتے ہوں اگر وہ دیکھے کہ اس پر اجازت دینے میں تأ مل ہے تو انتظار کرتے یہاں تک کہ ان کو اجازت ملتی ۔

ابن عون فذكره ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عِيسَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ ← أَبُو عُمَرَ بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← السلام عليكم ثم يلج و هذا فيما ← و كان ابن سيرين يأتي حانوتيا في السوق

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in the people of tents and shops · Hadith 8853

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في أهل الخيام و الحوانيت · حديث 8854

8854 - و قال الشعبي : إذا فتح بابه و أخرج بزه فقد أذن لك

اور کہا شعبی نے کہ جب دکان کا درواز کھلا ہو اور اس کا سودا نکالا ہوا ہوتو تجھے اجازت ہے۔

الشعبي إذا فتح بابه و أخرج بزه فقد أذن لك ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in the people of tents and shops · Hadith 8854

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في أهل الخيام و الحوانيت · حديث 8855

8855 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس هو الأصم قال نا أحمد بن عبد الحميد الحارثي قال نا عبد الحميد أبو يحيى الحماني قال : حدثني الأعمش عن إبراهيم التيمي و إبراهيم النخعي : أنهما دخلا بيتا من بيوت السوق فسلما حين دخلا و سلما حين خرجا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو احمد بن عبدالحمید حارثی نے ان کو عبد الحمید ابو یحییٰ حمانی نے ان کو حدیث بیان کی اعمش نے ان کو ابراہیم تیمی نے اور ابراہیم نخعی نے کہ وہ دونوں بازار کے گھروں میں ایک گھر میں داخل ہوئے اور ان دونوں نے سلام کیا جب وہ داخل ہوئے اور اس وقت میں سلام کیا جب وہ باہر نکلے۔

الْاَعْمَشِ ← عبد الحميد أبو يحيى الحماني، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in the people of tents and shops · Hadith 8855

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في السلام على قرب العهد · حديث 8856

8856 - أخبرنا أبو الحسين محمد بن الحسين بن الفضل القطان ببغداد قال : أنا القاضي أبو بكر أحمد بن كامل و أبو سهل بن زياد القطان فرقهما قالا نا أبو إسماعيل محمد الترمذي قال : نا أبو صالح عبد الله بن صالح قال : حدثني معاوية بن صالح عن أبي مريم عن أبي هريرة أنه سمعه يقول : من لقي أخاه فيلسلم عليه فإن حالت بينهما شجرة أو حائط أو حجز ثم لقيه فليسلم عليه

ہمیں خبر دی ابوالحسین محمد بن حسین بن فضل قطان نے بغداد میں ان کو قاضی ابوبکر احمد بن کامل نے اور ابو سہل بن زیادہ قطان نے ان کو ابواسماعیل محمد ترمذی نے کہتے ہیں کہ ان کو ابو صالح عبداللہ بن صالح نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے معاویہ بن صالح نے ان کو ابومریم نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ اس نے سنا وہ کہہ رہے تھے جو شخص اپنے بھائی سے ملے اس کو چاہئے کہ وہ اس پر سلام کرے اگر چہ دونوں کے درمیان درخت آڑے آئے یا دیوار یا کوئی چٹان اس کے بعد ملے اس کو چاہئے کہ وہ اس پر سلام کرے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي مَرْيَمَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدٌ التِّرْمِذِيُّ، ← القاضي أبو بكر أحمد بن كامل و أبو سهل بن زياد القطان فرقهما ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter in peace on the near covenant · Hadith 8856

chevron_left Previous
1…192021…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood