Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8629

8629 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا القعنبي فيما قرأ على مالك عن جعفر بن محمد بن علي عن أبيه أنه قال : وزنت فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم شعر حسن و حسين و زينب و أم كلثوم فتصدقت بوزن ذلك فضة قال و الخامسة أن يسميه كما

ہمیں خبر دی ابوز کر یا بن ابی اسحاق نے ان کو ابوالحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھی مالک کے سامنے جعفر بن محمد بن علی سے اس نے اپنے والد سے کہ اس نے کہا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے بالوں کو وزن کیا تھا اور زینب و ام کلثوم کے بالوں کو اوران کے وزن کے برابر چاندی کو صدقہ کر دیا تھا۔ فرمایا کہ بچہ پیدا ہونے پر پانچواں ضروری کام اس کا نام رکھنا ہے۔

أَبِيهِ أَنَّهُ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8629

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8630

8630 - أخبرنا أحمد بن الحسن أنا أبو جعفر بن دحيم نا إبراهيم بن إسحاق القاضي نا جعفر بن عون عن سعيد عن قتادة عن الحسن عن سمرة بن جندب : أن نبي الله صلى الله عليه و سلم قال : كل غلام رهينة بعقيقته يذبح عنه يوم سابعه و يحلق رأيه و يسمى قلت ولو سماه يوم تحنكه كان أولى و يشبه أن يكون التاريخ في حديث سمرة للعقيقة و الحلق دون التسمية فقد روينا في حديث أبي موسى في تسمية النبي صلى الله عليه و سلم ولده يوم حنكه بتمرة

ہمیں خبر دی احمد بن حسن نے اس کو ابو جعفر بن رحیم نے ان کو ابراہیم بن اسحاق قاضی نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو سعید نے ان کو قتادہ نے حسن سے اس نے سمرہ بن جندب سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرلڑ کا اپنے عقیقے کے ساتھ گردی ہوتا ہے اس کی طرف سے ساتو یں دن ذبح کیا جائے اور اس کے سر کے بال صاف کئے جائیں اور اس کا نام رکھا جائے ۔ میں نے کہا ہے کہ اگر اس کا نام اس دن رکھا جائے جس دن اس کی تحنیک ہوتی ہے تو زیادہ بہتر ہے مناسب ہے کہ تاریخ ہو حدیث سمرہ میں عقیقے کے لئے ۔ اور حلق سوائے تسمیہ کے تحقیق ہم نے روایت کی ہے ابوموسیٰ سے نبی کریم کی طرف نام رکھنے کے بارے میں اپنے بیٹے کے لئے جس دن آپ نے کھجور چبا کر اس کے تالو میں لگائی تھی ۔

سمرة بن جندب أن نبي الله صلى الله عليه و سلم ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الحَسَنِ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8630

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8631

8631 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله ابنا الحسن بن سفيان ابنا أبو بكر بن أبي شيبة ابنا يزيد بن هارون ابنا ابن عون عن ابن سيرين عن أنس بن مالك قال : كان ابن أبي طلحة يشتكي فخرج أبو طلحة فقبض الصبي فلما رجع أبو طلحة قال ما فعل ابني ؟ قالت أم سليم : هو أسكن ما كان فقربت إليه العشاء فتعشى ثم أصاب منها فلما فرغ منها قالت دار الصبي فلما أصبح أبو طلحة أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبره فقال أعرستم الليلة ؟ قال : نعم قال اللهم بارك لهما فولدت غلاما فقال لي أبو طلحة احمله حتى نأتي به النبي صلى الله عليه و سلم و بعثت معه تمرات فأخذه النبي صلى الله عليه و سلم فمضغها ثم أخذها من فيه فجعلها في في الصبي ثم حنكه و سماه عبد الله أخرجاه في الصحيح فرواه البخاري عن مطر بن الفضل عن يزيد بن هارون و رواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة و ابن سيرين هذا هو أنس بن سيرين و قال في الإسناد حماد بن مسعدة وغيره عن ابن عون عن محمد بن سيرين

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو بکر بن عبداللہ نے جو کہ بیٹے تھے حسن بن سفیان کے ان کو حسن کے دو بیٹوں نے ان کو ابو بکر بن شیبہ کے دو بیٹوں یزید بن ہارون نے ابن عون کے دو بیٹوں نے ابن سرین سے اس نے انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ ابن ابی طلحہ بیمار تھے، ابوطلحہ نکلے کسی کام سے ۔ تو بچے کا انتقال ہو گیا جب ابوطلحہ واپس آئے تو اس نے پوچھا کہ میرا بیٹا کہاں ہے؟ ام سلیم نے کہا کہ وہ آرام کر رہا ہے اور رات کا کھانا اس کے قریب کیا اس نے کھانا کھایا۔ اور عشاء کی نماز پڑھی رات کو جب صبح ہوگئی تو ابوطلحہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس واقعہ کی ان کو خبر دی حضور نے پوچھا کہ کیا تم لوگوں نے آج رات خوشی کی تھی؟ اس نے کہا کہ جی ہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے لئے دعا کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ ان دونوں کے لئے برکت عطافرما۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں بیٹا پیدا ہوا۔لہذا ابوطلحہ نے مجھ سے کہا کہ اٹھائیے اس کو ہم اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے چلیں گے میں نے کھجوریں بھی ساتھ اٹھالیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو لے لیا اور پوچھا کہ اس کے ساتھ کوئی چیز بھی ہے؟ بتایا کہ جی ہاں کھجوریں ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر چبایا پھر اس کو اس کے منہ میں لگایا پھر تالو میں لگایا اور اس کا نام عبداللہ رکھا ۔ بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے مطر بن الفضل سے اس نے یزید بن ہارون سے ۔اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے ابوبکر بن ابی شیبہ سے اور ابن سیرین سے یہ انس بن سیرین ہے ۔ اور کہا ہے اسناد میں حماد بن مسعد وغیرہ ابن عون سے اس نے محمد بن سیرین سے ۔

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8631

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8632

8632 - و رويناه عن أسماء بنت أبي بكر : في تحنيك النبي صلى الله عليه و سلم عبد الله بن الزبير حين ولدته و تسميته عبد الله و في كل ذلك دلالة على أن التاريخ في حديث سمرة يشبه أن يكون راجع إلى التسمية والله أعلم و في العقيقة سنن و آثار و كذلك في تسمية المولود و تكنيته و قد ذكرناها في كتاب العقيقة من كتاب السنن و في إعادتها ههنا مشقة فتركتها اختصارا من أرادها رجع إليها إن شاء الله

اور ہم نے اس کو روایت کیا ہے اسماء بنت ابی بکر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عبداللہ بن زبیر کی پیدائش کے وقت اس کی تحنیک کرنے اور اس کا نام عبداللہ رکھنے کے بارے میں اور اس سب کچھ میں دلالت ہے اس بات پر کہ تاریخ حدیث سمرہ میں مناسب ہے کہ راجع ہو تسمیہ کی طرف ۔ واللہ اعلم ۔ اور عقیقے میں کچھ سنتیں ہیں اور آثار ہیں اور اس طرح نومولود کے نام رکھنے اور اس کی کنیت رکھنے میں ۔ ہم نے ان کو کتاب السنن کے کتاب العقیقہ میں ذکر کر دیا ہے۔ دوبارہ ان کو یہاں ذکر کر نے میں مشقت ہے لہذا میں نے ان کو از راہ اختصار ترک کر دیا ہے جوان پر مطلع ہونا چاہے گا وہاں رجوع کرے گا انشاءاللہ ۔

و رويناه

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8632

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8633

8633 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي قالا أنا أبو عمرو بن مطر نا إبراهيم بن علي ح و أخبرنا أبو العباس الفضل بن علي بن محمد الاسفرايني أنا أبو سهل بشر بن أحمد نا إبراهيم بن علي نا يحيى بن يحيى أنا هشيم عن داود بن عمرو عن عبد الله بن أبي زكريا الخزاعي عن أبي الدرداء قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم و أسماء آبائكم فأحسنوا أسماءكم

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ اور ابو بکرمحمد بن ابراہیم فارسی نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابوعمر و بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ’’ح“۔ اور ہمیں خبر دی ابوالعباس بن فضل بن علی بن محمد اسفرائنی نے ان کو ابو سہل بشر بن احمد نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو ہثیم نے ان کو داؤد بن عمرو نے ان کو عبداللہ بن ابی زکر یا خزاعی نے ان کو ابودرداء نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک تم لوگ قیامت کے دن پکارے جاؤ گے اپنے ناموں کے ساتھ اور اپنے باپوں کے ناموں کے ساتھ لہذا اپنے نام خوبصورت کر کے رکھو۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا الْخُزَاعِيِّ ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، ← هُشَيْمٌ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو العباس الفضل بن علي بن محمد الاسفرايني ← و، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8633

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8634

8634 - أخبرنا أبو الحسن بن أبي بكر الأهوازي أنا أحمد بن عبيد نا إسماعيل بن إسحاق قالا أنا مسلم بن إبراهيم نا هشام بن عبد الله الدستوائي عن أبي الزبير عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من تسمى باسمي فلا يتكن بكنيتي ومن تكنى بكنيتي فلا يتسم باسمي هذا إسناد صحيح و روى هكذا عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم إلا أن أخبار النهي عن التكني بأبي القاسم على الإطلاق أكثر و أصح و يحتمل أن يكون النهي عنه راجعا إلى من أراد الجمع بينه و بين اسمه و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابوالحسن بن ابو بکر اھوازی نے ان کواحمد بن عبید نے ان کو اسماعیل بن اسحاق نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی مسلم بن ابراہیم نے ان کو ہشام بن ابوعبداللہ دستوائی نے ان کو ابوالز بیر نے ان کو جابر رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: جو شخص میرے نام کے ساتھ نام رکھے وہ میری کنیت کے ساتھ کنیت نہ رکھے ۔ اور جوشخص میری کنیت کے ساتھ رکھے وہ میرے نام کے ساتھ نام نہ رکھے۔ یہ اسنادصحیح ہے ۔ اور اسی طرح روایت کی گئی ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔ مگر بات یہ ہے ابوالقاسم کے ساتھ کنیت رکھنے کی مطلق نہی زیادہ ہے اور زیادہ صحیح ہے اور احتمال ہے کہ اس سے نہی راجع ہو اس شخص کی طرف جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت اور آپ کے نام کو جمع کرنے کا ارادہ رکھتا ہو ۔ واللہ اعلم ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هشام بن عبد الله الدستوائي ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أبو الحسن بن أبي بكر الأهوازي

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8634

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8635

8635 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد حدثني محمد بن الفضل بن جابر نا إبراهيم بن زياد نا عباد بن عباد نا عبيد الله بن عمر و أخوه عبد الله بمكة سنة أربع وأربعين ومائة عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أحب أسمائكم إلى الله عز و جل عبد الله و عبد الرحمن رواه مسلم عن إبراهيم بن زياد سبلان

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبد ان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن فضل بن جابر نے ان کو ابراہیم بن زیاد نے ان کو عباد بن عباد نے ان کو عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اور اس کے بھائی عبداللہ نے مکہ میں سنہ دوسو چالیس ہجری میں نافع سے اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا تمہارے ناموں میں سے اللہ کے نزدیک پسند ید ہ نام عبد اللہ اور عبدالرحمٰن ہیں ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابراہیم بن زیاد( سبلان سے ۔ )

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عبيد الله بن عمر و أخوه عبد الله بمكة ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8635

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8636

8636 - أخبرنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي أنا أبو إسحاق إبراهيم بن عبد الله الأصبهاني نا أبو أحمد محمد بن سليمان بن فارس نا محمد بن إسماعيل قال : قال لي أحمد بن الحارث نا أبو قتادة الشامي ليس بالحراني مات سنة أربع و ستين ومائة نا عبد الله بن جراد قال : صحبني رجل من مؤتة فأتى النبي صلى الله عليه و سلم وأنا معه فقال يا رسول الله ولد لي مولود فما أخير الأسماء ؟ قال إن خير أسمائكم الحارث و همام و نعم الاسم عبد الله و عبد الرحمن و سموا بأسماء الأنبياء و لا تسموا بأسماء الملائكة قال : و باسمك ؟ قال : و باسمي و لا تكتنوا بكنيتي قال البخاري في غير هذه الرواية في إسناده نظر قال و السادسة : أن يختنه كما

ہمیں خبر دی ابو بکر محمد بن ابراہیم فارسی نے ان کو ابو اسحاق ابراہیم بن عبداللہ اصفہانی سے ان کو ابواحمد محمد بن سلمان بن فارسی نے ان کو محمد بن اسماعیل نے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے کہا احمد بن حارث نے ان کو ابو قتادہ شامی نے جو حرانی نہیں ہے ۔ ان کا انتقال ایک سو چونسٹھ ہجری میں ہوا ان کو خبر دی عبداللہ بن جراد نے کہتے ہیں کہ موت کا ایک آدمی میرا ساتھی بناو ہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں بھی اس کے ساتھ تھا اس نے عرض کی یا رسول اللہ میرا بیٹا پیدا ہوا ہے۔سب سے زیادہ بہتر نام کون سا ہے؟ فرمایا بے شک تمہارے بہتر ناموں میں سے ہیں حارث اور ہمام اور بہترین نام عبداللہ اورعبدالرحمٰن ہیں تم لوگ انبیاء کے ناموں پر نام رکھا کرو۔ اور فرشتوں کے ناموں پر نام نہ رکھا کرو ۔ اس شخص نے پوچھا کہ اور آپ کے نام پر نام رکھنا کیسا ہے؟ فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو مگر میری کنیت کے ساتھ کنیت نہ کرو۔بخاری نے کہا کہ اس روایت کے علاوہ اس کی اسناد میں نظر ہے۔ فرمایا کہ بچہ پیدا ہونے کے وقت چھٹاضروری کام اس کا ختنہ کرنا ہے۔

مَعَهُ؟ ← صحبني رجل من مؤتة فأتى النبي صلى الله عليه و سلم ← عبد الله بن جراد ← أبو قتادة الشامي ليس بالحراني مات سنة أربع و ستين ومائة ← لي أحمد بن الحارث ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8636

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8637

8637 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا زكريا بن يحيى بن أسد نا سفيان عن الزهري عن سعيد عن أبي هريرة : يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم قال : الفطرة خمس أو خمس من الفطرة الختان والاستحداد ونتف الإبط و قص الشارب و تقليم الأظافر

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کوز کر یا بن یحییٰ بن اسد نے ان کو سفیان نے زہری سے ان کو سعید نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فطرت پانچ چیزیں ہیں یا فرمایا تھا کہ پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں ختنہ کرانا ،زیر ناف صاف کرنا بغلیں صاف کر نا ،مونچھیں کترانا، ناخن تراشنا ۔

أبي هريرة يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم ← سَعِيدٌ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← زكريا بن يحيى بن أسد ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8637

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8638

8638 - و روينا عن زهير بن محمد عن محمد بن المنكدر عن جابر قال : عق رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الحسن و الحسين و ختنهما لسبعة أيام

ہم نے روایت کی ہے زہیر بن محمد سے اس نے محمد بن منکدر سے اس نے جابر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیقہ کیا تھا حسن حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے اور ختنہ کیا تھا دونوں کا ساتویں دن ۔

الحسن و الحسين و ختنهما لسبعة أيام ← عق رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← و روينا

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8638

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8639

8639 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا محمد بن يحيى بن سليمان نا عاصم بن علي نا أبو أنس حدثني أبو الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة : عن النبي قال : كان إبراهيم أول من اختتن و هو ابن عشرين ومائة سنة و اختتن بالقدوم ثم عاش بعد ذلك ثمانين سنة و القدوم اسم موضع

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کومحمد بن یحییٰ بن سلیمان نے ان کو عاصم بن علی نے ان کو ابوانس نے ان کو ابوالزنا د اعرج نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کہتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام پہلے شخص تھے جنہوں نے ختنہ کیا تھا وہ اس وقت ایک سو بیس برس کے تھے انہوں نے ختنہ کیا تھا قد دم میں ۔اس کے بعد وہ اسی برس مزید زندہ رہے اور قدوم جگہ کا نام ہے۔(بعض نے قدم کا مطلب بسولی لیا ہے۔)

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← أبو أنس ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← محمد بن يحيى بن سليمان ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8639

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8640

8640 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون أنا يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال : اختتن إبراهيم خليل الله عليه السلام و هو ابن عشرين ومائة سنة بالقدوم ثم عاش بعد ذلك ثمانين سنة فقال سعيد فكان إبراهيم عليه السلام أول من اختتن و أول من رأى الشيب فقال : يا رب ما هذا فقال وقارا يا إبراهيم قال رب زدني وقارا و أول من أضاف الضيف و أول من جز شاربه و أول من قص أظافره و أول من استحد هذا هو الصحيح موقوف

اور ہمیں خبر دی ہے ابوز کر یا بن ابی اسحاق نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے ختنہ کیا تھا اس وقت وہ ایک سوبیس سال کے تھے۔ مقام قدوم پر ( یا مراد ہے کہ بسولی کے ساتھ کیا تھا )اس کے بعد وہ اسی برس زندہ رہے۔سعید نے کہا ابراہیم علیہ السلام پہلے شخص تھے جنہوں نے ختنہ کیا تھا اور پہلے شخص تھے جنہوں نے سفید بال دیکھے تھے انہوں نے کہا اے میرے رب یہ کیا ہے؟ اللہ نے فرمایا اے ابراہیم ہم نے تجھے یہ عزت بخشی ہے انہوں نے کہا اے میرے رب میری عزت وقار میں اور اضافہ فرما۔اور ابراہیم علیہ السلام پہلے شخص تھے جنہوں نے مہمان کو ضیافت دی تھی ۔ اور پہلے شخص تھے جنہوں نے اپنی مونچھیں کاٹی تھیں ۔اور پہلے شخص تھے جنہوں نے اپنے ناخن کاٹے تھے ۔ اور پہلے شخص تھے جنہوں نے استرااستعمال کیا تھا۔ مراد ہے کہ (انہوں نے زیر ناف صاف کیا )یہ صحیح ہے مگر موقوف روایت ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8640

chevron_left Previous
1234…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood