Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في قرع الباب عند الاستئذان · حديث 8821

8821 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق قال : نا أبو العباس محمد بن يعقوب قال : نا العباس بن محمد الدوري قال : نا مالك بن إسماعيل قال : نا المطلب بن زياد قال : حدثني أبو بكر بن عبد الله الأصبهاني عن محمد بن مالك بن المنتصر عن أنس : أن أبواب النبي صلى الله عليه و سلم كانت تقرع بالأظافر

ہمیں خبر دی ابوز کر یا بن ابی اسحاق نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو مالک بن اسماعیل نے ان کو مطلب بن زیاد نے ان کو ابوبکر بن عبداللہ اصفہانی نے ان کو محمد بن مالک بن منتصر نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ جنت کے دروازے ناخنوں کے ساتھ کھٹکائے جائیں گے (یعنی انگلیوں کے پوروں کے ساتھ )۔

أنس أن أبواب النبي صلى الله عليه و سلم كانت تقرع بالأظافر ← مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَصْبَهَانِيُّ، ← الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ، ← مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Chapter knock on the door upon permission · Hadith 8821

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية الوقوف على باب الدار عند الاستئذان و ما يقول إذا قيل له من ذا · حديث 8822

8822 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد قال : نا عبيد بن شريك قال : نا عمرو بن عثمان قال : نا أبي قال : نا محمد بن عبد الرحمن بن عرق عن عبد الله بن بسر قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أتى باب قوم لم يستقبل الباب بتلقاء وجهه و لكن عن ركنه الأيمن أو الأيسر يقول : السلام عليكم و ذلك أن الدور لم يكن يومئذ عليها ستور

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی احمد بن عبید نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی عبید بن شریک نے ان کو عمرو بن عثمان نے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا ان کو خبر دی محمد بن عبدالرحمٰن بن عرق نے ان کو عبد الله بن بسر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جب آپ کسی کے دروازے پر تشریف لاتے تو دروازے سامنے منہ کر کے کھٹرے نہیں ہوتے تھے بلکہ دروازے کے دائیں بائیں کونے کی طرف کھڑے ہوتے تھے ۔ اور کہتے تھے السلام علیکم اور یہ عمل آپ کا اس لئے تھا کہ اس دور میں دروازوں پر پر دے نہیں پڑے ہوتے تھے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on how to stand at the door of the house with permission, and what to say if he is told who · Hadith 8822

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية الوقوف على باب الدار عند الاستئذان و ما يقول إذا قيل له من ذا · حديث 8823

8823 - و أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري قال : نا جدي يحيى بن منصور القاضي قال : نا محمد بن إسماعيل الإسماعيلي قال : نا وهب بن بيان الواسطي بقسطاط قال : نا يحيى بن سعيد العطاء الحمصي قال : نا محمد بن عبد الرحمن بن عرق قال : نا عبد الله بسر قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا استأذن على أهل بيت لم يقم حيال الباب حتى يقوم يمينه أو يسرة فيسلم ثلاث مرات فإن أذن له و إلا رجع

ہمیں خبر دی ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے ان کو ان کے نانایحیی ٰ بن منصور قاضی نے وہ کہتے ہیں کہ ان کومحمد بن اسماعیل اسماعیلی نے ان کوھب بن بیان واسطی نے فسطاط میں ان کو یحیی ٰ بن سعید عطارحمصی نے ان کو محمد بن عبد الرحمٰن بن عرق نے ان کو عبد اللہ بن بشر نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی گھر والوں سے اجازت مانگتے تھے تو دروازے کے سامنے نہیں کھڑے ہوتے تھے ۔ بلکہ دائیں بائیں طرف کھڑے ہوتے تھے۔ اور تین بار سلام کہتے تھے اگر آپ کو اجازت مل جاتی تو ٹھیک ورنہ واپس لوٹ جاتے ۔

عبد الله بسر ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ، ← يحيى بن سعيد العطاء الحمصي ← وهب بن بيان الواسطي بقسطاط ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْإِسْمَاعِيلَيُّ، ← جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on how to stand at the door of the house with permission, and what to say if he is told who · Hadith 8823

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية الوقوف على باب الدار عند الاستئذان و ما يقول إذا قيل له من ذا · حديث 8824

8824 - و رويناه عن بقية بن الوليد عن محمد بن عبد الرحمن غير أنه قال : مشى مع الجدار و لم يستقبل الباب و لم يذكر السلام و زاد و ذلك أن القوم لم يكن لأبوابهم ستور

ہم نے اس کو روایت کیا ہے بقیہ بن ولید سے اس نے محمد بن عبدالرحمٰن سے سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ حضور دیوار کے ساتھ چلتے تھے اور دروازے کے سامنے نہیں کھڑے ہوتے تھے اور اس نے سلام کا ذکر نہیں کیا اور اس بات کا اضافہ کیا ہے کہ اس وقت لوگوں کے دروازوں پر پردے نہیں ہوتے تھے۔

محمد بن عبد الرحمن غير أنه ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← و رويناه

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on how to stand at the door of the house with permission, and what to say if he is told who · Hadith 8824

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية الوقوف على باب الدار عند الاستئذان و ما يقول إذا قيل له من ذا · حديث 8825

8825 - و روينا عن هزيل بن شرحبيل قال : أتى سعد بن معاذ النبي صلى الله عليه و سلم فاستأذن عليه و هو مستقبل الباب فقال النبي صلى الله عليه و سلم بيده هكذا يا سعد فإنما الاستئذان من النظر أخبرنا أبو علي الروذباري قال : أنا محمد بن بكر قال : نا أبو داود قال : نا عثمان بن أبي شيبة قال : ثنا جرير عن الأعمش عن طلحة بن مصرف عن هزيل فذكره

اور ہم سے روایت کی ہے ہذیل بن شرحبیل نے انہوں نے کہا حضرت سعد بن معاذ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے ۔ اور ان سے اجازت چاہی اور دروازے کے سامنے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اس طرف ہو جائیں اے سعد حقیقت یہ ہے کہ اجازت مانگنا در اصل نظر کی وجہ سے ہوتا ہے ہمیں خبر دی ابوعلی روز باری نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو محمد بن بکر نے ان کو ابو داؤد نے ان کو عثمان بن ابی شیبہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی جریر نے ان کو اعمش نے ان کو طلحہ بن مصرف نے ان کو ہذیل نے ۔ پھر اس نے مذکورہ حدیث ذکر کی ہے۔

هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← و روينا

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on how to stand at the door of the house with permission, and what to say if he is told who · Hadith 8825

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية الوقوف على باب الدار عند الاستئذان و ما يقول إذا قيل له من ذا · حديث 8826

8826 - و أخبرنا أبو طاهر الفقيه قال : أنا أبو بكر القطان قال : نا أبو الأزهر قال : نا وهب بن جرير قال : نا أبي قال : سمعت الأعمش يحدث عن طلحة بن مصرف عن هزيل بن شرحبيل : أن سعد بن مالك استأذن على رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو في بيته و استقبل سعد بوجهه البيت فقال النبي صلى الله عليه و سلم : هكذا يا سعد و إنما الاستئذان من النظر كذا وجدته في كتابي سعد بن مالك

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر قطان نے ان کو ابوالا زہر نے ان کو وھب بن جریر نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے سنااعمش سے وہ حدیث بیان کرتے تھے طلحہ بن مصرف سے اس نے ہزیل بن شرحبیل سے یہ کہ سعد بن مالک نے اجازت مانگی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ اپنے گھر میں تھے اور سعد اپنے چھوٹے کے ساتھ گھر کے دروازے کی طرف متوجہ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یک طرف ہو جائیے ۔ سوائے اس کے نہیں کہ اجازت مانگنا دیکھنے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ میں نے اس کو اسی طرح پایا ہے سعد بن مالک کی کتاب میں ۔

هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on how to stand at the door of the house with permission, and what to say if he is told who · Hadith 8826

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية الوقوف على باب الدار عند الاستئذان و ما يقول إذا قيل له من ذا · حديث 8827

8827 - و أخبرنا أبو الحسن العلوي قال : أنا أبو طاهر محمد بن الحسن المحمد أبادي قال نا أبو قلابة الرقاشي قال : نا هشام بن عبد الملك أبو الوليد قال : نا قيس بن الربيع عن منصور عن طلحة بن مصرف عن الهزيل عن قيس بن سعد قال : استأذنت فقمت حيال الباب فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ما هذا يا قيس فإنا الاستئذان من أجل البصر كذا قال و الأول أصح

اور ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن علوی نے وہ کہتے ہیں کہ ان کوابو طاہر محمد بن حسن محمد آبادی نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو ابو قلا بہ رقاشی نے ان کو ہشام بن عبدالملک ابوالولید نے ان کو قیس بن ربیع نے ان کو منصور نے ان کو طلحہ بن مصرف نے ان کو ہزیل نے ان کوقیس بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اجازت مانگی اور میں دروازے کے ساتھ کھڑا ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون سا طریقہ ہے سوائے اس کے نہیں کہ اجازت مانگنادیکھنے کی ہی وجہ سے ہوتا ہے ۔اسی طرح کہا ہے ۔ اور پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔

و الأول أصح ← الاستئذان من أجل البصر كذا ← النبي صلى الله عليه و سلم ما هذا يا قيس ← استأذنت فقمت حيال الباب ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← الْهُزَيْلِ ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← مَنْصُورٌ، ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← هشام بن عبد الملك أبو الوليد ← أَبُو قِلاَبَةَ الرَّقَاشِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on how to stand at the door of the house with permission, and what to say if he is told who · Hadith 8827

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية الوقوف على باب الدار عند الاستئذان و ما يقول إذا قيل له من ذا · حديث 8828

8828 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق قال : نا أبو العباس الأصم قال : نا بحر بن نصر قال : نا ابن وهب قال : أخبرني سعيد بن أبي أيوب عن عطاء بن دينار عن عمار بن سعد قال : قال عمر بن الخطاب ملأ عينيه من قاعة ببيت قبل أن يؤذن له فقد فسق

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابوسحٰق نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی سعید بن ابو ایوب انصاری نے ان کو عطا ر بن دینار نے ان کو عمار بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جس نے گھر کے اندر دل بھر کر دیکھ لیا اس سے قبل کہ اس کو اجازت ملتی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ۔

عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَطَاءِ بْنِ دِیْنَارٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on how to stand at the door of the house with permission, and what to say if he is told who · Hadith 8828

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية الوقوف على باب الدار عند الاستئذان و ما يقول إذا قيل له من ذا · حديث 8829

8829 - أخبرنا الحسين بن علي بن أحمد بن عمر الحمامي المقري ببغداد قال : أنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه قال : نا عبد الملك بن محمد قال : نا بشر بن عمر قال : نا شعبة ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا أبو علي الحسين بن زيد الحافظ قال : أنا الفضل بن الحباب الجمحي قال : نا أبو الوليد قال : نا شعبة عن محمد بن المنكدر قال : سمعت جابرا قال : أتيت النبي صلى الله عليه و سلم في دين على أبي فوفقت الباب فقال : من ذا ؟ فقلت : أنا فقال : أنا أنا كأنه كرهه رواه البخاري في الصحيح عن أبي الوليد و أخرجه مسلم من أوجه عن شعبة

ہمیں خبر دی حسین بن علی بن احمد بن عمر حمامی مقری نے بغداد میں ان کو ابوبکر احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو عبدالملک بن محمد نے ان کو بشر بن عمر نے ۔ان کو شعبہ بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالولید نے ۔ان کو شعبہ نے ان کو محمد بن منکدر نے انہوں نے سنا جابر سے وہ کہتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اس قرض کے سلسلے میں جومیرے والد پر تھا میں دروازے پر جا کر ٹھہر گیا۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اندر سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ میں نے بتایا کہ میں ہوں حضور نے فرمایا کہ میں میں ۔ گویا کہ انہوں نے میرے جواب کو ناپسند کیا تھا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا صحیح میں ابوالولید سے اور اس کو مسلم نے نقل کیا ہے کئی طریقوں سے شعبہ سے ۔

جَابِرًا ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ زَيْدٍ الْحَافِظُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← الحسين بن علي بن أحمد بن عمر الحمامي المقري

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on how to stand at the door of the house with permission, and what to say if he is told who · Hadith 8829

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن جاء بعد ما أرسل إليه · حديث 8830

8830 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد الصفار قال : نا هشام بن علي و تمتام قالا : نا علي بن عثمان قال : نا حماد قال : نا أيوب و حبيب بن الشهيد عن محمد بن سيرين عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : رسول الرجل إلى الرجل إذنه

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کواحمد بن عبید صفار نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہشام بن علی نے اور تمتام نے ان کو علی بن عثمان نے ان کو حماد نے وہ کہتے ہیں کہ ان کوخبر دی ایوب نے اور حبیب بن شہید نے ان کو محمد بن سیرین نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی جب دوسرے کی طرف کسی کو بھیج کر بلائے تو وہ اجازت سمجھی جاتی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أيوب و حبيب بن الشهيد ← حَمَّادٌ، ← عَلِيِّ بْنِ عُثْمَانَ ← هشام بن علي و تمتام ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Separate who came after what was sent to him · Hadith 8830

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن جاء بعد ما أرسل إليه · حديث 8831

8831 - و أخبرنا أبو علي الروذباري قال : أنا أبو بكر بن داسة قال : نا أبو داود قال : نا موسى بن إسماعيل قال : نا حماد عن حبيب و هشام عن محمد عن أبي هريرة : مثله 8831 - مكرر ـ و أخبرناه أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو العباس هو الأصم قال : نا يحيى بن أبي طالب قال : أنا عبد الوهاب قال : أنا سعيد عن قتادة عن أبي رافع عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا دعى أحدكم فجاء مع الرسول فذلك له إذن قال الحليمي رحمه الله : و الاستئذان مع هذا أحسن لأن الأحوال قد تتغير

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر بن داسہ نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو ابو داؤد نے ان کوموسیٰ بن اسماعیل نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو حماد نے حبیب نے ہشام سے ان کومحمد نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کی مثل ۔ مکر رہے۔ ہمیں اس کی خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابی طالب نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو سعید نے ان کو قتادہ نے ان کو ابورافع نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو بلایا جائے اور وہ بلانے کے لئے جانے والے کے ساتھ ساتھ آ جائے یہ بلا نا اس کے لئے اجازت ہے۔ شیخ حلیمی نے فرمایا کہ اس بلانے کے باوجود بھی اجازت مانگنازیادہ اچھا ہے اس لئے کہ حالات و کیفیات بدلتی رہتی ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← أبي هريرة مثله مكرر و ← مُحَمَّدٍ ← حبيب و هشام ← حَمَّادٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Separate who came after what was sent to him · Hadith 8831

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن جاء بعد ما أرسل إليه · حديث 8832

8832 - و احتج بحديث أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أبا هر قلت : لبيك يا رسول الله قال : الحق بأهل الصفة فادعهم لي فأتيتهم فدعوتهم فأقبلوا حتى استأذنوا فأذن لهم و أخذوا مجالسهم من البيت أخبرناه أبو عبد الله السوسي قال : أنا جعفر البغدادي قال : أنا علي بن عبد العزيز قال : نا عمر بن ذر قال : نا مجاهد أن أبا هريرة قال فذكره رواه البخاري عن أبي نعيم و ذكر البخاري رواية سعيد عن أبي قتادة في الترجمة ثم ذكر في الباب حديث عمر بن ذر

حدیث ابوہریرہ سے حجت پکڑی گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ہریرہ ! میں نے کہا حاضر ہوں یا رسول اللہ فرمایا کہ جاؤ تم اہل صفہ کے پاس ان کو میرے پاس بلالاؤ میں ان لوگوں کے پاس آیا اوران کو بلایا۔ وہ آئے اور انہوں نے اجازت مانگی حضور نے ان کو اجازت دی اور گھر میں وہ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے ۔ اور ہمیں اس کی خبر دی ہے ابوعبداللہ موسیٰ نے ان کو جعفر بغدادی نے ان کو علی بن عبد العزیز نے ان کو ابونعیم نے ان کو عمر بن ذر نے ان کو مجاہد نے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر کیا اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے ابونعیم سے اور بخاری نے ذکر کیا ہے سعید کی روایت ابوقتادہ سے عنوان میں اس کے بعد ذکر کیا باب میں عمر بن ذر کی حدیث کو ۔

و احتج بحديث أبي هريرة

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Separate who came after what was sent to him · Hadith 8832

chevron_left Previous
1…171819…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood