Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ الحادي و الستون من شعب الإيمان و هو باب في مقاربة أهل الدين و موادتهم و إفشاء السلام بينهم · حديث 8797

8797 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه قال : أنا بشر بن موسى قال : نا أبو نعيم قال : نا سفيان عن أبي إسحاق عن صلة بن زفر عن عمار هو ابن ياسر قال : ثلاثة من جمعهن فقد جمع الأيمان و الإنفاق من الإقتار و الإنصاف من النفس و بذلك السلام للعالم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحاق فقیہ نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو بشر بن موسیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابونعیم نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی سفیان نے ان کو ابو اسحاق نے ان کوصلہ بن زفر نے ان کو عمار نے وہ ابن یاسر ہیں وہ کہتے ہیں کہ تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جو شخص ان کو اپنے اندر جمع کر لے اس نے ایمان کو جمع کر لیا۔ کنجوسی کے مقابلے میں خرچ کرنا۔اپنے دل سے انصاف کرنا ۔ اور سلام کرنے کو سارے جہاں کے لئے استعمال کرنا ۔

عمار هو ابن ياسر ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The sixty-first of the people of faith, and it is a chapter in the approach of the people of religion and their articles and the spread of peace between them · Hadith 8797

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ الحادي و الستون من شعب الإيمان و هو باب في مقاربة أهل الدين و موادتهم و إفشاء السلام بينهم · حديث 8798

8798 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا أبو إسحاق إبراهيم بين فراس الفقيه بمكة قال : نا بكر ابن سهل الدمياطي قال : نا عمرو بن هاشم البيروتي قال : نا إدريس بن زياد الألهاني عن محمد بن زياد الألهاني عن أبي أمامة الباهلي : أنه كان يسلم على من لقيه قال : فما علمت أحدا سبقه بالسلام إلا يهوديا ما حملك على ما صنعت ؟ قال : رأيتك رجلا تكثر السلام فعلمت أنه فضل فأحببت أن آخذ به فقال : أبو أمامة ويحك سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله عز و جل جعل السلام تحية لأمتنا و أمانا لأهل ذمتنا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ابواسحاق ابراہیم درمیان فراس فقیہ کے مکہ مکرمہ میں انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی بکر بن سہل نے ان کو عمرو بن ہاشم بیروتی نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ادریس بن زیاد الھانی نے ان کو محمد بن زیا دالہانی نے ان کو البوامامہ باہلی نے کہ وہ ہر اس شخص کو سلام کرتے تھے جوان کو ملتا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ کبھی کسی نے سلام کرنے میں ان سے سبقت کی ہو ہاں مگر ایک یہودی کو جانتا ہوں کہ وہ ان کے پاس سے گذرا اور ستون کے پیچھے چھپ گیا وہ جونہی سامنے ہوئے تو اس نے فور اً سلام کرلیا۔لہذا ابوامامہ نے اس سے کہ تجھ پر افسوس ہے اے یہودی تمہیں کس چیز نے اس کام پرا کسایا جو تم نے کیا ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے دیکھا تھا کہ آپ ایسے آدمی ہیں جو کثرت کے ساتھ سلام کرتے ہیں (یعنی پہل کرتے ہیں )تو میں نے جان لیا کہ میں بڑی فضیلت کی بات ہے۔ لہذا میں نے پسند کیا کہ اس فضیلت کو میں بھی حاصل کروں ۔ حضرت ابوامامہ نے فرمایا۔ ہلاک ہو جائے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھاوہ فرماتے تھے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے سلام کرنے کو ہماری امت کے لئے تحفہ بنایا ہے اور ہمارے اہل ذمہ کے لئے اس کو امان بنایا ہے (یعنی ذمی کافروں کے لئے اور ہماری پناہ میں رہنے والے پناہ گروں کے لئے امان بنایا ہے۔ )

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أبو أمامة ويحك ← رأيتك رجلا تكثر السلام فعلمت أنه فضل فأحببت أن آخذ به ← فما علمت أحدا سبقه بالسلام إلا يهوديا ما حملك على ما صنعت ← أبي أمامة الباهلي أنه كان يسلم على من لقيه ← مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيُّ ← إدريس بن زياد الألهاني ← عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ ← بكر ابن سهل الدمياطي ← أبو إسحاق إبراهيم بين فراس الفقيه بمكة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The sixty-first of the people of faith, and it is a chapter in the approach of the people of religion and their articles and the spread of peace between them · Hadith 8798

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 8799

8799 - قال : ثم جاء عن قتادة و عكرمة في قوله تستأنسوا قال : تستأذنوا

فرماتے ہیں کہ پھر روایت آئی ہے حضرت قتادہ سے اور مکرمہ سے اللہ کے اس قول کے بارے میں تستأنسوا۔یعنی تستا ذنوا۔ فرمایا کہ اجازت مانگو۔

تستأذنوا ← قتادة و عكرمة في قوله تستأنسوا ← ثم جاء

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Season · Hadith 8799

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 8800

8800 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة قال : أنا أبو منصور العباس بن الفضل النضروي قال : نا أحمد ابن نجدة قال : أنا مغيرة عن إبراهيم قال : في مصحف عبد الله حتى تسلموا على أهلها أو تستأذنوا

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی منصور عباس بن فضل نصر وی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی احمد بن نجدہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی مغیرہ نے ان کو ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ کے مصحف میں تھا۔ حتى تسلموا على اهلها او تستأذنوا ۔کہ یونہی دوسروں کے گھر میں داخل نہ ہوا کرو یہاں تک کہ سلام کر لیا کرواس گھر والوں پر یا اجازت مانگ لیا کرو۔

في مصحف عبد الله حتى تسلموا على أهلها أو تستأذنوا ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← أحمد ابن نجدة ← أبو منصور العباس بن الفضل النضروي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Season · Hadith 8800

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 8801

8801 - و أخبرنا أبو نصر قال : أنا أبو منصور قال : نا أحمد نا سعيد قال : نا أبو عوانة عن أبي بشر عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قوله : حتى تستأنسوا و تسلموا على أهلها قال ابن عباس : الاستئناس الاستئذان هذا فيما أحسب فما أخطأت به الكتاب

اور ہمیں خبر دی ابونصر نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابومنصور نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی احمد نے ان کو سعید نے وہ کہتے ہیں ان کو خبر دی ابوعوانہ نے ان کو ابوبشر نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہ یہ فرمان الہی ۔ حتى تستانسوا وتسلموا على اهلها، کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ استئناس ۔کا معنی ہے استئذان یعنی اجازت طلب کرنا۔ یہ بات میرے گمان کے مطابق ہے مجھ سے اس بارے میں لکھنے میں غلطی نہیں ہوئی ہے۔

ابن عباس الاستئناس الاستئذان هذا فيما أحسب فما أخطأت به الكتاب ← ابن عباس قوله حتى تستأنسوا و تسلموا على أهلها ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← سَعِيدٌ، ← أَحْمَدُ، ← أَبُو مَنْصُورٍ، ← أبو نصر ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Season · Hadith 8801

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 8802

8802 - قال : و نا سعيد قال : نا هشيم قال : نا أبو بشر عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : أنه كان يقرأ { لا تدخلوا بيوتا غير بيوتكم حتى تستأنسوا وتسلموا على أهلها } و قال : إنما هو وهم من الكتاب كذا قال : و خالفهما شعبة في إسناده فيما

وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی سعدی نے ان کو ھثیم نے ان کو ابو بشر نے سعید بن جبیر سے اس نے ابن عباس سے کہ وہ یوں پڑھتے تھے۔ لا تدخلوا بيوتا غير بيوتكم حتى تستأنسوا وتسلموا على اهلها . اور راوی نے کہا کہ سوائے اس کے نہیں کہ وہ ہم سے لکھنے والوں کی طرف سے اسی طرح کہا۔ اور ان دونوں کی مخالفت کی ہے شعبہ نے اس کی اسناد میں۔

و خالفهما شعبة في إسناده فيما ← إنما هو وهم من الكتاب كذا ← ابن عباس أنه كان يقرأ و ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبُو بِشْرِ: ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدٌ، ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Season · Hadith 8802

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 8803

8803 - أخبرنا أبو علي الروذباري قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : نا عباس ابن محمد الدوري قال : نا قبيصة بن عقبة قال : نا سفيان و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو علي الحافظ قال : نا عبدان الأهوازي قال : نا عمرو بن محمد الناقد قال : نا محمد بن يوسف قال : نا سفيان عن شعبة عن جعفر ابن إياس و هو أبو بشر عن مجاهد عن ابن عباس في قوله عز و جل : ـ { تدخلوا بيوتا غير بيوتكم حتى تستأنسوا } قال : أخطأ الكاتب حتى تستأنسوا إنما هي تستأذنوا و تسلموا لفظ حديث الروذباري و روى عن شعبة كما

ہمیں خبر دی ابوعلی روذ باری نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عباس بن محمد دوری نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی قبیصہ بن عقبہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی سفیان نے اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں ۔ ہمیں خبر دی ابوعلی حافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی عبدان اهوازی نے ان کو عمرو بن محمد ناقد نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو محمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں ان کو خبر دی سفیان نے شعبہ سے اس نے جعفر بن ایاس سے وہ ابوبشر ہیں ۔ انہوں نے مجاہد سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اللہ کے اس قول کے بارے میں لا تدخلوا بيوتا غير بيوتكم حتى تستأنسوا کہ انہوں نے فرمایا یہ کا تب سے غلطی ہوئی ہے حتى تستأنسوا نہیں تھا بلکہ یہ تستأذنوا تھا۔ یہ الفاظ حدیث روذباری کے ہیں اور شعبہ سے بھی مروی ہے جیسے ذیل میں ہے۔

ابن عباس في قوله عز و جل ← مُجَاهِدٍ ← جعفر ابن إياس و هو أبو بشر ← شُعْبَةُ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ← عبدان الأهوازي ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← سفيان و ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← عباسُ ابنُ محمد الدُّوْرِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Season · Hadith 8803

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 8804

8804 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان قال : أنا أبو سهل بن زياد القطان قال : نا يعقوب ابن إسحاق المخرمي قال : نا أبو عمر الحوضي قال : نا شعبة عن أيوب السختياني عن سعيد بن جبير عن ابن عباس في : هذه الآية { حتى تستأنسوا و تسلموا على أهلها } قال : إنما هي حتى تستأذنوا و لكن سقط من الكاتب و هذا الذي رواه شعبة و اختلف عليه في إسناده و رواه أبو بشر و اختلف عليه في إسناده من أخبار الآحاد و رواية إبراهيم عن ابن مسعود متقطعة و القراءة العامة ثبت نقلها بالتواتر فهي أولى و يحتمل أن تكون ذلك القراءة الأولى ثم صارت القراءة إلى ما عليه العامة و نحن لا نزعم أن شيئا مما وقع عليه الإجماع أو نقل متواترا أنه خطأ و كيف يجوز أن يقال : ذلك و له وجه يصح و إليه ذهبت العامة

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابو سہل بن زیاد قطان نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی یعقوب بن اسحاق مخرمی نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابوعمر و حوضی نے وہ کہتے ہیں کہ نہیں خبر دی شعبہ نے ان کو ایوب سختیانی نے سعید بن جبیر سے اس نے ابن عباس سے اس آیت کے بارے میں ۔ حتى تستأنسوا وتسلموا على اهلها . فرمایا کہ سوائے اس کی نہیں کہ یہ حتی تستأذنوا تھالیکن یہ کا تب سے ساقط ہو گیا ہے۔ اور یہ وہ ہے جس کو شعبہ نے روایت کیا ہے اور اس کے بارے میں اس کی اسناد میں اختلاف ہے ۔ اور اس کو ابو بشر نے روایت کیا ہے ۔ اور اس کی اسناد میں اختلاف ہے اور یہ اخبار احادیت سے ہے ۔ اور ابراہیم کی روایت ابن مسعود سے مقطوع ہے اور عام قرأت جو ہے اس کی نقل تو اتر کے ساتھ ثابت ہے ۔ پس وہ اولیٰ ہے ۔ اور یہ احتمال ہے کہ یہ قرأت پہلی قرآت ہو ۔ اس کے بعد قرأت وہ ہوگئی ہو جو عام ہے اور ہم یہ گمان نہیں کرتے کہ کوئی شیئی اس قبیل سے ہو جس پر اجماع واقع ہوا ہو یا جو چیز تواتر سے نقل ہوئی ہو کہ وہ خطا ہے ۔ اور کیسے جائز ہے کہ یہ کہا جائے اور اس کے لئے ایک تو جہیہ ہے جو صحیح ہے اوراسی طرف گئے ہیں عام اہل علم ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← يعقوب ابن إسحاق المخرمي ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Season · Hadith 8804

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 8805

8805 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو قال : نا أبو العباس الأصم قال : نا محمد بن الجهم قال : نا الفراء قال : حدثني حبان عن الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس قال : ـ { حتى تستأنسوا } تستأذنوا و قال هذا مقدم ومؤخر إنما هو حتى تسلموا وتستأذنوا تقول : السلام عليك إدخل

ہمیں خبر دی ابوسعید بن ابی عمر نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابوالعباس اصم نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی محمد بن جہم نے وہ کہتے ہیں کہ ان کوفراء نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے جہان نے کلبی سے ان کو ابو صالح نے ان کو ابن عباس نے فرمایا کہ (حتی تستانسوا )یعنی اجازت مانگو۔ فرمایا یہ مقدم مؤخر ہے، اصل میں ہے حتى تسلموا وتستاذنوا. یہاں تک کہ تم پہلے سلام کرو اور پھر اجاز مانگو۔ یوں کہو۔ السلام علیکم ادخل تم پر سلام ہو کیا میں اندر آؤں؟

هذا مقدم ومؤخر إنما هو حتى تسلموا وتستأذنوا تقول السلام عليك إدخل ← حتى تستأنسوا تستأذنوا و ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الكلبي ← حِبَّانُ ← الْفِرَاءِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Season · Hadith 8805

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 8806

8806 - قال الفراء : و الاستئناس في كلام العرب إذهب فاستأنس هل ترى أحدا فيكون معناه أنظروا من في الدار قلت : و قوله هذا مقدم و مؤخر يريد به في المعنى والذي ذكره الفراء يشهد لما قاله الحليمي في معنى الآية بالصحة

کہا فراء نے تستانسوا استثناس سے مشتق ہے ۔ کلام عرب میں استنناس . اس مفہوم میں آتا ہے ۔ جاتو دیکھ اور جانچ کیا کسی کو دیکھتے ہو۔ تو گویا اس کا معنی ہوگا کہ دیکھو ان کو جو گھر میں ہیں۔ میں نے کہا کہ ابن عباس کا یہ قول کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے اس سے ان کی مراد ہے کہ معنی میں تقدیم و تاخیر ہے۔ ( یہ نہیں کہ الفاظ آگے پیچھے ہیں۔) اور فراء نے جوذ کر کیا ہے وہ اس کو قول کا شاہد ہے جو شیخ حلیمی نے کہا ہے آیت کے معنی کے بارے میں صحت کے ساتھ ۔

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Season · Hadith 8806

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 8807

8807 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي قال : نا إبراهيم بن الحسين قال : نا آدم قال : نا ورقاء عن ابن أبي نجيح عن مجاهد : في قوله : { حتى تستأنسوا } يقول : حتى يتنحنحوا أو يتنخموا قال الحليمي رحمه الله عز و جل : { و تسلموا } فيحتمل أن يكون معناه تستأنسوا بأن تسلموا على أهلها و بهذا جاء الخبر إلى ما

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے وہ کہتے ہیں کہ کہا آدم نے وہ کے میں ہمیں خبر دی ور قاء نے ان کو ابن ابی نجیح نے مجاہد سے اس قول باری تعالی کے بارے میں۔ حتی تستانسوا ۔وہ کہتے ہیں کہ اس سے مرادہے ۔ کہ حتیٰ کہ تم کھنکھارلو یا بلغم تھوک لو( تا کہ اندر والوں کوکسی انسان کے آنے کا انداز ہ ہو جائے۔) شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اللہ کایہ قول ۔ تسلموا ( تم سلام کرلو ) احتمال رکھتا ہے اس کا یہ معنی ہو کہ تم لوگ مانوس ہو جاؤ با یں طور کہ سلام کرلو اہل خانہ پر اوراسی کے بارے میں حدیث بھی آئی ہے چنانچہ اسی کی طرف انہوں نے اشارہ کیا ہے ( جو کہ درج ذیل ہے۔)

حتى يتنحنحوا أو يتنخموا ← مجاهد في قوله حتى تستأنسوا ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Season · Hadith 8807

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 8808

8808 - أخبرنا أبو علي الروذباري قال : أنا محمد بن بكر قال : نا أبو داود قال : نا محمد بن المثنى و هشام أبو مروان المعني قال محمد بن المثنى : نا الوليد بن مسلم قال : أنا الأوزاعي قال : سمعت يحيى بن أبي كثير يقول : حدثني محمد بن عبد الرحمن بن أسعد بن زرارة عن قيس بن سعد قال : زارنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في منزلنا فقال : السلام عليكم و رحمة الله قال : فرد سعد ردا خفيا قال قيس : فقلت : ألا تأذن لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ذره يكثر علينا السلام فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : السلام عليكم و رحمة الله ثم رجع رسول الله صلى الله عليه و سلم و اتبعه سعد فقال : يا رسول الله إني كنت أسمع تسليمك و أرد عليك ردا خفيا لتكثر علينا من السلام قال : فانصرف معه رسول الله صلى الله عليه و سلم و أمر له سعد بغسل فاغتسل ثم ناوله ملحفة مسبوغة بزعفران أو ورس فاشتمل بها ثم رفع رسول الله صلى الله عليه و سلم يديه و هو يقول : اللهم اجعل صلواتك و رحمتك على مال سعد بن عبادة قال : ثم أصاب رسول الله صلى الله عليه و سلم من الطعام فلما أراد الإنصراف قرب له سعد حمارا قد وطأ عليه بقطيفة فركب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال سعد : يا قيس إصحب رسول الله صلى الله عليه و سلم قال قيس فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إركب فأبيت ثم قال : إما أن تركب وإما أن تنصرف قال : فانصرفت قال هشام أبو مروان عن محمد بن عبد الرحمن بن أسعد بن زرارة قال أبو داود رواه عمر بن عبد الواحد و ابن سماعه عن الأوزاعي مرسلا لم يذكرا قيس بن سعد

ہمیں خبر دی ابوعلی دو ذباری نے ان کو محمد بن بکر نے وہ کہتے ہیں ان کو ابوداؤد نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبردی محمد بن مثنی اور ہشام ابو مروان المعنی نے کہا حمد بن مثنی نے ان کو ولید بن مسلم نے وہ کہتے ہیں ان کو خبر دی اوزاعی نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنایحییٰ بن ابی کثیر سے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے محمد بن عبدالرحمٰن بن اسعد بن زرارہ نے اس نے قیس بن سعد سے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں ہم لوگوں سے ملنے کے لئے تشریف لے آئے ( آتے ہی دروازے سے باہر سے )فرمایا السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔ کہتے ہیں کہ حضرت سعد نے حضور کے سلام کا جواب ہلکے سے دیا۔ قیس کہتے ہیں کہ میں نے کہا سعدتم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کواندر آنے کی اجازت نہیں دے رہے۔اس نے کہا کہ رہنے دیجئے ہمارے اوپر اور سلامتی کی دعافرمانے دیجئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔اس کے بعد رسالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے ۔ فوراً حضرت سعد آپ کے پیچھے دوڑے اور بولے رسول اللہ ! بے شک میں آپ کا سلام سن رہا تھا اور ہلکے سے آپ کا جواب بھی دے رہا تھا تا کہ آپ زیادہ ہمارے اوپر سلامتی کی دعافر ماد یں۔ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ واپس لوٹ آئے اور سعد نے آپ کے لئے غسل کا انتظام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا سعد نے آپ کو پونچھنے کے لئے تولیہ یا چادر اٹھا کر دی جو زعفرانی رنگ سے رنگی ہوئی تھی ۔ یاوہ اس سے رنگی ہوئی تھی آپ نے اس کو لپیٹ لیا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعافرمائی۔ اللهم اجعل صلواتك ورحمتک مال سعد بن عبادة. اے اللہ تو سعد بن عبادہ کے مال میں رحمتیں اور برکتیں ڈال دے اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا پیش کیا گیا۔ جب آپ نے واپس جانے کا ارادہ کیا تو سعد نے سواری کے لئے گدھے کا انتظام کیا اور اس کے اوپر کپڑاڈالا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے تو سعد نے کہا اے قیس تو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہولے قیس نے کوئی معذرت کی تو حضور نے فرمایا۔ چلئے سوار ہو جائیے۔اس کے بعد فرمایا تو آپ سوار ہو جائیے یا واپس ہٹ جائے میں واپس ہو گیا۔ کہا ہشام ابو مروان نے محمد بن عبدالرحمٰن بن اسعد بن زرارہ سے ۔کہا ابوداؤد نے کہ روایت کیا ہے اس کو عمر بن عبدالواحد نے اور ابن سماعہ نے اوزاعی سے بطور مرسل روایت کے اور نہیں ذکر کیا قیس بن سعد ۔

ذره يكثر علينا السلام ← قيس فقلت ألا تأذن لرسول الله صلى الله عليه و سلم ← فرد سعد ردا خفيا ← السلام عليكم و ← زارنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في منزلنا ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدِ بْنِ زُرَارَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← محمد بن المثنى و هشام أبو مروان المعني ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Season · Hadith 8808

chevron_left Previous
1…151617…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood