شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ الحادي و الستون من شعب الإيمان و هو باب في مقاربة أهل الدين و موادتهم و إفشاء السلام بينهم · حديث 8749
8749 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري قال : أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : نا يوسف بن يعقوب قال : نا عبد الله بن عبد الوهاب قال : نا خالد بن الحارث قال : نا عوف الأعرابي قال : نا زرارة بن أوفى في مسجد البصرة قال : قال عبد الله بن سلام : لما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة أتجفل الناس قبله فقال : قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم فجئت في الناس أنظر فلما تبينت وجهه عرفت أن وجهه ليس بوجه كذاب فتكلم فكان أول شيء سمعته تكلم به أن قال : يا أيها الناس افشوا السلام و صلوا الأرحام و أطعموا الطعام و صلوا بالليل و الناس نيام تدخلوا الجنة بسلام
ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقرئی نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی حسن بن محمد بن اسحاق نے وہ کہتے ہیں ان کو یوسف بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو عبداللہ بن عبدا لو ہاب نے ان کو خالد بن حارث نے ان کو عوف اعرابی نے ان کوز را ر ہ بن اوفیٰ نے بصرہ کی مسجد میں ۔انہوں نے کہا عبداللہ بن سلام نے کہا تھا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے میں تشریف لائے تو لوگ پہلے سے منتظر تھے ۔لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے ہیں ۔ میں نے چاہا کہ میں لوگوں میں جاکر ان کے تاثرات دیکھوں جب حضور کا چہرہ ظاہر ہوا تو میں سمجھ گیا کہ ان کا چہرہ کسی جھوٹے اور کذاب کا چہرہ نہیں ہے۔ آپ نے کلام کیا سب سے پہلا کلام جو میں نے ان کا سنا کہ انہوں نے کلام کیا تھاوہ یہ تھا ۔ اے لوگو! سلام کرنے کو پھیلا ؤ اور صلہ رحمی کیا کرو۔ کھانا کھلایا کرو اور رات کو نماز یں ادا کرو جب لوگ سور ہے ہوں تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ۔
زرارة بن أوفى في مسجد البصرة ← عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ
Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The sixty-first of the people of faith, and it is a chapter in the approach of the people of religion and their articles and the spread of peace between them · Hadith 8749
