Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ الحادي و الستون من شعب الإيمان و هو باب في مقاربة أهل الدين و موادتهم و إفشاء السلام بينهم · حديث 8749

8749 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري قال : أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : نا يوسف بن يعقوب قال : نا عبد الله بن عبد الوهاب قال : نا خالد بن الحارث قال : نا عوف الأعرابي قال : نا زرارة بن أوفى في مسجد البصرة قال : قال عبد الله بن سلام : لما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة أتجفل الناس قبله فقال : قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم فجئت في الناس أنظر فلما تبينت وجهه عرفت أن وجهه ليس بوجه كذاب فتكلم فكان أول شيء سمعته تكلم به أن قال : يا أيها الناس افشوا السلام و صلوا الأرحام و أطعموا الطعام و صلوا بالليل و الناس نيام تدخلوا الجنة بسلام

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقرئی نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی حسن بن محمد بن اسحاق نے وہ کہتے ہیں ان کو یوسف بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو عبداللہ بن عبدا لو ہاب نے ان کو خالد بن حارث نے ان کو عوف اعرابی نے ان کوز را ر ہ بن اوفیٰ نے بصرہ کی مسجد میں ۔انہوں نے کہا عبداللہ بن سلام نے کہا تھا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے میں تشریف لائے تو لوگ پہلے سے منتظر تھے ۔لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے ہیں ۔ میں نے چاہا کہ میں لوگوں میں جاکر ان کے تاثرات دیکھوں جب حضور کا چہرہ ظاہر ہوا تو میں سمجھ گیا کہ ان کا چہرہ کسی جھوٹے اور کذاب کا چہرہ نہیں ہے۔ آپ نے کلام کیا سب سے پہلا کلام جو میں نے ان کا سنا کہ انہوں نے کلام کیا تھاوہ یہ تھا ۔ اے لوگو! سلام کرنے کو پھیلا ؤ اور صلہ رحمی کیا کرو۔ کھانا کھلایا کرو اور رات کو نماز یں ادا کرو جب لوگ سور ہے ہوں تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ۔

زرارة بن أوفى في مسجد البصرة ← عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The sixty-first of the people of faith, and it is a chapter in the approach of the people of religion and their articles and the spread of peace between them · Hadith 8749

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ الحادي و الستون من شعب الإيمان و هو باب في مقاربة أهل الدين و موادتهم و إفشاء السلام بينهم · حديث 8750

8750 - أخبرنا أبو الحسن بن بشران قال : أنا أبو جعفر الرزاز قال : نا أحمد بن الوليد الفحام ح و أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن الحمامي المقري رحمه الله قال : أنا أحمد بن سلمان قال : نا الحسن بن مكرم قالا : نا حجاج بن محمد قال : قال ابن جريج قال سليمان بن موسى نا نافع أن ابن عمر كان يقول : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أفشوا السلام و أطعموا الطعام و كونوا أخوانا كما أمركم الله

ہمیں خبر دی ابوالحسن بن بشران نے وہ کہتے ہیں ان کو خبر دی ابو جعفر رزاز نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو احمد بن ولید فحام نے ’’ح‘‘۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن علی بن احمد بن حمامی مقری نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی احمد بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی حسن بن مکرم نے دونوں نے کہا ان کو حجاج بن محمد نے ان کو ابن جریج نے ان کو سلیمان بن موسیٰ نے ان کو نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلام کو عام کرو۔ لوگوں کو کھانا کھلاؤ اور آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ جیسے تمہیں اللہ نے حکم دیا ہے۔

نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو الحسن علي بن أحمد بن الحمامي المقري ← و، ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أبو الحسن بن بشران

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The sixty-first of the people of faith, and it is a chapter in the approach of the people of religion and their articles and the spread of peace between them · Hadith 8750

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ الحادي و الستون من شعب الإيمان و هو باب في مقاربة أهل الدين و موادتهم و إفشاء السلام بينهم · حديث 8751

8751 - حدثنا أبو سعد عبد الملك بن محمد بن إبراهيم الزاهد قال : أنا أبو محمد يحيى بن منصور بن عبد الملك القاضي و أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهرة العنبري قال : أنا جدي يحيى بن منصور القاضي قال : نا أحمد بن سلمة قال : نا قتيبة بن سعد قال : نا ليث بن سعد عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخير عن عبد الله بن عمرو : أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم : أي الإسلام خير ؟ قال : تعطم الطعام و تفشي السلام على من عرفت و من لم تعرف رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة و رواه البخاري عن عبد الله بن يوسف عن الليث

ہمیں حدیث بیان کی ابوسعد عبدالملک بن محمد بن ابراہیم زاہد نے ان کو ابو محمد یحییٰ بن منصور بن عبدالملک قاضی نے ۔ وہ کہتے ہیں اور ہمیں خبر دی ہے احمد بن سلمہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی قتیبہ بن سعید نے ان کولیث بن سعد نے ان کو یزید بن ابی حبیب نے ان کو ابوالخیر نے عبید اللہ بن عمرو سے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اسلام کون سا بہتر ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ تم کھانا کھلایا کرو اور سلام کو عام کیا کرواسی پر جس کو آپ جانتے ہیں اور اس پر جس کونہیں پہنچانتے ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح بن قتیبہ سے ۔ اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے عبداللہ بن یوسف سے اس نے لیث سے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← قتيبة بن سعد ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أبو صالح بن أبي طاهرة العنبري ← أبو محمد يحيى بن منصور بن عبد الملك القاضي و ← أبو سعد عبد الملك بن محمد بن إبراهيم الزاهد

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The sixty-first of the people of faith, and it is a chapter in the approach of the people of religion and their articles and the spread of peace between them · Hadith 8751

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ الحادي و الستون من شعب الإيمان و هو باب في مقاربة أهل الدين و موادتهم و إفشاء السلام بينهم · حديث 8752

8752 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن الحرشي قال : نا أبو العباس محمد بن يعقوب قال : نا عتبة قال : نا بقية قال : نا محمد بن زياد قال : كنت آخذ بيد أبي أمامة فأنصرف معه إلى بيته فلا يمر بمسلم و لا نصراني و لا صغير و لا كبير إلا قال : سلام عليكم سلام عليكم سلام عليكم حتى إذا انتهى إلى باب داره التفت إلينا ثم قال : يا بني أخي أمرنا نبينا صلى الله عليه و سلم أن نفشي السلام قال الإمام أحمد : السلام على النصراني رأي من أبي أمامة و قد روينا عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه نهى عن ابتدائهم بالسلام

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابو بکر احمد بن حسن حرشی نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو عتبہ نے ان کو بقیہ نے ان کو محمد بن زیاد نے وہ کہتے ہیں کہ میں ابوامامہ کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا لہذا میں اس کے ساتھ اس کے گھر کی طرف مڑ گیاوہ جس آدمی کے ساتھ گذرے اس کو سلام ما کم ۔ سلام علیکم ۔ سلام علیکم کہتے گئے خواہ مسلمان تھا یا عیسائی یا چھوٹا تھا یا بڑا۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے ہم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا اے میرے بھتیجے ہم لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا کہ ہم سلام کو عام کریں۔ امام احمد نے فرمایا کہ عیسائی پر سلام کہنا یہ ابوامامہ کی رائے ہے ۔ اور تحقیق ہم نے روایت کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ انہوں نےعیسائیوں پر سلام کرنے میں پہل کرنے سے منع کیا تھا۔

مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← بَقِيَّةُ ← عُتْبَةُ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن الحرشي

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The sixty-first of the people of faith, and it is a chapter in the approach of the people of religion and their articles and the spread of peace between them · Hadith 8752

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ الحادي و الستون من شعب الإيمان و هو باب في مقاربة أهل الدين و موادتهم و إفشاء السلام بينهم · حديث 8753

8753 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه قال : نا أبو بكر محمد بن عمر بن حفص الزاهد قال : نا إسحاق بن عبد الله بن محمد بن الزبير قال : نا المقري قال : نا سعيد بن أبي أيوب قال : حدثني عبد الله بن الوليد عن عبد الله بن عبد الرحمن بن حجيرة عن أبيه عن جده عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم انه قال : حق المؤمن على المؤمن ست خصال أن يسلم عليه إذا لقيه و يشتمه إذا عطس و إذا دعاه أن يجيبه و إذا مرض أن يعوده و إذا مات أن يشهده و إذا غاب أن ينصحه

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن عمر بن حفص زاہد نے ۔ان کو اسحٰق بن عبد اللہ بن محمد بن زبیر نے ان کو المقری نے ان کو سعید بن ابوایوب نے ان کو عبداللہ بن ولید نے ان کو عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن حجیرہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے ان کو ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انہوں نے فرمایا ۔ مؤمن پر مؤمن کا حق چھ خصلتیں ہیں:( ۱) کہ وہ اس پر سلام کرے جب اس سے ملے ۔(۲) اور جب وہ چھینک لے تو اس کو اس کا جواب دے۔(۳) اور جب وہ اس کو بلائے تو اس کی بات مانے۔(۴) اور وہ جب بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے۔(۵) جب و ومر جائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرے ۔(۶) جب وہ موجود نہ ہوتو وہ اس کی خیر خواہی کرے ۔ (اس کا مطلب نہیں کہ سامنے خیر خواہی نہ کرے بلکہ مطلب یہ ہے کہ پیٹھ پیچھے بھی اس کا خیال کر ۔ )

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُجَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← الْمُقْرِئُ ← إسحاق بن عبد الله بن محمد بن الزبير ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The sixty-first of the people of faith, and it is a chapter in the approach of the people of religion and their articles and the spread of peace between them · Hadith 8753

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ الحادي و الستون من شعب الإيمان و هو باب في مقاربة أهل الدين و موادتهم و إفشاء السلام بينهم · حديث 8754

8754 - و رواه العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم و من ذلك الوجه أخرجه مسلم

اور اس کو روایت کیا ہے علاء بن عبد الرحمٰن نے اپنے والد سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اوراسی طریق سے اس کو مسلم نے نقل کیا ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم و من ذلك الوجه أخرجه مسلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← و رواه العلاء بن عبد الرحمن

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The sixty-first of the people of faith, and it is a chapter in the approach of the people of religion and their articles and the spread of peace between them · Hadith 8754

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ الحادي و الستون من شعب الإيمان و هو باب في مقاربة أهل الدين و موادتهم و إفشاء السلام بينهم · حديث 8755

8755 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل قال : نا محمد بن عبد الوهاب الفراء قال : أنا جعفر بن عون قال : أنا أبو إسحاق الشيباني عن أشعث بن الشعثاء عن معاوية بن سويد عن البراء بن عازب قال : أمرنا بسبع و نهانا عن سبع قال يعني النبي صلى الله عليه و سلم : أمرنا بعيادة المريض و اتباع الجنازة و إفشاء السلام و إجابة الداعي و تشميت العاطس و نصر المظلوم و إبرار القسم و نهانا عن الشرب في الفضة فإنه من يشرب فيها في الدنيا لا يشرب فيها في الآخرة و عن التختم بالذهب و عن ركوب المياثر و لباس القسى و الحرير و الديباج و الإستبرق و كذلك قاله سفيان الثوري عن زهير بن معاوية و أبو عوانة و ليث بن أبي سليم عن أشعث و إفشاء السلام و رواه شعبة عن أشعث فقال : و رد السلام و الجماعة أولى بالحفظ من واحد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالفضل حسن بن یعقوب بن یوسف عدل نے ان کومحمد بن عبدالوہاب فرا ء نے ۔ ان کو جعفر بن عون نے ان کو ابو اسحاق شیبانی نے ان کو اشعث بن شعثاء نے ان کو معاویہ بن سوید نے ان کو براء بن عازب نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا اور سات چیزوں سے منع فرمایا۔ انہوں نے ہمیں مریض کی عیادت کا حکم دیا اور جنازے کے پیچھے چلنے کا سلام کو عام کرنے کا پکارنے والے کی بات ماننے کا چھینک دینے والے کو جواب دینے کا مظلوم کی مددکرنے کا اور قسم پوری کرنے کا اور انہوں نے ہمیں منع کیا تھا چاندی کے برتن میں پینے سے کیونکہ دنیا میں جوشخص ان میں پیئے گا وہ آخرت میں اس سے محروم ہوگا۔اور منع کیا تھا سونے کی انگوٹھی پہننے سے اور ننگے پیٹھ کے گھوڑے پر سواری کرنے سے اور کسی کے لباس سے اور ریشم بار یک ہو یا موٹا اس کو پہننے سے ۔ اسی طرح کہا ہے اس کو سفیان ثوری نے زہیر بن معاویہ سے اور ابوعوانہ سے اور لیث بن ابی سلیم سے اس نے اشعث سے لفظ ہے افشاء السلام ۔ اور اس کو روایت کیا ہے شعبہ نے اشعث سے پس فرمایا : سلام کا جواب دینا اور جماعت زیادہ بہتر ہے حفظ کے ساتھ ایک سے ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ← أشعث بن الشعثاء ← أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The sixty-first of the people of faith, and it is a chapter in the approach of the people of religion and their articles and the spread of peace between them · Hadith 8755

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ الحادي و الستون من شعب الإيمان و هو باب في مقاربة أهل الدين و موادتهم و إفشاء السلام بينهم · حديث 8756

8756 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب قال نا إبراهيم بن مرزوق قال : نا أبو داود و وهب بن جرير قالا : نا شعبة عن أشعث بن أبي الشعثاء عن معاوية بن سويد بن مقرن عن البراء بن عازب قال : أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بسبع و نهانا عن سبع فذكر الحديث و قال فيما أمر به و رد السلام و الحديث مخرج في الصحيحين باللفظين

ہمیں اس کی خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں ابراہیم بن مرزوق نے ان کو ابو داؤد نے اور وھب بن جریر نے ان دونوں نے کہا ان کو شعبہ نے ان کو بن ابوالشعثاء نے ان کو معاویہ بن سوید بن مقرن نے براء بن عازب سے وہ کہتے ہیں ہمیں رسول اللہ نے حکم دیا سات چیزوں کا اور ہمیں منع کیا سات چیزوں سے ۔ پھر اس نے مذکورہ حد یث کو ذکر کیا ۔اوران چیزوں میں جن کا حکم دیا تھا سلام کے جواب کو بھی ذکر کیا اور حد یث منقول ہے بخاری مسلم میں دولفظوں کے ساتھ ۔

فيما أمر به و رد السلام و الحديث مخرج في الصحيحين باللفظين ← سبع فذكر الحديث و ← أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بسبع و نهانا ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ← شُعْبَةُ، ← أبو داود و وهب بن جرير ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The sixty-first of the people of faith, and it is a chapter in the approach of the people of religion and their articles and the spread of peace between them · Hadith 8756

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ الحادي و الستون من شعب الإيمان و هو باب في مقاربة أهل الدين و موادتهم و إفشاء السلام بينهم · حديث 8757

8757 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال البزار قال : نا عبد الرحمن بن بشر قال : نا مروان بن معاوية عن بيان بن عبد الله عن عبد الرحمن بن عوسجة عن البراء بن عازب : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : افشوا السلام تسلموا

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال براز نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی عبدالرحمٰن بن بشر نے ان کو مروان بن معاویہ نے ان کو بیان بن عبداللہ نے ان کو عبدالرحمٰن بن عوسجہ نے براء بن عازب سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سلام کو عام کرو سلامتی میں رہو گے۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْسَجَۃَ ← بيان بن عبد الله ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّار، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The sixty-first of the people of faith, and it is a chapter in the approach of the people of religion and their articles and the spread of peace between them · Hadith 8757

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ الحادي و الستون من شعب الإيمان و هو باب في مقاربة أهل الدين و موادتهم و إفشاء السلام بينهم · حديث 8758

8758 - حدثنا أبو محمد عبيد بن محمد بن مهدي القشيري لفظا قال : نا أبو محمد عبد الله ابن موسى بن كعب قال : نا أبو نصر اليسع بن زيد بن سهل الزيني سنة اثنين و ثمانين و مائتين بمكة قال : نا سفيان بن عيينة عن حميد الطويل عن أنسى بن مالك قال : خدمت رسول الله صلى الله عليه و سلم فما قال : لشيء فعلته لم فعلته و لا قال : لشيء كسرته لم كسرته و كنت واقفا على رأس رسول الله صلى الله عليه و سلم أصب على يديه الماء فرفع رسول الله صلى الله عليه و سلم رأسه فقال : ألا أعلمك ثلاث خصال تنتفع بها ؟ قال : قلت : بلى بأبي و أمي يا رسول الله قال : من لقيت من أمتي فسلم عليه يطل عمرك و إذا دخلك بيتك فسلم عليهم يكثر خير بيتك و صل صلاة الضحى فإنها صلاة الأبرار

ہمیں حدیث بیان کی ابومحمد عبید بن محمد بن مہدی قشیری نے زبانی طور پر وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابو محمد عبد اللہ بن موسیٰ بن کعب نے ان کو ابونصر یسع بن زید بن سہل زینی نے ۲۸۲ ھ میں مکہ مکرمہ میں ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو حمید طویل نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی تھی انہوں نے مجھے کسی کام کر نے پر بھی نہیں کہا تھا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا اور نہ ہی کسی چیز کے ٹوٹنے پر پوچھا کہ کیوں توڑی میں ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑاہوا تھا آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈال رہا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناسراو پر کو اٹھایا اور فرمانے لگے کیا میں تمہیں ایسی تین خصلتیں نہ سکھا دوں جن کے ساتھ تو فائدہ اٹھائے؟ میں نے عرض کی کیوں نہیں یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ کے اوپر قربان ۔ فرمایا میری امت کے جس بندے سے بھی تو ملے اس کو سلام کرنا ۔ تیری عمرلمبی ہو جائے گی ۔ اور تم جب اپنے گھر میں داخل ہوا تو ان پر سلام کرنا تیرے گھر کی خیر ہو جائے گی اورچا شت کی نماز پڑھنا یہ نیک لوگوں کی نماز ہے ۔

أنسى بن مالك ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أبو نصر اليسع بن زيد بن سهل الزيني ← أبو محمد عبد الله ابن موسى بن كعب ← أبو محمد عبيد بن محمد بن مهدي القشيري

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The sixty-first of the people of faith, and it is a chapter in the approach of the people of religion and their articles and the spread of peace between them · Hadith 8758

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ الحادي و الستون من شعب الإيمان و هو باب في مقاربة أهل الدين و موادتهم و إفشاء السلام بينهم · حديث 8759

8759 - و أخبرنا أبو نصرة بن قتادة قال : أنا أبو محمد عبد الله بن محمد الكعبي قال : نا أبو نصر اليسع بن زيد بن سهل الزينبي بمكة : فذكره و قال : خدمت رسول الله صلى الله عليه و سلم عشر سنين

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابومحمد عبداللہ بن محمدکعبی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابونصر یسع بن زید بن سہل زینبی نے مکہ مکرمہ میں اس نے اس کو ذکر کیا ہے اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی ہے ۔

خدمت رسول الله صلى الله عليه و سلم عشر سنين ← أبو نصر اليسع بن زيد بن سهل الزينبي بمكة فذكره و ← أبو محمد عبد الله بن محمد الكعبي ← أبو نصرة بن قتادة ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The sixty-first of the people of faith, and it is a chapter in the approach of the people of religion and their articles and the spread of peace between them · Hadith 8759

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ الحادي و الستون من شعب الإيمان و هو باب في مقاربة أهل الدين و موادتهم و إفشاء السلام بينهم · حديث 8760

8760 - أخبرنا أبو القاسم الحسن بن محمد بن حبيب من أصله قال : نا أبو العباس محمد بن يعقوب قال : نا أبو قلابة قال : نا أبي قال : نا علي بن جعد الطائفي عن عمرو بن دينار عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أكثر الصلاة في بيتك يكثر خير بيتك و سلم من لقيت من أمتي تكثر حسناتك

ہم میں خبر دی ابوالقاسم حسن بن محمد بن حبیب نے اپنی اصل تحریر سے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو قلا بہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی میرے والد نے ان کو علی بن جعد طائفی نے ان کو عمر و بن دینار نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ گھر میں کثرت کے ساتھ نماز پڑھو تیرے گھر کی خیر میں اضافہ ہوگا۔ اور میری امت کے جس بندے سے تیری ملاقات ہو اس پر سلام کرو تیری نیکیوں میں انسافہ ہوگا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← علي بن جعد الطائفي ← أَبِي ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو القاسم الحسن بن محمد بن حبيب من أصله

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The sixty-first of the people of faith, and it is a chapter in the approach of the people of religion and their articles and the spread of peace between them · Hadith 8760

chevron_left Previous
1…111213…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood