Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8737

8737 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و محمد بن أبي المعروف قالا : أنا أبو عمرو بن نجيد أنا أبو مسلم نا أبو عاصم عن ابن عجلان عن المقبري عن أبي هريرة قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم : أي النساء خير ؟ قال : التي تسر إذا نظر و لا تعصيه إذا أمر و لا تخالفه بما يكره في نفسها و مالها و رواه الليث بن سعد عن ابن عجلان و قال في نفسها و لا ماله

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے اور محمد بن ابی المعروف نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی ابو عمر بن نجید نے ان کو ابومسلم نے ان کو ابو عاصم نے ان کو ابن عجلان نے ان کو مقبری نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پو چھا گیا تھا کہ عورتیں کون سی بہتر ہیں؟ فرمایا کہ وہ عورت کہ جس کو اس کا مرد جب دیکھے تو وہ اس کو اچھی لگے اور جب مرد اس کو کوئی بات کہے تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے اور وہ جو اپنے شوہر کی مخالفت نہ کرے ان امور میں جن کو وہ ناپسند کرتی ہے اپنی ذات کے بارے میں یا اپنے مال کے بارے میں اور اس کو روایت کیا ہے لیث بن سعد نے ابن عجلان سے اور انہوں نے اس کے نفس کی بات کہی ہے اور اس کے مال کی بات نہیں کہی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ← أبو نصر بن قتادة و محمد بن أبي المعروف

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8737

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8738

8738 - أخبرنا أبو سعيد عبد الرحمن بن محمد بن شبانة الهمداني بها نا أبو حاتم أحمد بن عبد الله البستي نا إسحاق بن إبراهيم البستي نا قتيبة نا عبد الله بن بكر السهمي نا أبو بشر : أن أسماء بن خارجة الفزاري لما أراد أن يهدي ابنته إلى زوحها قال لها : يا بنية كوني لزوجك أمة يكن لك عبدا و لا تدني منه فيملك و لا تباعدي عنه فتثقلي عليه و كوني كما قلت لأمك ( خذي العفو مني تستمدي مودتي و لا تنطقي في سورتي حين أغضب ) ( فإني رأيت الحب في الصدر و الأذى إذا اجتمعا لم يلبث الحب يذهب )

ہمیں خبر دی ابوسعید عبدالرحمٰن بن محمد بن شبانہ ہمدانی نے وہاں پر ان کو ابوحاتم احمد بن عبداللہ البستی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم البستی نے ان کوقتیہ نے ان کو عبد اللہ بن بکر سہمی نے ان کو ابو بشر نے یہ کہ اسماء بن خارجہ فزاری جب اپنی بیٹی کو اس کے شوہر کے گر بھیجنا چاہتے تو اس کو نصیحت کرتے تھے اے بیٹی تم اپنے شوہر کی لونڈی یا نوکرانی بن جانا ۔ وہ خود بخو دتمہارا غلام بن جائے گا ۔ اور تم اس کے قریب مت ہونا پس وہ مالک بن جائے گا اور اس سے دور بھی نہ ہونا کیونکہ اس طرح اس پر بوجھ ڈال دوگی بلکہ اس کے ساتھ ایسے رہنا جیسے میں نے تیری امی سے کہا تھا ۔ کہ عفو در گذرتم مجھ سے سیکھو اس طرح تم میری محبت میں میری معاون ثابت ہوگی اور میرے غصے کے وقت میری عزت و شرف کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرتا۔ میں نے یہ لکھا ہے کہ محبت اور ایذا جب سینے میں اکٹھی ہو جاتی ہیں تو محبت نہیں ٹھہرتی بلکہ وہ چلی جاتی ہے ۔ یعنی محبت رخصت ہو جاتی ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← قُتَيْبَةُ، ← إسحاق بن إبراهيم البستي، ← أبو حاتم أحمد بن عبد الله البستي ← أبو سعيد عبد الرحمن بن محمد بن شبانة الهمداني بها

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8738

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8739

8739 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن عمر نا محمد بن المنذر حدثني القاسم بن محمد نا أبو الوليد عن علي بن الحسن قال : قال عبد الله بن المبارك : خصلتان حرمهما الناس الحسبة في الكسب و الحسبة في النفقة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے انہوں نے مجھے خبر دی محمد بن عمر سے ان کومحمد بن منذر نے ان کو حدیث بیان کی قسم بن محمد نے ان کو ابو الولید نے ان کو علی بن حسن نے وہ کہتے ہیں کہا عبداللہ بن مبارک نے کہ دو خصلتیں ایسی ہیں کمانے میں اور خرچ کرنے میں ثواب کی امید رکھنا ۔

عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← محمد بن المنذر ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8739

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8740

8740 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو الحسن علي بن إبراهيم بن عيسى المستملي نا محمد بن إسحاق بن خزيمة نا علي بن حجر نا بقية عن عيسى بن أبي عيسى عن الحسن قال : الكسب الحلال أشد من لقي الزخف

ہمیں خبر دی ابوالحسین بر فضل قطان نے ان کو ابوالحسن علی بن ابراہیم بن عیسی ٰمستملی نے ان کو محمد بن اسحٰق بن خزیمہ نے ان کوعلی بن حجر نے ان کو بقیہ نے ان کو عیسی ٰبن ابی عیسیٰ نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ کسب حلال زیادہ سخت ہے دشمن کا سامنا کرنے سے ۔

الكسب الحلال أشد من لقي الزخف ← الْحَسَنِ، ← عِيسَى بْنِ أَبِي عِيسَى ← بَقِيَّةُ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← أبو الحسن علي بن إبراهيم بن عيسى المستملي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8740

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8741

8741 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو إسحاق بن إبراهيم بن إسحاق السراج ببغداد نا يحيى بن يحيى أنا عباد بن كثير عن سفيان الثوري عن منصور عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : طلب كسب الحلال فريضة بعد الفريضة قال أبو عبد الله تفرد به عباد بن كثير عن الثوري و بلغني عن محمد بن يحيى أنه قال : لم أكره ليحيى بن يحيى شيئا قط غير رواية هذا الحديث

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ صفار نے ان کو ابواسحاق بن ابراہیم بن اسحٰق سراج نے بغداد میں ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو عباد بن کثیر نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو منصور نے ان کو ابراہیم نے ان کو علقمہ نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حلال کمائی کوطلب کرنا فرض ہے ہر مقصد کے بعد ۔ ابو عبداللہ نے کہا اس کے ساتھ عباد بن کثیر متفرد ہے ثوری سے اور مجھے خبر پہنچی ہے محمد بن یحییٰ سے کہ اس نے کہا کہ ہم نے نہیں ناپسند کی کوئی چیزیحییٰ بن یحییٰ کے لئے کوئی چیز بھی سوائے اس حدیث کی روایت کے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عباد بن كثير ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أبو إسحاق بن إبراهيم بن إسحاق السراج ببغداد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8741

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8742

8742 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و أبو بكر الفارسي قالا : أنا أبو عمر بن مطر نا إبراهيم بن علي نا يحيى بن يحيى أنا روح بن المسيب الكلبي عن ثابت عن انس بن مالك قال : جئن النساء إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم قلن : يا رسول الله ذهب الرجال بالفضل بالجهاد في سبيل الله أفما لنا عمل ندرك به عمل المجاهدين في سبيل الله ؟ قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مهنة إحداكن في بيتها تدرك عمل المجاهدين في سبيل الله تفرد به روح هذا

ہمیں خبر دی ابومنصور بن قتادہ نے اور ابوبکر فارسی نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو روح بن مسیب کلبی نے ان کو ثابت نے انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ عورتیں آئیں ۔ کہنے لگیں یارسول اللہ مرد تو جہاد کی فضیلت لے گئے ہیں کیا ہمارے لئے ایسا کوئی عمل نہیں ہے کہ ہم بھی اس کے ذریعے مجاہدین فی سبیل اللہ والا اجر حاصل کرسکیں؟ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ایک عورت کا اپنے گھر میں محنت مشقت کرنا ایسا عمل ہے جس کے ذریعے مجاہدین فی سبیل والاعمل حاصل ہوسکتا ہے روح راوی اس روایت میں متفرد ہے۔

جئن النساء إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم قلن ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← روح بن المسيب الكلبي ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عُمَرَ بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر الفارسي

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8742

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8743

8743 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر بن الحسن القاضي قالوا : أنا أبو العباس محمد بن يعقوب قال : قريء على العباس بن الوليد و أنا أسمع قيل لكم حدثكم أبو سعيد الساحلي و هو عبد الله بن سعيد نا مسلم بن عبيد عن أسماء بنت يزيد الأنصارية من بني عبد الأشهل أنها أتت النبي صلى الله عليه و سلم و هو بين أصحابه فقال : بأبي أنت و أمي إني وافدة النساء إليك و أعلم نفسي لك الفداء أما إنه ما من امرأة كائنة في شرق و لا غرب سمعت بمخرجي هذا أو لم تسمع إلا و هي على مثل رأى أن الله بعثك الحق إلى الرجال و النساء فآمنا بك و بالإهك الذي أرسلك و إنا معشر النساء محصورات مقصورات قواعد بيوتكم و مقضى شهواتكم و حاملات أولادكم و إنكم معاشر الرجال فضلتم علينا بالجمعة و الجماعات و عيادة المرضى و شهود الجنائز و الحج بعد الحج و أفضل من ذلك الجهاد في سبيل الله و إن الرجل منكم إذا أخرج حاجا أو معتمرا و مرابطا حفظنا لكم أموالكم و غزلنا لكم أثوابا و ربينا لكم أولادكم فما نشارككم في الأجر يا رسول الله ؟ قال : فالتفت النبي صلى الله عليه و سلم إلى أصحابه بوجهه كله ثم قال : هل سمعتم مقالة امرأة قط أحسن من مسألتها في أمر دينها من هذه ؟ فقالوا : يا رسول الله ما ظننا أن المرأة تهتدي ألى مثل هذا فالتفت النبي صلى الله عليه و سلم إليها ثم قال لها : انصرفي أيتها المرأة و أعلمي من خلفك من النساء أن حسن تبعل إحداكن لزوجها و طلبها مرضاته و اتباعها موافقته تعدل ذلك كله قال : فأدبرت المرأة و هي تهلل و تكبر استبشارا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوز کر یا بن ابواسحٰق نے اور ابو بکر بن حسن قاضی نے لوگوں نے کہا ان کو خبر دی ابوالعباس محمد بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں کہ پڑھا گیا ہے عباس بن ولید پر اور میں سن رہا تھا۔ کہا گیا تمہارے لئے ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوسعید ساحلی نے و و عبداللہ بن سعید ہیں ان کو خبر دی ہے مسلم بن عبید نے اس نے اسماء بنت یزید انصاریہ سے بنی عبدالاشہل سے آئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بیٹھے ہوئے تھے، کہنے لگی میرے ماں باپ آپ کے اوپر قربان جا ئیں میں تمام عورتوں کی طرف سے سفیر اور نمائندہ بن کر آپ کے پاس آئی ہوں ۔اور میں جانتی ہوں کہ میری روح آپ کے اوپر قربان ہے بات یہ ہے کہ کوئی عورت ایسی نہیں مشرق میں ہو یا مغرب میں کسی کو میرے یہاں آنے کی خبر ہو یاسنی ہو یا نہ سنی ہو مگر سب کی یہی رائے ہوگی کہ اللہ تعالٰی نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے تمام مردوں کی طرف اور تمام عورتوں کی طرف ہم لوگ آپ کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور آپ کے الہ ومعبود کے ساتھ بھی جس نے ان کو رسول بنا کر بھیجا ہے ۔ بے شک تم عورتوں کی جماعتیں بند ہیں اور روکی ہوتی ہیں ۔ تم لوگوں کے گھر میں پیچھے رہنے والی ہیں تمہاری خواہشوں کو پورا کرتی ہیں تمہاری اور اولادوں کو پالتی ہیں ۔ اور تم لوگ مردوں کی جماعات ہمارے اوپر فضیلت دیئے گئے ہو جمعہ کی وجہ سے، جماعت کی نمازوں کی وجہ سے، پسند یدہ عبادات کی وجہ سے اور جنازوں میں شرکت کی وجہ سے اور بار بار حج کرنے کی وجہ سے اور ان سب چیزوں میں سے افضل چیز تو جہاد فی سبیل اللہ ہے بے شک ایک آدمی تم میں سے جب حج یا عمرے کے لئے نکلتا ہے یا جہاد کے لئے ڈیرے ڈالتا ہے ہم لوگ گھروں میں رہ کر تمہارے مالوں کی حفاظت کرتی ہیں اور تمہارے لئے سوت کاٹ کر کپڑے بناتی ہیں اور ہم تمہاری اولا دوں کو پالتی ہیں یا رسول اللہ کیا ہم لوگ تم لوگوں کے ساتھ ثواب میں شریک نہیں ہیں؟ کہتے ہیں یہ بات سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے مکمل توجہ کے ساتھ اور فرمایا کیا تم لوگوں نے کبھی اس عورت کے مقابلے سے کوئی بہتر بات کسی عورت سے سنی ہے یا دین کے معاملے میں اس عورت سے بڑھ کر خوبصورت سوال بھی کسی نے دیکھا یا سنا ہے؟ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ کوئی عورت اس جیسی بات کرنے کی ہدایت ورہنمائی بھی رکھتی ہے ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس خاتون کی طرف متوجہ ہوئے پھر اس سے فرمایا اے خاتون آپ واپس چلی جاؤ اور اپنے پیچھے رہنے والی عورتوں کو جا کر بتادو کہ تم عورتوں کی بہتر از دواجی زندگی اور اپنے شوہر کے ساتھ تم لوگوں کا حسن سلوک اور اس کی رضاطلب کرنا اور اپنے شوہروں کی رضاء کے پیچھے چلنا اور اس کی موافقت کرنا یا مورایسے ہیں جوان مذکور ہ امور کے برابر ہو جاتے ہیں سب کے ۔ کہتے ہیں یہ جواب سن کر وہ عورت واپس پیچھے لوٹی تو و ولا الہ الا اللہ اللہ اکبر۔ کہہ رہی تھی خوشی کی وجہ سے ۔

أسماء بنت يزيد الأنصارية من بني عبد الأشهل ← مُسْلِمُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← أسمع قيل لكم حدثكم أبو سعيد الساحلي و هو عبد الله بن سعيد ← قرىء على العباس بن الوليد و ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8743

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8744

8744 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا أحمد بن عبد الجبار نا ابن فضيل عن أبي نصر عبد الله بن عبد الرحمن عن المساور الحميري عن أمه عن أم سلمة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما امرأة ماتت و زوجها عنها راض دخلت الجنة

ہمیں حدیث بیان کی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان دونوں نے کہا ہمیں خبر دی ابوالعباس اصم نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ان فضیل نے ان کو ابونصر عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے مساور حمیری سے اس نے اپنی ماں سے اس نے ام سلمہ سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت فرماتی ہے اور اس کا شوہر اس سے راضی ہوتا ہے وہ جنت میں داخل ہو جاتی ہے۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← أُمِّهِ2، ← المساور الحميري ← أَبِي نَصْرٍ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8744

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ الحادي و الستون من شعب الإيمان و هو باب في مقاربة أهل الدين و موادتهم و إفشاء السلام بينهم · حديث 8745

8745 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب قال : نا أحمد بن عبد الجبار قال : نا أبو معاوية عن الأعمش و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم الشيباني قال : نا إبراهيم بن عبد الله قال : أنا وكيع عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و الذي نفسي بيده لا تدخلوا الجنة حتى تؤمنوا و لا تؤمنوا حتى تحابوا أولا أدلكم على شيء إذا فعلتموه تحاببتم أفشوا السلام بينكم و في رواية أبي معاوية و الذي نفس محمد بيده و قال علي : إن أنتم فعلتموه رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة عن وكيع و أبي معاوية

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابوالعباس محمد بن یعقوب نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے احمد بن عبدالجبار نے وہ کہتے ہیں ان کو ابومعاویہ نے اعمش سے ’’ح‘‘۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے وکیع نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تم لوگ جنت میں نہیں داخل ہو سکتے یہاں تک کہ تم ایمان دار نہ ہو اور تم ایماندار نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ تم لوگ آپس میں محبت سے رہو کیا میں تمہیں ایک چیز پر دلالت نہ کروں کہ جب تم اس کو کرو تو تم آپس میں محبت کرنے لگ جاؤ (وہ یہ ہے کہ) آپس میں سلام کرنے کو عام کرو۔ ۔ اور ابومناویہ کی ایک روایت میں ہے قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے۔ اور علی نے کہا کہ اگر تم لوگ اس کو کر وتو ۔ اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں ابوبکر بن ابی شیبہ سے اس نے وکیع سے اور ابومعاو یہ سے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← الأَعْمَشِ، وَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The sixty-first of the people of faith, and it is a chapter in the approach of the people of religion and their articles and the spread of peace between them · Hadith 8745

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ الحادي و الستون من شعب الإيمان و هو باب في مقاربة أهل الدين و موادتهم و إفشاء السلام بينهم · حديث 8746

8746 - و أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي قال : أنا أبو بكر محمد بن أحد بن دلويه الدقاق قال : نا محمد بن المنخل قال : نا محمد بن إسماعيل بن أبي فديك عن عبد الله بن أبي يحيى قال : سمعت سعيدا يقول : قال أبو هريرة قال : نبي الله صلى الله عليه و سلم : لن تدخلوا الجنة حتى تؤمنوا و لن تؤمنوا حتى تحابوا ألا أدلكم على شيء إذا فعلتموه تحاببتم قالكوا : ما هو يا رسول الله ؟ قال : أفشوا السلام بينكم

ہمیں خبر دی ابوالحسن محمد بن حسین بن داؤدعلوی نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن احمد بن دلو یہ دقاق نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے محمد بن منخل نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے محمد بن اسماعیل بن ابوفد یک نے ان کو عبد اللہ بن ابی یحییٰ نے وہ کہتے ہیں میں نے سناسعید سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جنت میں ہرگز داخل نہیں ہو سکتے حتی ٰکہ تم ایماندار ہواور تم ہرگز مؤمن نہیں بن سکتے حتیٰ کہ تم باہم محبت سے رہو کیا میں تم کو ایک چیز نہ بتادوں کہ جب تم اس کو کر وتو با ہم محبت کرنے لگو ؟ لوگوں نے کہاوہ کیا چیز ہے یا رسول اللہ ؟ فرمایا کہ تم لوگ آپس میں سلام کرنے کو عام کر دو ۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← سَعِيدًا ← عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَحْيَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنَخَّلِ ← أبو بكر محمد بن أحد بن دلويه الدقاق ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The sixty-first of the people of faith, and it is a chapter in the approach of the people of religion and their articles and the spread of peace between them · Hadith 8746

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ الحادي و الستون من شعب الإيمان و هو باب في مقاربة أهل الدين و موادتهم و إفشاء السلام بينهم · حديث 8747

8747 - حدثنا الأستاذ أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك رحمه الله : أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني قال : نا يونس بن حبيبى قال أبو داود قال : نا حرب بن شداد عن يحيى بن أبي كثير أن يعيش بن الوليد بن هشام حدثه أن مولى بان الزبير حدثه أن الزبير بن العوام حدثه : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : دب أليكم داءة الأمم من قبلكم الحسد و البغضاء هي الحالقة لا أقول تحلق الشعر و لكنه يحلق الدين و الذي نفسي بيده لا تدخلوا الجنة حتى تؤمنوا و لا تؤمنوا حتى تحابوا ألا أبخركم بما يثبت ذاك لكم أفشوا السلام بينكم تابعه سليمان التيمي عن يحيى في إقامة إسناده

ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر محمد بن حسن بن فورک رحمۃ اللہ علیہ نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو عبد اللہ بن جعفر اصفہانی نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو یونس بن حبیب نے کہا ابوداؤد نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی حرب بن شداد نے ان کو یحییٰ بن ابی کثیر نے یہ کہ یعیش بن ولید بن ہشام نے اس کو حدیث بیان کی ہے یہ کہ مولیٰ ( بایں طور کہ زبیر نے )اس کو حدیث بیان کی ہے کہ زبیر بن عوام نے اس کو حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے اندر سابقہ امتوں کی بیماری سرایت کر گئی ہے حسد اور بغض ( یہی بیماری ) مونڈنے والی ہے میرا مطلب نہیں کہ بال مونڈ دیتی ہے بلکہ وہ دین کومونڈ دیتی ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تم جنت میں نہیں جاسکتے یہاں تک کہ تم مؤمن بن جاؤ اور تم مؤمن نہیں بن سکتے یہاں تک کہ تم آپس میں محبت کرو کیا میں اس چیز کے بارے میں بتا نہ دوں جو تمہارے واسطے چیز کو پکا کر دے۔ سلام کو عام کر دو آ پس میں ۔ سلیمان تیمی نے یحییٰ سے اس کا متابع بیان کیا ہے اسی کی اسناد کو قائم کرنے کے بارے میں ۔

أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ ← أن مولى بان الزبير ← يحيى بن أبي كثير أن يعيش بن الوليد بن هشام ← حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يونس بن حبيبى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فَوْرَكَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The sixty-first of the people of faith, and it is a chapter in the approach of the people of religion and their articles and the spread of peace between them · Hadith 8747

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ الحادي و الستون من شعب الإيمان و هو باب في مقاربة أهل الدين و موادتهم و إفشاء السلام بينهم · حديث 8748

8748 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز قال : نا جعفر بن شاكر قال : نا عفان قال : نا همام عن قتادة عن أبي ميمون عن أبي هريرة قال : قلت : يا رسول الله صلى الله عليه و سلم فأنبئني بأمر إذا أخذت به دخلت الجنة ؟ قال : أطعم الطعام و افش السلام و صل الأرحام و صل بالليل و الناس نيام

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمر ورزاز نے ان کو جعفر بن شاکر نے وہ کہتے ہیں ان کو خبر دی عفان نے وہ کہتے ہیں ۔ کہ ان کو خبر دی ہمام نے قتادہ سے اس نے ابو میمون سے اس نے ابو ہریر ہ ضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ ۔ مجھے کہ ایسے امر کے بارے میں بتائیے کہ جب میں اس کو پکڑ لوں تو میں جنت میں چلا جاؤں ۔ فرمایا کہ کھانا کھلا ؤ اسلام کو پھیلاؤ ، صلہ رحمی کرو اور راتوں کو نماز ادا کرو جب لوگ سور ہے ہوں ۔

قُلْتُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي مَيْمُونٍ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← جَعْفَرُ بْنُ شَاكِرٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The sixty-first of the people of faith, and it is a chapter in the approach of the people of religion and their articles and the spread of peace between them · Hadith 8748

chevron_left Previous
1…101112…39
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood