Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7330

7330 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا بشر بن موسى نا الحميدي نا سفيان وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله بن يعقوب نا أحمد بن سهل و محمد بن نعيم قالا نا ابن عمر نا سفيان وفي رواية الحميدي عن عبد الرحمن بن حميد بن عبد الرحمن بن عوف أنه سمع سعيد بن المسيب يحدث عن أم سلمة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا دخل العشر وأراد أحدكم أن يضحي فلا يمس من شعره وبشره شيئا قيل لسفيان إن بعضهم لا يرفعه قال : لكني أنا أرفعه رواه مسلم في الصحيح عن ابن أبي عمر و أخرجه من وجه آخر عن ابن المسيب قال : فلا يأخذن من شعره ولا من أظفاره شيئا حتى يضحي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے۔ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ بن یعقوب نے ان کو احمد بن سہل نے اور محمد بن نعیم نے دونوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابن عمر نے ان کو سفیان نے اور حمیدی کی ایک روایت میں ہے عبدالرحمٰن بن حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف سے کہ انہوں نے سنا سعید بن مسیب سے وہ حدیث بیان کرتے تھے اُم سلمہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ذوالحج آ جائے اور تم میں سے کوئی قربانی کرنے کا ارادہ کر لے وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔سفیان سے کہا گیا کہ بعض راوی اس کو مرفوع نہیں کرتے (یعنی رسول اللہ تک نہیں پہنچاتے) سفیان نے کہا کہ میں اس کو مرفوع کرتا ہوں (یعنی رسول اللہ تک پہنچاتا ہوں۔) اس کو مسلم نے روایت کیا صحیح میں ابن ابو عمر سے اور اس کو انہوں نے نقل کیا ہے دوسرے طریق سے ابن مسیب سے وہ کہتے ہیں کہ وہ بالوں اور ناخنوں کو نہ کاٹے یہاں تک کہ وہ قربانی کر لے۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عبد الرحمن بن حميد بن عبد الرحمن بن عوف أنه ← سفيان وفي رواية الحميدي ← ابْنِ عُمَرَ ← أحمد بن سهل و محمد بن نعيم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← سفيان وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7330

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7331

7331 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن محمد بن موسى نا محمد بن أيوب أنا عبيد الله بن معاذ بن معاذ العنبري نا أبي نا محمد بن عمرو بن علقمة الليثي نا عمر بن مسلم بن أكيمة الليثي قال : سمعت سعيد بن المسيب يقول : سمعت أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه و سلم تقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان له ذبح يذبحه فإذ أهل هلال ذي الحجة فلا يأخذن من شعره ولا من أظفاره شيئا حتى يضحي رواه مسلم عن عبيد الله بن معاذ

ہمیں اس کی خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن محمد بن موسیٰ نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو عبیداللہ بن معاذ عنبری نے ان کو ان کے والد نے ان کو محمد بن عمرو بن علقمہ لیثی نے ان کو عمر بن مسلم بن اکمیہ لیثی نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا سعید بن مسیب سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اُم سلمہ زوجہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کا جانور ہو ذبح کے لئے اور اس کو ذبح کرنا چاہے قربانی کے لئے جب ذوالحجہ کا چاند نظر آ جائے وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے یہاں تک کہ قربانی کر لے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے عبیداللہ بن معاذ سے۔

أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه و سلم تقول ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عمر بن مسلم بن أكيمة الليثي ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ اللَّيْثِيِّ، ← أَبِي ← عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7331

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7332

7332 - أخبرنا أبو الحسين علي بن أحمد بن عمر بن الحسامي ببغداد نا أحمد بن سلمان نا عبد الملك بن محمد نا يحيى بن كثير نا شعبة عن مالك بن أنس عن عمر أو عمرو بن مسلم عن سعيد بن المسيب عن أم سلمة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا دخل العشر وأراد أحدكم أن يضحي فليمسك عن شعره وأظفاره رواه مسلم في الصحيح عن الحجاج بن الشاعر عن يحيى بن كثير وقال عمرو بن مسلم : وأخرجه من حديث غندر عن شعبة بالشك

ہمیں خبر دی ابو الحسین علی بن احمد بن عمر بن حسام نے بغداد میں ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبدالملک بن محمد نے ان کو یحییٰ بن کثیر نے ان کو شعبہ نے ان کو مالک بن انس نے ان کو عمر یا عمرو بن مسلم نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو اُم سلمہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عشرہ ذوالحجہ داخل ہو جائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنا چاہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے بال اور ناخن تراشنے سے رک جائے۔ اس کومسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں حجاج بن شاعر سے اس نے یحییٰ بن کثیر سے اور کہا عمرو بن مسلم نے اور اس کو نقل کیا ہے حدیث غندر سے اس نے شعبہ سے۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عمر أو عمرو بن مسلم ← مالک بن أنس ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ کَثِيرٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو الحسين علي بن أحمد بن عمر بن الحسامي ببغداد

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7332

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7333

7333 - أخبرنا أبو بكر بن الحارث الأصبهاني الفقيه أنا أبو محمد بن حيان نا ابن أبي حسان الأنماطي نا دحيم نا عبد الله بن نافع عن أبي المثنى سليمان بن يزيد الكعبي عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما عمل ابن آدم عملا يوم النحر أحب إلى الله من هراقة دم وإنه ليأتي يوم القيامة في قرنة عليها قرنها وأشعارها وأظلافها وإن الدم ليقع من الله بمكان قبل أن يقع بالأرض فطيبوا بها نفسا

ہمیں خبر دی ابو بکر بن حارث اصفہانی فقیہ نے ان کو ابو محمد بن حیان نے ان کو ابن ابی حسان انماطی نے ان کو دحیم نے ان کو عبداللہ بن نافع نے ان کو ابو المثنی سلیمان بن یزید کعبی نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم قربانی کے دن کوئی ایسا عمل نہیں کرتا جو اللہ کوقربانی کا خون بہانے سے زیادہ محبوب ہو اور وہ قربانی کا جانور قیامت کے دن آئے گا سینگوں اور بالوں سمیت اور اس کا خون جب گرتا ہے تو زمین پر پڑنے سے پہلے اللہ کے نزدیک مقام قبولیت پر پہنچ جاتا ہے لہٰذا اس بات پر دل سے خوش ہو جاؤ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أبي المثنى سليمان بن يزيد الكعبي ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← دُحَيْمٌ، ← ابن أبي حسان الأنماطي ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7333

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7334

7334 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي نا محمد بن القاسم بن عبد الرحمن الضبي نا محمد بن أحمد بن أنس نا المقري نا حيوة بن شريح نا عبد الله بن عياش القتباني نا الأعرج عن أبي هريرة : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من وجد سعة فلم يذبح فلا يقربن مصلانا 7334 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا محمد بن حميد نا سليمان بن عمر بن خالد نا محمد بن ربيعة عن إبراهيم بن يزيد عن عمرو بن دينار عن طاوس عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أنفقت الورق في شيء أفضل من نحيرة ينحرها في يوم عيد

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو محمد بن قاسم بن عبدالرحمٰن ضبعی نے ان کو محمد بن احمد بن انس نے ان کو مقری نے ان کو حيوة بن شریح نے ان کوخبر دی عبداللہ بن عیاش قتیانی نے ان کو اعرج نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص گنجائش ہوتے ہوئے قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔ (مکرر ہے) ہمیں خبر دی ابو سعید مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو محمد بن حمید نے ان کو سلیمان بن عمر بن خالد نے ان کو محمد بن ربیعہ نے ان کو ابراہیم بن یزید نے ان کو عمرو بن دینار نے ان کو طاؤس نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید کے دن جو قربانی کی جاتی ہے اس کو کرنے کے لئے جو رقم خرچ کی جاتی ہے اس سے افضل کوئی خرچ نہیں ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ← سليمان بن عمر بن خالد ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ ← من وجد سعة فلم يذبح فلا يقربن مصلانا ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← عبد الله بن عياش القتباني، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← الْمُقْرِئُ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ ← محمد بن القاسم بن عبد الرحمن الضبي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7334

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7335

7335 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا أبو عبد الله محمد بن الصباح نا سليمان بن داود نا ابن أبي فديك نا شبل بن العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن جده عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : عجب ربكم من ذبحكم الضأن في يوم عيدكم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابوعبد الله محمد بن صباح نے ان کو سلیمان بن داؤد نے ان کو ابن ابی فدیک نے ان کو شبل بن علاء بن عبدالرحمٰن نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا تمہاری عید کے دن تم لوگوں کے بھیٹر یا دنبے کو ذبح کرنے پر تمہارا رب تعالیٰ خوش ہوتا ہے۔

عجب ربكم من ذبحكم الضأن في يوم عيدكم ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← شِبْلُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← أبو عبد الله محمد بن الصباح ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7335

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7336

7336 - أخبرنا أبو الحسن بن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا عمرو بن مرزوق أنا شعبة عن ابن إسحاق سمع هبيرة و عمارة بن عبد قالا : سمعت عليا وهو يقول : ثنيا فصاعدا واستسمن فإن أكلت أكلت طيبا وإن أطعمت أطعمت طيبا قال الإمام أحمد رحمه الله : وقد روينا في حديث جابر وغيره أدلة على جواز الجذعة من الضان وقول علي محمول على الاستحباب في الضأن أو أراد غير الضأن من المعز أو البقر أو الإبل والله أعلم

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو عمرو بن مرزوق نے ان کو شعبہ نے ان کو ابن اسحٰق نے انہوں نے سنا ہبیرہ سے اور عمار بن عبد سے دونوں نے کہا کہ میں نے سنا علی سے وہ کہتے تھے کہ وہ دانت کا ہونا چاہئے یا اس سے بڑا ہو اور پال کر موٹا کر لیجئے کہ اگر آپ کھائیں تو اچھا گوشت کھائیں اور اگر دوسروں کو کھلائیں اچھا کھلائیں۔ امام احمد نے فرمایا کہ ہم نے حضرت جابر کی حدیث میں روایت کیا ہے۔ دلائل بھیٹر دنبے کے چھ ماہ والے کے جواز کے بارے میں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول بھیٹر دبنے کے بارے میں استحباب پر محمول ہے۔ یا انہوں نے اس قول سے بھیٹر دنبے کے علاوہ دوسرے جانور مراد لئے ہوں گے بکری ، گائے یا اونٹ (واللہ اعلم) نوٹ :۔۔۔۔۔جذع یا جذعہ۔ وہ گائے وہ بکری بکرا جو ایک سال مکمل کر کے دوسرے میں لگ گئے ہوں اور وہ اونٹ جو چار سال پورے کر کے پانچویں میں لگا ہو۔ ثنی یا ثنیہ۔ وہ اونٹ جو پانچ سال پورے کر کے چھٹے سال میں لگا ہو۔

ثنيا فصاعدا واستسمن فإن أكلت أكلت طيبا وإن أطعمت أطعمت طيبا ← عَلِيًّا وَهُوَ ← هبيرة و عمارة بن عبد ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن بن المقري

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7336

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7337

7337 - أخبرنا أبو بكر بن الحارث الفقيه أنا أبو محمد بن حبان نا محمد بن يحيى المروزي نا عاصم بن علي نا سلام بن مسكين عن عائذ الله عن أبي زيد بن أرقم قال : قالوا : يا رسول الله هذا الأضحى ؟ ما هو ؟ قال : سنة أبيكم إبراهيم عليه السلام قالوا : ما لنا منه قال : بكل شعرة حسنة قالوا : والصوف ؟ قال : بكل شعرة يعني حسنة

ہمیں خبر دی ابو بکر بن حارث فقیہ نے ان کو ابو محمد بن حبان نے ان کو محمد بن یحییٰ مروزی نے ان کو عاصم بن علی نے ان کو سلام بن مسکین نے ان کو عائذ اللہ نے ان کو ابو زید بن ارقم نے وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ یہ کیا اور کیسی قربانیاں ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے لوگوں نے پوچھا کہ ہمارے لئے ان میں کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ اون کے بارے میں کیا حکم ہے؟ فرمایا اون کے بھی ہر ایک بال کے بدلے میں ایک نیکی ہے۔

أبي زيد بن أرقم ← عَائِذِ اللهِ ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَبَّانَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ،

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7337

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7338

7338 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا إبراهيم بن عبد الله أبو مسلم نا معقل بن مالك نا مالك بن النضر نا إسماعيل عن أبي حمزة الثمالي عن سعيد بن جبير عن عمران بن حصين قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا فاطمة قومي فاشهدي أضحيتك فإنه يغفر لك بأول قطرة تقطر من دمها كل ذنب عملتيه وقولي : { إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين * لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين } قلت : يا رسول الله هذا لك ولأهل بيتك خاصة فأهل ذلك أنتم أم للمسلمين عامة ؟ قال : بل للمسلمين عامة قال الإمام أحمد رحمه الله : هذا والذي قبله والأحاديث الأربعة التي قبله وقبل أثر علي رضي الله عنه في أسانيدها مقال غير أني رأيت بعض علمائنا يذكر أمثالها في فضائل الأعمال والله يعصمنا من الزلل والوبال

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ ابو مسلم نے ان کو معقل بن مالک نے ان کو مالک بن نضر نے ان کو اسماعیل نے ان کو ابو حمزہ ثمالی نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو عمران بن حصین نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فاطمہ اٹھئے اور اپنے جانور کی قربانی پر حاضر ہو جائیے۔ بے شک بخش دیا جائے گا تمہارے پہلے قطرے کے ساتھ جو اس کے خون سے پہلا قطرہ گرے گا ہر وہ گناہ جو تم نے کیا ہو گا اور یہ پڑھیے:ان صلوٰتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العٰلمین لاشریک لہ وبذٰلک امرت وانا اول المسلمین بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لئے ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اسی بات کا مجھے حکم ملا ہے اور میں پہلا فرمانبردار ہوں۔ سیدہ فاطمہ فرماتی ہیں کہ میں نے پوچھا کہ یہ قربانی اور اس کی فضیلت کیا صرف آپ کے لئے ہے اور آپ کے خاندان کے لئے ہے خاص طور پر کہ وہ یہ قربانی کریں یا عام مسلمانوں کے لئے ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلکہ سارے مسلمانوں کے لئے ہے۔ مذکورہ روایات پر امام احمد کا تبصرہ: امام احمد نے فرمایا کہ یہ حد یث اور وہ جو اس سے پہلے ہے۔ اور چاروں حدیثیں جو اس سے پہلے ہیں اور حضرت علی کے قول سے پہلے ان سب کی اسناد میں مقال ہے تاہم میں نے بعض اپنے علماء کود یکھا ہے جو فضائل اعمال میں ان کی مثل ذکر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لغزشات سے اور وبال سے ہمیں محفوظ رکھے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ ← مالك بن النضر ← مَعْقِلُ بْنُ مَالِكٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو مُسْلِمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7338

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7339

7339 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو بن مطر نا يحيى بن محمد نا عبيد الله بن معاذ نا أبي نا شعبة عن أبي إسحاق عن حبيش قال : شهدت عليا صلى يوم الأضحى ثم أتى بكبشين في الحيان فلما أراد أن يذبحهما قال : { وجهت وجهي للذي فطر السماوات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين } { إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين * لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين } بسم الله والله أكبر منك ولك أحسبه قال : اللهم تقبل من فلان ثم قال : يا قنبر تصدق بها إلا قطعتين تشويهما لي منه ما أدري قال : بكبش أو كبشين فإن في كتابي بكبشين ثم قال : يذبحهما وقال : تصدق بهما

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو یحییٰ بن محمد نے ان کو عبیداللہ بن معاذ نے ان کو ان کے والد نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو اسحاق نے ان کو جش نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا انہوں نے نماز عید پڑھی اس کے بعد دو مینڈھے لائے گئے جب ان کو ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا تو یہ دعا پڑھی:انی وجھت وجھی للذی فطر السمٰوات والارض حنیفا مسلما وما انا من المشرکین ان صلوٰتی ونسکی ومحبای ومماتی للہ رب العٰلمین لا شریک لہ وبذالک امرت وانا اول المسلمین بسم اللہ واللہ اکبر، منک ولک میرا خیال ہے کہ یہ بھی کہا تھا اللھم تقبل من فلان۔ اس کے بعد غلام سے کہا اے قنبر ان کو صدقہ کر دے مگر صرف دو رانیں یا ٹکڑے میرے لئے بھون لینا ان میں سے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ایک مینڈھا یا دو کہے تھے بے شک میری کتاب میں دو مینڈھے لکھا ہے۔ اس کے بعد راوی نے کہا کہ انہوں نے فرمایا ان کو ذبح کر کے صدقہ کر دو۔

شهدت عليا صلى يوم الأضحى ثم أتى بكبشين في الحيان فلما أراد ← حبيش ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← يَحْيَی بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7339

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7340

7340 - أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا أبو نصر بن حمدويه القاري نا عبد الله بن حماد الآملي نا يحيى بن صالح نا أبو بكر العبسي نا أبو قبيل حي بن مؤمل عن سالم عن ابن عمر قال : حججت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم حجة الوداع فلما كان يوم النحر دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بكبشين أقرنين أملحين فذبح أحدهما فقال : عني وعن أهل بيتي وذبح الآخر وقال : عني وعن أمتي ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ذبح كبشا أقرن فكأنما ذبح مائة بدنة ومن ذبح خصيا فكأنما ذبح خمسين بدنة ومن ذبح نعجة فكأنما ذبح بقرة ومن ذبح بقرة فكأنما ذبح عشر بدنات أبو بكر العبسي هذا شيخ مجهول يروي المناكير فإن صح ما في آخر الحديث فإنما أراد في تضعيف الله تعالى الأجر والله أعلم

ہمیں خبر دی ابو الحسن علوی نے ان کو ابو نصر بن حمدویہ قاری نے ان کو عبداللہ بن حماد املی نے ان کو یحییٰ بن صالح نے کو ابو بکر عیسیٰ نے ان کو ابو قبیل بن مؤمل نے ان کو سالم نے ان کو ابن عمر نے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا حجۃ الوداع میں، جب يوم النحر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سفید بکرے سینگوں والے منگوائے اور ایک کو ذبح کر کے فرمایا یہ میری طرف سے ہے اور میرے گھر والوں کی طرف سے اور دوسرے کو ذبح کر کے فرمایا یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کی طرف سے اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایک سینگوں والا مینڈھا ذبح کرے گویا کہ اس نے سو اونٹ ذبح کئے اور جو شخص خصی کو ذبح کرے گویا اس نے پچاس اونٹ ذبح کئے اور جس نے ایک دنبی ذبح کی گویا اس نے ایک گائے ذبح کی اور جو شخص ایک گائے ذبح کرے گویا اس نے دس اونٹ ذبح کئے۔ روایت میں ابو بکر عیسیٰ مجہول شیخ ہے۔ منکر روایات روایت کرتا ہے اگر وہ صحیح ہو جو کچھ حدیث کے آخر میں ہے تو یہ تاویل ہو گی کہ ارادہ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ کے اجر کو دہرا کرنے کا۔ (واللہ اعلم)

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← أبو قبيل حي بن مؤمل ← أَبُو بَكْرٍ الْعَبْسِيُّ ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمَّادٍ الْآمُلِيُّ ← أبو نصر بن حمدويه القاري ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7340

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7341

7341 - حدثنا أبو الحسن العلوي أنا أبو حامد بن الشرقي نا أحمد بن حفص بن عبد الله حدثني أبي حدثني إبراهيم بن طهمان عن سفيان الثوري عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن علي بن أبي طالب قال : أمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم فقمت على البدن فأمرني فقسمت لحمها ثم أمرني فقسمت جلالها وجلودها رواه البخاري في الصحيح عن قبيصة و محمد بن كثير عن سفيان

ہمیں حدیث بیان کی ابو الحسن علوی نے ان کو ابو حامد بن شرقی نے ان کو احمد بن حفص بن عبداللہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابراہیم بن طہمان نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو ابن ابی نجیح نے ان کو مجاہد نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے ان کو علی بن ابی طالب نے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا۔ میں اونوں کے پاس کھڑا ہوا مجھے حکم دیا میں نے ان کا گوشت تقسیم کیا اس کے بعد حکم دیا میں نے ان کی جل چادریں اور ان کی کھالیں (صدقہ کر دیں) تقسیم کر دیں۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں قبیصہ سے اور محمد بن کثیر سے اس نے سفیان سے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7341

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood