Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7318

7318 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي أنا الحسين بن محمد الزعفراني نا سفيان عن الزهري عن عروة بن الزبير عن المسور بن مخرمة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج عام الحديبية في بضع عشر ومائة من أصحابه فلما كان بذي الحليفة قلد الهدي وأشعره وأحرم منها رواه البخاري في الصحيح عن علي بن المديني عن سفيان

ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسین بن محمد زعفرانی نے ان کو سفیان نے ان کو زہری نے ان کوعروہ بن زبیر نے ان کومسور بن مخرمہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ والے سال ایک سو دس سے کچھ زیادہ صحابہ کے ساتھ نکلے جب مقام ذوالحلیفہ پر پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانوروں کو چمڑے کے پٹے گلے میں ڈالے اوران کی کوہان کو خون آلود کیا اور وہیں سے احرام باندھا اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں۔ علی بن مدینی سے اس نے سفیان سے۔ (مکرر ہے) ہم نے حدیث ابن اسحاق زہری سے روایت کی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ ستر اونٹ چلا کر لے گئے تھے حدیبیہ والے سال۔

الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الحسين بن محمد الزعفراني ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7318

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7319

7319 - مكرر ـ وروينا من حديث ابن إسحاق عن الزهري : أنه ساق معه الهدي سبعين بدنة عام الحديبية 7319 - أخبرنا أبو الحسين علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا محمد بن أبي بكر نا يحيى بن سعيد عن ابن جعفر بن محمد عن أبيه : أن جابرا قال : نحر رسول الله صلى الله عليه و سلم يعني في حجته ثلاثا وستين وأعطى عليا فنحر ما بقي وأشركه في هديه ثم أمر من كل بدنة ببضعة فجعل في قدر فأكلا من لحمها وشربا من مرقها أخرجها مسلم من حديث جعفر بن محمد

ہمیں خبر دی ابو الحسین علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابی بکر نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو جعفر بن محمد نے ان کو ان کے والد نے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے دن تیریسٹھ (۶۳) اونٹ ذبح کئے تھے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیئے باقی جو رہ گئے تھے ان کو اس نے نحر کیا۔ اور اس کو انہوں نے اپنی قربانی میں شریک کیا پھر ہراونٹ کے بارے حکم دیا کہ اس کے گوشت کا ٹکڑا ہنڈیا میں پکایا گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اورعلی رضی اللہ عنہ دونوں نے اس گوشت میں سے کھایا اور اس کا شوربا پیا۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے جعفر بن محمد کی حدیث سے۔

أبيه أن جابرا ← ابْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ← الزهري أنه ساق معه الهدي سبعين بدنة عام الحديبية ← مكرر وروينا من حديث ابن إسحاق

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7319

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7320

7320 - وروينا عن أبي بكر الصديق : عن النبي صلى الله عليه و سلم أفضل الحج العج والثج العج ارتفاع أصواتهم بالتلبية والثج صب الدم

اور میں روایت کی ہے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فضل حج، عج ادرشج ہوتا ہے (عج کا مطلب ہے حجاج کا تلبیہ کے ساتھ اپنی آوازیں بلند کرنا۔) اور شج کا مطلب ہے (خون گرانا) مراد یہ ہے کہ فضل حج وہی ہے جس میں لبیک اللھم لبیک کا شورو غوغا ہو اور قربانی کی جائے۔

أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: ← وَرُوِّينَا

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7320

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7321

7321 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن مرزوق نا بشر بن عمر و سعيد بن عامر قالا ثنا شعبة عن قتادة عن أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يضحي بكبشين أقرنين أملحين فلقد رأيته يضع رجله على صفاحهما ويسمي ويكبر قلت لقتادة لأنت سمعته من أنس قال نعم لفظ حديث بشر بن عمر وزاد سعيد في حديثه ولقد رأيته يذبحهما بيده أخرجاه في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو بشر بن عمر اور سعید بن عامر نے دونوں کو شعبہ ان کو قتادہ نے ان کوانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھے جو سفید سینگوں والے ہوتے تھے قربانی کرتے تھے البتہ تحقیق میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ انہوں نے اپنا پیران کی گردنوں کے ایک پہلو پر رکھا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ اکبر فرما رہے تھے۔ میں نے حضرت قتادہ سے کہا کیا آپ نے یہ حدیث حضرت انس سے کی تھی اس نے کہا کہ جی ہاں میں نے سنی تھی۔ یہ الفاظ بشر بن عمر کی حدیث کے ہیں۔البتہ تحقیق میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ وہ دونوں مینڈھے اپنے ہاتھ سے ذبح کر رہے تھے۔ بخاری ومسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث غندر سے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← بشر بن عمر و سعيد بن عامر ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7321

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7322

7322 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حمشاذ أبو المتنبي نا يحيى بن معين نا حفص عن جعفر بن محمد عن أبيه عن أبي سعيد قال : ضحى رسول الله صلى الله عليه و سلم بكبش أقرن فجعل يأكل في سواد ويمشي في سواد وينظر في سواد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن معاذ نے ان کو ابو المتنبی نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو حفص نے ان کو جعفر بن محمد نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو سعید نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والا مینڈھا ذبح کیا جو سیاہی کھاتا چلتا اور دیکھتا تھا (یعنی منہ بھی کالا تھا پیر بھی کالے تھے اور آنکھیں بھی کالی تھیں۔)

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَفْصٌ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← علي بن حمشاذ أبو المتنبي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7322

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7323

7323 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن يونس الضبي نا أبو عامر العقدي نا زهير بن محمد العنبري عن عبد الله بن محمد بن عقيل بن أبي طالب عن علي بن الحسين : ـ { لكل أمة جعلنا منسكا هم ناسكوه } قال : ذبح هم ذابحوه حدثني أبو رافع أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا ضحى اشترى كبشين سمينين أملحين أقرنين فإذا خطب وصلى ذبح أحد الكبشين بنفسه بالمدية ثم يقول اللهم هذا عن أمتي جميعا من شهد لك بالتوحيد وشهد لي بالبلاغ ثم أتى بالآخر فذبحه ثم قال اللهم هذا عن محمد وآل محمد ثم يطعمهما المساكين وأكل هو وأهله منهما ومكثا سنين قد كفانا الله العزم والمؤونة ليس أحد من بني هاشم يضحي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن یونس ضبی نے ان کو ابو عامر عقدی نے ان کو زہیر بن محمد عنبری نے ان کو عبداللہ بن محمد بن عقیل بن ابی طالب نے ان کو علی بن حسین نے:لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکوہ ہم نے ہرامت کے لئے ایک عبادت کا طریقہ بنایا ہے جس طریقے پر وہ عبادت کرتے ہیں۔ (سورۃ الحج /67) ہم نے ہرامت کے لئے ایک عبادت کا طریقہ بنایا ہے جس طریقے پر وہ عبادت کرتے ہیں۔ یعنی ہم نے ہر امت کے لئے ذبح مقرر کیا ہے وہ اس کو ذبح کرتے ہیں۔ مجھے حدیث بیان کی ابو رافع نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کرتے تھے تو دو مینڈھے موٹے تازے سفید سینگوں والے خرید کرتے تھے آپ خطبہ دے لیتے اور عید کی نماز پڑھا لیتے تو دونوں میں سے ایک مینڈھا اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے مدینے میں ، اس کے بعد یہ دعا کرتے تھے: اللھم ھذہ عن امتی جمیعاً من شھد لک بالتوحید، وشھدلی بالبلاغ اے اللہ یہ قربانی میری ساری امت کی طرف سے ہے ہر اس آدمی کی طرف سے ہے جس نے تیری توحید کی شہادت دی ہے اور میری رسالت کی گواہی دی ہے۔اس کے بعد آپ دوسرے مینڈھے پر آتے اس کو ذبح کرتے تھے اس کے بعد یہ دعا کرتے تھے: اللھم ھذہ عن محمد وال محمد اس کے بعد اس کو مسکینوں کو کھلاتے دونوں قربانیوں سے اور آپ خود بھی اور آپ کے گھر والے بھی دونوں میں سے کھاتے تھے ہم کئی سالوں تک یوں ہی رہے تحقیق اللہ نے ہم سے کفایت کی تھی اولاد سے اور مشقت سے کہ بنی ہاشم میں سے کوئی ایک بھی قربانی نہیں کرتا تھا۔

أَبُو رَافِعٍ ← ذبح هم ذابحوه ← علي بن الحسين لكل أمة جعلنا منسكا هم ناسكوه ← عبد الله بن محمد بن عقيل بن أبي طالب ← زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيِّ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أحمد بن يونس الضبي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7323

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7324

7324 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أبو زرعة الدمشقي نا أحمد بن خالد الوهبي عن محمد بن إسحاق ح و أخبرنا أبو بكر بن الحارث الأصبهاني الفقيه أنا أبو محمد بن حيان أبو الشيخ الأصفهاني نا ابن علويه القطان نا القواريري نا يزيد بن زريع نا محمد بن إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب عن ابن عياش عن جابر قال : ذبح رسول الله صلى الله عليه و سلم كبشين يوم العيد فقال حين وجههما وفي رواية الوهبي فلما وجههما قال : { إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض } إلى قوله : { وأنا من المسلمين } ثم قال : اللهم منك ولك عن محمد وأمته وسمى وذبح وفي رواية ابن زريع تقبل من محمد وأمته ثم سمى وذبح وبمعناه رواه عيسى بن يونس عن محمد بن إسحاق غير أنه زاد أقرنين أملحين ( موجئين ) 7324 - مكرر ـ ورواه إبراهيم بن سعد عن ابن إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب عن خالد بن أبي عمران عن ابن عياش عن جابر : ـ

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو زرعہ دمشقی نے ان کو احمد بن خالد وہبی نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ”ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو بکر بن حارث اصفہانی فقیہ نے ان کو ابو محمد بن حیان نے ان کو ابو الشیخ اصفہانی نے ان کو ابن علویہ قطان نے ان کو قواریری نے ان کو یزید بن زرایع نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو یزید بن ابو حبیب نے ان کو ابن عیاش نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن دو مینڈھے ذبح کئے اور جب ان کو قبلہ رخ کیا تو فرمایا۔ اور وہبی کی ایک روایت میں ہے کہ جب ان دونوں کو متوجہ کیا تو فرمایا: انی وجھت وجھی للذی فطر السمٰوات والارض حنیفا وما انا من المشکرین ان صلوٰتی ونسلی ومحیای ومماتی للہ رب العٰلمین لا شریک لہ، وبذٰلک امرت وانا اول المسلمین بے شک میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کر لیا ہے جس نے پہلی بار آسمان کو اور زمین کو پیدا کیا ہے یکسو ہو کر اور میں مشرک نہیں ہوں۔ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لئے ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اسی بات کا مجھے حکم ہوا اور میں پہلا فرماں بردار ہوں۔ اس کے بعد یہ کہتے تھے:اللھم منک لک عن محمد وامتہ اے اللہ! یہ قربانی تیری طرف سے ہے اور تیرے ہی لئے ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور اس کی امت کی طرف سے۔ اور بسم اللہ پڑھتے تھےاور ابن زریع کی ایک روایت میں ہے:تقبل من محمد اومتہ ، اس کو قبول فرما محمد کی طرف سے اور اس کی امت کی طرف سے اس کے بعد بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرتے تھے۔ اگر اسی کے مفہوم میں اس کو روایت کیا ہے عیسیٰ بن یونس نے محمد بن اسحاق سے علاوہ ازیں انہوں نے یہ الفاظ زیادہ کئے ہیں:اقرنین املحین (مؤجئین) دو سفید سفید سینگوں والے خصی مینڈھے۔ (مکرر) اور اس کو روایت کیا ہے ابراہیم بن سعد نے ابن اسحٰق سے اس نے یزید بن ابی حبیب سے اس نے خالد بن ابی عمران سے اس نے ابن عیاش سے اس نے جابر سے۔

جَابِرٍ ← ابْنُ عَيَّاشٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْقَوَارِيرِيُّ ← ابْنُ عَلَوَيْهِ الْقَطَّانُ، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْفَهَانِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ ← و، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7324

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7325

7325 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن جعفر القطيعي نا عبد الله بن أحمد بن حنبل نا أبي يعقوب بن إبراهيم حدثني أبي عن ابن إسحاق حدثني يزيد بن أبي حبيب : فذكره على لفظ حديث الأصبهاني غير أنه قال : وأنا أول المسلمين بسم الله ( والله أكبر ) اللهم منك ولك عن محمد وأمته

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن جعفر قطیعی نے کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو یعقوب بن ابراہیم نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن اسحاق نے ان کو یزید بن ابی حبیب نے پھر اس نے حدیث ذکر کی ہے حدیث اصفہانی کے الفاظ کے مطابق علاوہ ازیں اس نے کہا ہے:وانا من المسلمین بسم اللہ (واللہ اکبر) اللھم منک ولک عن محمد وامتہ

محمد وأمته ← وأنا أول المسلمين بسم الله والله أكبر اللهم منك ولك ← يزيد بن أبي حبيب فذكره على لفظ حديث الأصبهاني غير أنه ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← أبي يعقوب بن إبراهيم ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7325

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7326

7326 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب نا أبو يحيى بن أبي ميسرة المكي نا يعقوب بن محمد الزهري نا محمد بن إسماعيل يعني ابن أبي فديك نا الضحاك بن عثمان عن محمد بن المنكدر عن عبد الرحمن بن سعيد بن يربوع عن أبي بكر قال يعقوب : و حدثني محمد بن أبي سلمة عن المنكدر بن محمد بن المنكدر عن أبيه عن عبد الرحمن بن سعيد عن جبير بن الحارث عن أبي بكر قال : قيل يا رسول الله أي العمل أفضل قال : العج والثج

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ حسین بن حسن بن ایوب نے ان کو ابو یحییٰ بن ابو مسیرہ مکی نے ان کو یعقوب بن محمد زہری نے ان کو محمد بن اسماعیل نے یعنی ابن فدیک نے ان کو ضحاک بن عثمان نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو عبدالرحمٰن بن سعد بن یربوع نے ابو بکر سے کہا یعقوب نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن ابو سلمہ نے ان کو منکدر بن محمد بن منکدر نے اپنے والد سے اس نے عبدالرحمٰن بن سعید سے ان کو جبیر بن حارث نے ان کو ابو بکر نے وہ کہتے ہیں کہ کہا گیا یا رسول اللہ کون سا عمل افضل ہے۔ فرمایا کہ عج اور شج۔ (یعنی تلبیہ کے شور والا اور قربانی کا خون بہانے والا۔)

قِيلَ ← أَبِي بَكْرٍ، ← جبير بن الحارث ← عبد الرحمن بن سعيد ← أَبِيهِ ← الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← يعقوب و ← أَبِي بَكْرٍ، ← عبد الرحمن بن سعيد بن يربوع ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← محمد بن إسماعيل يعني ابن أبي فديك ← يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ← أبو يحيى بن أبي ميسرة المكي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7326

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7327

7327 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله نا سليمان بن حرب نا شعبة عن زبيد عن الشعبي عن البراء قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في يوم النحر فقال : إن أول ما نبدأ به في يومنا هذا أن نصلي ثم نرجع فننحر فمن فعل ذلك فقد أصاب سنتنا ومن ذبح قبل أن يصلي فإنما هو لحم عجله لأهله وليس من النسك في شيء قال أبو بردة : جذعة خير من مسنة أجعلها مكانها قال : أذبحها قال : اذبحها ولا توفي لأحد بعدك قال : و نا أبو مسلم نا حجاج بن المنهال نا شعبة بإسناده نحوه رواه البخاري في الصحيح عن سليمان بن حرب و حجاج بن منهال وأخرجه من وجه آخر عن شعبة قال الإمام أحمد : وأمر الله عز و جل خليله إبراهيم عليه السلام أن يذبح ابنه فلما هم بذلك فداه بذبح عظيم فثبت أن التقرب بإراقة الدماء لوجه الله عز و جل سنة الأنبياء صلوات الله عليهم وأنها من جملة ما أمرنا بالاقتداء بهم فيه كما

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابو سلم ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو شعبہ نے ان کو زبیر نے ان کو شعبی نے ان کو براء نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا عید قربان کے دن اور فرمایا۔ بے شک پہلا کام ہم جس کے ساتھ آج دن کا آغاز کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم پہلے نماز پڑھیں گے اس کے بعد واپس آ کر قربانی کریں گے جس شخص نے ایسے کیا اس نے ہماری سنت کو پا لیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا بس وہ محض گوشت ہے اس نے جس کی جلدی کر لی ہے اپنے گھر والوں کے لئے یہ قربانی میں سے کوئی شے نہیں ہے۔ ابو بردہ نے کہا جذعہ بہتر ہے ایک مسنہ سے (دو سال والا بہتر ہے ایک سال والے سے) اسی کو اس کے قائم مقام کر لیجئے اس نے کہا کہ ذبح کر اس کو۔ فرمایا کہ ذبح کر اسکو۔ لیکن تیرے بعد کسی ایک کے لئے یہ پورا نہیں ہو گا (یعنی صرف تمہیں اجازت ہے۔) اور ہمیں خبر دی ابو مسلم نے ان کو حجاج بن منہال نے ان کو شعبہ نے اپنی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل اور اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں۔سلیمان بن حرب سے اور حجاج بن منہال سے۔اور اس کو نقل کیا ہے دوسرے طریق سے شعبہ سے۔ امام احمد نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو حکم دیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کریں اس نے جب اس کام کا پکا ارادہ کر لیا تو اللہ نے ذبح عظیم کے بدلے میں چھڑا لیا۔ اس عمل سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ کے لئے خون بہا کر اللہ کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنا انبیا علیہم السلام کی سنت ہے اور یہ کام ہے جو مجموعی طور پر ان کاموں میں سے ایک ہے جن میں ہمیں انبیاء علیہم السلام کی اقتدار واتباع کرنے کا حکم ہے۔ جیسے درج ذیل حدیث سے ثابت ہے۔

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7327

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7328

7328 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري في قوله : ـ { إني أرى في المنام أني أذبحك } قال : أخبرني القاسم بن محمد قال : اجتمع أبو هريرة و كعب فجعل أبو هريرة يحدث عن النبي صلى الله عليه و سلم وجعل يحدث كعب عن الكتب فقال أبو هريرة قال النبي صلى الله عليه و سلم إن لكل نبي دعوة مستجابة وإني خبأت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة فقال له كعب : أنت سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم قال : فداه أبي وأمي أولا أخبرك عن إبراهيم عليه السلام أنه لما أري ذبح ابنه إسحاق قال الشيطان : إن لم أفتن هؤلاء عند هذه لم أفتنهم أبدا فخرج إبراهيم بابنه ليذبحه فذهب الشيطان فدخل على سارة فقال : أين يذهب إبراهيم بابنك قالت : غدا به لبعض حاجته فقال : إنه لم يغد به لحاجة إنما ذهب به ليذبحه قالت : ولم يذبحه قال : يزعم أن ربه أمره بذلك قالت : فقد أحسن أن يطيع ربه فخرج الشيطان في أثرهما فقال للغلام : أين يذهب بك أبوك قال : لبعض حاجته قال : إنه لا يذهب بك لحاجة ولكنه يذهب بك ليذبحك قال : لم يذبحني قال : يزعم أن ربه أمره بذلك قال : فو الله لئن كان أمره بذلك ليفعلن قال : فيئس منه فتركه ولحق بإبراهيم فقال أين عدوت بابنك قال : لحاجة قال : فإنك لم تغد به لحاجة إنما غدوت به لتذبحه قال : ولم أذبحه قال : تزعم أن ربك أمرك بذلك قال : فو الله لئن كان الله أمرني بذلك لأفعلن قال : فتركه ويئس أن يطاع قال : { فلما أسلما وتله للجبين * وناديناه أن يا إبراهيم * قد صدقت الرؤيا إنا كذلك نجزي المحسنين } قال : فأوحى إلى إسحاق أن ادع فإن لك دعوة مستجابة قال إسحاق اللهم إني أدعوك أن تستجيب لي أيما عبد لقيك من الأولين والآخرين لقيك لا يشرك بك شيئا أن تدخله الجنة قال الحليمي رحمه الله : والمعنى في ذلك والله أعلم أن من حج واعتقد في حجه ما قدمنا ذكره في بابه من أنه قد انسلخ من زينة الدنيا وشهواتها وخلفها وراء ظهره وتاب من الذنوب طهر منها قلبه وجاء معتذرا متنصلا منيبا إلى ربه أمر أن يقرب بذلك قربانا يقربه له من بعض ما أحل له من بهيمة الأنعام حتى إذا رمى اتبعه نحره أو ذبحه وكان كأنه يقول : اللهم إني قد أتيت من التقصير في حقوقك وكسبت من السيئات ما لو كان لي إلى نحر نفسي سبيل لنحرتها عقوبة لها بما أسلفت من المعاصي ولكنك حرمت ذلك علي وأحللت لي بهيمة الأنعام وإني متقرب إليك بهديي هذا فاقبله مني واجعله فداء لي بمنك وطولك كما فديت ابن خليلك إبراهيم بالذبح العظيم برحمتك وفضلك واقبله مني كما قبلته من إبراهيم خليلك ومن محمد نبيك ورسولك ونحر وذلك بقلبه ويعتقده ويعلم أن هذا معنى قربانه وغرضه وإن قاله بلسانه فلا بأس ما قلته من هذا فهو في الأضحية مثله ليس بينهما فرق سوى أن ذلك هدي إلى البيت الحرام وهذا ليس بهدي وهما جميعا سنة مباشرة وليس بفرض لأن إخلاص التوبة تجزي عن الفدية كما تجزي عن الاستغفار لكن الاستغفار معها من أعظم السنن كذلك الفدية قال الإمام أحمد رحمه الله : ثم ذكر الحليمي ما جاء عن النبي صلى الله عليه و سلم فيما لا يجزي من الضحايا وهو ما

ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یحییٰ بن عبدالجبار سکری نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے اللہ کے اس قول کے بارے میں انی اری فی المنام انی اذبحک اے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔ زہری کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی قاسم بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت کعب اکٹھے ہوئے تو حضرت ابو ہریرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنا شروع کی اور حضرت کعب نے کتب سابقہ سے لہٰذا ابو ہریرہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک ہر نبی کی ایک دعا مقبول ہوئی ہے اور میں نے اپنی دعا اپنی امت کے لئے قیامت کے دن شفاعت کرنے کے لئے چھپا رکھی ہے؟ حضرت کعب نے ان سے کہا تم نے واقعی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟ انہوں نے بولا کہ جی ہاں کی تھی۔ کعب نے کہا کہ میرے ماں باپ ان پر قربان ، کیا میں تجھے ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں خبر نہ دوں کہ انہوں نے جب اپنے بیٹے اسحاق کو ذبح کرنے کا خواب دیکھا تو شیطان نے کہا اگر میں نے آج ان لوگوں کو فتنے میں مبتلا نہ کیا تو میں آئندہ کبھی ان کو فتنے میں مبتلا نہیں کر سکوں گا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے لے کر نکلے تو شیطان بی بی سارہ کے پاس پہنچ گیا اور پو چھا کہ ابراہیم تیرے بیٹے کو کہاں لے کر گئے ہیں۔اس نے بتایا کہ وہ صبح صبح اس کو کسی کام سے لے کر گئے ہیں۔ اس نے بتایا کہ وہ اس کو کسی کام کے لئے نہیں لے گئے بلکہ وہ اس کو ذبح کرنے کے لئے لے گئے ہیں۔ سارہ نے پو چھا کہ وہ اسے کیونکر ذبح کرنے لگے۔ کہا کہ ان کا گمان ہے خیال یہ ہے کہ ان کو ان کے رب نے اس بات کا حکم دیا ہے سارہ نے کہا کہ پھر تو اس نے یہ اچھا کیا کہ وہ اپنے رب کی اطاعت کریں گے۔ (وہاں سے نا کام ہو کر) پھر شیطان ان دونوں باپ بیٹوں کے پیچھے چلا گیا۔ اور جا کر لڑکے سے کہا کہ تیرے والد تجھے کہاں لے کر جا رہے ہیں بیٹے نے کہا کہ کسی ضروری کام کے لئے۔ شیطان نے کہا کہ نہیں کسی ضروری کام سے نہیں لے جا رہے بلکہ وہ تجھے اس لئے لے جا رہے ہیں تاکہ تجھے ذبح کریں۔ اس نے پوچھا کہ وہ مجھے کیوں ذبح کریں گے؟ کہا کہ ان کا خیال ہے کہ ان کو ان کے رب نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ بیٹے نے کہا کہ اگر ان کو رب نے حکم دیا ہے تو اللہ کی قسم وہ ضرور ایسا کریں۔ کعب نے کہا کہ پھر شیطان اس سے بھی مایوس ہو گیا اور اسے چھوڑ دیا اب ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچ گیا اور کہنے لگا اے ابراہیم تو کہاں اپنے بیٹے کے ساتھ دشمنی کرنے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا میں ان کو ضروری کام سے لے جا رہا ہوں اس نے کہا نہیں تم کوئی ضروری کام سے نہیں بلکہ تم اس کو ذبح کرنے لے جا رہے ہو۔ ابراہیم نے کہا کہ میں کیوں اس کو ذبح کروں گا کہا کہ تم یہ گمان کر تے ہو کہ تمہیں تمہارے رب نے اس کو ذبح کرنے کا حکم دیا ہے ابراہیم نے کہا کہ مجھےاللہ کی قسم ہے کہ اگر مجھے اللہ اس کے ذبح کرنے کا حکم دیتا تو میں ضرور اس کو ذبح کرتا چنانچہ شیطان نے ان کو بھی چھوڑ دیا اور مایوس ہو گیا کہ اس کی بات مانی جائے۔ اللہ نے فرمایا۔ فلما اسلما وتلہ للجبین ونا دیناہ ان یا ابراہیم قد صدقت الریاء انا کذالک تجزی المحسنین (۱۰۵/۱۰۳) کعب نے کہا کہ لہٰذا حضرت اسحٰق کی طرف وحی کی گئی کہ آپ چھوڑیے آپ کی ایک دعا قبول ہے۔ اسحٰق علیہ السلام نے دعا مانگی۔اے اللہ میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں کہ میری دعا قبول فرما کہ تیرا جو بھی بندہ تجھے ملے خواہ وہ پہلوں میں سے ہو یا پچھلوں میں سے بشرطیکہ وہ تیرے ساتھ کسی شئی کوشریک نہ کرتا ہو اس کو آپ جنت میں داخل کرنا۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس میں مطلب (واللہ اعلم) یہ ہے کہ جو شخص حج کرے اور اپنے حج میں یہی عقیدہ رکھے جو اوپر ذکر ہوا۔ اسی کے باب میں کہ وہ شخص نکل چکا ہو دنیا کی زینت سے اور اس کی خواہشات سے، اور ان کو اپنی پیٹھ کے نیچے پھینک چکا ہو۔ اور گناہوں سے توبہ کر چکا ہو۔ اور گناہوں سے اس کا دل پاک ہو چکا ہو۔ اور وہ شخص آئے اپنے رب کے پاس معذرت کرنے والا، انابت ورجوع کرنے والا ،ا سے حکم دیا گیا کہ وہ اسی طریقے سے قربانی کرے ایسی قربانی جو کو اللہ کے قریب کر دے بعض ان چوپایوں اور مویشیوں میں سے، حتٰی کہ وہ جب رمی کر چکے تو اس کے بعد وہ قربانی کرے خواہ نحر کی صورت میں ہو یا ذبح کی صورت میں تو وہ شخص ایسے ہو گا گویا کہ وہ اپنی زبان حال سے یہ کہہ رہا ہے اے اللہ بے شک میں تیرے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کر چکا ہوں اور گناہوں کا ارتکاب کر چکا ہوں اس قدر کہ اگر مجھے اپنے آپ کو بھی قربان کرنے کا حکم دیا جاتا تو میں اس کو بھی قربان کر دیتا سزا کے طور ان گناہوں کی جو میں پہلے کر چکا ہوں مگر تو نے اس کو کیونکہ مجھ پر حرام کر دیا ہے اور میرے لئے تو نے چوپایوں اور مویشیوں کو قربان کرنے کو حلال کیا ہے۔ اور میں تیری بارگاہ میں تقرب حاصل کرتا ہوں اپنی اس قربانی کے ساتھ تو اس کو میری طرف سے قبول فرما۔ اور اس کو میرے لئے محض اپنے احسان کے ساتھ فدیہ اور بدلہ بنا محض اپنے احسان اور اپنی طاقت کے ساتھ۔ جیسے آپ نے اس کو فدیہ اور بدلہ بنایا تھا اسے خلیل ابراہیم کے بیٹے سے ذبح عظیم کے ساتھ محض اپنی رحمت اور فضل کے ساتھ اور اس کو آپ قبول کیجئے میری طرف سے جیسے آپ نے اس کو قبول کیا تھا اپنے خلیل ابراہیم سے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نبی اور رسول سے۔ قربانی کرے اور یہ عمل اس کی دل سے ہو اور اس کا عقیدہ رکھے اور یقین رکھے اور جان لے کہ اس کی قربانی کا یہی مقصد ہے اور یہی غرض ہے اس کی۔ اگر یہی بات وہ اپنی زبان سے بھی کہے تو بھی اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے جو کچھ میں نے اس بارے میں کہا ہے۔ (اگر اس نیت سے اور اس عقیدے سے اور اسی طریقے سے قربانی کرے تو) وہ شخص قربانی کرنے میں حاجی کی طرح ہو گا دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہو گا۔ ہاں صرف یہی فرق ہو گا کہ حاجی قربانی کا جانور بیت اللہ کی طرف چلا کر لے جاتا ہے اور یہ جانور چلا کر نہیں لے جاتا یعنی وہ ھدی ہوتا ہے اور یہ ھدی نہیں ہوتا۔ مجموعی طور پر دونوں ایک دوسرے کے مشابہ سنت ہیں۔ فرض نہیں ہیں۔اس لئے کہ توبہ خالص کرنا فدیہ کے قائمقام ہوتا ہے جیسے فدیہ استغفار کے قائمقام ہوتا ہے لیکن استغفار توبہ کے ساتھ سب سے بڑی عظیم سنتوں میں سے ہے یہی حال فدیہ کا ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اس کے بعد حلیمی نے وہ احادیث ذکر کی ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان جانوروں کے بارے میں آئی ہیں جن کی قربانی نہیں کی جا سکتی اور و ہ درج ذیل ہیں۔

الْكُتُبِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ← کَعْبٍ ← النبي صلى الله عليه و سلم وجعل ← اجتمع أبو هريرة و كعب فجعل أبو هريرة ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الزهري في قوله إني أرى في المنام أني أذبحك ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ببغداد

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7328

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7329

7329 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا هارون بن سليمان الأصبهاني نا عبد الرحمن بن مهدي نا شعبة قال : سمعت سليمان بن عبد الرحمن يقول : سمعت عبيد بن فيروز يقول : قلت للبراء : حدثني عما كره أو نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم من الأضاحي فقال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هكذا بيده ويدي أقصر من يد رسول الله صلى الله عليه و سلم أربع لا يجزين في الأضاحي العوراء البين عورها والمريضة البين مرضها والعرجاء البين عرجها والكسير التي لا تنقي قال : لأني أكره أن تكون نقص في الأذن والقرن قال : فما كرهت فدعه ولا تحرمه على غيرك قال الحليمي : وأجمع العلماء على أن العوراء لا تجزي والجرباء لا تجزي والأصل أن ما نقص منها شيء هو مأكول في نفسه أو يؤثر في لحمه وشحمه فينقص منها نقصانا بينا لم يجز منه هدي ولا ضحية قال الإمام أحمد : وقد ذكرنا تفصيل ذلك في كتاب الأحكام وفي كتاب السنن وذكرنا في كتاب السنن ما يجب أو يستحب مراعاته في الذبيحة من أراد الوقوف على ذلك رجع إليه إن شاء الله وذكرنا في كتب السنن أيضا ما ورد في الترغيب في النسيكة ونشير ههنا إلى بعضها إن شاء الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ہارون بن سلیمان اصفہانی نے ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کو شعبہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سلیمان بن عبدالرحمٰن سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبید بن فیروز سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا حضرت براء سے کہ آپ مجھے حدیث بیان کیجئے ان جانوروں کے بارے میں جن کی قربانی کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح ہاتھ سے اشارہ کیا اور میرا ہاتھ رسول اللہ کے ہاتھ سے چھوٹا ہے۔ فرمایا چار طرح کے جانور ہیں جن کی قربانی درست نہیں ہوتی کانا جانور جس کا کانا پین واضح ہو، اور بیمار جانور جس کی بیماری واضح ہو، لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن واضح ہو، اور ہڈی ٹوٹا ہوا جانور۔ براء نے فرمایا: میں اس کو مکروہ سمجھتا ہوں کہ اس کے کان میں اور سینگ میں کوئی نقص و عیب ہو۔ فرمایا کہ میں اس کو مکروہ نہیں سمجھتا اس کو چھوڑیئے اور اس کو دوسروں پر حرام وممنوع نہ کیجئے۔ شیخ حلیمی رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ علماء نے اس بات پر اجتماع و اتفاق کیا ہے کہ کانا (یا اندھا) بھی قربانی کے لئے نہیں چلے گا۔ اور خارش کی بیماری والا بھی ناکافی ہو گا۔ اصل بات اس بارے میں یہ ہے جو چیز جانور میں کوئی کمی واقع کر دے اگرچہ وہ بذات خود کھانے کے قائل ہو یا جو چیز اس کے گوشت اور چربی میں کوئی اثر چھوڑ دے جس سے کوئی واضح نقصان ہو جائے نہ اس کی ھد ی جائز ہے نہ ہی عام قربانی۔ امام احمد رحمہ اللہ علیہ نے یہی فرمایا ہے۔ تحقیق ہم نے اس کی تفصیل ذکر کر دی ہے۔ کتاب الاحکام میں اور کتاب السنن میں۔ اور کتاب السنن میں ہم نے ان چیزوں کو بھی ذکر کیا ہے ذبیحہ میں جن کی رعایت کرنا مستحب ہے یا واجب ہے۔ جو شخص ان کے بارے میں آگاہ ہونا چاہے انشاء اللہ وہاں رجوع کر لے اور ہم نے کتاب السنن میں وہ احادیث بھی ذکر کر دی ہیں جو قربانی کی ترغیب کے بارے میں وارد ہوئی ہیں اور یہاں پر ہم ان میں سے کچھ چیزوں کی طرف اشارہ کر یں گے۔ انشاءاللہ۔

قلت للبراء ← عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7329

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood