Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حق السادة على المماليك · حديث 8606

8606 - قال : و كان ابن عمر إذا مر على عبد قال : يا فلان ابشر بالأجر مرتين رواه مسلم عن محمد بن رافع عن عبد الرزاق دون قول عمر

کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب کسی غلام کے پاس گذرتے تھے تو فرماتے تھے اے فلا نے خوش ہو جائیے اجر وثواب کے ساتھ ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے محمد بن رافع سے اس نے عبد الرزاق سے سوائے قول عمر رضی اللہ عنہ کے ۔

عبد الرزاق دون قول عمر ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← يا فلان ابشر بالأجر مرتين رواه مسلم ← و كان ابن عمر إذا مر على عبد

Shuab ul Iman · Fifty-ninth of the people of faith › And it is a door in the right of the masters of the Mamluks · Hadith 8606

شعب الإيمان · التاسع و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حق السادة على المماليك · حديث 8607

8607 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الحميد نا أبو أسامة عن يزيد عن أبي بردة عن أبي موسى : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : المملوك الذي يحسن عبادة ربه و يؤدي إلى سيده الذي عليه من الحق و النصيحة و الطاعة له أجران أجر ما أحسن عبادة ربه و أجر ما أدى إلى مليكه الذي عليه من الحق رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن العلاء عن أبي أسامة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور احمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالحمید نے ان کو ابواسامہ نے ان کو یزید بن ابو بردہ نے ان کو ابوموسی ٰنے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ نے فر مایاو و غلام جواپنے رب کی عبادت احسن طریقے پر کرتا ہے اور اپنے مالک کا حق ادا کرتا ہے جو اس پر ہے یعنی خیر خواہی کرنا اور اطاعت کرنا اس کے لئے دہرا اجر ہے اس کا اجر جواپنے رب کی عبادت احسن طریقے پر کرتا ہے اور اس کے کام کا اجر جو وہ اپنے ما لک کا وہ حق ادا کرتا ہے جو اس پر ہے ۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن علاء سے اس نے ابواسامہ سے ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← يَزِيدُ: ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Fifty-ninth of the people of faith › And it is a door in the right of the masters of the Mamluks · Hadith 8607

شعب الإيمان · التاسع و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حق السادة على المماليك · حديث 8608

8608 - أخبرنا أبو الحسن بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن حيان التمار الأنصاري نا محمد بن كثير نا سفيان بن سعيد عن صالح بن صالح عن الشعبي عن أبي بردة عن أبي موسى قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما رجل كانت له جارية فأدبها فأحسن تأديبها و علمها فأحسن تعليمها وأعتقها وتزوجها فله أجران وأيما عبد مملوك أدى حق الله و حق مواليه فله أجران رواه البخاري عن محمد بن كثير

ہمیں خبر دی ابوالحسن بن عبدان نے ان کو احمد بن ابوعبید نے ان کو محمد بن حیان تمار انصاری نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سفیان بن سعید نے ان کو صالح بن صالح نے شعبی سے اس نے ابو بردہ سے اس نے ابوموسیٰ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس آدمی کی ایک لونڈی ہو وہ اس کو ادب سکھا ئےاچھا ادب اور اس کو تعلیم سکھلائی اور اچھی تعلیم دی پھر اس کو انہوں نے آزاد کر دیا اور پھر اس کے ساتھ نکاح کر لیا اس کے لئے دوہرا اجر ہے اور جو غلام اللہ کا حق ادا کرتا ہے اور اپنے آقاؤں کا حق ادا کرتا ہے اس کے لئے دہرا اجر ہے ۔اس کو بخاری نے روایت کیا ہے محمد بن کثیر ہے ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← الشَّعْبِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← محمد بن حيان التمار الأنصاري ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ،

Shuab ul Iman · Fifty-ninth of the people of faith › And it is a door in the right of the masters of the Mamluks · Hadith 8608

شعب الإيمان · التاسع و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حق السادة على المماليك · حديث 8609

8609 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة عن صالح بن صالح الثوري عن الشعبي حدثني أبو بردة عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يوفون أجورهم مرتين رجل كانت له أمة فأدبها فأحسن تأديبها و علمها فأحسن تعليمها ثم أعتقها وتزوجها و رجل من أهل الكتاب آمن بنبيه ثم أدرك النبي صلى الله عليه و سلم فآمن به و عبد أدى حق الله وحق مواليه ثم قال الشعبي لرجل عنده خذها بغير ثمن فلقد كان يرحل إلى المدينة فيما دون هذا أخرجه مسلم من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابوبکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے صالح بن صالح ثوری سے اس نے شعبی سے اس نے حدیث بیان کی ابو بردہ سے اس نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دوسری بار پورا پورا اجر عطا کئے جائیں گے ۔ وہ شخص جس کی لونڈی ہوو ہ اس کو ادب سکھائے اور اچھے طریقے پر ادب سکھائے اور اس کو تعلیم دے اور اچھے طریقے سے دے اس کے بعد اس کو آزاد کر دے پھر اس کے ساتھ نکاح بھی کر لے ۔ اور وہ آدمی جو اہل کتاب سے ہواپنے نبی پر ایمان لایا ہو پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پالیا ہو اور اس نے آپ کے ساتھ ایمان قبول کیا ہو اور عبادت کی ہو اور اللہ کا حق ادا کیا ہو اور اپنے غلاموں کا حق بھی اس کے بعد کہاشعبی نے اس آدمی سے جو اس کے پاس تھا بھیجے اس کو بغیر قیمت کے البتہ تحقیق لوگ تو اس سے کم تر بات کے لئے بھی مدینے کا سفر کرتے تھے ۔ اس کومسلم نے روایت کیا ہے شعبہ کی حدیث سے ۔

أَبِيهِ ← أَبُو بُرْدَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← صالح بن صالح الثوري ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Fifty-ninth of the people of faith › And it is a door in the right of the masters of the Mamluks · Hadith 8609

شعب الإيمان · التاسع و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حق السادة على المماليك · حديث 8610

8610 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا هشام عن يحيى بن أبي كثير عن عامر العقيلي عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عرض علي أول ثلاثة يدخلون الجنة و أول ثلاثة يدخلون النار فأما أول ثلاثة يدخلون الجنة فالشهيد و عبد أدى حق الله و نصح لسيده و فقير متعفف ذو عيال و أما أول ثلاثة يدخلون النار فسلطان مسلط و ذو ثروة من المال لم يعط حق ماله و فقير فخور

ہمیں خبر دی ابوبکر بن فورک نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو ہشام نے ان کویحییٰ بن ابی کثیر نے ان کو عامر عقیلی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا مجھ پر جنت میں سب سے اول داخل ہونے والوں میں تین آدمی پیش کئے گئے۔ بہر حال پہلے تین جو جنت میں داخل ہوں گے ان میں سے ایک شہید ہے دوسرا وہ غلام جواللہ کا حق ادا کرے اور اپنے آقا کے ساتھ خیر خواہی کرے تیسر افقیر جو عیالدار ہومگر سوال کرنے سے بچتا ہو۔ اور وہ پہلے تین جو جہنم میں پہلے جائیں گے ایک ظالم بادشاہ۔ دوسر او ہ مالدار جواپنے مال کا حق ادانہیں کرتا تیسر اوہ جوفقیر ہومگر مغرور و متکبر ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عَامِرٌ الْعُقَيْلِيُّ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Fifty-ninth of the people of faith › And it is a door in the right of the masters of the Mamluks · Hadith 8610

شعب الإيمان · التاسع و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حق السادة على المماليك · حديث 8611

8611 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا صدقة بن موسى و همام عن فرقد السبخي عن مرة عن أبي بكر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أول من يقرع باب الجنة عبد أدى حق الله وحق مواليه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو صدقہ بن موسی ٰنے اور ھمام بن فرقد سنجی نے ان کومرہ نے ان کو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتے ہیں کہ پہلا شخص جو جنت کا دروازہ کھنکھنائے گا ( مراد ہے پہلے داخل ہوگا ) ۔ وہ غلام ہوگا جس نے اپنے اللہ کاحق بھی ادا کیا ہو گا اور اپنے مالکوں کا بھی ۔

أول من يقرع باب الجنة عبد أدى حق الله وحق مواليه ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي بَكْرٍ، ← مُرَّۃُ ← فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ← صدقة بن موسى و همام ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Fifty-ninth of the people of faith › And it is a door in the right of the masters of the Mamluks · Hadith 8611

شعب الإيمان · التاسع و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حق السادة على المماليك · حديث 8612

8612 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الأدمي بمكة نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن همام بن منبه أنه سمع أبا هريرة يحدث : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يقل أحدكم اطعم ربك واسق ربك قضى ربك وليقل سيدي ومولاي و لا يقل أحدكم عبدي و أمتي و ليقل فتاتي وفتاي وغلامي أخرجاه في الصحيح من حديث عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ محمد بن علی بن عبدالحمید ادمی نے مکہ مکرمہ میں ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ھمام بن منبہ نے کہ انہوں نے سنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ۔ وہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنے مالک اور آقا کے بارے میں یوں نہ کہا کرے کہ اپنے رب کو کھلا ۔ چلا بلکہ یوں کہے کہ اے میرے سرداراے میرے آقا(یعنی لفظ رب کسی غیر اللہ کے لئے استعمال نہ کرے )اورتم میں سے کوئی یہ نہ کہے میرابند ہ۔میری بندی بلکہ یوں کہے میرا جوان میری نوکرانی میرے غلام ۔ اس کو بخاری مسلم نے نقل کیا ہے جب میں عبدالرزاق کی حدیث سے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الآدمي -بمكة-، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-ninth of the people of faith › And it is a door in the right of the masters of the Mamluks · Hadith 8612

شعب الإيمان · التاسع و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حق السادة على المماليك · حديث 8613

8613 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الفضل بن حميرويه أنا أحمد بن نجده نا أحمد بن يونس نا عبد العزيز بن أبي سلمة أنا عبد الكريم بن أبي المخارق عن أبي رافع قال : مر عمر بن الخطاب و أنا أصوع و اقرأ القرآن قال يا أبا رافع لأنت خير من عمر تؤدي حق الله وحق مواليك

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوالفضل بن حمیر و یہ نے ان کواحد بن نجدہ نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو عبد العزیز بن ابی سلمہ نے ان کو عبد الکریم بن ابی المخارق نے ان کو ابورافع نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب میرے پاس سے گذرے اور میں قرآن مجید پڑھ رہاتھا انہوں نے فرمایا اے ابورافع البتہ تم عمر سے افضل ہوتم اللہ کا حق بھی بخوبی ادا کرتے ہواوراپنے مالکوں کا بھی ۔

يا أبا رافع لأنت خير من عمر تؤدي حق الله وحق مواليك ← أصوع و اقرأ القرآن ← مر عمر بن الخطاب و ← أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل بن حميرويه ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Fifty-ninth of the people of faith › And it is a door in the right of the masters of the Mamluks · Hadith 8613

شعب الإيمان · التاسع و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حق السادة على المماليك · حديث 8614

8614 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو قتيبة مسلم بن الفضل الأدمي بمكة نا محمد بن نصر الصائغ أنا أبو مصعب نا عبد الله بن الحارث الجمحي حدثني زيد بن أسلم قال : مر عبد الله بن عمر براع فقال يا راعي الغنم هل من جوره قال الراعي ليس ههنا ربها فقال له ابن عمر تقول له إنه أكلها الذئب قال : فرفع الراعي رأسه إلى السماء ثم قال فأين الله قال : ابن عمر فأنا و الله أحق أن أقول أين الله فاشترى ابن عمر الراعي و اشترى الغنم فأعتقه وأعطاه الغنم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوقتیبہ سلمہ بن فضل ادمی نے مکہ مکرمہ میں ان کو حمد بن نصر صائغ نے ان کو ابومصعب نے ان کو عبداللہ بن حارث حاجی نے اس نے زید بن اسلم سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک چرواہے کے پاس سے گذرے وہاں اس کا مالک نہیں تھا انہوں نے اس سے کہا اے چرواہے کیا تم بکری بیچو گے؟ چرواہے نے کہا ان کا مالک یہاں نہیں ہے ۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہاتم مالک سے کہہ دینا کہ ایک بکری بھیٹر یے نے اٹھالی ہے۔ چنانچہ چرواہے نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھالیا اور کہا کہ اللہ کہاں جائے گا ؟ حضرت ابن عمر نے فرمایا۔ میں اللہ کی قسم یہ کہنے کا زیادہ حق دار تھا کہ اللہ کہاں جائے گا چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی ایمانداری دیکھ کر اس کوخریدلیا اور وہ ساری بکریاں بھی خرید لیں اور اس غلام کو آزاد کر دیا اور وہ بکریاں اسی کو صدقہ کر دیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← فَأَيْنَ اللَّهُ. ← فرفع الراعي رأسه إلى السماء ثم ← له ابن عمر تقول له إنه أكلها الذئب ← الراعي ليس ههنا ربها ← يا راعي الغنم هل من جوره ← مر عبد الله بن عمر براع ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْجُمَحِيُّ، ← أَبُو مُصْعَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الصَّائِغُ ← أبو قتيبة مسلم بن الفضل الآدمي بمكة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-ninth of the people of faith › And it is a door in the right of the masters of the Mamluks · Hadith 8614

شعب الإيمان · التاسع و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حق السادة على المماليك · حديث 8615

8615 - و قد روينا هذا من وجه آخر في باب الأمانات : و فيه أنه وجده صائما في يوم حار فأراد أن يختبر ورعه فطلب منه البيع

ہم نے اس کو روایت کیا ہے دوسرے طریق سے باب دامانات میں اور اس میں ہے کہ انہوں نے ایک روزہ دار کو پالیا تھا سخت گرمی میں انہوں نے اس کے تقوے کو آزمانا چاہا لہذا انہوں نے اس سے بکری فروخت کی بات کی تھی ۔

Shuab ul Iman · Fifty-ninth of the people of faith › And it is a door in the right of the masters of the Mamluks · Hadith 8615

شعب الإيمان · التاسع و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حق السادة على المماليك · حديث 8616

8616 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا تمتام نا عفان نا مبارك بن فضالة نا الحسن عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال إن الله عز و جل يحاسب عبده المملوك يوم القيامة بما ضيع من صلاته قال فيقول يا رب سلطت علي مليك سوء كان ينهاني عن الصلاة لك ومن العبادة لك فيقول الله عز و جل قد رأيتك قد سرقت من ماله ألا سرقت لي من عملك

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمتام نے ان کو عفان نے ان کو مبارک بن فضالہ نے ان کو حسن نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے مملوک غلام جس سے قیامت کے دن حساب لے گا جو اس نے نمازیں ضائع کی ہوں گی فرمایا کہ وہ کہے گا اے میرے رب میرے اوپر براما لک مسلط تھاوہ مجھے نماز سے روکتا تھا اور تیری عبادت سے اللہ تعالی ٰفرمائیں گے کہ میں نے تجھے دیکھا تھا تم نے اس کا مال چرایا تھا کیا تم نے اس سے نظر چرا کر میرے لئے عمل بھی کیا تھا؟

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← عَفَّانُ، ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-ninth of the people of faith › And it is a door in the right of the masters of the Mamluks · Hadith 8616

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood