Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8564

8564 - و رواه سفيان بن عيينة عن محمد بن عجلان عن بكير عن عجلان أبي محمد عن أبي هريرة : و زاد فيه بالمعروف و قال : و لا يكلف من العمل إلا ما يطيق أخبرناه أبو بكر بن الحسن نا الأصم نا الربيع أنا الشافعي أنا سفيان فذكره

اوراس کو روایت کیا ہے سفیان بن عینہ نے ان کو محمد بن عجلان نے ان کو بکیر نے ان کو عجلان ابومحمد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس نے یہ زیادہ کیا ہے اس میں کہ معروف طریقے سے ۔اور فرمایا کہ وہ کام کی ایسی تکلیف نہ دیا جائے جس کی وہ طاقت نہ ر کھے ۔ ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو بکر بن حسن نے اس کو اصم نے ان کو ربیع نے ان کو شافعی نے ان کو سفیان نے اس نے اسے ذکر کیا ہے۔

سُفْيَانَ، فَذَكَرَهُ. ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعِ، ← الأَصَمُّ: ← أبو بكر بن الحسن ← و لا يكلف من العمل إلا ما يطيق ← أبي هريرة و زاد فيه بالمعروف و ← عَجْلانَ أَبِي مُحَمَّدٍ، ← بُكَيْرٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← و رواه سفيان بن عيينة

Hadith 8564

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8565

8565 - حدثنا أبو الحسن العلوي أنا عبيد الله بن إبراهيم بن بالويه المزكي نا أحمد بن يوسف السلمي نا عبد الرزاق أنا معمر عن همام بن منبه قال : هذا ما حدثنا أبو هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا جاء الصانع بطعام قد أغنى عنكم صره و ذماته فادعوه فليأكل معكم وإلا فالقموه في يده أو لتناولوه في يده

ہمیں حدیث بیان کی ابوالحسن علوی نے ان کو عبید اللہ بن ابراہیم بن بالو یہ مزکی نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ھمام بن منبہ نے وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ ہے جو میں نے حدیث بیان کی تھی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تمہارے پاس کھانا تیار کر کے آنے والا کھانا تیار کر کے آئےاور وہ تمہیں اس کے کام سے آزاد کر دے تو اس کو بلا کر اپنے ساتھ کھلا ؤاگر وہ ساتھ نہ کھائے تو کھانا اس کے ہاتھ میں دے دو ۔ یایوں کہا تھا کہ کھانا اس کے ہاتھ میں پکڑا دو۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← عبيد الله بن إبراهيم بن بالويه المزكي، ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Hadith 8565

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8566

8566 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن مرزوق نا سعيد بن عامر نا شعبة عن محمد بن زياد عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا جاء خادم أحدكم بطعام فليجلسه معه فإن لم يفعل فليناوله أكلة أو أكلتين أو قال : لقمة أو لقمتين فإنه ولي حره و علاجه رواه البخاري عن حفص بن عمر و غيره عن شعبة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو شعبہ نے ان کومحمد بن زیاد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا لائے تو اس کو کھانے کے لئے ساتھ بیٹھانا چاہئے اگر وہ انکار کرے تو کچھ کھانا اس کو دے دینا چا ہئے یا کہا تھا کہ ایک دو لقمے دے دینا چاہئے اس لئے کہ وہ اس کو تیار کرنے کے لئے گرمی میں بیٹھا ہے اور اس نے اس کو تیار بھی کیا ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے حفص بن عمر رضی اللہ عنہ سے اس نے شعبہ سے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 8566

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8567

8567 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا ابن أبي ذئب عن عجلان عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المملوك أخوك فإذا صنع لك طعاما فأجلسه معك فإن أبى فاطعمه و لا تضربوا وجوههم

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو ابن ابی ذئب نے ان کو عجلا ن نے ان کو ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ غلام تیرا بھائی ہے جب وہ تیرے لئے کھانا تیار کرے تو اس کو کھانے کے لئے ساتھ بیٹھائیے اگر وہ نہ بیٹھے تو اس کو کھا نادے دے اور ان کومنہ پر نہ مارا کرو ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَجْلَانَ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Hadith 8567

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8568

8568 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ نا أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا إسحاق بن إبراهيم أنا جرير عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن أبيه عن أبي مسعود الأنصاري قال : إني لأضرب غلاما لي إذ سمعت صوتا خلفي أعلم أبا مسعود فلم ألتفت إليه من الغضب فلما غشيني إذ هو رسول الله صلى الله عليه و سلم فسقط من يدي السوط من هيبته فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لله أقدر عليك منك على هذا قال : فقلت : يا رسول الله و الله لا أضرب غلاما لي أبدا رواه مسلم عن إسحاق بن إبراهيم

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو جریر نے ان کو اعمش ان کو ابراہیم تیمی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو مسعود انصاری نے وہ کہتے ہیں میں اپنے غلام کو مارتا تھا اچا نک میں نے پیچھے سے ایک آواز سنی جان لیجئے اے ابن مسعودمگر میں نے غصے کی وجہ سے مڑ کر نہ دیکھا جب وہ میرے اوپر پہنچے گئے تو میں نے دیکھا کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لہذا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ڈر سے میرے ہاتھ سے چا بک گر گیا اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا البتہ اللہ تعالیٰ تیرے او پر زیاد وقد رت رکھتا ہے تجھ سے جو اس پر قدرت ہے ۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ !اللہ کی قسم میں کبھی بھی اپنے غلام کو نہیں ماروں گا اس کو مسلم نے روایت کیا ہے اسحاق بن ابراہیم سے ۔

إني لأضرب غلاما لي ← أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 8568

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8569

8569 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن أحمد بن حمدان نا عبد الله بن محمد نا أبو كريب نا أبو معاوية نا الأعمش عن إبراهيم التيمي عن أبيه عن أبي مسعود الأنصاري قال : كنت أضرب غلاما لي فسمعت من خلفي صوتا أعلم أبا مسعود لله أقدر عليك منك عليه فالتفت فإذا هو رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله هو حر لوجه الله تعالى فقال : أما إنك لو لم تفعل للفحتك النار أو قال : لمستك النار رواه مسلم في الصحيح عن أبي كريب

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی محمد بن احمد بن حمدان نے ان کو عبداللہ بن محمد نے ان کو ابو کریب نے ان کو ابومعاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو ابراہیم تیمی نے ان کو ان کے والد نے ابومسعود انصاری سے ۔انہوں نے کہا میں اپنے غلام کو مار رہا تھا میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی جانئے اے ابو مسعود اللہ تعالیٰ زیاد و قدرت والا ہے تیرے اوپر تجھ سے زیادہ قدرت رکھتا ہے میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے میں نے کہ یارسول اللہ ! یہ آزاد ہے اللہ کی رضا کے لئے خبردار اگرتم نہیں کرو گے تمہیں آگ جھلس دے گی یا کہا تھا تمہیں آگ چھولے گی ۔اس کومسلم نے روایت کیا ہے صحیح مسلم میں ابوکر یب سے ۔

كُنْتُ أَضْرِبُ غُلاَمًا لِي، ← أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 8569

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8570

8570 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا عمر بن مرزوق نا شعبة قال : قال لي محمد بن المنكدر ما اسمك قلت : شعبة قال : فقال : حدثني أبو شعبة عن سويد بن مقرن المزني قال : و رأى رجلا لطم غلاما قال : فقال : أما علمت إن الصورة محرمة لقد رأيتني و أنا سابع سبعة أخوة على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم و ما لنا إلا خادم واحد فلطمه أحدنا قال : فأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يعتقه أخرجه مسلم من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابوالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو عمرو بن مرزوق نے ان کو شعبہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے کہا محمد بن منکد ر نے کہ آپ کا نام کیا ہے میں نے کہا کہ شعبہ انہوں نے کہا مجھے حدیث بیان کی تھی ابو شعبہ نے سوید بن مقرن مزنی سے انہوں نے کہا کہ انہوں نے دیکھا ایک آدمی کو جس نے ایک لڑکے کو تھپٹر مارا تھا۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا کیا آپ جانتے نہیں ہیں کہ شکل وصورت محترم ہوتی ہے البتہ تحقیق میں نے دیکھا ہے اپنے آپ کو حالانکہ میں سات بھائیوں کا ساتواں بھائی تھا عہد رسول میں اور ہم لوگوں کا ایک ہی خادم تھا اس کو ہم لوگوں میں سے کسی ایک نے تھپٹر مار دیا تھا۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا کہ تم اس کو آزاد کر دو ۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے شعبہ کی حدیث سے ۔

أما علمت إن الصورة محرمة لقد رأيتني و ← و رأى رجلا لطم غلاما ← سويد بن مقرن المزني ← أبو شعبة ← لي محمد بن المنكدر ما اسمك قلت شعبة ← شُعْبَةُ، ← عُمَرُ بْنُ مَرْزُوقٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Hadith 8570

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8571

8571 - ورواه معاوية بن سويد بن مقرن عن أبيه : في الخادم و قال في آخره قالوا ليس لهم خادم غيرها قال : فليستخدموها فإذا استغنوا عنها فليخلوا سبيلها

اور اس کو روایت کیا ہے معاویہ بن سوید بن مقرن نے اپنے والد سے خادم کے بارے میں انہوں نے اس کے آخر میں فرمایا ۔ کہ لوگوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ان لوگوں کا اور کوئی بھی خادم نہیں تھا۔ فرمایا کہ چاہئے کہ وہ اس سے خدمت کروائیں اور جب اس کی ضرورت نہ سمجھیں تو اس کو آزادکردیں۔

فليستخدموها فإذا استغنوا عنها فليخلوا سبيلها ← ليس لهم خادم غيرها ← فِي آخِرِهِ ← أبيه في الخادم و ← ورواه معاوية بن سويد بن مقرن

Hadith 8571

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8572

8572 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا محمد بن أبي بكر نا أبو عوانة عن فراس عن أبي صالح عن زاد أن أبي عمر قال : أتيت ابن عمر و قد أعتق مملوكا له فأخذ عودا فقال مالي فيه من الأجر ما يساوي هذا سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من لطم مملوكه أو ضربه حدا لم يأته فكفارته أن يعتقه رواه مسلم عن أبي كامل عن أبي عوانة

ہمیں خبر دی ابوالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابی بکر نے ان کو ابوعوانہ نے ان کو فراس نے ابو صالح سے اس نے زاد سے یہ کہ ابوعمر کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا حالانکہ انہوں نے اپنے غلام کو آزاد کر دیا تھا انہوں نے ایک لکڑی لی اور فرمایا کہ اس میں میرے لئے کیا اجر ہوسکتا ہے؟ جو اس کے ساری ہو سکے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنافر ماتے تھے جو شخص اپنے غلام کوتھپڑ مارے یا اس کو چا بک مارے اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اس کو آزاد کرے اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو کامل سے اس نے ابوعوانہ سے ۔

زَاد ← اَبِیْ صَالِحٍ ← فِرَاسٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Hadith 8572

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8573

8573 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا إسماعيل بن قتيبة و حسن بن سفيان قالا نا أبو بكر بن أبي شيبة نا ابن نمير نا فضيل بن غزوان قال : سمعت عبد الرحمن بن أبي نعم حدثني أبو هريرة قال : قال أبو القاسم صلى الله عليه و سلم من قذف مملوكه بالزنا أقام عليه الحد يوم القيامة إلا أن يكون كما قال رواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة وأخرجه البخاري من حديث يحيى القطان عن فضيل بن غزوان

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو اسماعیل بن قتیبہ نے اور حسن بن سفیان نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی ابوبکر بن ابی شیبہ نے ان کو ابن نمیر نے ان کوفضیل بن غزوان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبدالرحمٰن بن ابی نعیم سے ان کو حدیث بیان کی ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ فرمایا ابوالقاسم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے جوشخص اپنے غلام پر زنا کی جھوٹی تہمت لگائے گا قیامت کے دن اس پر حد زنا قائم کی جائے گی ہاں مگر یہ کہ وہ ز نا کا مجرم ہو۔ہر نگر ان سے اس کی ذمہ داری کے متعلق پوچھا جائے گا: اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو بکر بن ابو شیبہ سے اور بخاری نے کو نقل کیا ہے یحییٰ بن قطان کی حدیث سے اس نے فضیل بن غزوان ہے ۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ← فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← إسماعيل بن قتيبة و حسن بن سفيان ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 8573

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8574

8574 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا جعفر الفريابي و أبو عبد الرحمن النسائي قال : جعفر نا و قال أبو عبد الرحمن أنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي و قال الفريابي إسحاق بن راهويه أنا معاذ بن هشام عن أبيه عن قتادة عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل سائل كل راع عما استرعى حفظ ذلك أم ضيع قال أبو أحمد : تفرد به إسحاق بن راهويه

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی حافظ نے ان کو جعفر فریابی اور ابوعبدالرحمٰن نسائی نے وہ کہتے ہیں کہ کہا جعفر نے اور کہا ابوعبدالرحمٰن نے ان کو خبر دی اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے اور کہا فریابی اسحاق بن راھویہ نے ان کو معاذ بن ہشام نے اپنے والد سے اس نے قتادہ سے اس نے انس رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اللہ تعالی ہر چرواہے سے پوچھیں گے اس نے جو کچھ چرایا۔ اس کی حفاظت کی یا اس کو ضائع کیا ۔ مراد ہے کہ اللہ تعالی ٰہر نگران اور ذمہ دار سے اس کی نگرانی اور ذمہ کی بابت پوچھیں گے کہ اس نے اپنی ذمہ داری پوری کی یا اس کو اس نے ضائع کیا۔ ابواحمد نے کہا اس روایت کے ساتھ اسحٰق بن راھو یہ متفرد ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبِيهِ ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← الفريابي إسحاق بن راهويه ← إسحاق بن إبراهيم الحنظلي و ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← و، ← جَعْفَرٌ، ← جعفر الفريابي و أبو عبد الرحمن النسائي ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 8574

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8575

8575 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا أبو مسلم نا حجاج نا حماد عن عاصم عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خير الصدقة ما أبقى غني و اليد العليا خير من اليد السفلى تقول امرأتك انفق علي أو طلقني و يقول : مملوكك انفق علي أو بعني و يقول : ولدك إلى من تكلنا يقول : فهؤلاء أحب

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کواہمد بن عبید نے ان کو ابو مسلم نے ان کو حجاج نے ان کو حماد نےعاصم سے اس نے ابو صالح سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین صدقہ وہ ہے جوغنی آدمی بچائے اور باقی رکھے اور اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تیری عورت کے مجھ پر خرچ کیجئے یا مجھے طلاق دے دیجئے ۔کہ یا تیرا غلام میں کہے مجھ پر خرچ کیجئے یا مجھے فروخت کر دیجئے یا تیرا بیٹا کہے کہ اباتم ہمیں کس کے حوالے کر تے ہو ۔ تو یہ زیادہ محبوب ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← أَبُو مُسْلِمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 8575

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood