Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8552

8552 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا زهير حرب نا جرير عن سليمان التيمي عن قتادة عن أنس قال : كانت عامة وصية رسول الله صلى الله عليه و سلم حين حضره الموت الصلاة وما ملكت أيمانكم حتى جعل يغرغر بها في صدره وما يفيض بها لسانه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کوز ہیر بن حرب نے ان کو جریر نے ان کو سلیمان تیمی نے ان کو قتادہ نے ان کو انس نے وہ فرماتے ہیں زیادہ تر وصیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وقت جب آپ کو وفات آن پہنچی۔ یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا اور غلاموں کا خیال رکھنا ۔ یہاں تک کہ آپ کے سینے میں خرخراہٹ شروع ہوگئی تھی اور زبان بولنے سے بند ہوگئی تھی۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← جَرِيرٌ ← زهير حرب ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 8552

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8553

8553 - و رواه همام بن يحيى عن قتادة عن أبي الخليل عن سفينة عن أم سلمة : عن النبي صلى الله عليه و سلم

اور اس کو روایت کیا ہے ہما م بن یحییٰ نے قتادہ سے ان کو ابو الخلیل نے ان کو سفینہ نے ام سلمہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أُمِّ سَلَمَةَ ← سَفِينَةَ: ← أَبِي الْخَلِيلِ، ← قَتَادَةَ ← و رواه همام بن يحيى

Hadith 8553

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8554

8554 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا العباس بن محمد الدوري نا سعيد بن شرحبيل نا الليث بن سعد عن يحيى بن سعيد عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن عمرو بن حزم عن عمرة عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه يورثه وما زال يوصيني بالمملوك حتى ظننت أنه يضرب له أجلا أو وقتا إذا بلغه اعتق أخرج مسلم حديث الجار من حديث الليث وغيره وحديث المملوك صحيح على شرطه وشرط البخاري

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو سعید بن شرحبیل نے ان کولیث بن سعد نے ان کو یحیی ٰ بن سعید نے ان کو ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے ان کو عمرہ نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا ہمیشہ ہے جبرائیل علیہ السلام مجھے وصیت کر تے پڑوسی کے بارے میں یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ ا سے وارث بنا دے گا اور ہمیشہ مجھے وصیت کرتے رہے غلاموں کے بارے میں یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ اس کے لئے حصہ مقرر کر دیں گے یا وقت مقررکردیں گے جب دو وقت آ جائےتو اس کو آزاد کر دے ۔ مسلم نے نقل کی ہے پڑوسی والی حدیث ۔ لیث کی حدیث وغیرہ سے اور حدیث ِمملوک صحیح ہے۔ اس کی شرط کے مطابق اور بخاری کی شرط کے مطابق ۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 8554

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8555

8555 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا محمد بن إسحاق نا عبد الله بن عمر نا محمد بن فضيل عن مغيرة عن أم موسى عن علي أنه قال : كان آخر كلام رسول الله صلى الله عليه و سلم : الصلاة الصلاة اتقوا الله فيما ملكت أيمانكم رواه أبو داود عن زهير بن حرب و عثمان بن أبي شيبة عن محمد ابن الفضيل بمثله قال الحلمي : فأوصى الله تبارك و تعالى ثم الرسول صلوات الله عليه أمته بالمماليك كالإيصاء بالوالدين و الجيران وكالإيصاء بالصلاة فدل ذلك على وجوب الإحسان إليهم وترك التحامل بالجور عليهم فأول ذلك أن لا يقول أحد للذكر منهم عبدي بل يقول : فتاي و لا يقول : للأنثى أمتي بل يقول فتاتي و بذلك جاء الخبر نصا عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو حمد بن اسحٰق نے ان کو عبد اللہ بن عمر نے ان کومحمد بن فضیل نے ان کو مغیرہ نے ان کو اموسیٰ نے علی سے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری کلام تھی ۔ الصلوة الصلوة اتقوا الله فيما ملکت ایمانکم نماز نماز کی حفاظت کر واللہ سے ڈرنا غلاموں کے بارے میں ۔ اس کو روایت کیا ہے ابو داؤد نے زہیر بن حرب سے اور عثمان بن ابی شیبہ سے اس نے محمد بن فضیل سے اس کی مثل کہا شیخ حلیمی نے پس اللہ تعالیٰ نے پہلے وصیت فرمائی تھی اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو غلاموں کے بارے میں مثل وصیت کرنے کے والدین کے ساتھ اور پڑوسیوں کے ساتھ مثل وصیت کی ہے نماز کے ساتھ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کی طرف احسان کرنا واجب ہے ۔ اور ان پرظلم وزیادتی کوترک کرنا واجب ہے پہلی بات اس بارے میں یہ ہے کہ کوئی شخص کسی مرد کے بارے میں یوں نہ کہے میرا بندہو بلکہ یوں کہے کہ میرا جوان اور کسی عورت کے بارے یوں نہ کہے میری بندی بلکہ یوں کہے میری خادمہ اوراسی کے بارے میں واضح طور پر نبی کریم سے نص موجود ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہے۔

عَلِيٍّ، ← أُمِّ مُوسَى، ← مُغِيرَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 8555

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8556

8556 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا محمد بن نعيم نا قتيبة بن سعيد نا إسماعيل بن جعفر نا العلاء عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يقولن أحدكم عبدي وأمتي فكلكم عبيد الله وكل نسائكم إماء الله ولكن ليقل غلامي وجاريتي وفتاتي وفتاي رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة وغيره قال : ثم الذي يتلو هذا أن لا يكلفه ما لا يطيق ولا يجوعه ولا يعريه ثم أن لا يعذبه من غليظ بما يشق عليه ولا من الضرب بما ينهكه إلا أن يصيب حدا فيقيمه عليه ثم بسط الكلام في الإحسان إليه وقد ذكرنا الأخبار في ذلك في كتاب النفقات من كتاب السنن وتذكر ههنا إن شاء الله ما حضرنا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کوابوعبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن نعیم نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو علا ء نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہرگز نہ کہے تم میں سے ایک آدمی میرابند ہ میری بندی اس لئے کہ تم میں سے ہر شخص اللہ کا بند ہ ہے اور تمہاری ہر عورت اللہ کی بندی ہے بلکہ چاہئے کہ یوں کہے میرا نام میری لونڈی میر ا جوان میری لڑکی ۔ اس کو روایت کیا ہے مسلم نے صحیح میں قتیبہ وغیرہ سے ۔ فرمایا: پھر وہ شخص جو اس کو پڑھے نہ تکلیف دے اس کو جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہواور نہ اس کو بھوکار کے نہ بغیر کپڑے رکھے اس کے بعد نہ اس کو ایسی سزادے جو اس پر مشکل گذرے اور نہ اس کو جسمانی مار مارے جو اس کو عیب ناک کر دے ہاں مگر یہ ہے کہ اگر وہ کسی شرعی حد کو پہنچے تو اس کو وہ اس کے اوپر قائم کر دے۔اس کے بعد شیخ نے اس کی طرف احسان اور نیکی کرنے کی بابت تفصیل سے کلام کیا ہے اور ہم نے اس بارے میں احادیث ذکر کی ہیں کتاب النفقات میں کتاب السنن کے اندر اور ہم یہاں پر ان میں سے انشاء اللہ کچھ ذکر کر یں گے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 8556

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8557

8557 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن الحسن بن إسحاق البزار ببغداد أنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي نا أبو يحيى بن أبي مسرة نا المقري نا سعيد بن أبي أيوب حدثني محمد بن عجلان عن بكير عن العجلان عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : للملوك طعامه و كسوته ولا يكلف من العمل إلا ما يطيق

ہمیں خبر دی ابوالحسین محمد بن احمد بن حسن بن اسحاق بزار نے بغداد میں ان کو ابومحمد عبد اللہ بن محمد بن اسحٰق فاکہی نے ان کوابویحییٰ بن ابی میسر ہ مقری نے ان کو سعید بن ایوب نے ان کو محمد بن عجلان نے بکیر سے اس نے عجلان سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ انہوں نے فرمایا غلام کے لئے اس کا کھلانا اور پہنا نالازم ہے اور وہ ایسے کام کی تکلیف نہ دیا جائے مگر صرف اس کی جس کی وہ طاقت رکھتا ہو۔

للملوك طعامه و كسوته ولا يكلف من العمل إلا ما يطيق ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← العجلان ← بُكَيْرٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← الْمُقْرِئُ ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي ← أبو الحسن محمد بن أحمد بن الحسن بن إسحاق البزار ببغداد

Hadith 8557

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8558

8558 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الرحمن بن الحسن القاضي نا إبراهيم بن الحسين نا آدم نا شعبة نا واصل الأحدب قال : سمعت المعرور بن سويد يقول : رأيت أبا ذر الغفاري و عليه حلة و على غلامه حله فسألناه عن ذلك فقال : إني ساببت رجلا فشكاني إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعيرته بأمه ثم قال : إن إخوانكم خولكم جعلهم الله تحت أيديكم فمن كان أخوه تحت يده فليطعمه مما يأكل و ليلبسه مما يلبس ولا تكلفوهم ما يغلبهم فإن كلفتموهم ما يغلبهم فأعينوهم عليه رواه البخاري عن آدم و أخرجه مسلم من حديث غندر عن شعبة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو خبر دی آدم نے ان کو شعبہ نے ان کو واصل احدب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا معرور بن سوید سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذرغفاری کو دیکھا ان کے اوپر ایک پوشاک تھی ۔ اور ان کے غلام کے اوپر بھی ایک پوشاک تھی ہم نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں ایک آدمی کے ساتھ گالی گلوچ کر لیتا تھا اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری شکایت کر دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم نے اس کو اس کی ماں کا عیب لگا یا اس کے بعد فرمایا: بے شک تمہارے بھائی تمہارے دوست ہیں اللہ نے ان کو تمہارے ماتحت کر دیا ہے جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو اس کو چاہئے کہ وہ اس کو کھلائے اس میں سے جس میں سے خود کھائے اور اس کو پہنائے اس میں سے جس میں سے خود پہنے اور ان کو ایسے کام کی تکلیف نہ دو جس سے وہ عاجز ہوں ۔ اگر ان کوایسے کام کی تکلیف دو جوان کے بس میں نہ ہوتو پھر اس پران کی مددکرو ۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے آدم سے ۔اور اس کو مسلم نے نقل کیا ہے حد یث غندر سے اس نے شعبہ سے۔

ذَلِكَ ← رأيت أبا ذر الغفاري و عليه حلة و على غلامه حله فسألناه ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو عبد الرحمن بن الحسن القاضي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 8558

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8559

8559 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن قالا : نا أبو العباس الأصم نا بكر بن سهل الدمياطي نا شعيب بن يحيى عن ابن لهيعة عن عبيد الله بن أبي جعفر عن أبي عبد الرحمن الحبلي عن أبي ذر الغفاري : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : إن الفقير عند الغني فتنة و إن الضعيف عند القوي فتنة و إن المملوك عند المليك فتنة فليتق الله عز و جل وليكلفه ما يستطيع فإن أمره أن يعمل بما لا يستطيع فليعنه عليه فإن لم يفعل فلا يعذبه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابو بکر بن حسن نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی ابوالعباس اصم نے ان کو بکر بن سہل دمیاطی نے ان کو شعیب بن یحییٰ نے ان کو ابن لہیعہ نے ان کو عبید اللہ بن ابی جعفر نے ان کو ابوعبدالرحمٰن حبلی نے ان کو ابوذرغفاری نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انہوں نے فرمایا بیشک فقیرغنی کے لئے فتنہ اور آزمائش ہے اور بے شک ضعیف قوی کے لئے آزمائش ہے اور بے شک غلام آقا کے لئے آزمائش ہے ان کو چاہئے کہ اللہ سے ڈریں اور انہیں اس قدر تکلیف دیں ان پر صرف اتنی ذمہ داری ڈال دیں جو دہ کرسکیں اور اگر ایسی ذمہ داری ڈالیں جو وہ نہ کرسکیں تو ان کی مد دکریں ۔ اور اگر وہ نہ کر سکے تو اس کو سزا نہ دیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن

Hadith 8559

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8560

8560 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا الباغندي نا أبو نعيم نا سفيان عن منصور عن مجاهد عن مورق عن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من لاءمكم من خدمكم فأطعموهم مما تأكلون وألبسوهم مما تلبسون

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو باغندی نے ان لو ابونعیم نے ان کو سفیان نے ان کو منصور نے ان کو مجاہد نے ان کو مورق نے ان کو ابوذر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جوتمہارے ناموں میں سے تمہاری اطاعت کرے انہیں کھلا ؤاسی میں سے جو تم کھاؤ اور اس کو پہنا ؤ جوخود پہنتے ہو ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← مُوَرِّقٍ، ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← الْبَاغَنْدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 8560

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8561

8561 - و رواه جرير بن عبد الحميد عن منصور و قال : في الحديث : من لاءمكم من مملوكيكم فأطعموهم مما تأكلون واكسوهم مما تكسبون ومن لا يلائمكم منهم فبيعوه و لا تعذبوا خلق الله أخبرنا أبو علي الحسين بن محمد الرذباري أنا محمد بن بكر نا أبو داود نا محمد بن عمرو الرازي نا جرير عن منصور فذكره قال الإمام أحمد : هذا هو الأصل والأفضل أن يسوي بين طعامه وطعام رقيقه و بين كسوته وكسوة رقيقه فإن لم يفعل فله ما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نفقته و كسوته بالمعروف

اور اس کو روایت کیا ہے جریر بن عبدالحمید نے منصور سے اور کہا ہے حدیث میں جو تمہاری موافقت کرے تمہارے غلاموں میں سے ان کو کھلا ؤ جس میں سے تم کھاتے ہو اور اس کو پہناؤ جوخود پہنتے ہو اور جو اطاعت نہ کرے تمہارے ان میں سے پھر اس کو فروخت کر دومگر اللہ کی مخلوق کو عذاب نہ دو۔ ہمیں خبر دی ابوعلی حسین بن محمد روذباری نے ان کو محمد بن بکر نے ان کو ابو داؤد نے ان کو محمد بن عمر ورازی نے ان کو جر یر نے ان کو منصور نے بس اس کو ذکر کیا ہے ۔امام احمد نے فرمایا: یہی اصل ہے اور فضل ہے۔ یہ کہ برابر کیا جائے اپنے کھانے اور اپنے غلام کے کھانے میں اپنے کپڑے اور اپنے غلام کے کپڑے میں اگر ایسے نہ کرے تو اس کے لئے وہ ہے جو رسول اللہ نے فرمایا ۔کہ غلام کا خرچہ اور کپڑا دستور کے مطابق ہے ۔ ( یعنی عرف کی مطابق ) ۔

مَنْصُورٍ, و ← و رواه جرير بن عبد الحميد

Hadith 8561

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8562

8562 - قال الشافعي رحمه الله : و المعروف عندنا المعروف لمثله في بلده الذي يكون به

شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک معروف سے مراد اس کی مثل ہیں جو ان کی مثل ہوں جواس کے شہر میں استعمال ہوتے ہیں جہاں وہ رہتا ہے۔

الشافعي و المعروف عندنا المعروف لمثله في بلده الذي يكون به

Hadith 8562

شعب الإيمان · الثامن والخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإحسان إلى المماليك · حديث 8563

8563 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا عبيد بن شريك نا يحيى بن بكير نا ليث عن ابن عجلان عن بكير بن الأشج أن العجلان أبا محمد حدثه قبل وفاته أنه سمع أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : للملوك طعامه وكسوته بالمعروف ولا يكلفه من العمل ما لا يطيق أخرجه مسلم من حديث عمرو بن الحارث عن بكير

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کولیث نے ان کو ابن عجلان نے ان کو بکر بن اشج نے کہ عجلان ابومحمد نے ان کو حدیث بیان کی ہے ان کی وفات سے قبل کہ انہوں نے سنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غلام کے لئے اس کا کھانا اور لباس دستور کے مطابق ہونا چاہئے اور اس کو کسی ایسے کام کی زحمت نہ د ے جو وہ نہ کر سکے اس کو مسلم نے حد یث ابو عمرو بن حارث سے اس نے بکیر سے نقل کیا ہے ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← قبل وفاته أنه ← بكير بن الأشج أن العجلان أبا محمد ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← لَيْثٌ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 8563

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood