Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7117

7117 - أخبرنا أبو الحسين قال : أنا الحسين نا عبد الله نا أبو إسحاق الفريابي أنا رجا بن وداع قال : كان شاب رهق فاحتضر فقالت له أمه : يا بني توصي بشيء ؟ قال : نعم خاتمي لا تلبسنيه فإن فيه ذكر الله لعل الله أن يرحمني فمات فريء في النوم قال : أخبروا أمي أن الكلمة قد نفعتني وأن الله قد غفر لي

ہمیں خبر دی ابو الحسین نے ان کو حسین نے ان کو عبداللہ نے ان کو ابو اسحاق فریابی نے ان کو ر جاع بن وداع نے اس نے کہا کہ ایک نو جوان سرکش تھا اس کو موت آن پہنچی اس کی ماں نے کہا بیٹا کوئی وصیت کرے گا ؟ اس نے کہا کہ میری انگوٹھی مجھے پہنا دینا کیونکہ اس میں ذکر اللہ ہے شاید اللہ مجھ پر رحم کر دے۔ دو مر گیا خواب میں دیکھا گیا کہ اس نے کہا میری امی کو بتا دو کہ میرے اسی کلمے نے مجھے نفع دیا ہے اور اللہ نے مجھے معاف کر دیا ہے۔

أخبروا أمي أن الكلمة قد نفعتني وأن الله قد غفر لي ← الله لعل الله أن يرحمني فمات فريء في النوم ← نعم خاتمي لا تلبسنيه فإن فيه ← كان شاب رهق فاحتضر فقالت له أمه يا بني توصي بشيء ← رجا بن وداع ← أبو إسحاق الفريابي ← عَبْدُ اللَّهِ ← الحسين ← أَبُو الْحَسَينِ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7117

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7118

7118 - وأخبرنا أبو الحسين أن الحسين نا عبد الله حدثني المفضل بن غسان عن أبيه قال : احتضر النصر بن عبد الله بن حازم فقيل له أبشر فقال : والله ما أبالي أمت أم ذهب بي إلى الإبلة والله ما أخرج من سلطان ربي إلى غيره ولا يقبلني ربي من حال قط إلى حال إلا كان ما يقلبني إليه خيرا لي مما يقلبني عنه

ہمیں خبر دی ابو الحسین نے ان کو حسن نے ان کو عبداللہ نے ان کو مفضل بن غسان نے ان کوان کے والد نے کہ نصر بن عبداللہ بن حازم کو موت آن پہنچی اس سے کہا گیا تو خوش ہو جا اس نے کہا کہ مجھے پرواہ نہیں ہے کہ میں مر رہا ہوں یا مجھے مقام تفریح پر لے جایا جا رہا ہے اللہ کی قسم میں اپنے رب کے اقتدار سے اس کے غیر کی طرف نہیں نکالا جا رہا ہوں میرے رب نے مجھے ایک حال سے دوسرے حال کی طرف نہیں بدلا مگر جس حال کی طرف پلٹا یا وہ پہلے سے بہتر تھا۔

احتضر النصر بن عبد الله بن حازم فقيل له أبشر ← أَبِيهِ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← أبو الحسين أن الحسين

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7118

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7119

7119 - وأخبرنا علي بن عبد الله بن بشران أنا الحسين نا عبد الله حدثني الحسين بن جمهور عن إدريس بن عبد الله المروزي قال : مرض أعرابي فقيل له إنك تموت قال : أين يذهب بي ؟ قال : إلى الله قال : فما كراهتي أن أذهب إلى من لا أرى إلا منه

ہمیں خبر دی علی بن عبداللہ بن بشران نے ان کو حسین نے ان کو عبداللہ نے ان کو حسین بن جمہور نے ان کو ادریس بن عبداللہ مروزی نے کہ ایک دیہاتی بیمار ہو گیا اسے کہا گیا کہ تم ابھی مر جاؤ گے اس نے پوچھا کہ مجھے کہاں لے جایا جائے گا ؟ بتایا گیا کہ اللہ کی طرف۔ اس نے کہا میں اس بات کو ناپسند نہیں کرتا کہ مجھے اس ذات کی طرف لے جایا جائے کہ میں جس کے سوا کسی سے خیر کی کبھی امید نہیں کرتا۔

فما كراهتي أن أذهب إلى من لا أرى إلا منه ← إلى الله ← أين يذهب بي ← مرض أعرابي فقيل له إنك تموت ← إدريس بن عبد الله المروزي ← الحسين بن جمهور ← عَبْدُ اللَّهِ ← الحسين ← وأخبرنا علي بن عبد الله بن بشران

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7119

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7120

7120 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن عبد الله الدوري نا عفان نا عبد الواحد بن زياد عن عبد الله بن إسحاق عن النعمان بن سعد عن علي قال : خياركم كل مفتن التواب قال أبو عبد الله : قد أسند هذا عن عبد الرحمن

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو عفان نے ان کو عبدالواحد بن زیاد نے ان کو عبدالرحمٰن بن اسحاق نے ان کو نعمان بن سعد نے ان کو علی نے وہ کہتے ہیں کہ تم میں سے بہترین آدمی وہ ہے جو آزمائش میں ڈالا جائے اور بہت توبہ کرنے والا ہو۔ ہماری آزمائش کیا گیا ہو۔ ابو عبداللہ نے کہا کہ عبدالرحمٰن نے اس کو مسند کیا ہے۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أبو عبد الله قد أسند هذا ← خياركم كل مفتن التواب ← عَلِيٍّ، ← النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَفَّانُ، ← العباس بن عبد الله الدوري ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7120

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7121

7121 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا جعفر بن محمد الخلدي نا محمد بن إبراهيم الرازي بمصر نا سليمان بن داود الزعفراني نا عبد الواحد بن زياد عن عبد الرحمن بن إسحاق عن النعمان بن سعد عن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خياركم كل مفتن تواب

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد خلدی نے ان کو محمد بن ابراہیم رازی نے مصر میں ان کو سلیمان بن داؤد زعفرانی نے ان کو عبدالواحد بن زیاد نے ان کو عبدالرحمٰن بن اسحٰق نے کو نعمان بن سعد نے علی رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بہترین آدمی وہی ہے جو بہت توبہ کرنے والا ہے اور آزمائش یا بیماری میں مبتلا کیا گیا ہے۔

عَلِيٍّ، ← النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← سليمان بن داود الزعفراني ← محمد بن إبراهيم الرازي بمصر ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَلَدِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7121

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7122

7122 - وأخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا غنام نا سعيد بن سليمان نا إسماعيل بن زكريا عن عبد الرحمن بن إسحاق : فذكره بنحوه غير أنه قال عن النبي صلى الله عليه و سلم : وروي من وجه آخر غير قوي عن محمد بن الحنفية عن أبيه موقوفا إن الله يحب العبد المفتن التواب

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید غنام نے ان کو سعدی بن سلیمان نے ان کو سلیمان نے ان کو اسماعیل بن زکریا نے ان کو عبدالرحمٰن بن اسحٰق نے اس نے اس کو ذکر کیا ہے اس کی مثل سوائے اس کے کہ اس نے کہا ہے عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور ایک دوسرے غیر قوی طریق سے مروی ہے محمد بن حنفیہ سے ان کے والد سے بطور موقوف کہ بے شک اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے اس مومن بندے سے جو آزمائش میں واقع کیا ہو اور بہت توبہ کرنے والا ہو۔

أبيه موقوفا إن الله يحب العبد المفتن التواب ← مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ ← النبي صلى الله عليه و سلم وروي من وجه آخر غير قوي ← عبد الرحمن بن إسحاق فذكره بنحوه غير أنه ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← غنام ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7122

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7123

7123 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال نا إسماعيل بن محمد العلائي في سنة إحدى وستين ومائتين نا عبد الأعلى بن حماد النرسي نا يعقوب بن إسحاق حدثني سعيد بن خالد نا محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المؤمن واه راقع سعيد من هلك على رقعة تابع صالح جزرة عبد الأعلى

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال نے ان کو اسماعیل بن محمد علائی نے ۲۰۶۱ھ میں ان کو عبدالاعلیٰ بن حماد رنسی نے ان کو یعقوب بن اسحٰق نے ان کو سعید بن خالد نے ان کو محمد بن منکد رنے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مؤمن ڈھیلا ڈھالا تیر نشانے پر مارنے والا ہوتا ہے خوش نصیب ہے وہ جو اپنے نشانے پر ہلاک ہو۔ صالح جزرہ عبدالاعلیٰ نے اس کا متابع بیان کیا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ← إسماعيل بن محمد العلائي في سنة إحدى وستين ومائتين ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7123

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7124

7124 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و أبو بكر القاضي قالا : أنا أبو عمرو بن مطر نا إبراهيم بن علي نا يحيى بن يحيى أنا عبد الله بن دكين عن قيس الماضي عن داود المصري عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ح وأخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أحمد بن سلمان الفقيه أنا أحمد بن زهير أنا موسى بن إسماعيل أنا عبد الله بن الدكين سمعت قيسا يحدث عن داود البصري وليس بأبي هند عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن المؤمن ذنبا قد اعتاده الفتنة بعد الفتنة وذنبا ليس بتاركه حتى يموت أو تقوم الساعة إن المؤمن خلق مذنبا خطاء نسيا إذا ذكر ذكر وفي رواية يحيى إن لكل مؤمن وزاد مفتنا خطاء قوله الفينة بعد الفينة يريد الحين بعد الحين ثم يتوب

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو بکر قاضی نے ان دونوں کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو عبداللہ بن دکین نے ان کو قیس ماضی نے ان کو داؤد مصری نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابی اسحاق نے ان کو احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو احمد بن زہیر نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو عبداللہ بن دکین نے اس نے سنا قیس سے وہ حد بیث بیان کرتے ہیں داؤد مصری سے وہ ابو ہند میں ہے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا: بے شک مؤمن کا ایک گناہ ایسا ہوتا ہے جس کی اس کو عادت ہو جاتی ہے وقتاً فوقتاً کرتا ہے۔ اور ایک ایسا گناہ ہوتا ہے کہ اس کو وہ نہیں چھوڑتا حتٰی کہ فوت ہو جائے یا قیامت قائم ہو جائے۔ بے شک مؤمن گناہ کرنے والا خطا کر نے والا ، بھولنے والا پیدا کیا گیا ہے جب نصیحت کر کے یاد دہانی کرایا جائے یاد کر لیتا ہے نصیحت مانتا ہے اور ایک روایت میں یحیییٰ سے مروی ہے۔ کہ بے شک ہر مؤمن کے لئے۔ اور اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں۔ آزمائش میں واقع کیا ہوا، خطا کار۔لفظ الفینۃ بعد الفینۃ سے مراد ہے میں بعد میں اس کے بعد توبہ کرتا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← داود المصري ← قيس الماضي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دُكَيْنٍ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر القاضي

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7124

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7125

7125 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ سمعت أبا النادي الحسين بن أحمد الصوفي سمعت إبراهيم بن شيبان يقول : كان عندنا شاب عبد الله عشرين سنة فأتاه الشيطان فقال له : يا هذا أعجلت في التوبة والعبادة وتركت لذات الدنيا فلو رجعت فإن التوبة بين يديك قال : فرجع إلى ما كان عليه من لذات الدنيا قال : فكان يوما في منزله قاعدا في خلوة فذكر أيامه مع الله عز و جل فحزن عليها فقال : ترى إن رجعت يقبلني قال : فنودي أن يا هذا عبدتنا فشكرناك وعصيتنا فامهلناك ولئن رجعت إلينا قبلناك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اس نے سنا ابو النادی حسین بن احمد صوفی سے اس نے ابراہیم بن شیبان سے وہ کہتے ہیں ہمارے یہاں عبداللہ نام کا نوجوان تھا بیس سال کا۔ اس کے پاس شیطان آیا اور اس کو کہا اے بیوقوف تم نے تو عبادت کرنے میں اور توبہ کرنے میں بہت جلدی کر لی ہے اورتم نے ابھی سے دنیا کی لذتوں کو چھوڑ دیا ہے (تم نے ابھی دنیامیں دیکھاہی کیا ہے؟) واپس آ جا (دنیا کے مزے لوٹ) توبہ کا بہت وقت پڑا ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ شخص دوبارہ دنیا کی لذت میں پڑ گیا۔فرمایا کہ ایک دن وہ اپنے گھر میں علیحدہ بیٹھا ہوا تھا اس نے وہ دن یاد کئے جو اس نے عبادت میں اللہ کے ساتھ گزارے تھے تو اس کو دکھ ہوا وہ یہ سوچ کر غمگین ہو گیا پھر کہنے لگا اپنے آپ سے ، کیا خیال ہے تیرا گرتو دوبارہ اللہ کی طرف رجوع کرے تو وہ تجھے قبول کرے گا؟ کہتے ہیں اس کو غیب سے آواز آئی اے فلانے تم نے جب ہماری عبادت کی تھی تو ہم نے تیری عبادت کی قدر دانی کی تھی۔ اب جب تم نے ہماری نافرمانی کی تو تم نے تجھے مہلت دی تھی۔ اور اب اگر تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ گے تو ہم تجھے قبول کر لیں گے۔ (سبحان اللہ کی شان کریمی ہے اے کریم تو ہمارے اوپر بھی ایسے کرم فرما۔)

إبراهيم بن شيبان ← أبا النادي الحسين بن أحمد الصوفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7125

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7126

7126 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني نا جدي نا إبراهيم بن المنذر الحزامي حدثني عبيد الله بن محمد بن حنين حدثني عبد الله بن محمد بن جابر بن عبد الله عن أبيه عن جده قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : واذنوباه واذنوباه فقال هذا القول مرتين أو ثلاثا فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم قل : اللهم مغفرتك أوسع من ذنوبي ورحمتك أرجى عندي من عملي فقالها : ثم قال : عد فعاد قال : ثم قال : عد فعاد قال : قم قد غفر الله لك قال أبو عبد الله : رواته مدنيون لا يعرف واحد منهم بجرح

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو اسماعیل بن محمد بن فضل بن محمد شعرانی نے ان کو ان کے دادا نے ان کو ابراہیم بن منذر حزامی نے ان کو عبیداللہ بن محمد بن حنین نے ان کو عبداللہ بن محمد بن جابر بن عبداللہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم کے پاس آیا اور کہامیرے گناہ میرے گنا ہ اس نے دو بار یا تین بار یہی کہا تو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یوں کہو:اللھم مغفرتک اوسع من ذنوبی ورحمتک ارجی عندی من عملی اے اللہ تیری مغفرت میرے گناہوں سے بہت زیادہ وسیع ہے اور تیری رحمت میرے نزدیک میرے عمل سے زیادہ امید دلانے والی ہے۔ اس نے یہی دعا کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہی دعا پڑھو۔ اس نے پڑھی فرمایا پھر پڑھوں اس کے بعد فرمایا اٹھ جا چلا جا اللہ نے تجھے بخش دیا ہے۔ ابو عبداللہ نے کہا کہ اس کے سارے راوی مدنی ہیں کوئی راوی جرح کے ساتھ معروف نہیں یعنی کسی راوی پر کوئی جرح نہیں ہوئی ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عبد الله بن محمد بن جابر بن عبد الله ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حُنَيْنٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7126

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7127

7127 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل الصفار نا محمد بن عبد الملك بن مروان نا مسلم بن إبراهيم من كنانة وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن علي الوراق نا مسلم بن إبراهيم وأخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس الطرائفي نا عثمان بن سعيد الدارمي نا مسلم بن إبراهيم نا علي بن مسعدة الباهلي نا قتادة عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل بني آدم خطاء وخير الخطائين التوابون تفرد به علي بن مسعدة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو محمد بن عبدالملک بن مروان نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے کنانہ سے ان کو خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید بن ابو عمرو نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن علی وراق نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو خبر دی عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کومسلم بن ابراہیم نے ان کو علی بن مسعدہ باھلی نے ان کو قتادہ نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ آدم کا ہر بیٹا خطا کار ہے اور بہترین خطا کا رزیادہ توبہ کرنے والے ہیں۔ علی بن مسعدہ اس روایت کے ساتھ اکیلا ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو ← مسلم بن إبراهيم من كنانة ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7127

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7128

7128 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك نا سهل بن علي الدوري نا إسحاق بن موسى الخطمي نا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن محمد بن النضر الحارثي قال : قرأت في بعض الكتب يقول عز و جل : يا ابن آدم لو يعلم الناس منك ما أعلم لنبذوك ولكني سأغفر لك ما لم تشرك بي قال إسحاق بن موسى خرج بشر بن الحارث إلى الكوفة في هذا الحديث حتى سمعه ورجع وفي هذا المعنى

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو عمرو بن سماک نے ان کو سہل بن علی دوری نے ان کو اسحاق بن موسیٰ خطمی نے ان کو عبدالرحمٰن بن محمد محاربی نے ان کو محمد بن نضر حارثی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے بعض کتب میں پڑھا تھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اے ابن آدم اگر لوگ جان لیں جو کچھ میں تیرے گناہ جانتا ہوں تو وہ تجھے پھینک دیں (یعنی نظر انداز کر دیں نظروں سے گرا دیں) مگر میں عنقریب تجھے معاف کر دوں گا جب تک تو میرے ساتھ شرک نہیں کرے گا۔ اسحٰق بن موسیٰ نے کہا کہ بشر بن حارث کوفے گئے تھے اس حدیث کے بارے میں حتٰی کہ انہوں نے اس کو سنا اور واپس لوٹ آئے۔اور اسی معنی میں مندرجہ ذیل حدیث بھی ہے۔

فِي بَعْضِ الْكُتُبِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ النَّضْرِ الْحَارِثِيِّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ. ← إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْخَطْمِيُّ، ← سَهْلُ بْنُ عَلِيٍّ الدُّورِيُّ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7128

chevron_left Previous
1…8910…25
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood