Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7105

7105 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه من أصله أنا أبو حامد بن بلال البزاز نا أحمد بن منصور يعني المروزي نا عمر بن يونس عن عكرمة بن عمار قال : حدثني إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لله اشد فرحا بتوبة عبده حين يتوب إليه من أحدكم تنفلت منه راحلته عليها طعامه وشرابه وأتى ظل شجرة ليضطجع قد أيس من راحلته فبينما هو كذلك إذ هو بها قائمة على رأسه رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب وغيره عن عمر بن يونس وأخرجاه من حديث قتادة عن انس حديث الغار في بني إسرائيل

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے اپنی اصل میں سے ان کو ابو حامد بن بلال بزار نے ان کو احمد بن منصور مروزی نے۔ ان کو عمر بن یونس نے کو عکرمہ بن عمار نے ان کو اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: البتہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے زیادہ خوش ہوتا ہے۔ جب وہ اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے۔ تمہارے اس ایک انسان سے جس سے اس کی سواری گم ہو جائے اس پر اس کا کھانا پینا ہو۔ اور وہ آدمی درخت کے سایہ تلے آئے لیٹنے کے لئے جب کہ وہ اپنی سواری کے بارے میں مایوس ہو چکا ہو۔ وہ اسی پریشانی میں ہو کہ اچانک وہ د یکھے کہ وہ سواری اس کے سرہانے کھڑی ہے۔ (اس کو جتنی خوشی ہو گی اس کا انداز نہیں کیا جا سکتا اللہ تعالیٰ کو اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے اپنے بندے سے جب وہ توبہ کرتا ہے اللہ کی بارگاہ میں۔) اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں زہیر بن حرب سے اور دیگر سے اس نے عمر بن یونس سے اور بخاری ومسلم نے اس کو روایت کیا ہے حدیث قتادہ سے اس نے انس رضی اللہ عنہ سے حدیث غار کو بنی اسرائیل میں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← أحمد بن منصور يعني المروزي ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ ← أبو طاهر الفقيه من أصله،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7105

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7106

7106 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس بن سلمة العنزي نا عثمان بن سعيد الدارمي حدثني أبو اليمان أن شعيب بن أبي حمزة عن الزهري حدثني سالم بن عبد الله أن عبد الله بن عمر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : انطلق ثلاثة رهط ممن كان قبلهم حتى أواهم المبيت إلى غار فدخلوه فانحدرت صخرة من الجبل فسدت عليهم الغار فقالوا إنه والله لا ينجيكم من هذه الصخرة إلا أن تدعو الله بصالح أعمالكم فقال رجل منهم : اللهم كان لي أبوان شيخان كبيران فكنت لا أغبق قبلهما أهلا ولا مالا فناء بي طالب السحر يوما فلم أرح عليهما حتى ناما فحلبت لهما غبوقهما فجئتهما به فوجدتهما نائمين فتحرجت أن أوقظهما وكرهت أن أغبق قبلهما أهلا أو مالا فقمت والقدح على يدي انتظر استيقاظهما حتى برق الفجر فاستيقظا فشربا غبوقهما اللهم إن كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا ما نحن فيه من هذه الصخرة فانفرجت انفراجا لا يستطيعون الخروج منها قال : وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : وقال الآخر : اللهم كانت لي بنت عم وكانت أحب الناس إلي فأردتها عن نفسها فامتنعت مني حتى ألمت بها سنة من السنين فجاءتني فأعطيتها عشرين ومائة دينار على أن تخلي بيني وبين نفسها ففعلت حتى إذا قدرت عليها قالت : لا أحل لك أن تفض الخاتم إلا بحقه فتحرجت من الوقوع عليها فانصرفت عنها وهي أحب النساء إلي وتركت الذي أعطيتها اللهم إن كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا ما نحن فيه فانفرجت الصخرة غير أنهم لا يستطيعون الخروج منها قال : وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثم قال الثالث : اللهم استأجرت أجراء فأعطيتهم أجورهم غير رجل واحد منهم ترك الذي له وذهب فثمرت أجره حتى كثرت منه الأموال وارتعجت فجاءني بعد حين فقال لي : يا عبد الله أد لي أجري فقلت له : كل ما ترى من أجرك من الإبل والبقر والغنم والرقيق فقال : يا عبد الله لا تستهزئ بي فقلت : إني لا أستهزئ بك فأخذ ذلك كله فاستاقه فلم يترك منه شيئا اللهم فإن كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا ما نحن فيه فانفرجت الصخرة فخرجوا من الغار يمشون رواه البخاري في الصحيح عن أبي اليمان ورواه مسلم عن عبد الله بن عبد الرحمن وغيره عن أبي اليمان وقوله وارتعجت يعني كثرت

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس بن سلمہ عنزی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو حدیث بیان کی ابو الیمان نے ان کو شعیب بن ابو حمزہ نے ان کو خبر دی ہے زہری نے ان کو سالم بن عبداللہ نے یہ کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے۔ تم لوگوں سے پہلے لوگوں میں سے تین آدمی پہلے سفر میں۔ یہاں تک کہ ان کو ان کے رات راستے میں پڑ گئی لہٰذا انہوں نے ایک غار میں رات گزار نے کے لئے پناہ لے لی اور پہاڑ سے ایک چٹان لڑھکی اور غار کے دھانے پر پڑی جس سے ان کا منہ بند ہو گیا۔ اب انہوں نے ایک دوسرے سے کہا تم لوگوں کو اس چٹان سے نجات نہیں مل سکتی اس کے سوا کہ اللہ سے دعا کرو اپنے اپنے خالص اعمال کے ساتھ (یعنی اس کے وسیلے سے) چنانچہ ان میں سے ایک آدمی نے دعا کی اے اللہ میرے بوڑھے والدین تھے میں شام جب بکریاں چرا کر لاتا تو اپنے بیوی بچوں سے قبل ان کو دودھ پلاتا تھا ایک دن درختوں کی تلاش میں مجھے دیر ہو گئی میں جب شام کو واپس آیا تو وہ سو چکے تھے، میں نے ان کے لئے دودھ دوھا اور میں ان کا حصہ لے کر آیا تو میں نے ان کو نیند کی حالت میں پایا میں نے ان کو جگانے اور نیند خراب کرنے کو گناہ سمجھا۔ اور ماں باپ سے پہلے اپنے بچوں کو پلانے کو بھی ناپسند کیا۔ دودھ کا پیالہ میرے ہاتھ میں تھا میں ان کے جاگنے کا انتظار کرتار ہا اسی انتظار میں صبح ہو گئی تھی اب وہ جاگے میں نے ان کو دودھ پلایا اور انہوں نے پی لیا اے اللہ اگر میں نے یہ عمل خالص تیری رضا کے لئے کیا تھا تو تو ہم لوگوں کی یہ مصیبت ہم سے ہٹا لے لہٰذا وہ چٹان تھوڑی سی ہٹ گئی مگر اس قدر تھی کہ اس سے وہ نکل نہیں سکتے تھے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب دوسرے نے دعا شروع کی اے اللہ میرے چچا کی بیٹی سے مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبت تھی میں اس کے ساتھ گناہ کرنا چاہتا تھا اور وہ مجھ سے رک جاتی تھی حتٰی کہ ایک سال وہ قحط سالی کا شکار ہو گئی میرے پاس مدد کے لئے آئی اور میں نے اس کو ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیئے کہ مجھے وہ اپنے اوپر قدرت دے دے گی۔ اس نے میری بات مان لی میں جب اس پر قادر ہو گیا، تو اس نے کہا۔ اللہ کا بندہ تیرے لئے حلال نہیں ہے کہ تو اس مہر کو توڑے مگر اس کے حق کے ساتھ لہٰذا میں نے اس کے ساتھ صحبت کرنے کو گناہ سمجھ کر چھوڑ دیا اور میں اس سے ہٹ گیا تھا حالانکہ وہ مجھے سب عورتوں سے زیادہ محبوب تھی اور جو کچھ اس کو دیا تھاوہ بھی چھوڑ دیا اے اللہ اگر یہ میں نے محض تیری رضا حاصل کرنے کے لئے کیا تھا تو تو ہم لوگوں سے اس مصیبت کو ٹال دے۔ جس میں ہم مبتلا ہیں۔ لہٰذا وہ چٹان کچھ اور ہٹ گئی مگر اس قدر تھی کہ وہ لوگ ابھی نکل نہیں سکتے تھے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تیسرے آدمی نے کہا: اے اللہ میں نے کچھ مزدور اجرت پر بلائے تھے میں نے ان کو ان کی اجرت دے دی تھی ہاں ایک آدمی ان میں سے ایسا تھا جس نے نہیں لی تھی اور وہ چلا گیا تھا اور وہ اپنی مزدوری بھی چھوڑ گیا تھا۔ لہٰذا میں نے اس کی اس اجرت کو بڑھایا حتٰی کہ اس سے مال کثیر ہو گئے پھر وہ ایک عرصے بعد آیا اور اس نے کہا کہ اللہ کے بندے میری اجرت مجھے دے دے میں نے کہا یہ جو کچھ تو دیکھ رہا ہے یہ سب کا سب تیری مزدوری ہے اونٹ ، گائے ، بکریاں ،غلام۔اس نے کہا اللہ کے بندے تو میرے ساتھ مذاق اور استہزاء نہ کر۔ میں نے کہا کہ میں واقعی تیرے ساتھ مذاق ہیں کر رہا وہ اس کو چلا کر لے گیا اس اس میں سے کوئی چیز بھی نہیں چھوڑی اے اللہ اگر یہ سب کچھ میں نے محض تیری رضا کے لئے کیا تھا تو اس مصیبت کو دور کر دے ہم جس میں مبتلا ہیں لہٰذا وہ چٹان ہٹ گئی لہٰذا وہ تینوں اس غار سے سلامتی کے ساتھ نکل کر چلتے چلے گئے۔ بخاری نے اس کو صحیح میں روایت کیا ہے ابو الیمان سے اور مسلم نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن وغیرہ سے اس نے ابو الیمان سے اور لفظ ارتعجت کا مطلب کثرت ہے۔

أَبُو الْيَمَانِ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِىُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7106

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7107

7107 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا عبد الله بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون أنا سلمة بن نبيط عن عبيد بن أبي الجعد عن كعب : أن الله عز و جل لدارا من درة أو لؤلؤة فوقها لؤلؤة فيها سبعون ألف قصر في كل قصر سبعون ألف دار في كل دار سبعون ألف بيت لا ينزلها إلا نبي أو صديق أو شهيد أو إمام عادل أو رجل محكم في نفسه قال سلمة : فقلت لعبيد : وما الرجل المحكم في نفسه ؟ قال : الرجل يطلب الحرام من المال والنساء فيعرض له إن شاء تقدم وإن شاء تأخر فيترك مخافة الله عز و جل فذلك الرجل المحكم نفسه

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو عبداللہ بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو سلمہ بن سلمہ نے ان کو نبیط بن ابو نبیط نے ان کو عبید بن ابی الجعد نے ان کو کعب نے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے ایک بہت بڑی دارے (حویلی ہے) جو سچے موتیوں کی بنی ہوئی ہے یعنی موتی پر موتی لگے ہیں اس حویلی میں ستر ہزار محل ہیں۔ اور ہر محل میں ستر ہزار گھر ہیں اور ہر گھر میں ستر ہزار کمرے ہیں اس حویلی میں نہیں قیام کرے گا مگر نبی یا صدیق یا شہید، یا انصاف پرور بادشاہ یا وہ مرد جواپنے نفس میں محکم ہو۔ سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عبید سے کہااپنے نفس میں محکم شخص کون ہو گا ؟ اس نے کہا کہ آدمی حرام طلب کرتا ہے۔ مال سے اور عورتوں سے، وہ پیش کیا جاتا ہے اس کے لئے اگر وہ چاہے آگے بڑھے اور چاہے تو پیچھے ہٹے۔ مگر وہ شخص اللہ کے ڈر سے اس مال کو چھوڑ دے یہیہے وہ شخص جس کا نفس محکم ہے۔

عُبَيْدِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ← سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7107

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7108

7108 - أخبرنا أبو منصور أحمد بن علي الدامغاني نزيل بيهق و أبو الحسن علي بن عبد الله البيهقي قالا : أنا أبو بكر الإسماعيلي قال : نا أبو عمرو أحمد بن محمد الجيزي نا أبو شيبة بن عبد الله بن أبي شيبة نا محمد بن أبي عبيدة بن معن نا أبي عن الأعمش عن عبد الله بن عبد الله عن سعد مولى طلحة قال : قال عبد الله بن عمر : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يذكر الكفل سبع مرات فقال بكر إن الكفل كان رجلا من بني إسرائيل يعمل بالمعاصي فأراد امرأة عن نفسها على أن يعطيها ستين دينارا فلما جلس منها حيث يجلس الرجل من امرأته بكت فقال لها : ما يبكيك ؟ قالت : هذا شيء لم أفعله قط قال : فأنا أحق أن لا أفعل ثم قام فقال : خذي هذه الستين دينارا فهي لك ولا أعصي الله أبدا قال : فمات من الليل فقال الناس : مات الكفل فكتب على بابه إن الله غفر للكفل

ہمیں خبر دی ابو منصور احمد بن علی دامغانی نے نزیل بیہقی نے اور ابو الحسن علی بن عبداللہ بیہقی نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابو بکر اسماعیلی نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ابو عمر و احمد بن محمد جیزی نے ان کو ابو شیبہ بن عبداللہ بن ابی شیبہ نے ان کو محمد بن ابو عبیدہ نے ابن معین سے ان کو ان کے والد نے ان کو اعمش نے ان کو عبداللہ بن عبداللہ نے ان کو سعید مولیٰ طلحہ نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کل کا ذکر کرتے تھے سات بار۔ فرمایا کہ نفل بنی اسرائیل کا ایک آدی تھا گناہ کے کام کرتا تھا اس نے ایک عورت سے برائی کرنے کا ارادہ کیا اس شرط پر کہ کو ساٹھ دینار دے کا جب وہ برائی کرنے کے لئے بیٹھا تو وہ عورت رو پڑی اس شخص نے پوچھا کہ کیوں روتی ہو؟ عورت نے کہا کہ یہ کام ہے جو میں نے کبھی بھی نہیں کیا۔ کفیل نے کہا پھر میں تم سے زیادہ اس بات کا حق دار ہوں کہ میں بھی یہ فعل بد نہ کروں پھر وہ اٹھ گیا۔ اور کہنے لگا یہ لیجئے ساٹھ دینار یہ تیرے لئے ہیں میں آئندہ کبھی اللہ کی نافرمانی نہیں کروں گا کہتے ہیں پھروہ اسی رات مر گیا۔ لوگوں نے کہا کہ کفل مر گیا ہے اس کے دروازے پرلکھ دیا گیا کہ بے شک اللہ نے کفل کو بخش دیا ہے۔

بَكْرٌ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← سَعْدٍ، مَوْلَى طَلْحَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ مَعْنٍ ← أبو شيبة بن عبد الله بن أبي شيبة ← أبو عمرو أحمد بن محمد الجيزي ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7108

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7109

7109 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا محمد بن صالح بن هانئ نا أحمد بن محمد بن هاشم الطوسي ساكن نيسابور نا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي نا أسباط بن محمد القرشي عن الأعمش عن عبد الله بن عبد الله عن سعد مولى طلحة عن عبد الله بن عمر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يحدث حديثا لو لم أسمعه إلا مرة أو مرتين حتى عد سبع مرات ولكني سمعته أكثر من ذلك قال : كان الكفل من بني إسرائيل لا يتورع من ذنب عمله فأتته امرأة فأعطاها ستين دينارا على أن يطأها فلما قعد منها مقعد الرجل من امرأته أرعدت وبكت فقال : ما يبكيك أكرهتك ؟ قالت : لا ولكن هذا عمل ما عملته قط وإنما حملني عليه الحاجة قال : فتعلمني هذا ولم تفعليه قط فاذهبي فهو لك ثم قال : والله لا أعصي الله أبدا فمات من ليلته فأصبح مكتوب على بابه قد غفر الله للكفل قال أبو عيسى وقد روي شيبان وغير واحد عن الأعمش نحو هذا وروى بعضهم عن الأعمش فلم يرفعه وروى أبو بكر بن عياش هذا الحديث عن الأعمش فأخطأ فيه وقال : عن عبد الله بن عبد الله عن سعيد بن جبير عن ابن عمر وهو غير محفوظ

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو احمد بن محمد بن ہاشم طوسی ساکن نیسا پور نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم حنظلی نے ان کو اسباط بن محمد قرشی نے ان کو اعمش نے ان کو عبداللہ بن عبداللہ نے ان کو سعدمولیٰ طلحہ نے ان کو عبداللہ بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ ماں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ حدیث بیان کرتے تھے حدیث اگر میں نے اس کو صرف ایک دو مرتبہ سنا ہوتا تو (شاید میں بیان نہ کرتا) حتٰی کہ میں نے اس کو سات بار نسا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ بار کہ کفل بنی اسرائیل کا ایک آدمی تھا وہ کسی گناہ سے پرہیز نہیں کرتا تھا ہر گناہ کرتا تھا۔ کوئی عورت مجبور ہو کر اس کے پاس آئی اس نے اس کو ساٹھ دینار دیئے اس شرط پر کہ وہ اس کے ساتھ برائی کرے گا جب کہ اس کے اوپر ایسے بیٹھ گیا جیسے کوئی آدمی اپنی بیوی پر بیٹھتا ہے تو دو کانپنے اور رونے لگی کفل نے پو چھا کہ کیوں روتی ہو؟ کیا میں نے تم پر جبر کیا ہے؟ بولی کہ نہیں یہ بات نہیں ہے بلکہ یہ برا کام ہے جو میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں کیا صرف میری مجبوری مجھے یہاں تک لے آئی ہے کفل نے کہا کہ یہ بات صرف تمہیں معلوم ہے یا مجھے آئندہ کبھی بھی ہرگز یہ نہ کرنا جاؤ چلی جاؤ وہ ساٹھ دینار تمہارے لئے میں اس کے بعد اس نے بھی قسم کھا لی کہ میں بھی کبھی اللہ کی نافرمانی نہیں کروں گا چنانچہ و واسی رات کو مر گیا صبح ہوئی تو اس کے دروازے پر لکھا ہوا تھا کہ اللہ نے کفل کو بخش دیا ہے۔ ابو عیسیٰ نے کہا کہ تحقیق روایت کیا ہے شیبان نے اور بہت ساروں نے اعمش سے اسی کی مثل اور ان کے بعض نے اس کو روایت کیا ہے اعمش سے اس نے اس کو مرفوع نہیں کیا۔ اور روایت کیا ہے ابو بکر بن عیاش نے اس حدیث کو اعمش سے اس نے اس میں غلطی کی ہے اور کہا ہے کہ عبداللہ بن عبداللہ سے اس نے سعید بن جریر رضی اللہ عنہ سے اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور وہ غیر محفوظ ہے۔

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7109

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7110

7110 - أخبرنا أبو القاسم بن أبي الهاشم العلوي و أبو بكر أحمد بن الحسن الحيري قالا : أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم قال : نا إبراهيم بن عبد الله العبسي أنا وكيع عن الأعمش عن جامع بن شداد عن مغيث بن سمي قال : كان رجل فيمن كان قبلهم بالمعاصي فأدركه يوما فقال : الهم غفرانك غفرانك فغفر له

ہمیں خبر دی ابو القاسم بن ابو الہاشم علوی نے ان کو ابو بکر احمد بن حسن حیری نے وہ کہتے ہیں کہ دونوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے اس نے کہا کہ ہمیں خبر دی ابراہیم بن عبداللہ عبسی نے ان کو وکیع نے ان کو اعمش نے کو جامع بن شداد نے ان کو مغیث بن سمی نے وہ کہتے ہیں کہ تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جو گناہ کے کام کرتا تھا۔ اللہ نے ایک دن کو پکڑ میں لے لیا اس نے دعا کی اے اللہ مجھے معاف کر دے مجھے معاف کر دے اللہ نے اس کو بخش دیا۔

مُغِيثِ بْنِ سُمَيٍّ ← جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَبْسِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7110

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7111

7111 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى السكري أنا أبو محمد الشافعي نا جعفر بن محمد بن الأزهر نا الغلابي نا مصعب بن عبد الله حدثني مصعب بن عثمان قال : كان سليمان بن يسار من أحسن الناس وجها فدخلت عليه امرأة فسامت نفسها فامتنع عليها فقالت : إذا أفضحك فخرج إلى خارج وتركها يعني في منزله وهرب منها قال سليمان : فرأيت بعد يوسف فيما يرى النائم فكأني أقول له أنت يوسف ؟ قال : نعم أنا يوسف الذي هممت وأنت سليمان الذي لم تهم حديث ابن العابد الذي ارتد ثم عاد إلى الإسلام

ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یحییٰ سکری نے ان کو ابو بکر شافعی نے ان کو جعفر بن محمد ازہر نے ان کو غلابی نے ان کو مصعب بن عبداللہ نے ان کو مصعب بن عثمان نے وہ کہتے ہیں کہ سلیمان بن یسار سب لوگوں سے خوبصورت چہرے والے آدمی تھے ایک عورت ان پر داخل ہوئی۔ اس عورت نے اپنے آپ کو اس پر پیش کیا مگر سلیمان نے اس کو منع کر دیا۔ وہ عورت کہنے لگی ورنہ میں تمہیں رسوا کر دوں گی۔ چنانچہ وہ گھر سے باہر نکل گئے اور اسے وہیں گھر میں چھوڑ گئے۔ اور خود اس سے بھاگ گئے۔ سلیمان نے کہا کہ اس کے بعد میں نے خواب میں حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا گویا کہ میں ان سے کہہ رہا ہوں کیا آپ یوسف ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں میں یوسف ہوں جس نے گناہ کا ارادہ کیاتھا۔ اور تم سلیمان ہو جس پر تہمت ہی نہیں لگی تھی۔ (واقعی سلیمان علیہ السلام پر تہمت نہیں لگی تھی شاید یہ تعریض تھی۔) حدیث ابن عابد سے مروی ہے جو اسلام سے پھر گیا تھا پھر واپس مسلمان ہو گیا تھا۔

مُصْعَبُ بْنُ عُثْمَانَ، ← مصعب بن عبد الله ← الغلابي، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ← أبو محمد الشافعي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى السُّكَّرِيُّ،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7111

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7112

7112 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ و أبو سعيد محمد بن موسى بن الفضل قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يحيى بن أبي طالب أنا علي بن عاصم نا داود بن أبي هند عن عبد الله بن عبيد بن عمير عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : كان في بني إسرائيل رجل عابد وكان معتزلا في كهف له قال : وكان بنو إسرائيل قد أعجبوا بعبادته فبينما هم عند نبيهم عليه السلام إذ ذكروه فآمنوا عليه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إنه لكما تقولون لولا أنه تارك لشيء من السنة قال : لنقل ذلك إلى العابد قال : ففكر العابد فقال : علام أذيب نفسي وانصبها أصوم النهار وأقوم الليل وأنا تارك لشيء من السنة قال : فهبط من مكانه قال : وأتى النبي صلى الله عليه و سلم والناس عنده فسلم عليه ورد عليه النبي والنبي لا يعرفه بوجهه ويعرف باسمه قال : يا نبي الله إنه بلغني إني ذكرت عندك بخير فقلت : إنه لكما تقولون لولا أنه تارك لشيء من السنة فإن كنت تاركا فعلام أذيب نفسي أصوم النهار وأقوم الليل قال النبي صلى الله عليه و سلم : أنت فلان ؟ قال : نعم قال : ما هم بشيء أحدثته في الإسلام إلا لك لا تروح قال له العابد : وما هو هذا ؟ قال : لا وكان العابد استخف بذلك فلما رأى النبي صلى الله عليه و سلم قال : أرأيت لو فعل الناس ما فعلت من أين كان يكون هذا النسل من كان يتقي العدو عن ذراري المسلمين من كان يأمر بالمعروف وينهى عن المنكر ومن كان يجمع في المسلمين قال : فعرف العابد قال : فقال : يا نبي الله هو كما قلت بأبي أن أكون أحرمه ولكني أخبرك عني أنا رجل فقير وأنا كل على الناس وهم يطعمونني ويكسونني ليس لي مال فأنا أكره أن أتزوج امرأة مسلمة أعضلها وليس عندي ما أنفق عليها وأما الأغنياء فلا يزوجونني قال : فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ما بك إلا ذاك ؟ قال : نعم قال النبي صلى الله عليه و سلم : فأنا أزوجك ابنتي قال : وتفعل ؟ قال : نعم قال : قد قبلت فزوجه ابنته قال : فدخل بها فولدت له غلاما قال ابن عباس فو الله ما ولد في بني إسرائيل مولود وكانوا أشد فرحا به منهم بذلك الغلام قالوا ابن عابد منا وابن نبينا إنا نرجو أن يبلغ الله به ما بلغ برجل منا قال : فلما بلغ الغلام انقطع إلى عبادة الأوثان قال : فتبعته فئام منهم كثير قال : فلما رأى كثرتهم قال لهم : إني أراكم كثيرا وإن هؤلاء القوم غالبون لكم فبم ذلك قالوا : نخبرك لهم رأس وليس لنا رأس قال : ومن رأسهم قالوا : جدك وليس لنا رأس قال : فأنا رأسكم قالوا : تفعل ؟ قال : نعم قال : فخرج وخرج معه خلق كثير قال : فأرسل جده وأبوه أن اتق الله خرجت إلينا بعبدة الأوثان وتركت الإسلام وأخذت في دين غيره فأبى فخرج النبي صلى الله عليه و سلم وخرج معه أبوه فدعوه فأبى فاقتتلوا حتى حجز بينهم الليل ثم اقتتلوا اليوم التالي حتى حجز بينهم فقتل النبي وقتل أبوه وانهزم المسلمون وضبط الأرض واستوسق له الناس قال : فجعلت نفسه لا تدعه حتى يتبع المسلمين ويقتلهم في الجبال قال : فلما رأى ذلك اجتمع المسلمون فقالوا قد خلينا له عن الملك وهو يتبعنا ويقتلنا وانهزمنا عن نبينا وعابدنا حتى قتلا وليس يدعنا أو يقتلنا فتعالوا نتوب إلى الله توبة نصوحا فنقتل ونحن تائبين فتابوا إلى الله وولوا رجلا منهم فخرجوا إليه فاقتتلوا أول يوم حتى حجز بينهم الليل ثم غدوا فاقتتلوا حتى حجز بينهم الليل وكثرت القتلى بينهم وغدوا اليوم الثالث فاقتتلوا حتى حجز بينهم الليل وكثرت القتلى بينهم وغدوا اليوم الثالث فاقتتلوا فلما علم الله منهم الصدق وأنهم قد تابوا تاب الله عليهم وأقبلت الريح لهم فقال لهم صاحبهم : إني لأرجو أن يكون الله قد تاب علينا وقبل منا إني أرى الريح قد أقبلت معنا إن نصرنا الله فإن استطعتم أن تأخذوه سلما فلا تقتلوه قال : فأنزل الله عليهم النصر من آخر النهار فهزمزهم وأخذوه أسيرا ومكن الله للمسلمين في الأرض وظهر الإسلام قال : فجمع رأس المسلمين خيار الناس فقال : ما ترون في هذا بدل دينه ودخل مع عبدة الأوثان في دينهم وقتل نبينا جده وقتل أباه فقائل يقول أحرقه بالنار يموت فيذهب وقائل يقول : قطعه قال : فقال إنه يموت فيذهب قالوا : فأنت أعلم اصنع به ما شئت قال : فإني أرى أن أصلبه حيا ثم أدعه حتى يموت قالوا : افعل ذلك قال : ففعل ذلك به صلبه حيا وجعل عليه بطرس ولم يقتله وجعلوا لا يطعمونه ولا يسقونه فلبث أول يوم والثاني واليوم الثالث فلما كان في جوف الليل أخذ الرجل إلى أوثانه التي كان يعبد من دون الله فجعل يدعو صنما صنما منها فإذا رآه لا يجيبه تركه ودعا آخر حتى دعاها كلها فلم تجبه قال : وجهد فقال : اللهم إني قد جهدت وقد دعوت الآلهة التي كنت أدعو من دونك فلم تجبني ولو كان عندها خير أجابتني وأنا تائب إليك رب جدي وأبي فخلصني مما أنا فيه فإني قد تبت إليك وأنا من المسلمين فتحلل عنه عقده فإذا هو بالأرض فأخذ فأتي به صاحبهم فقال : ما ترون فيه ؟ فقالوا إنا نرى فيه الله تخلى عنه وتسألنا ما نرى فيه قال : صدقتم قال : فخلوا عنه قال : فقال ابن عباس : فو الله ما كان في بني إسرائيل بعد رجل خيرا منه

ہمیں خبر دی ابوعبد الله محمد بن عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید محمد بن موسیٰ بن فضل نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابی طالب نے ان کو علی بن عاصم نے ان کو داؤد بن ابی ہند نے ان کو عبداللہ بن عبید بن عمیر نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے انہوں نے کہا کہ بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا جو کہ ایک غار میں علیٰحدہ عبادت کرتا رہتاتھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ بنی اسرائیل اس کی عبادت پر بڑے خوش تھے ایک مرتبہ وہ اپنے نبی کے پاس بیٹھے تھے اچانک انہوں نے اس کا ذکر کیا اور اس پر ایمان لے آئے ان کے نبی علیہ السلام نے فرمایا: ساری باتیں تمہارے آدمی کی اچھی ہیں اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سنت کا تارک ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ بات عابد کو بھی پہنچ گئی۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ عابد نے سوچا کہ اگر یہی بات ہے تو پھر کس چیز پر اپنے آپ کو گھلا رہا ہوں اور میں اپنے آپ کو اٹھاتا ہوں دن کے روزے رکھتا ہوں اور راتوں کو قیام کرتا ہوں جب کہ میں تارک سنت ہوں۔ابن عباس نے کہا کہ وہ عابد اپنے عبادت خانے سے نیچے اتر آیا۔ کہتے ہیں کہ وہ نبی کے پاس آیا لوگ ان کے پاس موجود تھے اس نے سلام کیا نبی نے جواب دیا وہ نبی اس عابد کو چہرے سے نہیں پہچانتا تھا نام سے جانتا تھا۔ اس عابد نے کہا اے اللہ کے نبی مجھے خبر پہنچی ہے کہ میرا خیر کے ساتھ ذکر آپ کے سامنے ہوا تھا تو آپ نے یہ فرمایا کہ تم لوگ تو اس کے بارے میں یہ کہتے ہو۔ کاش کہ یہ بات نہ ہوتی اس میں کہ وہ تارک سنت ہے۔اگر میں تارک سنت ہوں تو پھر کیا فائدہ میں کس چیز پر اپنے نفس کو گھلا رہا ہوں میں دن کو روزے رکھتا ہوں رات کو قیام کرتا ہوں۔ اس نبی نے پوچھا کہ تم فلا نے ہو؟ اس نے کہا کہ جی ہاں وہی ہوں۔ اس نبی نے کہانہیں وہ چیز جس کو تم نے اسلام میں نیا بنا لیا ہےمگر وہ تیری طرف سے ہے۔ عابد نے نبی سے کہا کہ یہ کیا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ عابد اس بات کے ساتھ اس کو خفیف سمجھا جب اس نبی نے یہ حالت دیکھی تو فرمایا۔ بتائیے اگر سارے لوگ وہی کام کریں جو تم کر رہے، تو اس نسل میں (مجاہدین کہاں سے آئیں گے؟) جو دشمن کو مٹائیں مسلمانوں کی اولادوں سے ، اور (کہاں سے آئیں گے؟ وہ واعظ) جو امر بالمعروف کریں اور نہی عن المنکر کریں۔ (اور کہاں سے آئیں گے وہ لوگ جو) مسلمانوں میں وحدۃ اور اتفاق پیدا کریں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ چنانچہ وہ عابد نبی کی بات سمجھ گیا۔ اور بولا کہ اے اللہ کے نبی بات وہی درست ہے جو آپ فرماتے ہیں، میرے ماں باپ قربان (میری کیا مجال کہ) میں اس کو حرام جانتا۔ لیکن میں آپ کو اپنی کہانی بتاتا ہوں میں ایک غریب فقیر آدمی ہوں میں لوگوں کے اوپر بوجھ تھا وہی مجھے کھانا دیتے تھے۔ وہی مجھے کپڑے پہناتے تھے میرے پاس کوئی مال ومتاع بھی نہیں ہے۔ میں یہ بھی پسند نہیں کرتا ہوں کہ میں کسی مسلمان عورت کے ساتھ شادی کروں اور میں خواہ خواہ اس کو بند کر کے رکھوں جب کہ میرے پاس اس پر خرچ کرنے کے لئے کچھ بھی نہ ہو باقی رہے امیر لوگ غنی لوگ وہ میری شادی نہیں کرتے ، ابن عباس نے کہا کہ اس نبی نے کہا۔ بس تیرے ساتھ یہی مجبوری ہے؟ اس نے بتایا جی ہاں میری یہی سر گذشت ہے اس نبی نے فرمایا کہ میں اپنی بیٹی تمہارے ساتھ بیاہ دیتا ہوں۔ عاہد نے پوچھا کیا واقعی آپ ایسا کریں گے؟ نبی نے کہا جی ہاں عابد نے کہا کہ میں نے اس کو قبول کیا ہے۔ انہوں نے اپنی بیٹی اس عابد کے ساتھ بیاہ دی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس عابد نے اس لڑکی سے صحبت کی اور اس نے اس عابد کا بیٹا جنا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم بنی اسرائیل میں ایسا کوئی بیٹا پیدا نہیں ہوا تھا جس کے پیدا ہونے پر اس بچے کے پیدا ہونے سے انتہائی خوش ہوئے ہوں انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے ایک عابد کا بیٹا ہے اور ہمارے نبی کا بیٹا ہے (نواسہ) ہم یہ امید کرتے ہیں کہ اللہ اس کو بھی اسی مقام پر پہنچاے کا (بندہ کند تدبیر تقدیر بو وخندان) والی بات ہوئی۔ وہ لڑکا جب بالغ ہوا تو بتوں کی عبادت میں لگ گیا اور بہت سے لوگ بھی اس کے تابعدار بت پرست بن گئے۔ (اس بت پرست بیٹے نے) لوگوں سے کہا کہ تم لوگ بہت سارے ہو مگر یہ لوگ (بت پرستی سے روکنے والے) تمہارے اوپر کیوں غالب ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ان کا کوئی بڑا اور سردار ہے ہمارا نہ کوئی بڑا ہے نہ سردار ہے۔ اس نے پوچھا کہ کون ان کا سردار ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ تیرا نانا ان کا سردار ہے ہمارا تو کوئی سردار نہیں ہے اس نے کہا کہ آج کے بعد میں تمہارا صدر ہوں انہوں نے پوچھا کیا واقعی آپ ہمارے سردار ہوں گے اس نے کہا بالکل ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر وہ نکالا اور اس کے ساتھ خلق کثیر بھی ساتھ نکلی (یعنی انہوں نے اس نبی کے خلاف اور اہل توحید کے خلاف بغاوت کر دی) اس کے نانا نے (جو کہ نبی تھے اور) اس کے والد نے (جو کہ عابد تھے) اس کے پاس پیغام بھیج کر اس کومنع کیا کہ تو اللہ سے ڈر توبت پرستوں کو ساتھ لے کر ہمارے اوپر چڑھائی کرنا چاہتا ہے اورتم نے اسلام چھوڑ دیا ہے۔ اور تم نے اس کے (یعنی دین توحید دین اسلام کے) علاوہ دوسرا دین پکڑ لیا ہے۔ مگر اس نے (ماننے سے) انکار کر دیا۔ پھر اس کے نانا۔ نبی باہر نکلے اور اس کے والد آئے ان کے ساتھ انہوں نے اس کو دعوت دی مگر اس نے انکار کر دیا۔ لہٰذا (جو موحدوں اور مشرکوں کے درمیان) قتال اور جہاد شروع ہو گیا۔(سارا دن لڑتے رہے) حتٰی کہ ان کے درمیان رات آڑے آ گئی (اورلڑائی رک گئی مگر صبح اٹھ کر پھر لڑائی شروع ہو گئی) پھر اگلا دن لڑتے رہے پھر سارا دن جنگ رہی اور رات آڑے آ گئی۔ مگر اس دن وہ نبی بھی قتل ہو گیا اور اس کا والد بھی شہید ہو گیا۔ اور مسلمان شکست کھا گئے۔اس نے زمین پر قبضہ کر لیا۔ لوگوں نے اس کی پیروی کر لی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر بھی اس کے نفس کی تسکین نہ ہوئی حتٰی کہ اس نے بچے کچھے مسلمانوں کا تعاقب کیا اوران کو پہاڑوں میں قتل کیا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کے بعد (وہ مسلمان جنہوں نے اجتماعات کا مظاہرہ نہیں کیا تھا اور نبی کا ساتھ نہیں دیا تھا) یہ جب رنگ دیکھا تو پھر مسلمان جمع ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم حکومت واقتدار سے بالکل الگ اور دستبردار ہوگئے ہیں بالکل اسی کے حوالے کر رکھا لہٰذا اب وہ ہمیں چن چن کر قتل کر رہا ہے ہم لوگوں نے اپنے نبی کو اور عابد کو بھی شکست سے دو چار کروایا ہے۔ یہاں تک کہ وہ قتل ہو گئے ہیں۔ یہ اب ہمیں بھی نہیں چھوڑے گا بلکہ ہمیں بھی قتل کرا دے گا۔ لہٰذا سب آ جاؤ ہم توبہ کر یں اللہ کی بارگاہ میں سچی توبہ۔ ہم قتل ہوں تو توبہ کر کے ہوں لہٰذا انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کی۔ پھر انہوں نے ایک اچھے آدمی کو اپنا سر براہ بنایا اور (اس کی ماتحتی میں جہاد کرنے کے لئے) اس باغی کی طرف مسلمان نکلے اور پہلے دن قتال کرتے رہے حتٰی کہ رات ہو گئی پھر صبح کی تو دوبارہ قتال شروع ہوا پھر لڑتے لڑتے رات ہو گئی۔ اور دونوں طرف سے کثرت سے لوگ قتل ہوئے پھر تیسرا دن شروع ہوا پھر وہ لڑتے رہے جب اللہ نے ان کی سچائی دیکھ لی اور یہ کہ انہوں نے سچی توبہ کر لی ہے تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور ان کے لئے ہوا چل گئی مسلمانوں کے امیر نے کہا میں امید کرتا ہوں کہ شاید اللہ نے ہماری توبہ منظور کر لی ہے اور ہماری طرف توجہ فرمائی ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ ہوا چل گئی ہے جو کہ ہمارے ساتھ ساتھ چل رہی ہے اگر اللہ ہماری مدد کرے اگر تم لوگ اس باغی کو بطور زندہ کے پکڑ سکو۔ اس کوقتل نہ کرو (بلکہ زندہ گرفتار کر لو تاکہ اس کو عبرت ناک سزا دی جا سکے) ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر اللہ نے اس دن کے آخر میں مسلمانوں پر مدد نازل فرمائی مسلمانوں نے مشرکوں کو شکست دی (اور شرک کے سرغنے کو زندہ) گرفتار کر لیا اور اس کو قید کر لیا اللہ نے مسلمانوں کو دھرتی پر غلبہ عطا کیا اور اسلام غالب ہوا۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے سردار نے سمجھدار لوگوں کو جمع کیا، اورفرمایا کہ آپ لوگ (اس مشرکین کے سرغنہ باغی کے بارے میں) کیا رائے دیتے ہو اس نے تو اپنا دن بھی بدل دیا ہے اور اپنے دین میں اس نے بتوں کے پجاریوں کو بھر دیا ہے اس نے تو ہمارے نبی کو اور اپنے نانا اور باپ کو بھی قتل کر دیا ہے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ اس کو آگ کا الا بھڑکا کر اس میں جلا دیجئے اس میں ہلاک ہو جائے۔ اور قصہ بھی پاک ہو جائے کسی نے کہا کہ نہیں بلکہ اس کو خوب کاٹ کاٹ کر قیمہ کر دیجئے کہ یہ مر جائے گا اور قصہ ختم ہو جائے گا کسی نے کہا کہ آپ بہتر سجھتے ہیں آپ خود جو چاہیں وہ کریں اس کے ساتھ۔امیر نے کہا میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ اس کوزندہ پانی پر لٹکا کر چھوڑ دوں یہ زمانے کے لئے عبرت بنے اور لڑکتے لڑکتے مر جائے۔سب نے کہا کہ ٹھیک ہے اس کے ساتھ ایسے ہی کیجئے۔ چنانچہ اس کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا اور اس کو زندہ لٹکا دیا گیا۔ اور اس پر رکاوٹ ڈال دی کے مرے نہیں بلکہ لٹکتا رہے۔ نہ اسے کھا نے دیا نہ پینے کو دیا پہلا دن دوسرا دن تیسرا دن اسی طرح لٹکتا رہا جب رات ہوئی تو اس نے اپنے ان جھوٹے بتوں کو پکارنا شروع کیا اللہ کے سوا جن کی عبادت کرتا تھا ان میں سے ایک ایک کو نام لے کر پکارنے لگا۔ جب دیکھتا کہ بہت جواب نہیں دے رہا تو دوسرے کو پکارتا حتٰی کہ اسی نے سب کو پکار لیا مگر کوئی بھی اس کو چھڑانے نہ آ سکتا تھا نہ ہی آیا۔ کہتے ہیں کہ اس نے پورا زور لگا لیا۔ (عقل ٹھکانے آ گئی اور توحید کا مسئلہ بھی سمجھ میں آ گیا) اب پکارتا ہے اللہ کواے اللہ میں نے تو پوری کوشش کر لی ہے اور ان الہٰوں کو پکارا ہے جن کی میں عبادت کرتا رہا تیرے سوا انہوں نے تو مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ اگر ان کے پاس کوئی بھلائی ہوتی تو وہ مجھے ضرور جواب دیتے میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔ اے میرے نانا کے رب اے میرے ابا کے رب مجھے اس پھانسی کے پھندے سے چھڑا میں تیری بارگاہ میں رجوع کر چکا ہوں اور میں مسلمان ہو چکا ہوں (یہ کہنا تھا اللہ کی رحمت نے جوش مارا جھوٹے الہٰوں کی پکار کے مقابلے میں سچے الہٰ کی پکار زندہ رب کی پکار کامیاب ہوئی اچانک پھانسی کا پھندا اس کی گردن سے کھل گیا اور وہ زمین پر آن پڑا۔ چنانچہ اس کو پکڑ کر پھر امیر کے پاس پیش کیا گیا اس نے پوری بات سنی اور سمجھدار مسلمانوں کو بلا کر پوچھا کہ تم لوگ اب اس کے بارے میں کہا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس کو اللہ نے چھوڑ دیا ہے اور آپ ہم سے کیا پوچھتے ہیں؟ امیر نے کہا کہ تم لوگ سچ کہتے ہو ، امیر نے کہا کہ اس کو چھوڑ دو کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے بعد وہ ایسا نیک ہو گیا کہ اس جیسا نیک پھر کوئی پورے بنی اسرائیل میں نہیں ہوا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7112

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7113

7113 - أخبرنا الإمام أبو عثمان إسماعيل بن عبد الرحمن الصابوني أنا أبو سعيد عبد الله بن محمد بن عبد الوهاب الرازي أنا أبو يعقوب يوسف بن عاصم بن عبد الله البزار الرازي نا أبو خالد هدبة بن خالد القيسي الأزدي نا حماد بن سلمة عن ثابت و حميد عن بكر بن عبد الله المزني : أن ملكا من الملوك كان متمردا على ربه عز و جل فغزاه المسلمون فأخذوه سالما وقالوا : بأيها قتلة نقتله فأجمع رأيهم على أن يأخذوا قمقما عظيما و يجعلوه فيه ويحثوا النار تحته لا يقتلوه ليذيقوه طعم العذاب ففعلوا ذلك فجعلوا يحثون النار تحته فجعل يدعو آلهته واحدا فواحدا يا فلان ألم أكن أعبدك وأصلي لك وأمسح وجهك وأفعل بك وأفعل فأنقذني مما أنا فيه فلما رآهم لا يغنون عنه شيئا رفع رأسه إلى السماء فقال : لا إله إلا الله فدعا الله عز و جل مخلصا فقال : لا إله إلا الله فصب الله عز و جل شعبا من السماء فأطفأ تلك النار وجاءت ريح فاحتملت القمقم فجعل يدور بين السماء والأرض وهو يقول : لا إله إلا الله فأخرجوه فقالوا ويحك ما لك قال : أنا ملك بني فلان كان من أمري وكان من أمري فآمنوا

ہمیں خبر دی امام ابو عثمان اسماعیل بن عبدالرحمٰن صابونی نے ان کو ابو سعید عبداللہ بن محمد بن عبدالوہاب رازی نے ان کو ابو یعقوب یوسف بن عاصم بن عبداللہ بزار نے ان کو ابو خالد ہد بہ بن خالد قیسیٰ ازدی نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت نے اور حمید نے ان کو بکر بن عبداللہ مزنی نے کہ سابقہ دور کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ۔ اپنے رب کے خلاف سرکش تھا مسلمانوں نے اس سے جہاد کیا انہوں نے اس کوزندہ پکڑ لیا۔ اور بولے کہ ہم اس کو کون سے قتل کے بدلے میں قتل کریں؟ پھر سب کی رائے اس بات پر متفق ہوئی کہ ایک بہت بڑا گھر اور برتن بناؤ اور اس کو زندہ اسی میں کھڑا کر کے نیچے سے آگ جلا دو۔ اس کو قتل نہ کرو تاکہ اس کو زیادہ سے زیادہ عذاب دیا جا سکے۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ نیچے سے انہوں نے آگ جلائی تو وہ اپنے اپنے معبودوں کو پکارنے لگا ایک ایک کر کے اے فلانے کیا میں تیری عبادت نہیں کرتا تھا اور تیرے لئے نماز پڑھتا تھا اور برائے تبرک تیرے چہرے پر ہاتھ پھیرتا تھا۔ اور تیرے ساتھ ایسے کرتا تھا ایسے کرتا تھا۔ اب مجھے چھٹرا لے اس مصیبت سے جب اس نے دیکھ لیا کہ وہ اس کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتے تو اس نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور بولا لا الٰہ الا اللہ اللہ کے سوا کوئی مشکل کشا نہیں ہے اس نے خالص اللہ کو پکارا اور کہا لا الٰہ الا اللہ چنانچہ اللہ نے آسمان سے پانی کا ایک گولا انڈیل دیا جس نے اس آگ کو بجھا دیا اور ہوا آئی وہ اس مٹکے کواٹھا کر لے گی اور وہ فضاء میں گھومنے لگا اور وہ یہ کہ رہا تھا لا الٰہ الا اللہ لوگوں نے اس کو باہر نکالا۔ اور کہا کہ ہلاک ہو جائے کون ہے تو اور کیا ماجرا ہے تیرا اس نے کہا کہ میں فلاں قوم کا بادشاہ تھا میرے ساتھ ایسے ایسے ہوا میرا یہ ماجرا ہے چنانچہ اس کو دیکھ کر لوگ مسلمان ہو گئے۔

بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← ثابت و حميد ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو خَالِدٍ هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ الْأَزْدِيُّ، ← أَبُو يَعْقُوبَ يُوسُفُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَزَّارُ الرَّازِيُّ، ← أبو سعيد عبد الله بن محمد بن عبد الوهاب الرازي ← الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7113

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7114

7114 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان نا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا نا عبد الله بن أبي الزناد و هارون بن عبد الله قالا : نا سيار نا جعفر سمعت ثابت البناني قال : كان شاب به رهق فكانت أمه تعظه فتقول يا بني إن لك يوما فاذكر يومك إن لك يوما فاذكر يومك فلما نزل به أمر الله أكبت عليه أمه فجعلت تقول : يا بني قد كنت أحذرك مصرعك هذا وأقول لك : إن لك يوما فاذكر يومك قال : يا أماه إن لي ربا كثير المعروف وإني لأرجو أن لا يعدمني اليوم بعض معروف ربي أن يغفر لي قال : يقول ثابت : فC بحسن ظنه بربه في حاله تلك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو الدنیا نے ان کو عبداللہ بن ابو الزناد نے اور ہارون بن عبداللہ نے ان دونوں نے ان کو خبر دی سیار نے ان کو جعفر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ثابت بنانی ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک سرکش وظالم نو جوان تھا اس کی ماں اس کو نصیحت کرتی تھی کہ اے بیٹے بے شک تیرا بھی ایک دن مقرر ہے اپنے اس دن کو یاد کر بار بار کہتی تھی جب اس پر اللہ کا حکم آن پڑا تو اس کی ماں منہ کے بل اس پر جا گری اور وہ کہہ رہی تھی اے بیٹا میں تجھے تیری موت سے ڈرایا کرتی تھی اور اسی دن سے ڈرایا کرتی تھی اور تجھے کہتی تھی کہ تیرا بھی ایک دن آنے والا ہے اپنے اس دن کو یاد کر۔اس نے کہا اے میری امی بے شک میرا رب کثیر اچھائی والا ہے میں اس سے امید کرتا ہوں کہ میرے رب کی بعض خوبیاں مجھے نظر انداز نہ کریں گی لہٰذا وہ مجھے بخش دے گا کہتے ہیں کہ حضرت ثابت کہتے تھے کہ اللہ نے اس کے اپنے ساتھ حسن ظن کی وجہ سے اپنے ساتھ اس پر رحم کر دیا۔

ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← عبد الله بن أبي الزناد و هارون بن عبد الله ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7114

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7115

7115 - وأخبرنا أبو الحسين أنا الحسين نا عبد الله بن محمد نا محمد بن عبد العزيز المروزي نا علي بن شقيق أنا الحسين بن واقد عن أبي غالب قال : كنت أختلف إلى الشام في تجارة وعظم ما كنت أختلف من أجل أبي أمامة فإذا فيها رجل من قيس من خيار الناس وكنت أنزل عليه ومعنا ابن أخ له مخالف لأمره ينهاه ويضربه فلا يطيعه فمرض الفتى فبعث إلى عمه فأبى لوصايته فأتيته أنا به حتى أدخلته عليه فأقبل عليه يشتمه ويقول : أي عدو الله الخبيث ألم تفعل كذا قال : أفرغت أي عم قال : نعم قال : أرأيت لو أن الله دفعني إلى والدتي ما كانت صانعة بي ؟ قال : إذا والله كانت تدخلك الجنة قال : فو الله لله أرحم بي من والدتي فقبض الفتى فخرج عليه عبد الملك بن مروان فدخلت القبة مع عمه فخطوا له خطا ولم يلحدوه قال : فقلنا باللبن فسويناه قال : فسقطت منه لبنة فوثب عمه فتأخر قلت : ما شأنك ؟ قال : ملأ الله قبره نورا وفسح له مد البصر

ہمیں خبر دی ابو الحسین نے ان کو حسین نے ان کو عبداللہ بن محمد نے ان کو محمد بن عبدالعزیز مروزی نے ان کو علی بن شقیق نے ان کو حسین بن واقد نے ان کو ابو غالب نے وہ کہتے ہیں کہ تجارت کی وجہ سے میرا شام کے ملک میں آنا جانا رہتا تھا اور وہاں جانے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ میں ابو امامہ کی وجہ سے جاتا تھا وہ ایک بڑا دانا عالم تھا جو کہ سب لوگوں سے بہتر تھا میں اس کے پاس جا کر ٹھہرتا تھا اور ہمارے ساتھ ان کا بھتیجا تھا جو کہ ان کے حکم کے خلاف چلتا تھا۔ وہ اس کو روکتے تھے اور مارتے تھے اور ان کی اطاعت نہیں کرتا تھا چنانچہ وہ نو جوان بیمار ہو گیا اس نے بندہ بھیجا چچا کے پاس وصیت کرنے کے لئے انہوں نے اس کی وصیت سننے سے انکار کر دیا میں ان کو ساتھ لے کر پہنچا تو انہوں نے اسے گالیاں دیں اور کہا اے اللہ کا دشمن خبیث کیا تم نے ایسے ایسے نہیں کیا اس نے کہا کیا ہوا چچا آپ گھبرا گئے فرمایا کہ ہاں۔اسی جوان نے کہا کہ کیا خیال ہے آپ کا اگر اللہ تعالیٰ مجھے میری ماں کے حوالے کر دے تو وہ میرے ساتھ کیا سلوک کرے گی ؟ کہا کہ وہ تو تجھے جنت میں ڈال دے گی۔ اس نے کہا مجھے اللہ کی قسم ہے البتہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ میری ماں سے زیادہ مہربان ہے۔ یہ کہتے ہی اس کی روح پرواز کر گئی۔ عبدالملک بن مروان اٹھے اور اپنے چچا کے ساتھ گنبد کے نیچے اس کی قبر کا نشان کھینچا انہوں نے اس کی لحد نہیں بنائی تھی۔ ہم نے اینٹیں برابر کی تھیں کرہی رہے تھے کہ ایک اینٹ گر گئی جس سے اس کے چچا اچھل پڑے اور پیچھے ہٹ گئے میں نے کہا کہ کیا ہوا آپ کو بولے اللہ نے اس کی قبر کو نور سے بھر دیا ہے اور تاحد نگاہ اس کو فراخ کر دیا ہے۔

أَبِي غَالِبٍ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← عَلِيِّ بْنِ شَقِيقٍ، ← مُحَمدُ بنُ عَبدِ العَزِيزِ المَرْوَزِيُّ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الحسين ← أَبُو الْحَسَينِ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7115

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7116

7116 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين نا عبد الله حدثني الحسين بن عمرو بن محمد القرشي و محمد بن يزيد بن رفاعة عن الحسين بن علي الجعفي عن محمد بن أبان عن حميد قال : كان لي ابن أخت مرهق فمرض فأرسلت إلى أمه فأتيتها عند رأسه تبكي فقال : يا خال ما يبكيها ؟ قال : ما تعلم منك قال : أليس إنما ترحمني ؟ قلت : بلى قال : فإن الله أرحم بي فلما مات أنزلت القبر مع غيري فذهبت أسوي لبنه فاطلعت في اللحد فإذا هو مد بصري فقلت لصاحبي رأيت ما رأيت ؟ قال : نعم فليهنك ذاك قال : فظننت أنه بالكلمة التي قالها

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین نے ان کو عبداللہ نے ان کو حسین بن عمرو بن محمد قرشی نے اور محمد بن یزید بن رفاعہ نے ان کو حسین بن علی جعفی نے ان کو محمد بن ابان نے ان کو حمید نے وہ کہتے ہیں کہ میرا ایک بھانجا تھا جو کہ بڑا سرکش تھاوہ بیمار ہو گیا اس نے ماں کو بار بھیجا وہ آ گئی اس کے سرہانے بیٹھی رو رہی تھی۔ اس نے پوچھا ماموں یہ کیوں رو رہی ہے؟ اس نے کہا تیرے بارے جو کچھ جانتی ہے اس کی وجہ سے رو رہی ہے۔ جوان نے پوچھا کہ کیا یہ امی مجھ پر رحم نہیں کرے گی؟ میں نے کہا کہ ضرور رحم کرے گی۔ اس نے کہا کہ پھر اللہ اس ماں سے میرے ساتھ بڑا رحیم ہے۔ جب انتقال ہو گیا تو میں ایک آدمی کے ساتھ قبر میں اترا اور میں اینٹیں سیدھی کر رہا تھا اچانک میں نے لحد میں جھانک لیا کیا دیکھتا ہوں کہ وہ تو میری حد نگاہ تک فراغ ہو چکی ہے میں نے برابر والے آدمی سے کہا دیکھا تم نے میں نے جو کچھ دیکھا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں دیکھا ہے یہ بات تمہیں مبارک ہو کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ یہ اسی کلمہ کی وجہ سے ہوا جو اس نے کہا تھا۔

حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← الحسين بن عمرو بن محمد القرشي و محمد بن يزيد بن رفاعة ← عَبْدُ اللَّهِ ← الحسين ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7116

chevron_left Previous
1…789…25
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood