شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7105
7105 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه من أصله أنا أبو حامد بن بلال البزاز نا أحمد بن منصور يعني المروزي نا عمر بن يونس عن عكرمة بن عمار قال : حدثني إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لله اشد فرحا بتوبة عبده حين يتوب إليه من أحدكم تنفلت منه راحلته عليها طعامه وشرابه وأتى ظل شجرة ليضطجع قد أيس من راحلته فبينما هو كذلك إذ هو بها قائمة على رأسه رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب وغيره عن عمر بن يونس وأخرجاه من حديث قتادة عن انس حديث الغار في بني إسرائيل
ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے اپنی اصل میں سے ان کو ابو حامد بن بلال بزار نے ان کو احمد بن منصور مروزی نے۔ ان کو عمر بن یونس نے کو عکرمہ بن عمار نے ان کو اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: البتہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے زیادہ خوش ہوتا ہے۔ جب وہ اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے۔ تمہارے اس ایک انسان سے جس سے اس کی سواری گم ہو جائے اس پر اس کا کھانا پینا ہو۔ اور وہ آدمی درخت کے سایہ تلے آئے لیٹنے کے لئے جب کہ وہ اپنی سواری کے بارے میں مایوس ہو چکا ہو۔ وہ اسی پریشانی میں ہو کہ اچانک وہ د یکھے کہ وہ سواری اس کے سرہانے کھڑی ہے۔ (اس کو جتنی خوشی ہو گی اس کا انداز نہیں کیا جا سکتا اللہ تعالیٰ کو اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے اپنے بندے سے جب وہ توبہ کرتا ہے اللہ کی بارگاہ میں۔) اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں زہیر بن حرب سے اور دیگر سے اس نے عمر بن یونس سے اور بخاری ومسلم نے اس کو روایت کیا ہے حدیث قتادہ سے اس نے انس رضی اللہ عنہ سے حدیث غار کو بنی اسرائیل میں۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← أحمد بن منصور يعني المروزي ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ ← أبو طاهر الفقيه من أصله،
Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7105
