Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7093

7093 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الحسين علي بن عبد الرحمن السبيعي نا أحمد بن حازم الغفاري نا عبيد الله بن موسى أنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن البراء وقال له رجل يا أبا عمارة : ـ { ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة } أهو الرجل يلقى العدو فيقاتل حتى يقتل ؟ قال : لا ولكن هو الرجل يذنب الذنب فيقول : لا يغفره الله لي

اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسین علی بن عبدالرحمٰن سبیعی نے ان کو احمد بن حازم غفاری نے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو اسرائیل نے ان کو ابو اسحاق نے ان کو براء نے اور اس کو کہا ایک آدمی نے اے ابو عمارہ ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ کیا اس سے مراد وہ شخص ہے جو دشمن سے ٹکرائے اورلڑے اور لڑ کر مر جائے ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں وہ مراد نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد وہ ہے جو گناہ کرے اور یہ کہے اللہ مجھ سے یہ معاف نہیں کرے گا۔

لا يغفره الله لي ← لَا، وَلَكِنْ هُوَ الرَّجُلُ يُذْنِبُ الذَّنْبَ، ← لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عُمَارَةَ: أَهُوَ الرَّجُلُ يَلْقَى الْعَدُوَّ فَيُقَاتِلُ حَتَّى يُقْتَلَ؟ ← الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّبيعِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7093

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7094

7094 - و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر أنا أبو خليفة نا أبو الوليد و الحوضي حفص بن عمر و محمد بن كثير العبدي قالوا نا شعبة عن أبي إسحاق قال : سمعت البراء وسأله رجل عن هذه الآية : ـ { ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة } هو الرجل يحمل على الكتيبة وهم ألف والسيف بيده ؟ قال : لا ولكنه رجل يصيب الذنب فيلقي بيده ويقول لا توبة لي

اور ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو خبر دی ابو عمرو بن مطر نے ان کو ابو خلیفہ ان کو ابو الولید والحوضی حفص بن عمرو محمد بن کثیر عبدی نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو اسحٰق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے براہ سے ان سے ایک آدمی نے اس آیت کے بارے میں پوچھا تھا: ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالیں۔ (فرمایا اس سے مرادکون شخص ہے؟) انہوں نے جواب دیا وہ آدمی جو ہاتھ میں تلوار لے ایک ہزار کے لشکر پر حملہ کر دے۔(حضرت براء نے فرمایا) نہیں وہ مراد نہیں ہے بلکہ وہ شخص مراد ہے جو گناہ کرنے کے بعد ہاتھ چھوڑ کر بیٹھ جائے اور یہ کہے کہ میرے لئے توبہ ہی نہیں ہے۔

البراء وسأله رجل ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أبو الوليد و الحوضي حفص بن عمر و محمد بن كثير العبدي ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← و،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7094

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7095

7095 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الجبار نا حفص بن غياث عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب عن قوله عز و جل : ـ { إنه كان للأوابين غفورا } قال : هو الذي يذنب ثم يتوب ثم يذنب ثم يتوب ثم يذنب ثم يتوب تابعه الثوري عن يحيى بن سعيد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اورمحمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کوحفص بن غیاث نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو سعید بن مسیب نے اللہ کے اس قول کے بارے میں:انہ کان للاوابین غفوراً بیشک وہ رجوع کرنے والوں کو معاف کرنے والا ہے۔ فرمایا کہ یہ شخص جو گناہ کرتا ہے پھر توبہ کر لیتا ہے پھر گناہ کرتا ہے پھر توبہ کر لیتا ہے پھر گناہ کرتا ہے تو پھر توبہ کرتا ہے۔ ثوری نے اس کا متابع بیان کیا ہے۔

قوله عز و جل ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7095

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7096

7096 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق الإسفرايني نا أبو عثمان الخياط نا إسحاق بن أبي إسرائيل نا وهب بن جرير عن أبيه قال : كنت جالسا عند الحسن إذ جاءه رجل فقال : يا أبا سعيد ما تقول : في العبد يذنب الذنب ثم يتوب قال : لم يزدد بتوبته من الله إلا دنوا قال : ثم عاد في ذنبه ثم تاب قال : لم يزدد بتوبته إلا شرفا عند الله قال : ثم قال لي : ألم تسمع ما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قلت : وما قال ؟ قال : مثل المؤمن مثل السنبلة تميل أحيانا وتستقيم أحيانا وفي ذلك تكبر فإذا حصدها صاحبها حمد أمره كما حمد صاحب السنبلة بره ثم قرأ : { إن الذين اتقوا إذا مسهم طائف من الشيطان تذكروا فإذا هم مبصرون } الآية

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق اسفرائنی نے ان کو ابو عثمان خیاط نے ان کو اسحاق بن ابو اسرائیل نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں حسن کے پاس بیٹھا ہوا تھا اچانک اس کے پاس ایک آدمی آیا اس نے کہا اے ابو سعید آپ کیا کہتے ہیں اس بندے کے بارے میں جو گناہ کرتا ہے پھر توبہ کر لیتا ہے۔ فرمایا کہ جتنی بار توبہ کرتا ہے اللہ کے اور زیادہ قریب ہوتا ہے۔ اس کے بعد پھر گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے۔ تو اپنی توبہ سے اللہ کے نزدیک اپنے شرف کو اور زیادہ کرتا ہے۔ کہتے ہیں اس کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کیا آپ نے سنانہیں جو کچھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے پوچھا کہ کیا فرمایا ہے؟ کہا کہ یہ فرمایا تھا کہ مومن کی مثال سٹے کی اور بالی کی ہے (جو دانوں سے بھری ہوتی ہے) کبھی تو وہ سیدھی ہوتی ہے اور کبھی نیچے کو جھکی ہوئی جب سیدھی ہوتی ہے) اس میں تکبر ہوتا ہے۔ جب اس کا مالک اس کو کاٹ لیتا ہے تو اس کا معاملہ تعریف کے قابل ہوتا ہے جیسے اس کا مالک اس کی خوبی پر شکر کرتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی:ان الذین اتقوا اذا مسھم طائف من الشیطان تذکروا فاذاھم میصرون بے شک وہ لوگ جو ڈرتے ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی سوسوہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں۔

لي ألم تسمع ما ← ثُمَّ ← لم يزدد بتوبته إلا شرفا عند الله ← ثم عاد في ذنبه ثم تاب ← لم يزدد بتوبته من الله إلا دنوا ← يا أبا سعيد ما تقول في العبد يذنب الذنب ثم يتوب ← كنت جالسا عند الحسن إذ جاءه رجل ← أَبِيهِ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْخَيَّاطُ ← الحسن بن محمد بن إسحاق الإسفرايني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7096

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7097

7097 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن سلمان الفقيه قال : قرئ على محمد بن الهيثم القاضي وأنا أسمع نا عبد الله بن صالح حدثني الليث عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخير عن عقبة بن عامر الجهني : أن رجلا أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله أحدنا يذنب ؟ قال : يكتب عليه قال : ثم يستغفر منه ويتوب قال : يغفر له ويتاب عليه قال : فيعود ويذنب قال : يكتب عليه قال : ثم يستغفر منه ويتوب قال : يغفر له ويتاب عليه قال : فيعود ويذنب قال : يكتب عليه قال : ثم يستغفر منه ويتوب قال : يغفر له ويتاب عليه ولا يمل الله حتى تملوا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن سلیمان فقیہ نے وہ کہتے ہیں کہ یہ روایت پڑھی گئی محمد بن ہیثم قاضی کے سامنے اور میں سن رہا تھا ن کو خبر دی عبداللہ بن صالح نے ان کو لیث نے ان کو یزید بن ابی حبیب نے ان کو ابو الخیر نے ان کو عقبہ بن عامر جہنی نے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا یا رسول اللہ ! کوئی آدمی ہم میں سے گناہ کرتا ہے (تو اس کا کیا ہو گا؟) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے خلاف گناہ لکھا جاتا ہے۔ اس نے پوچھا کہ اگر وہ اس سے استغفار کرے اور توبہ کرے؟ حضور نے فرمایا کہ اس کو بخش دیا جاتا ہے اور اس کی توبہ قبول کی جاتی ہے۔ اس شخص نے پوچھا کہ اگر وہ پھر دوبارہ گناہ کرے؟ حضور نے فرمایا کہ پھر اس کے خلاف گناہ لکھا جائے گا۔ اس نے پوچھا کہ اگر وہ پھر اس گناہ سے توبہ واستغفار کرے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا گناہ معاف کیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔اس نے پوچھا کہ اگر وہ پھر گناہ کرے؟ حضور نے فرمایا کہ پھر گناہ اس پر لکھا جائے گا۔ اس نے پوچھا کہ اگر وہ اس پر توبہ واستغفار کرے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اس کو بخش دیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ اوراللہ نہیں تھکے گا بلکہ تم تھک جاؤ گے (یعنی تم گناہ کرتے اور معافی مانگتے تھک جاؤ گے مگر وہ تمہیں معاف کرتے کرتے نہیں تھکے گا۔)

أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← أسمع ← قرئ على محمد بن الهيثم القاضي ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7097

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7098

7098 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو القاسم عبد الخالق بن علي المؤذن قالا : نا أبو الفضل محمد بن إبراهيم الهاشمي نا جعفر بن محمد الفريابي نا قتيبة بن سعيد نا سعيد بن مرزوق عن عبد الله بن عبد العزيز العمري عن أبي طوالة عن أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من عبد يذنب ذنبا فيعلم أن الله عز و جل إن شاء أن يغفر له غفر له وإن شاء أن يعذبه عليه عذبه كان حقا على الله عز و جل أن يغفر له

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو القاسم عبدالخالق بن علی مؤذن نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو الفضل محمد بن ابراہیم ہاشمی نے ان کو جعفر بن محمد فریابی نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو سعید بن مرزوق نے ان کو عبداللہ بن عبدالعزیز عمری نے ان کو ابو طوالہ نے ان کو انس بن مالک نے کہ رسول اللہ نے فرمایا: جوبھی بندہ کوئی گناہ کرے اور یہ یقین جانے کہ اللہ عزوجل اگر اس کو معاف کرنا چاہے گا تو معاف کر دے گا۔ اور اگر وہ اس کو عذاب دینا چاہے گا تو عذاب دے گا (اسی یقین کے ساتھ اگر وہ توبہ کر لیتا ہے) تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ کو بخش دے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي طُوَالَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ، ← سعيد بن مرزوق ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم الهاشمي، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو القاسم عبد الخالق بن علي المؤذن

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7098

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7099

7099 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي قالا : أنا أبو عمرو بن مطر نا إبراهيم بن علي نا يحيى بن يحيى أنا عبد الحميد بن عبد الرحمن عن عثمان بن واقد العمري عن أبي نصير قال : لقيت مولى لأبي بكر رضي الله عنه فقلت له : سمعت من أبي بكر شيئا ؟ قال : نعم سمعته يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لم يصر من استغفر الله وإن عاد في اليوم سبعين مرة

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے اور ابو بکرمحمد بن ابراہیم فارسی نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو عبدالحمید بن عبدالرحمٰن نے ان کو عثمان بن واقد عمروی نے ان کو ابو نصیر نے وہ کہتے ہیں میں حضرت ابو بکر کے غلام کو ملا میں نے اس سے پوچھا کیا تم نے ابو بکر صدیق سے کوئی چیز سنی تھی؟ کہا کہ میں نے ان سے سنا تھا فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے بندہ جو استغفار کرتا ہے وہ اگرچہ ستر باربھی گناہ کرے ستر بار استغفار کرتا ہےتو وہ گناہ پر اصرار کرنے والا نہیں ہوتا۔

نَعَمْ ← مِنَ أَبِي بَكْرٍ شَيْئًا؟ ← لقيت مولى لأبي بكر فقلت له ← أبي نصير ← عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ الْعُمَرِيُّ ← عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7099

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7100

7100 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا ابن ملحان نا يحيى هو ابن بكير حدثني الليث حدثني محمد بن قيس نا بن عمر بن عبد العزيز عن أبي صرمة عن أبي أيوب قال : حين حضرته الوفاة كنت كتمت عنكم شيئا : سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لولا أنكم تذنبون لخلق الله خلقا يذنبون ثم يغفر لهم رواه مسلم في الصحيحين عن قتيبة عن الليث

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو بن ملحان نے ان کو یحییٰ نے وہ ابن بکیر ہیں۔ ان کو لیث نے ان کو محمد بن قیس نے ان کو ابن عمر بن عبدالعزیز نے ان کو ابو صرفہ نے ان کو ابو ایوب نے کہ انہوں نے کہا جب ان کی وفات ہوئی کہ میں تم لوگوں سے ایک چیز چھپاتا تھا جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے۔ اگر تم لوگ گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسی مخلوق پیدا کرتا جو گناہ کرتے پھر وہ ان کو معاف کرتا۔ (دوسری توجیہ یہ ہے کہ) اگر تم لوگ گناہ نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ ایسی مخلوق پیدا کرے گا جو گناہ کریں سے پھر اللہ ان کو معاف کرے گا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے قتیبہ ہے۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← أَبِي صِرْمَۃَّؓ ← بن عمر بن عبد العزيز ← مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ ← ابْنُ مِلْحَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7100

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7101

7101 - أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنا جدي يحيى بن منصور نا أبو بكر عمر بن حفص السدوسي نا عاصم بن علي نا أبو خيثمة سعد الطائي حدثني أبو المدله أنه سمع أبا هريرة يقول : قلنا يا رسول الله : كنا إذا كنا عندك رقت قلوبنا وكنا من أهل الآخرة وإنا إذا فارقناك أعجبتنا الدنيا وشممنا النساء والأولاد فقال : لو تكونون أو لو أنكم تكونون على كل حال على الحال التي أنتم عليه عندي لصافحتكم الملائكة بأكفكم ولزارتكم في بيوتكم ولو لم يذنبوا لجاء الله بقوم يذنبون فيغفر لهم قال قلنا يا رسول الله حدثنا عن الجنة ما بناؤها ؟ قال : لبنة من ذهب ولبنة من فضة ملاطها المسك الأذفر وحصباؤها اللؤلؤ والياقوت وترابها الزعفران من يدخلها ينعم ولا يبؤس ويخلد ولا يموت لا تبلى ثيابه ولا يفنى شبابه ثلاثة لا ترد دعوتهم الإمام العادل والصائم حين يفطر ودعوة المظلوم تحمل على الغمام وتفتح لها أبواب السموات ويقول الرب : وعزتي وجلالي لأنصرنك ولو بعد حين

ہمیں خبر دی ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے ان کو خبر دی ان کے دادا یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کو ابو بکر عمر بن حفص سدوسی نے ان کو عاصم بن علی نے ان کو خثیمہ سعد طائی نے ان کو ابو المدلہ نے کہ اس نے سنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے تھے کہ ہم لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! ہم لوگ جب آپ کے پاس ہوتے ہیں تو ہمارے دل نرم ہو جاتے ہیں اور ہم لوگ اہل آخرت میں سے ہوتے ہیں اور جب ہم آپ سے الگ ہوتے ہیں تو دنیا ہمیں اچھی لگتی ہے اور ہم عورتوں کی اور اولاد کی بو سونگھتے ہیں۔ (یعنی ان کی محبت میں مجبور ہو جاتے ہیں۔) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم لوگ ہر وقت ایک ہی حالت پر رہو جس پر تم ہوتے ہو میرے سامنے تو تم لوگ فرشتوں کے ساتھ مصافحہ کیا کرو اپنی ہتھیلیوں کے ساتھ اور فرشتے تمہارے گھروں میں تمہاری ملاقات اور زیارت کیا کریں۔ اور اگر تم لوگ گناہ نہیں کرو تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو یعنی ایسے لوگوں کو پیدا کر کے لے آئیں گے جو گناہ کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمائے گا۔ صحابی کہتے ہیں کہ ہم نے کہا یا رسول اللہ! ہمیں جنت کے بارے میں بتائیے کہ اس کی عمارت کیسی ہے؟ فرمایا کہ ایک اینٹ سونے کی ہے اور دوسری چاندی کی۔ اور اس کا مصالہ (گارا) کستوری کا ہے اور اس کا جڑاؤ اور سنگھار موتیوں کا اور یاقوت کا ہے مٹی اس کی سرخ زعفران کی ہے جو اس میں داخل ہو جائے گا آرام اور سکون میں ہو گا اور تکلیف میں نہیں ہو گا۔ ہمیشہ زندہ رہے گا کبھی نہیں مرے گا نہ ہی اس کے کپڑے پرانے ہوں گے نہ ہی جوانی اس کی فنا ہو گی۔ تین شخص ہیں جن کی دعا رد نہیں ہوتی۔ عادل بادشاہ۔ اور روزہ دار جب روزہ افطار کرتا ہے اور مظلوم کی پکار بادلوں پر اٹھائی جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے اپنی عزت کی قسم ہے مجھے اپنے جلال کی قسم ہے میں ضرور تیری مدد کروں گا اگرچہ ایک مدت کے بعد ہو۔

قُلْنَا ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو الْمُدِلَّةِ، أَنَّهُ ← أبو خيثمة سعد الطائي ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← أَبُو بَكْرٍ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ ← جَدِّيَ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7101

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7102

7102 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران العدل ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور الرمادي نا عبد الرزاق أنا معمر عن جعفر بن برقان عن يزيد بن الأصم عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والذي نفسي بيده لو لم تذنبوا لذهب الله بكم ولجاء الله بقوم يذنبون فيستغفرون الله فيغفر لهم رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن رافع عن عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران عدل نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کواحمد بن منصور امادی نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو جعفر بن برقان نے ان کو یزید بن اصم نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر تم لوگ گناہ نہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگ لے آئے گا جو گناہ کریں گے پھر وہ استغفار کریں گے اور اللہ ان کو معاف کرے گا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن رافع سے اس کو عبدالرزاق نے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ العدل بِبَغْدَادَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7102

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7103

7103 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي قالا : أنا أبو عمرو بن مطر نا إبراهيم بن علي الذهلي نا يحيى بن يحيى أنا عبد الله بن وهب عن حيي عن أبي عبد الرحمن عن عبد الله بن عمر أنه قال : أنزلت إذا زلزلت الأرض زلزالها و أبو بكر الصديق قاعد فبكى أبو بكر فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما يبكيك يا أبا بكر ؟ فقال : أبكاني هذه السورة فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو أنكم لا تخطئون ولا تذنبون فيغفر الله لكم لخلق الله أمة من بعدكم يخطئون ويذنبون فيغفر لهم

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے اور ابو بکر محمد بن ابراہیم فارسی نے ان دونوں کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی ذہلی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو حیی نے ان کو ابو عبدالرحمٰن نے ان کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے انہوں نے فرمایا: یہ سورت جب نازل ہوئی اذا زلزلت الارض زلزالھا ابو بکر صدیق بیٹھے ہوئے تھے وہ رو پڑے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ابو بکر کیوں رو رہے ہو؟ فرمایا کہ مجھے اس سورت نے رلا دیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اگر تم لوگ خطا نہیں کرو گے اور نہ ہی تم لوگ گناہ کرو کہ اللہ تم لوگوں کی مغفرت کرے تو البتہ وہ ایک ایسی امت پیدا کرے گا تمہارے بعد جو گناہ کریں گے اور خطائیں کریں گے اللہ اس کی مغفرت کرے گا ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← حُيَيٍّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7103

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7104

7104 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز نا محمد بن عبيد الله بن يزيد نا أبو بدر شجاع بن الوليد نا سليمان بن مروان يعني الأعمش ح وأخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرئ واللفظ له أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا أبو الربيع نا ابن شهاب عن الأعمش عن عمارة بن عمير عن الحارث بن سويد نا عبد الله هو ابن مسعود حدثني أحدهما : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم والآخر عن نفسه قال : إن المؤمن يرى ذنوبه كأنه قاعد تحت جبل يخاف أن يقع وإن الفاجر يرى ذنوبه كذباب مر على أنفه فقال به هكذا قال : وقال : لله أفرح بتوبة العبد من رجل نزل معه راحلة عليها طعامه وشرابه فوضع رأسه فنام نومة فاستيقظ وقد ذهبت راحلته فانطلق في طلبها حتى إذا اشتد عليه العطش أو الجوع شك ابن شهاب قال أرجع إلى مكاني فأموت فيه فرجع إلى مكانه فوضع رأسه فاستيقظ فإذا هو براحلته عنده عليها طعامه وشرابه لفظ حديث ابن شهاب وفي حديث أبي بدر قال : وسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لله أشد فرحا بتوبة العبد حتى إذا بلغه الموت لم يشك بمعناه واللفظ مختلف رواه البخاري في الصحيح عن أحمد بن يونس عن ابن شهاب وأخرجاه من حديث أبي أسامة وغيره عن الأعمش

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمرو زاز نے ان کو محمد بن عبداللہ بن یزید نے ان کو ابو بدر شجاع بن ولید نے ان کو سلیمان بن مروان اعمش نے۔ اور ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد بن علی مقری نے اور یہ الفاظ ان کے ہیں ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو ابو الربیع نے ان کو ابن شہاب نے اعمش سے ان کو عمارہ بن عمیر نے ان کو حارث بن سوید نے ان کو عبداللہ بن مسعود نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں میں سے ایک نے اور دوسرے نے اپنے نفس سے فرمایا کہ مؤمن گناہوں کو ایسے دیکھتا ہے جیسے پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہوا ہے ڈر لگتا ہے ہیں وہ اوپر نہ گر جائے اور فاجر آدمی گناہ کوایسے سمجھتا ہے جیسے مکھی اس کے ناک پر سے گزر جائے اور انہوں نے ہاتھ سے ناک کے اوپرا شارہ کیا۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ جب توبہ کرتا ہےتو اللہ تعالیٰ اس سے بہت خوش ہوتا ہے اس بندے کے خوش ہونے سے بھی زیادہ خوش کہ جو سواری سے اترتا ہے اس کے اوپر اس کا کھانا اور سفر کے لئے پانی لدا ہوا ہو (کہیں جنگل میں) وہ اتر کب ذرا سے سر رکھے کہ سوجائے جب بندہ بیدار ہو کر دیکھے تو نہ سواری ہو نہ سامان اور پھر وہ اس کی تلاش میں دائیں بائیں بھاگتا پھرے۔ جب بھوک پیاس شدید ہو جائے اور اور سواری بھی نہ ملے پر یشان ہو کر یہ سوچ کر کے اب مرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ (ابن شہاب کا شک ہے کہ) کیا یہ کہا تھا کہ میں واپس لوٹ جاؤں اپنی جبکہ پر اور وہاں جا کر مر جاؤں۔ جب وہ لوٹ کر آئے تو واپس آ کر لیٹ جائے اور نیند آ جائے جب بیدار ہو تو دیکھے کہ اس کی سواری اس کے پاس موجود ہو اس پر اس کا کھانا اور پانی بھی موجود ہو۔ یہ الفاظ ابن شہاب کی حدیث کے ہیں اور ابو بدر کی ایک روایت میں ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے۔البتہ اللہ بندے کی توبہ کے ساتھ زیادہ شدید خوش ہوتا ہے۔ اور فرمایا کہ یہاں تک کہ جب اس کوموت آن پہنچے۔ اس کے معنی میں شک نہیں ہے۔ اور الفاظ مختلف ہیں۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں احمد بن یونس سے اس نے ابن شہاب سے اور دونوں نے کو نقل کیا ہے ابو اسامہ کی حدیث سے اور دیگر نے اعمش سے۔

نفسه ← أَحَدُهُمَا ← عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرئ واللفظ له ← سليمان بن مروان يعني الأعمش ← أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7104

chevron_left Previous
1…678…25
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood