Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7081

7081 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس هو الأصم نا أحمد بن عبد الجبار نا حفص بن غياث عن أشعث عن الحسن قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أذنب عبد ذنبا ثم توضأ فأحسن الوضوء ثم خرج إلى براز من الأرض فصلى فيه ركعتين واستغفر الله من ذلك الذنب إلا غفر الله له

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو حفص بن غیاث نے ان کو اشعث نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں گناہ کرتا کوئی بندہ کوئی گناہ پھر وضو کرتا ہے اور وضو کو احسن طریقے پر کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ میدانی زمین کی طرف نکل جاتا ہے وہاں جا کر دو رکعت پڑھتا ہے اور اس گناہ سے استغفار کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دیتا ہے۔

الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7081

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7082

7082 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن محمد الصيرفي نا إسماعيل بن إسحاق القاضي ح وأخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا عباس بن الفضل الأسفاطي نا أبو الوليد نا عكرمة بن عمار حدثني شداد أبو عمار حدثني أبو أمامة قال : بينا أنا قاعد عند رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا جاءه رجل فقال : يا رسول الله إني أصبت حدا فأقمته علي قال : فأعرض عنه ثم عاد وقال مثل ذلك وأقيمت الصلاة فدخل رسول الله صلى الله عليه و سلم فصلى ثم خرج قال : فحدثني أبو أمامة قال : إني لأمشي مع رسول الله صلى الله عليه و سلم والرجل يتبعه وهو يقول يا رسول الله أصبت حدا فأقمه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أليس خرجت من بيتك توضأت فأحسنت الوضوء ؟ قال : بلى يا رسول الله قال : وشهدت معنا هذه الصلاة ؟ قال : بلى يا رسول الله قال : فإن الله غفر لك حدك أو قال : ذنبك لفظ حديث ابن عبدان أخرجه مسلم في الصحيح من وجه آخر عن عكرمة بن عمار

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن محمد صیرفی نے ان کو اسماعیل بن اسحاق قاضی نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عباس بن فضل افاطی نے ان کو ابو الولید نے ان کو عکرمہ بن عمار نے ان کو شداد ابو عمار نے ان کو ابو امامہ نے وہ کہتے ہیں کہ یکا ایک میں بیٹھا ہوا تھا رسول اللہ کے پاس اچانک اس کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ میں حد کو پہنچ گیا ہوں اس کو مجھ پر قائم کریں (یعنی زنا کر لیا ہے) کہتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اس کے بعد اس نے دوبارہ کہاجب کہ نماز کی تکبیر کہی جا چکی تھی۔حضور داخل ہوئے اور نماز پڑھائی اس کے بعد باہر چلے گئے۔ کہتے ہیں کہ مجھے ابو امامہ نے حدیث بیان کی کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ اور وہ آدمی حضور کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا اور وہ کہہ رہا تھا یا رسول اللہ میں حد کو پہنچا ہوں مجھ پر قائم کیجئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم گھر سے نہیں نکلے ہو تم نے اچھی طرح وضو کیا ہے؟ بولا جی ہاں یا رسول اللہ ! حضور نے فرمایا تم نے ہمارے ساتھ یہ نماز نہیں پڑھی ؟فرمایا پڑھی ہے یا رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اللہ نے تیری حد معاف کر دی ہے یا کہا کہ تیرا گناہ یہ ابن عبدان کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ اس کومسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں دوسرے طریقے سے عکرمہ بن عمار سے۔

بَيْنَا ← أَبُو أُمَامَةَ ← شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أبو بكر بن محمد الصيرفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7082

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7083

7083 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا ابن أبي قماش نا أبو حذيفة عن عكرمة بن عمار وأنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا ابن أبي قماش نا أبو حذيفة عن عكرمة بن عمار عن شداد أبي عمار عن أبي أمامة قال : جاء رجل إلى نبي الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله إني أخذت امرأة فصنعت بها كل شيء إلا الجماع فقرأ رسول الله صلى الله عليه و سلم : { وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين } كذا رواه أبو حذيفة بهذا اللفظ وهو بهذا اللفظ محفوظ من حديث ابن مسعود

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابو قماش نے ان کو ابو حذیفہ نے ان کو عکرمہ بن عمار نے ان کو علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابو قماش نے ان کو ابو امامہ نے کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضور کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں نے ایک عورت کو پکڑ لیا ہے میں نے اس کے ساتھ سب کچھ کیا ہے سوائے جماع کے حضور نے یہ آیت پڑھی:اقم الصلوٰۃ طرفی وزلفا من اللیل ان الحسنات یذھبن السیئات ذٰلک ذکری للذکرین نماز قائم کیجئے صبح و شام اور رات میں بے شک نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں کہ یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے ابو حذیفہ نے اسی لفظ کے ساتھ اور وہ اسی لفظ کے ساتھ محفوظ ہے ابن مسعود کی حدیث سے۔

جاء رجل إلى نبي الله صلى الله عليه و سلم فقال ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← شَدَّادِ أَبِي عَمَّارٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عكرمة بن عمار وأنا علي بن أحمد بن عبدان ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7083

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7084

7084 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النصر الفقيه أنا أبو عبد الله محمد بن نصر نا يحيى بن يحيى أنا أبو الأحوص عن سماك عن إبراهيم عن علقمة و الأسود عن عبد الله قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله إني عالجت امرأة في أقصى المدينة وإني أصبت منها ما دون أن أمسها فأنا هذا فاقض ما شئت فقال له عمر : لقد سترك الله لو سترت نفسك قال : ولم يرد عليه النبي صلى الله عليه و سلم شيئا فقام الرجل فانطلق فأتبعه النبي صلى الله عليه و سلم رجلا ودعاه فتلا عليه هذه الآية : { وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين } فقام رجل من القوم : هذا له خاصة ؟ قال : بل للناس كافة رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کوخبر دی ہے ابو النصر فقیہ نے ان کو ابو عبداللہ بن محمد بن نصیر نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو ابو الاحوص نے ان کو سماک نے ان کو ابراہیم نے ان کو علقمہ اور اسود نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے مدینے کے پرلے کنارے پر ایک عورت کو دبوچ لیا ہے اور میں نے اس کے ساتھ سب کچھ کیا ہے جماع کے سوا اب جو چاہیں میرے لئے فیصلہ فرمائیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا اللہ تیرے او پر پردہ ڈال دیتا اگر تو اپنے اوپر پردہ ڈالتا حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس پرکسی شئی کا ارادہ نہیں فرمایا وہ آدمی اٹھ کر چلا گیا حضورصلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کو اس کے پیچھے بھیجا اوراس کو بلوایا اور اس کے سامنے یہ آیت پڑھی:اقم الصلوٰۃ فی النھارو زلفا من اللیل ان الحسنات یذھبن السیئات ذٰلک ذکری للذاکرین لوگوں میں سے ایک آدمی نے پو چھا کہ کیا اسی شخص کے لئے خصوصی حکم ہے یا سب لوگوں کے لئے عام ہے حضور نے فرمایا بلکہ تمام لوگوں کے لئے یہ حکم عام ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں یحییٰ بن یحییٰ سے۔

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال ← عَبْدُ اللَّهِ ← علقمة و الأسود ← إِبْرَاهِيمَ، ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← أبو النصر الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7084

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7085

7085 - أخبرنا محمد بن الحسين القطان أنا علي بن عبد الرحمن بن هاني نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا عبيد الله بن موسى عن ابن عيينة عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن ابن عباس قال : كان رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم يهوى امرأة فكان ذات يوم جالسا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فاستأذن النبي صلى الله عليه و سلم في حاجة فأذن له فخرج في يوم مطر هو بامرأة على غدير تغتسل فلما رآها جلس منها مجلس الرجل من امرأته وحرك ذكره فإذا هو مثل الهدبة فقام نادما فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فذكر ذلك له فقال له رسول الله : اركع ركعات فأنزل الله عز و جل : { وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين }

ہمیں خبر دی محمد بن حسین قطان نے ان کو علی بن عبدالرحمٰن بن معانی نے ان کو احمد بن حازم بن ابو غرزہ نے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو ابن عیینہ نے زہری سے ان کو عبیداللہ بن عبیداللہ بن عتبہ بن ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہ ایک آدمی اصحاب رسول میں سے ایک عورت سے محبت کرتا تھا۔ ایک دن رسول اللہ کی خدمت میں بیٹھا تھا کسی کام کی حضور سے اس نے اجازت طلب کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی بارش کے دن نکلا اچانک کسی حوض پر عورت غسل کر رہی تھی اس نے جا کر اس کو دبوچ لیا اور اس کے ساتھ برا فعل کرنے لگا اس نے اپنے ذکر کو حرکت دی مگر وہ ایسے ہو گیا جیسے کپڑے کا کنارہ ہوتا ہے لہٰذا یہ شرمندہ ہو گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور یہ بات ذکر کر دی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا چند رکعت نماز ادا کر اس پر یہ آیت نازل ہوئی: اقم الصلوٰۃ طرفی النھار وزلفامن اللیل ان الحسنات یذھبن السیئات ذٰلک ذکری للذاکرین کہ دونوں کے دونوں وقتوں میں اور رات کو نماز قائم کیجئے بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ ی نصیحت ہے یہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← علي بن عبد الرحمن بن هاني ← محمد بن الحسين القطان،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7085

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7086

7086 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا الكديمي نا الضحاك بن مخلد نا مستورد بن عباد الهنائي عن ثابت عن أنس بن مالك قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله ما جئتك حتى ما تركت حاجة ولا داجة إلا أتيتها فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أليس تشهد أن لا إله الله وأني رسول الله ؟ قال : بلى قال : فإن الله قد غفر لك كل حاجة وداجة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو کدیمی نے ان کو ضحاک بن مخلد نے ان کومستورد بن عباد ہنائی نے ان کو ثابت نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ انہیں آیا ہوں میں آپ کے پاس حتٰی کہ نہیں چھوڑی میں نے کوئی حاجت اور نہ کوئی داجت (کوئی تجارت کوئی اچھی بری خواہش) مگر میں نے اس کا ارتکاب کیا ہے۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو شہادت نہیں دیتا کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا کہ ہاں میں شہادت دیتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے بخش دیا تیرے لئے ہر حاجت کو اور داجت کو۔ (ہر اچھی بری خواہش اور فعل کو معاف کر دیا ہے۔)

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← مستورد بن عباد الهنائي ← الضحاك بن مخلد ← الكديمي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7086

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7087

7087 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو النضر نا محمد بن أيوب ح قال : أنا أبو بكر بن إسحاق أنا محمد بن غالب و محمد بن يعقوب و يوسف بن يعقوب قال ابن أيوب أنا وقال : نا أبو الوليد الطيالسي نا همام بن يحيى سمعت إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة يقول : سمعت عبد الرحمن بن أبي عمرة يقول : سمعت أبا هريرة : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن عبدا أصاب ذنبا فقال : يا رب إني أذنبت ذنبا فاغفره لي فقال له ربه : علم عبدي أن له ربا يغفر الذنوب ويأخذ به فيغفر له ثم مكث ما شاء الله ثم أصاب ذنبا آخر ودعا قال : ثم أذنب ذنبا آخر فقال : يا رب إني أذنبت ذنبا فاغفره لي قال له ربه : علم عبدي أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ به فغفر له ثم مكث ما شاء الله ثم أصاب ذنبا آخر وربما قال : ثم أذنب ذنبا آخر فقال : يا رب إني أذنبت ذنبا فاغفره لي فقال له ربه : علم عبدي أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ به فقال ربه : غفرت لعبدي فليعمل ما شاء رواه مسلم في الصحيح عن عبد بن حميد عن أبي الوليد وأخرجه البخاري من وجه آخر عن همام

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو النضر نے ان کو محمد بن ایوب نے ’’ح‘‘ وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ہے ابو بکر بن اسحاق نے ان کو محمد بن غالب نے اور محمد بن یعقوب اور یوسف بن یعقوب نے کہتے ہیں ابن ایوب نے ہمیں خبر دی ہے اور دونوں نے کہا ہے ابو داؤد طیالسی نے ان کو ھمام بن یحییٰ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبدالرحمٰن بن ابو عمرو سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک بندے نے گناہ کا ارتکاب کیا تھا۔ اس نے دعا مانگی اے میرے رب میں نے گناہ کیا ہے اس گناہ کو میرے لئے معاف کر دے، اس کے رب نے اس کے بارے میں فرمایا کہ میرے بندے کو یہ معلوم ہے اس کا کوئی رب ہے جو گناہوں کو معاف کرتا ہے اور گناہ پر پکڑ بھی رکھتا ہے لہٰذا اللہ نے اس کو معاف کر دیا۔ اس کے بعد رکا رہا جب تک اللہ نے چاہا اس کے بعد پھر اس نے کوئی دوسرا گناہ کیا اور دعا مانگی راوی کہتے ہیں اس نے پھر دوسرا گناہ کیا اور کہنے لگا اے میرے رب میں نے گناہ کیا ہے تو اس کو میرے لئے معاف کر دے اس کے رب نے کہا میرے بندے نے جان لیا ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو کہ گناہ کو معاف کر سکتا ہے اور اس کے ساتھ پکڑ بھی سکتا ہے لہٰذا اس کو معاف کر دیا۔ اس کے بعد وہ گناہ سے رکا رہا جب تک اللہ نے چاہا اس کے بعد اس نے کسی اور گناہ کا ارتکاب کیا۔ اس نے کہا اے میرے رب میں نے گناہ کیا ہے اس کو میرے لئے معاف کر دے اس کو اس کے رب نے کہا کہ میرے بندے نے یہ جان لیا ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہ کو معاف کرتا ہے اور گناہ پر پکڑتا بھی ہے۔ لہٰذا اس کے رب نے کہا کہ میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا ہے اب جو چاہے وہ عمل کرے اس کو مسلم نے روایت کیا ہے عبداللہ بن حمید سے اس نے ابو الولید سے اور اس کو بخاری نے نقل کیا ہے دوسرے طریق سے ہمام سے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← ابْنُ أَيُّوبَ ← محمد بن غالب و محمد بن يعقوب و يوسف بن يعقوب ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو النَّضْرِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7087

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7088

7088 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو جعفر أحمد بن عبيد الحافظ بهمدان نا إبراهيم بن الحسين نا أبو مسهر عبد الأعلى بن مسهر نا سعيد بن عبد العزيز التنوخي عن ربيعة بن يزيد عن أبي إدريس الخولاني عن أبي ذر الغفاري : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم عن جبرئيل عليه السلام عن الله تبارك وتعالى أنه قال : يا عبادي إني حرمت الظلم على نفسي وجعلته بينكم محرما فلا تظلموا يا عبادي إنكم الذين تخطئون بالليل والنهار وأنا الذي أغفر الذنوب ولا أبالي فاستغفروني أغفر لكم يا عبادي كلكم جائع إلا من أطعمت فاستطعموني أطعمكم يا عبادي كلكم عار إلا من كسوت فاستكسوني أكسكم يا عبادي لو أولكم وآخركم وإنسكم وجنكم كانوا على أتقى قلب رجل منكم لم يزد ذلك من ملكي شيئا يا عبادي لو أن أولكم وآخركم وإنسكم وجنكم كانوا على أفجر قلب رجل منكم لم ينقص ذلك في ملكي شيئا يا عبادي لو أن أولكم وآخركم وإنسكم وجنكم اجتمعوا في صعيد واحد فسألوني فأعطيت كل إنسان منكم ما سأل لم ينقص ذلك من ملكي شيئا إلا كما ينقص البحر أن يغمس في المخيط غمسة واحدة يا عبادي إنما هي أعمالكم أحفظها عليكم فمن وجد خيرا فليحمد الله عز و جل ومن وجد غير ذلك قلا يلومن إلا نفسه قال سعيد أبي عبد العزيز : وكان أبو أويس إذا حدث بهذا الحديث جثا على ركبتيه إعظاما له رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر الصغاني عن علي بن مسهر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر احمد بن عبید حافظ نے ہمدان میں ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو ابو مسہر عبدالاعلیٰ بن مسہر نے ان کو سعید بن عبدالعزیز تنوخی نے ان کو ربیعہ بن یزید نے ان کو ابو ادریس خولانی نے ان کو ابو ذر غفاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نے جبرائیل علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندو! میں نے ظلم کرنے کواپنے اوپر حرام کر رکھا ہے اور اس کو تمہارے درمیان بھی حرام کر دیا ہے لہٰذا تم لوگ ظلم نہ کیا کرو۔ اے میرے بندو! تم لوگ رات دن گناہ کرتے رہتے ہو اور میں وہ ہوں کہ میں گناہوں کو معاف کرتا ہوں اور میں وہ ہوں کہ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ تم لوگ مجھ سے استغفار کرو میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو! تم میں سے ہر شخص بھوکا ہے مگر جس کو میں کھانے کو دوں۔ لہٰذا مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھانے کو دوں گا۔ اے میرے بندو! تم میں سے ہرشخص ننگا ہے مگر جس کو میں کپڑے پہناؤں لہٰذا مجھ سے کپڑے پہننے کے لئے مانگو میں تمہیں پہناؤں گا۔ اے میرے بندو!اگر تمہارا پہلا اور تمہارا آخری (سارے انسان) تمہارے انسان تمہارے جن ایسے ہو جا ئیں جیسے تم میں سے کوئی سب سے بڑا متقی پرہیزگار ہو تو یہ میری حکومت میں کچھ بھی زیادہ نہیں کر سکتے۔ اے میرے بندو اگر تمہارا ہر اول ہر آ خری انسان تمہارے سارے انسان سارے جن بد کردار ہو جائیں جیسے تم میں سے کوئی بدتر فاجر ترین انسان ہو سارے ایسے ہو جائیں تو وہ میری بادشاہت میں کچھ بھی کمی نہیں کر سکتے۔ اے میرے بندو اگر تمہارا ہر پہلا اور ہر پچھلا تمہارے انسان تمہارے جن سارے ایک مٹی پر جمع ہو جائیں اور مجھ سے مانگنا شروع کر دیں اور میں ہر ایک کو دینا شروع کر دوں ہر ایک مانگتا جائے اور میں دیتا جاؤں سب کو اس کی ہر حاجت پوری کر دوں اس سے میری بادشاہت میں کچھ بھی کمی نہیں ہو گی مگر صرف اتنی کہ جتنی سمندر میں صرف ایک بار سوٹی کو ڈبو کر نکال لیا جائے۔ اے میرے بندو سو اس کے نہیں کہ تمہارے اعمال میں کو میں تمہارے لئے محفوظ کرتا ہوں جو شخص خیر کو پا لے اس کو چاہئے کہ وہ اللہ کا شکر کرے اور جو شخص اس کے سوا کچھ اور پا لے وہ نہ ملامت کرے مگر اپنے آپ کو۔ سعید بن عبدالعزیز نے کہا کہ حضرت ابو اویس جب اس حدیث کو بیان کرتے تھے تو اس حدیث کی تعظیم کے لئے دو زانو ہو کر بیٹھ جاتے تھے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ابو بکر صغائی سے اس نے علی بن مسہر سے۔

الله تَبَارَكَ وَتَعَالَى ← جبرئيل ← أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ، ← أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو جعفر أحمد بن عبيد الحافظ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7088

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7089

7089 - و حدثنا أبو الحسن العلوي أنا أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ نا أحمد بن حفص بن عبد الله حدثني أبي حدثني إبراهيم بن طهمان عن الأعمش عن موسى بن المسيب عن شهر بن حوشب عن عبد الرحمن بن غنم عن أبي ذر : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : يقول الله عز و جل : يا بني آدم كلكم مذنب إلا من عفيت فاستغفروني أغفر لكم وكلكم فقير إلا من أغنيت فسلوني أعطكم يا نبي آدم كلكم ضال إلا من هديت فسلوني الهدى أهدكم ومن استغفرني وعلم أني ذو قدرة على أن أغفر له غفرت له ولا أبالي ولو أن أولكم وآخركم وحيكم وميتكم ورطبكم ويابسكم اجتمعوا على قلب أشقى واحد منكم ما نقص ذلك من سلطاني مثل جناح بعوضة ولو أن أولكم وآخركم وحيكم وميتكم ورطبكم ويابسكم اجتمعوا على قلب أتقى واحد منكم ما زادوا في سلطاني مثل جناح بعوضة ولو أن أولكم و آخركم و حيكم و ميتكم و رطبكم و يابسكم سألوني حتى ينتهوا مسألة كل واحد منهم فأعطيتهم ما سألوني ما نقص ذلك مما عندي كغرز غبرة لو غمسها أحدكم في البحر وذلك أني جواد وماجد وأجد عطائي كلام وعذابي كلام إنما أمري لشيء إذا أردته أن أقول له كن فيكون

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الحسن علوی نے ان کو ابو حامد احمد بن محمد بن حسن حافظ نے ان کو احمد بن حفص بن عبداللہ نے ان کو حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن طہمان نے ان کو اعمش نے ان کو موسیٰ بن مسیب نے ان کو شہر بن حوشب نے ان کو عبدالرحمٰن بن غنم نے ان کو ابو ذر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے اولاد آدم ! تم میں سے ہر شخص گنہگار ہے مگر جس کو میں معاف کروں۔ مجھ سے بخشش مانگو میں تمہیں بخش دوں گا تم میں سے ہر شخص فقیر ہے محتاج ہے مگر جس کو میں غنی کر دوں۔ لہٰذا مجھ سے مانگو میں تمہیں عطا کروں گا اے اولاد آدم! تم میں سے ہر شخص گمراہ ہے مگر جس کو میں ہدایت دوں مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ اور جو شخص مجھ سے استغفار کرے گا اور جان لے گا کہ میں قدرت والا ہوں اس پر کہ میں اس کو معاف کروں۔ میں اس کو معاف کر دوں گا۔ اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔اگر تمہارا پہلا اور تمہارا پچھلا تمہارا زند تمہارا مردہ تمہارا خشک تمہارا تر (سب کے سب) جمع ہو جائیں تم میں سے سب سے بڑا بد بخت کے دل پر (یعنی سارے ہی برے ہو جائیں) یہ چیز میری بادشاہت میں مچھر کے پر کے برابر کمی نہیں کریں گے۔ اگر تمہارا پہلا اور پچھلا تمہارا ہر زند ہر مردہ خشک وتر (سب کے سب) کسی سب سے بڑے متقی انسان کے دل پر جمع ہو جائیں تو یہ میری بادشاہت میں مچھر کے پر کے برابر اضافہ نہیں کر سکتے اور تمہارا اول تمہارا آخر زندے مردے سوکھے گیلے جمع ہو کر مجھ سے مانگنا شروع کر دیں حتٰی کہ ہر ایک کے سوال پورے ہو جائیں اور میں سب کو دے کر فارغ ہو جاؤں جو کچھ سب کو دے دوں گا تو اس میں سے اتنی کمی بھی نہ ہو گی جتنا ایک سوئی کو پانی میں ڈبو دینا اگر تم میں سے کوئی آدمی سوئی کو ڈبوکر نکال لے سمندر کے اندر۔ یہ اس لئے ہے کہ میں بہت بڑا سخی ہوں بزرگی والا ہوں۔سب کچھ موجود رکھنے والا ہوں میری عنایت میری بات ہے میرا عذاب میری بات ہے سوائے اس کے نہیں کہ کسی چیز کے لئے میرا حکم جب میں اس کا ارادہ کرتا ہوں تو کہتا ہوں ہو جا پس وہ ہو جاتا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← مُوسَى بْنِ الْمُسَيَّبِ ← الْاَعْمَشِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7089

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7090

7090 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا : نا أبو العباس الاصم نا محمد بن إسحاق نا يونس بن محمد نا عمر بن أبي خليفة حدثني أبو بدر عن ثابت البناني عن أنس بن مالك قال : جاء رجل فقال : يا رسول الله إني أذنب قال : استغفر ربك قال : فاستغفر ثم أعود قال : فإذا عدت فاستغفر ربك ثلاث مرات أو أربعا شك عمر قال : استغفر ربك حتى يكون الشيطان هو المحسور أبو بدر هو يسار بن الحكم البصري

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید بن ابی عمرو نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحاق نے ان کو یونس بن محمد نے ان کو عمرو بن ابو خلیفہ نے ان کو ابو بدر نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں نے گناہ کیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے رب سے استغفار کیجئے اس نے کہا کہ میں استغفار کرتا ہوں اس کے بعد پھر دوبارہ میں گناہ کر بیٹھتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تو دوبارہ گناہ کرے پھر استغفار کر اس شخص نے کہا پھر میں گناہ کر بیٹھا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر استغفار کر تین بار یا چار بار یہی فرمایا۔ عمر کو شک ہے۔اپنے رب سے۔ استغفار کر حتٰی کہ شیطان ناکام و نامراد ہو جائے۔ ابو بدر وہی یسار بن حکم بصری ہے۔

جَاءَ رجل فقَالَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← أَبُو بَدْرٍ؛ ← عُمَرُ بْنُ أَبِي خَلِيفَةَ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7090

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7091

7091 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا هشام بن علي نا عيسى بن إبراهيم الشعيري نا سعيد بن عبد الله نا نوج بن ذكوان أبو أيوب عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : جاء جبير بن الحارث إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله إني رجل مقراف الذنوب إني أتوب ثم أعود ثم أتوب ثم أعود قال : يا جبير عفو الله أكثر من ذنوبك كذا وجدته جبير والصواب حبيب قاله عبد الغني : وفي رواية عبد الغني أنه في حديث رواه أيوب بن ذكوان عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة وفي كتاب شيخنا نوح بن ذكوان أبو أيوب والصواب أخو أيوب و نوح وكلاهما ضعيف والله أعلم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ہشام بن علی نے ان کو عیسیٰ بن ابراہیم شعیری نے ان کو سعید بن عبداللہ نے ان کو نوح بن ذکوان نے ان کو ابو ایوب نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے وہ کہتی ہے کہ جبیر بن حارث رسول اللہ کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ میں بڑا گنہگار ہوں۔ بار بار گناہ کرنے (یا توبہ شکنی کرنے) والا آدمی ہوں۔ میں توبہ کرتا ہوں۔ پھر دوبارہ گناہ کرتا ہوں۔ پھرتوبہ کرتا ہوں۔ پھر گناہ کرتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جبیر اللہ کا معاف کرنا تیرے گناہوں سے زیادہ ہے۔ اسی طرح میں نے اس کو جبیر پایا ہے جب کہ صحیح جو ہے وہ حبیب ہے ان کو عبدالغنی نے کہا ہے اور عبدالغنی کی ایک روایت میں ہے کہ وہ ایک حدیث میں ہے جس کو ایوب بن ذکوان نے روایت کیا ہے ہشام بن عروہ سے اس نے اپنے والد سے اس نے سیدہ عائشہ سے اور ہمارے شیخ کی کتاب میں جو نوح بن ذکوان ابو ایوب کی ہے کہ صحیح اور درست اخو ایوب ونوح ہے اور دونوں ضعیف ہیں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← نوج بن ذكوان أبو أيوب ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← عيسى بن إبراهيم الشعيري ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7091

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7092

7092 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس هو الأصم نا أحمد بن الفضل الصائغ نا آدم نا حماد بن سلمة عن السماك بن حرب عن النعمان بن بشير : ـ { ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة } قال يقول : إذا أذنب أحدكم فلا يلقين بيده إلى التهلكة ولا يقولن لا توبة لي ولكن ليستغفر الله وليتب إليه فإن الله غفور رحيم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو احمد بن فضل صائغ نے ان کو آدم نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو سماک بن حرب نے ان کو نعمان بن بشیر نے۔ (اس آیت کے بارے میں۔) ولا تلقوا بایدیکم والی التھلکۃ اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی آدمی گناہ کرے تو اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالے اور یہ بھی نہ کہے کہ میرے لئے توبہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کو چاہئے کہ اللہ سے استغفار کرے اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرے بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

النعمان بن بشير ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة ← السماك بن حرب ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← آدَمُ، ← أحمد بن الفضل الصائغ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7092

chevron_left Previous
1…567…25
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood