Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7069

7069 - أخبرنا أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن قتادة أنا أبو منصور العباس بن الفضل النضروي الهروي بها نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا عبد العزيز بن محمد عن زيد بن أسلم عن عبد الرحمن البيلماني عن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم : أنه سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول : والذي نفسي بيده ما من إنسان يتوب قبل أن يموت بيوم إلا قبل الله عز و جل توبته قال : فأخبرت بذلك رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فقال : أنت سمعت ذلك منه ؟ قلت : نعم قال : فاشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من إنسان يتوب قبل أن يموت بنصف يوم إلا قبل الله توبته قال : فأخبرت بذلك رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فقال : أنت سمعت ذاك منه ؟ قلت نعم قال : فاشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من إنسان يتوب قبل أن يموت بضحوة إلا قبل الله توبته فأخبرت بذلك رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فقال : أنت سمعت ذلك منه قلت : نعم قال : فاشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من إنسان يتوب قبل أن يغرغر بنفسه في شدقه إلا قبل الله توبته

ہمیں خبر دی ابو نصر بن عمر بن عبدالعزیز بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نے عباس بن فضل نضروی ہروی نے ہرات میں ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو عبدالعزیز بن محمد نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو عبدالرحمٰن بن بیلمانی نے ایک آدمی سے اصحاب رسول میں سے کہ اس سے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کوئی انسان نہیں جو مرنے سے ایک دن قبل توبہ کرے اور اس کی توبہ قبول نہ ہواللہ اس کی توبہ قبول فرماتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے خبر دی اس بارے میں ایک آدمی کو اصحاب رسول میں سے اس نے کہا کیا آپ نے واقعی یہ سنی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے کہا کہ ہی ہاں اس نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں بھی اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے جو بھی شخص موت سے آدھا دن قبل توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کو ایک اور صحابی رسول سے بیان کیا تو اس نے پوچھا کہ کیا آپ نے واقعی اس کو ان سے سنا تھا میں نے کہا جی ہاں وہ بولے کہ میں گواہی دیتا ہوں جو بھی انسان مرنے سے ایک چاشت کا وقت قبل توبہ کرے اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ پھر میں نے اس کو ایک اور صحابی رسول سے بیان کیا تو اس نے پوچھا کہ واقعی تم نے اس کو ان سے سنا تھا میں نے کہا کہ جی ہاں اس نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے جو بھی انسان توبہ کرے اس سے قبل کہ اس کا سانس خرخراہٹ کرے اس کی باچھوں میں اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتے ہیں۔

رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ← عبد الرحمن البيلماني ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو منصور العباس بن الفضل النضروي الهروي بها ← أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن قتادة،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7069

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7070

7070 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن أيوب عن أبي قلابة قال : إن الله عز و جل لما لعن إبليس سأله النظرة فقال : وعزتك لا أخرج من صدر عبدك حتى تخرج نفسه قال وعزتي لا أحجب توبتي عن عبدي حتى تخرج نفسه أو قال : روحه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے ان کو ابو قلابہ نے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب ابلیس کو لعنت کی تو اس نے اللہ سے مہات کا سوال کیا۔ اس کو مہلت دے دی گئی تو اس نے کہا تیری عزت کی قسم ہے میں تیرے بندے کے سینے سے نہیں نکلوں گا یہاں تک کہ تو اس کی روح نکال دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میری عزت کی قسم میں اپنے بندے سے توبہ کو بند نہیں کروں گا یہاں تک کہ اس کی روح نکل جائے۔ نفسہ کہا تھا یا روحہ کہا تھا۔

روحه ← عبدي حتى تخرج نفسه أو ← وعزتي لا أحجب توبتي ← وعزتك لا أخرج من صدر عبدك حتى تخرج نفسه ← إن الله عز و جل لما لعن إبليس سأله النظرة ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7070

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7071

7071 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الخضر بن أبان أنا سيار بن جعفر نا ثابت : بلغنا إن إبليس قال : يا رب إنك خلقت آدم وجعلت بيني وبينك عداوة فسلطني قال قيل له صدورهم مساكن لك قال : رب زدني قال : لا يولد لآدم ولد إلا ولك عشرة قال : رب زدني قال : تجري منه مجرى الدم قال : رب زدني قال : أجلب عليهم بخيلك ورجلك وشاركهم في الأموال والأولاد قال : فشكا آدم إبليس إلى ربه فقال : يا رب إنك خلقت إبليس وجعلت بيني وبينه عداوة وبغضاء وسلطته علي وأنا لا أطيقه إلا بك قال : لا يولد لك ولد وكلت به ملكين يحفظانه من قرناء السوء قال : رب زدني قال : الحسنة بعشر أمثالها قال : رب زدني قال لا أحجب عن أحد من ولدك التوبة ما لم يغرغر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو محمد بن ابو حامد مقری نے دونوں کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے ان کو ثابت نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر پہنچی ہے کہ ابلیس نے کہا تھا اے میرے رب بے شک تم نے آدم کو پیدا کیا اور میرے اور اس کے درمیان دشمنی کر دی لہٰذا مجھ کو اس پر غلبہ اور تسلط دے دے۔ کہتے ہیں کہ ان سے کہا گیا تھا کہ ان کے سینے تیرے ٹھکانے ہیں۔اس نے کہا میرے رب مجھے اور زیادہ واختیار دے۔ فرمایا کہ نہیں پیدا ہو گا آدم کا ایک بیٹا مگر تیرے لئے دس ہوں گے۔ اس نے کہا کہ میرے رب مجھے اور زیادہ اختیار دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو ان میں ایسے چلے گا جیسے ان کا خون پہلے گا۔ اس نے کہا میرے رب جھے اور زیادہ اختیار دے۔ اللہ نے فرمایا کہ تم اپنے گھوڑوں پر سوار دوستوں سے اور پیدل شیطانوں کے دستوں سے حملہ کرنا اور ان کے ساتھ مالوں میں اور اولادوں میں شریک ہو جا کہتے ہیں پھر آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی طرف ابلیس کی شکایت کی اور عرض کی اے میرے رب آپ نے ابلیس کو پیدا کیا اور میرے اور اس کے درمیان دشمنی پیدا کر دی اور بغض اور اس کو آپ نے مجھ پر مسلط کر دیا اور میں اس کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا نگر تیرے ساتھ (یعنی تیری رحمت ونصرت کے ساتھ) اللہ نے فرمایا نہیں پیدا ہو گا تیرا کوئی بیٹا مگر میں اس کے ساتھ دو فرشتے مقرر کروں گا جو اس کی حفاظت کریں گے برے قرینوں سے اور برے ساتھیوں سے۔ آدم نے کہا کہ اے میرے رب میری اور مدد فرما۔ اللہ نے فرمایا کہ تیرے لئے ایک نیکی کے بدلے میں دس نیکیاں ہوں کی آدم نے کہا اے میرے رب میرے لئے اور اضافہ فرما۔ اللہ نے فرمایا کہ میں تیرے کسی بھی بیٹے سے اور تیری اولاد سے توبہ نہیں روکوں گا جب تک اس کوموت کی خرخراہٹ نہ لگ جائے۔

أحد من ولدك التوبة ما لم يغرغر ← لا أحجب ← رَبِّ زِدْنِي، ← الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ← رَبِّ زِدْنِي، ← لا يولد لك ولد وكلت به ملكين يحفظانه من قرناء السوء ← لا أطيقه إلا بك ← يا رب إنك خلقت إبليس وجعلت بيني وبينه عداوة وبغضاء وسلطته علي ← فشكا آدم إبليس إلى ربه ← أجلب عليهم بخيلك ورجلك وشاركهم في الأموال والأولاد ← رَبِّ زِدْنِي، ← تَجْرِي مِنْهُ مَجْرَى الدَّمِ، ← رَبِّ زِدْنِي، ← لا يولد لآدم ولد إلا ولك عشرة ← رَبِّ زِدْنِي، ← قيل له صدورهم مساكن لك ← يا رب إنك خلقت آدم وجعلت بيني وبينك عداوة فسلطني ← ثابت بلغنا إن إبليس ← سيار بن جعفر ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري ← و،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7071

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7072

7072 - أخبرنا محمد بن موسى بن الفضل نا أبو العباس الأصم نا أسيد بن عاصم نا الحسين بن حفص نا سفيان عن يعلى بن نعمان حدثني من سمع ابن عمر يقول : التوبة مبسوطة ما لم يسق ثم قرأ : { إنما التوبة على الله للذين يعملون السوء بجهالة } الآية قال : وهل الحضور إلا السوق

ہمیں خبر دی محمد بن موسیٰ بن فضل نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو اسید بن عاصم نے ان کو حصین بن حفص نے ان کو سفیان نے ان کو یعلی بن نعمان نے ان کو حدیث بیان کی اس نے جس نے سنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے تھے کہ توبہ کشادہ ہے فراخ کی ہوئی ہے جب تک روح نہ کھینچی جائے۔ اس کے بعد انہوں نے یہ آیت پڑھی: انما التوبۃ علی اللہ للذین یعملون السوء بجھالۃ سو اس کے نہیں کہ اللہ پر ہے توبہ قبول کرنا ان لوگوں کے لئے جو برائی کرتے ہیں اور فرمایا کہ نہیں ہے حاضر ہونا مگر روح نکلنا۔

وهل الحضور إلا السوق ← التوبة مبسوطة ما لم يسق ثم قرأ الآية ← ابْنِ عُمَرَ ← مَنْ ← يَعْلَى بْنِ نُعْمَانَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7072

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7073

7073 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو نا أبو العباس الأصم نا إبراهيم بن مرزوق نا أبو عاصم عن عيسى عن ابن أبي نجيح عن مجاهد : ـ { يعملون السوء بجهالة } قال : كل من عصى ربه فهو جاهل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ ہے اور ابو سعید بن ابی عمرو نے وہ دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو ابو عاصم نے ان کو عیسیٰ بن ابی نجیح نے ان کو مجاہد نے کہ یعملون السوء بجھالۃ مجاہد نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ہر وہ شخص جو اپنے رب کی نافرمانی کرے وہ جاہل ہے۔

كل من عصى ربه فهو جاهل ← مجاهد يعملون السوء بجهالة ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← عِيسَى؛ ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7073

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7074

7074 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا إسماعيل بن زكريا عن شيخ من أهل الكوفة قال : سمعت الضحاك بن مزاحم يقول : في قوله : { ثم يتوبون من قريب } قال : كل توبة قبل الموت فهو قريب

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو اسماعیل بن زکریا نے اس کو ایک شیخ نے اہل کوفہ میں سے کہتے ہیں کہ میں نے سنا ضحاک بن مزاحم سے وہ کہتے ہیں اللہ کے اس قول کے بارے میں ثم یتوبون من قریب فرمایا کہ ہر توبہ جوموت سے قبل ہو جائے و قریب ہے۔

كل توبة قبل الموت فهو قريب ← في قوله ثم يتوبون من قريب ← الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ ← شيخ من أهل الكوفة ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7074

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7075

7075 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حمشاذ نا إسماعيل بن إسحاق القاضي نا سليمان بن حرب نا شعبة ح وأخبرنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك رحمه الله أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة عن عمرو بن مرة سمع أبا عبيدة يحدث عن أبي موسى الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله يبسط يده ليتوب مسيء النهار وبالنهار ليتوب مسيء الليل حتى تطلع الشمس من مغربها رواه مسلم في الصحيح عن بندار عن أبي داود

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاذ نے ان کو اسماعیل بن اسحاق قاضی نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو شعبہ نے ’’ح‘‘۔ اور ہمیں خبر دی ابو بکر بن محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو عمرو بن مرہ اس نے سنا ابو عبیدہ سے وہ حدیث بیان کرتے تھے ابو موسیٰ اشعری سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ رات میں اپنا ہاتھ دراز فرماتے ہیں تاکہ دن میں گناہ کرنے والے توبہ کریں اور دن میں ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ رات میں گناہ کرنے والا توبہ کرے یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے گا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے بندار سے اس نے ابو داؤد سے۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبَا عُبَيْدَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← وَأَخْبَرنا أبو بَكْر محمد بن الحَسَن بن فورك ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7075

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7076

7076 - و أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا الحسن بن محمد الزعفراني نا سفيان بن عيينة عن عاصم بن أبي النجود عن زر بن حبيش عن صفوان بن غسان : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن من قبل المغرب لبابا مسيرة عرضه أربعون عاما أو سبعون سنة فتحه الله عز و جل للتوبة يوم خلق السموات والأرض فلا يغلقه حتى تطلع الشمس منه

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو عاصم بن ابو لنجود نے ان کو زر بن حبیش نے ان کو صفوان نے بن غسان نے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ بے شک مغرب کی جانب البتہ ایک دروازہ ہے جس کی چوڑائی کا فاصلہ چالیس سال کی مسافت ہے یا ستر سال فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو توبہ کے لئے کھولا تھا جس دن آسمان وزمین تخلیق کئے تھے اس کو وہ بند نہیں کرے گا حتٰی کہ سورج اس سے طلوع ہو جائے۔

صفوان بن غسان ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← و،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7076

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7077

7077 - أخبرنا الاستاذ أبو بكر محمد بن الحسن الأصولي أنا أبو محمد عبد الله بن جعفر بن أحمد بن فارس الأصبهاني نا أبو بشر يونس بن حبيب بن عبد القاهر نا أبو داود الطيالسي نا شعبة أخبرني عثمان بن المغيرة سمعت علي بن ربيعة الأسدي يحدث عن أسماء أو ابن أسماء الفزاري قال : سمعت عليا يقول : كنت إذا سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم حديثا ينفعني الله تبارك وتعالى بما شاء أن ينفعني قال علي وحدثني أبو بكر وصدق أبو بكر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من عبد يذنب ذنبا ثم يتوضأ ويصلي ركعتين ثم يستغفر الله إلا غفر له ثم تلا هذه الآية : { والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله فاستغفروا لذنوبهم } والآية الأخرى : { ومن يعمل سوءا أو يظلم نفسه ثم يستغفر الله يجد الله غفورا رحيما }

ہمیں خبر دی استاذ ابو بکر محمد بن حسن اصولی نے ان کو ابو محمد عبداللہ بن جعفر بن احمد بن فارس اصفہانی نے ان کو ابو بشر یونس بن حبیب بن عبد القاہر نے ان کو ابو داؤد طیالسی نے ان کو شعبہ نے ان کو عثمان بن مغیرہ نے انہوں نے سنا علی بن ربیعہ اسدی سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں۔ اسماء یا ابن اسماء خزاری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تھا۔ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے فائدہ پہنچاتے تھے جس قدر پہنچاتے تھے۔ علی فرماتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ابو بکر نے اور سچ کہا ابو بکر نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو بھی بندہ کوئی گناہ کرتا ہے اس کے بعد وہ وضو کرتا ہے اور دو رکعت پڑھتا ہے اس کے بعد اللہ سے استغفار کرتا ہے بس اس کے لئے مغفرت ہو جاتی ہے۔اس کے بعد انہوں نے یہ آیت پڑھی: والذین اذا فعلوا فاحشۃ او ظلموا انفسھم ذکروا اللہ فاستغفروا الذنوبھم وہ لوگ جب کوئی گناہ کرتے ہیں یا اپنے اوپر کوئی زیادتی کرتے ہیں تواللہ کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ اور دوسری آیت یہ تلاوت کی:ومم یعمل سوء اویظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفوراً رحیماً جو شخص پر عمل کرے یا اپنے اوپر زیادتی کرے تو اس کے بعد اللہ سے استغفار کرے اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا۔

كُنْتُُ إذَا ← عَلِيًّا ← أسماء أو ابن أسماء الفزاري ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسَدِيِّ ← عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو بِشْرٍ يُونُسُ بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الْقَاهِرِ، ← أبو محمد عبد الله بن جعفر بن أحمد بن فارس الأصبهاني ← الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأُصُولِيُّ،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7077

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7078

7078 - و أخبرنا ابن فورك قال عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا أبو عوانة ح وأخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا يوسف بن يعقوب بن إسماعيل بن حماد بن زيد و زياد بن الخليل أبو سهل التستري قالا نا مسدد بن مسرهد أبو الحسن نا أبو عوانة عن عثمان بن المغيرة عن علي بن ربيعة الأسدي عن أسماء بن الحكم الفزاري قال : سمعت عليا يقول : كنت إذا سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم حديثا ينفعني الله منه بما شاء أن ينفعني وإذا حدثني أحد من أصحابه استحلفته فإذا حلف صدقته وحدثني أبو بكر وصدق أبو بكر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من عبد يذنب ذنبا فيحسن الطهور ثم يقوم فيصلي ركعتين ثم يستغفر الله إلا غفر له ثم قرأ هذه الآية : { والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله فاستغفروا لذنوبهم } الآية

ہمیں خبر دی ابو فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ابو عوانہ نے ’’ح‘‘ ۔ ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو یوسف بن یعقوب بن اسماعیل بن حماد بن زید اور زیاد بن خلیل ابو سہل تستری نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی مسدد بن مسرہد نے ان کو ابو الحسن نے ان کو ابو عوانہ نے ان کو عثمان بن مغیرہ نے ان کو علی بن ربیعہ اسدی نے ان کو اسماء بن حکم فزاری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی سے وہ کہتے تھے کہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا جس سے اللہ مجھے نفع دیتے جو کچھ نفع دینا چاہتے تھے اور جس وقت مجھے حدیث بیان کرتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کوئی ایک تو میں اس سے قسم لیتا تھا جب وہ قسم اٹھا لیتا تو میں اس کو سچا مان لیتا تھا اور مجھے ابو بکر نے حدیث بیان کی اور ابو بکر نے سچ کہا کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے: جوبھی بندہ گناہ کرتا ہے کوئی گناہ پھر وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے اور کھڑا ہو جاتا ہے دو رکعت نماز پڑھتا ہے اس کے بعد اللہ سے معافی مانگتا ہے تواللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دیتے ہیں۔اس کے بعد انہوں نے یہ آیت پڑھی:والذین اذا فعلوا فاحشۃ اوظلموا انفسھم ذکروا اللہ فاستغفروا الذنوبھم (الاٰیۃ)

ابن فورك ← و،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7078

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7079

7079 - و أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي الاسفرايني نا أبو سهل بن زياد القطان نا محمد بن الحسين بن أبي الحنين الكوفي نا إسماعيل بن أبي أويس نا عبد الله بن نافع الصائغ المكي عن أبي المثنى المازني سلمان بن يزيد عن المقبري عن علي بن أبي طالب أنه قال : ما حدثني واحد بحديث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا استحلفته عليه إلا أبو بكر الصديق فإنه لا يكذب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أذنب عبد ذنبا فذكره فتوضأ فصلى ركعتين ثم استغفر الله من ذلك الذنب إلا غفره الله له

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن حمد بن علی اسفرائنی نے ان کو ابو سہل بن زیا دقطان نے ان کو محمد بن حسین بن ابو الحسین کوفی نے ان کو اسماعیل بن ابو اویس نے ان کو عبداللہ بن نافع صائغ مکی نے ان کو ابو المثنی مازنی نے ان کو سلمان بن یزید نے مقبری سے اس نے علی بن ابی طالب سے انہوں نے کہا مجھے کسی ایک نے کوئی حدیث نہیں بیان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مگر میں نے اس سے اس پر قسم لی سوائے ابو بکر صدیق کے بے شک وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں گناہ کرتا کوئی بندہ کوئی گناہ پھر اس کو یاد کرتا ہے تو وضو کر لیتا ہے اور دو رکعت نماز ادا کرتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کے بارے میں توبہ کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دیتے ہیں۔

وَاحِدٌ بِحَدِيثٍ ← مَا ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ ← الْمَقْبُرِيِّ، ← أَبِي الْمُثَنَّى الْمَازِنِيُّ سَلْمَانُ بْنُ يَزِيدَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← محمد بن الحسين بن أبي الحنين الكوفي ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أبو الحسن علي بن محمد بن علي الأسفرايني ← و،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7079

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7080

7080 - أخبرنا علي بن محمد المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا محمد بن أبي بكر نا فضيل بن سليمان ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حمشاذ نا أبو المثنى العنبري و محمد بن أيوب قالا نا عبد الرحمن بن المبارك نا فضيل بن سليمان النميري عن موسى بن عقبة حدثني عبيد الله بن سليمان الأغر عن أبي الدرداء : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : كل شيء يتكلم به ابن آدم فإنه مكتوب عليه فإذا أخطأ خطيئة وأحب أن يتوب إلى الله عز و جل فليأت بقعة رفيعة فليمد يده إلى الله عز و جل ثم يقول : إني أتوب إليك منها لا أرجع إليها أبدا يغفر له ما لم يرجع في عمله ذلك وروي ذلك عن الحسن عن النبي صلى الله عليه و سلم مرسلا

ہمیں خبر دی علی بن احمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کوفضیل بن سلیمان نے ’’ح“۔ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاذ نے ان کو ابو المثنی عنبری نے اور محمد بن ایوب نے ان کوعبدالرحمٰن بن مبارک نے ان کو فضیل بن سلیمان عنبری نے ان کو موسیٰ بن عقبہ نے ان کو عبیداللہ بن سلیمان اغر نے ان کو ابو درداء نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر شئی جو ابن آدم اس کے ساتھ کلام کرتا ہے وہ اس پر لکھی جاتی ہے جب وہ کوئی گناہ کرتا ہے اور پسند کرتا ہے کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں اس سے توبہ کرے اس کو چاہئے کہ وہ اونچی جگہ پر آئے اور اللہ کی طرف اپنے دونوں ہاتھ دراز کرے اس کے بعد کہے میں تیری طرف اس سے توبہ کرتاہوں اور میں اس گناہ کی طرف کبھی بھی دوبارہ نہیں لوٹوں گا اس سے وہ گناہ معاف ہو جائے گا جب تک اس کام کو دوبارہ نہ کرے یہ روایت کیا گیا ہے حسن سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ سُلَيْمَانَ الْأَغَرَّ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← فضيل بن سليمان النميري ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ← أبو المثنى العنبري و محمد بن أيوب ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7080

chevron_left Previous
1…456…25
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood