Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7057

7057 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا عبد الرحمن بن الحسن القاضي نا إبراهيم بن الحسين نا آدم بن أبي إياس نا شعبة قال : وأنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا محمد بن غالب نا عفان بن مسلم نا شعبة نا منصور عن مجاهد عن ابن عباس في هذه الآية : ـ { إلا اللمم } قال : الذي يلم بالذنب ثم يدعه ألا تسمع إلى قول الشاعر : ( إن تغفر اللهم تغفر جما وأي عبد لك لا ألما ) هذا هو المحفوظ موقوف

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم بن ابو الیاس نے ان کو شعبہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر بن اسحاق فقیہ نے ان کو محمد بن غالب نے ان کو عفان بن مسلم نے ان کو شعبہ نے ان کو منصور نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے بارے میں: الا اللمم فرمایا کہ وہ شخص ہوتا ہے جو گناہ کے ساتھ ارادہ کرتا ہے۔ یا گناہ کے ساتھ لگتا ہے اس کے بعد وہ چھوڑ دیتا ہے کیا تم نے شاعر کا قول نہیں سنا: ان تغفر اللھم تغفرجماً وادی عبدلک لا الما اگر تو معاف کرے تو تمام گناہ معاف فرما ورنہ تیرا کون سا بندہ ایسا ہے جس نے کوئی چھوٹا گناہ بھی نہ کیا ہو۔ یہ محفوظ موقوف ہے۔

ابن عباس في هذه الآية إلا اللمم ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7057

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7058

7058 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا مسعود بن عبيد نا معاذ بن المثنى نا محمد بن المنهال نا يزيد بن زريع نا يونس بن عبيد عن الحسن : عن النبي صلى الله عليه و سلم أو عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم في قوله عز و جل : { الذين يجتنبون كبائر الإثم والفواحش إلا اللمم } قال : اللمة من الزنا أن يتوب فلا يعود واللمة من السرقة أن يتوب فلا يعود واللمة من شرب الخمر أن يتوب فلا يعود قال : فقال الحسن : فذلك الإلمام

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید رضی اللہ عنہ نے ان کو معاذ بن مثنٰی نے ان کو محمد بن منہال نے ان کو یزید بن زرایع نے کو یونس بن عبید نے ان کو حسن نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یا ابو ہریرہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کے اس قول کے بارے میں: الذین یجتنبون کبئر الائم والفو احش الا اللمم جو لوگ کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں اور بے حیائی کے کاموں سے سوائے ہلکے گناہ کے۔ زنا سے توبہ یہ ہے کہ توبہ کرے اس کے بعد دوبارہ یہ گناہ نہ کرے۔ اور چوری سے توبہ یہ ہے کہ توبہ کرے اس کے بعد چوری نہ کرے۔شراب نوشی سے توبہ یہ ہے کہ اس سے توبہ کرے پھر شراب نوشی نہ کرے کہتے ہیں کہ حسن نے کہا تھا، یہی ہے المام۔

اللمة من الزنا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ← مسعود بن عبيد ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7058

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7059

7059 - أخبرنا أبو الحسن المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا محمد بن المنهال : فذكره بإسناده غير أنه قال في المواضع الثلاثة : ثم يتوب فلا يعود

ہمیں خبر دی ابو الحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو محمد بن منہال نے پھر اس نے اس کو ذکر کیا ہے اس کی اسناد کے ساتھ سوا اس کے کہ اس نے کہا تینوں جگہوں پر۔ ثم یتوب فلا یعود اس کے بعد توبہ کرے پھر دوبارہ نہ کرے۔

في المواضع الثلاثة ثم يتوب فلا يعود ← محمد بن المنهال فذكره بإسناده غير أنه ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7059

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7060

7060 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو زكريا العنبري نا محمد بن عبد السلام عن ابن مسعود في : قوله عز و جل : { إلا اللمم } قال : زنا العين النظر وزنا الشفتين التقبيل وزنا اليدين البطش وزنا الرجلين المشي ويصدق ذلك الفرج أو يكذبه فإن صدقه بفرجه كان زانيا وإلا فهو اللمم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو زکریا عنبری نے ان کو محمد بن عبد السلام نے ان کو اسحاق بن عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو اعمش نے ان کو ابو الضحٰی نے ان کو مسروق نے ان کو ابن مسعود نے اللہ کے اس قول کے بارے میں الا اللمم فرمایا کہ آنکھ کا زنا دیکھنا اور ہونٹوں کا زنا بوسہ لینا اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا اور پیروں کا زنا چلنا ہے اور ان سب کی تصدیق یا تکذیب شرم گاہ کرتی ہے۔ اگر اپنے شرم گاہ کے ساتھ اس کو سچا بنا دیتا ہے تو وہ زانی ہے اگر شرم گاہ سے گناہ نہیں کرتا تو پھر وہ لمم ہے۔

ابن مسعود في قوله عز و جل إلا اللمم ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7060

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7061

7061 - قال الحليمي رحمه الله : فثبت في بالكتاب والسنة وجوب التوبة إلى الله على كل مذنب وإسراع القلب والإنابة وأن الله تبارك وتعالى يقبل التوبة من عبده ولا يردها عليه والتوبة هي الرجعة ومعنى تاب إلى الله تعالى أي رجع إلى الله فترك نزوعه عن العصيان وعودة إلى الطاعة رجعة وعبر عنها بالتوبة قال : وحد التوبة القطع للمعصية في الحال إن كانت دائمة والندم على ما سلف منها والعزم على ترك العود ثم إن كان الذنب ترك صلاة فإن التوبة لا تصح حتى ينضم إلى الندم قضاء ما فات منها وهكذا إن كان ترك صوما أو تفريطا في زكاة إن كان الرجل مثريا وإن كان ذلك قتل نفس بغير حق فإن تمكن من القصاص إن كان عليه وكان مطلوبا به فإن عفي عنه بمال وكان واجدا له فإنه يؤدي ما عليه وإن كان قذفا يوجب الحد فإن يبذل ظهره للحد إن كان مطلوبا به فإن عفي عنه كفاه الندم والعزم على ترك العود بإخلاص وإن كان حدا من حدود الله تعالى فإذا تاب إلى الله تعالى بالتندم الصحيح قبل أن يرفع إلى الإمام سقط عنه الحد إن رفع إلى الإمام ثم قال : قد تبت لم يسقط عنه الحد وبسط الكلام فيه قلت : وهو منصوص عليه في المحاربين وقد علق الشافعي رحمه الله القول في غير المحاربين بأن الله تعالى إنما ذكر الاستثناء بالتوبة في المحاربين دون غيرهم

شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ کتاب و سنت سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ہر گنہگار پر اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرنا واجب ہے اور اللہ کی بارگاہ میں رجوع کرنا۔ اور کتاب وسنت سے یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ان کی توبہ قول کرتا ہے اس کو ان پر واپس نہیں کرتا۔ اور توبہ کا مطلب رجعت ہےتاب الی اللہ اس نے اللہ کی طرف توبہ کی کا مطلب ہے رجع الی اللہ کہ اس نے اللہ کی طرف رجوع کیا عصیان کے درپے ہونے کو ترک کرنا اور اطاعت کی طرف عود کرنا رجعت ہے اسی مفہوم کو لفظ توبہ سے تعبیر کیا ہے۔ شیخ حلیمی نے فرمایا کہ توبہ کی حد و تعریف معصیت سے اسی حال میں رک جانا اگر یہ دائمی ہو اور ندامت اس پر تو کچھ ہو چکا ہے، اور دوبارہ نہ کرنے کا عزم۔ پھرا گر ذنب و گناہ ہے ترک صلوٰۃ کا توبہ صحیح نہیں ہو سکتی یہاں تک کہ ندامت کے ساتھ ساتھ جو فوت ہو چکی ہے اس کی قضا بھی کرے۔ اور اگر یہ گناہ ترک صوم ہے، یا زکوٰۃ ہمیں کمی ہے اگر مالدار ہے۔ تو ندامت کے ساتھ اس کی تلافی بھی کرے۔ اور اگر یہ گناہ ناحق قتل ہے تو وہ قصاص کی دیت دے اگر اس پر لازم ہو اور اس کا مطالبہ بھی ہو۔ اگر قصاص اس کے مال کے ساتھ معاف کر دیا جاے اور اس کے پاس مال موجود ہو تو یہ شخص وہ مال ادا کر دے جو اس کے ذمے لازم ہو۔ اور یہ گناہ قذف بنی جھوٹی تہمت ہو حد کو واجب کرتا ہے تو حد جاری کرنے کے لئے اپنی پیٹھ حاضر کر دے اگر اس کا مطالبہ کیا جائے۔ اور اگر اس کو متعلقہ انسان کی طرف سے معاف کر دیا جائے تو اس کو ندامت کافی ہے اخلاص کے ساتھ اور دوبارہ نہ کرنے کے عزم کے ساتھ۔ اور یہ گناہ اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے بارے میں ہو۔ تو جس وقت اللہ کی طرف توبہ کر لے نادم ہونے کے ساتھ صحیح ندامت کے ساتھ۔ اس سے پہلے کہ امام اور حاکم کے پاس اسے پہنچایا جائے۔ تو حد اس سے ساقط ہو جائے گی۔ اور اگر امام اور حاکم کی طرف کیس پہنچایا جائے اس کے بعد وہ کہے کہ میں نے توبہ کر لی ہے تو اس صورت میں اس سے حد ساقط نہیں ہو گی۔ شیخ نے اس بارے میں تفصیلی کلام کیا ہے میں کہتا ہوں کہ یہ مسئلہ منصوص علیہ ہے محاربین کے بارے میں۔ تحقیق مشروط اور معلق کیا ہے امام شافعی نے قول کو اس مسئلے میں غیر محاربین میں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے توبہ کے ساتھ استثناء کو ذکر کیا ہے محاربین میں کسی اور کے لئے نہیں کیا۔

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7061

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7062

7062 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا هشام بن علي نا ابن رجاء نا همام عن إسحاق عن أبي المنذر البزار عن أبي أمية رجل من الأنصار : أن سارقا سرق متاعا فوجدوا معه المتاع فاعترف به فأتي به النبي صلى الله عليه و سلم وقال : لا إخالك سرقت ؟ قال : نعم قالها ثلاث مرات فأمر النبي صلى الله عليه و سلم أن يقطع فلما قطع قال : تب إلى الله تعالى فقال : أتوب إلى الله فقال النبي صلى الله عليه و سلم : اللهم تب عليه قلت : هذا السارق باعترافه وجب عليه رد المتاع على صاحبه ولو رجع عن الإقرار سقط عنه القطع لما ورد من التخفيف في حقوق الله عز و جل فلما لم يرجع قطع وأمره بالتوبة من ذنب ودعا له وقد وردت أخبار في أن الحدود كفارات وكأنها إنما تكون كفارات إذا تاب صاحبها بهذا الخبر وغيره وبالله التوفيق 7062 - مكرر ـ قال الحليمي رحمه الله : وإن الذنب من مظالم العباد فلا تصح التوبة منه إلا بأداء الواجب عينا كان أو دينا ما دام مقدورا عليه فإن لم يكن مقدورا عليه فالعزم على أن يؤديه إذا قدر في أعجل وقته وأسرعه وتصح التوبة من كبيرة يتوب عنها دون أخرى من غير جنسها لم يتب عنها كما لا تصح إقامة الحد عليه لأجلها وإن كان عليه حد آخر من غير جنسه وإذا تاب العبد فليس بواجب على الله جل جلاله أن يقبل توبته ولكنه لما أخبر عن نفسه أنه يقبل التوبة عن عباده ولم يخبر أن يخلف وعده علمنا أنه لا يرد التوبة الصحيحة على صاحبها فضلا منه ولا يجب لعباده عليه شيء بحال فليس هو تحت أمر آمر ولا نهي ناه فيلزمه شئ وقوله { كتب ربكم على نفسه الرحمة } وقوله { كان على ربك حتما مقضيا } فمعناه أنه لما قضى ذلك وأخبر به فهو يفعله ولا يخلف وعده وقوله : { إنما التوبة على الله للذين يعملون السوء بجهالة ثم يتوبون من قريب } فمعناه إنما التوبة التي وعد الله قبولها وهو لا يخلف وعده بالقبول منه واقع لا محالة كما يقع الفعل الواجب ممن وجب عليه وقوله ثم يتوبون من قريب فما قبل التوبة قريب قال الله عز و جل في القيامة : { عسى أن يكون قريبا } فإذا كان أجل الجميع قريبا كذلك أجل كل واحد قريب وبيانه فيما

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ہشام بن عالی نے ان کو ا بن رجا ء نے ان کو ھام نے ان کو اسحاق نے ان کو ابو المنذر بزار نے ان کو ابو امیہ نے وہ انصار کے ایک آدمی تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک چور نے چوری کی سامان کی اور وہ سامان سمیت پکڑا گیا اس نے چوری کا اعتراف بھی کر لیا اس کو حضور کی خدمت میں لایا گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہانہ بھائی ہو تیرا کیا تو نے چوری کی تھی۔ اس نے کہا کہ نہیں اس نے تین بار اقرار کیا لہٰذا حضور نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ جب ہاتھ کاٹ دیا گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کہا اب توبہ کیجئے اس نے کہا کہ میں اللہ کی طرف توبہ کرتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ تو اس کی توبہ قبول فرما۔ (امام بہیقی فرماتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ اس چور پر اس کے اقرار کی وجہ سے سامان واپس کرنا واجب ہوا تھا صاحب مال کی طرف اوراگر وہ شخص اقرار سے پھر جاتا اور رجوع کر لیتا تو اس سے ہاتھ کاٹنے کی سزا ساقط ہو جاتی۔ اس وجہ سے کہ جو حقوق اللہ میں تخفیف وارد ہوئی ہے احادیث میں۔ اب جب کہ اس نے انکار نہیں کیا تھا اقرار سے پھر انہیں تھا تو ہاتھ کاٹ دیا گیا اور گناہ سے توبہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اس کے لئے دعافرمائی تھی۔ اور تحقیق اس بارے میں احادیث وارد ہوئی ہیں کہ حدود کفارات ہیں۔ گویا کہ حدود کفارہ بن جاتی ہیں جب اس کے ساتھ وہ انسان توبہ کر لے۔ (مکرر ہے) شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بے شک گناہ بندوں کے مظالم ہیں لہٰذا ان سے توبہ صحیح نہیں ہو سکتی مگر ادا واجب کے ساتھ۔ خواہ وہ معین شئی ہو یا قرض ہو جب تک بندے کی قدرت میں ہو۔ اگر اس پر قدرت نہ رہے۔ تو پھر اس بات کا عزم کرے کہ اس چیز کو ادا کرے گا جب اس پر قادر ہو گا سب سے زیادہ جلدی ترین وقت میں اور کبیرہ گناہ سے توبہ صحیح ہوتی ہے جب کہ ایک گناہ سے توبہ کرے مگر دوسرے کبیرہ گناہ سے توبہ نہ کی ہو جو کہ اس کبیرہ کی جنس کا نہیں ہے بلکہ دوسری قسم کا ہے۔ جیسے کہ نہیں صحیح ہوتا اس پر حد قائم کر نا اسی وجہ سے اگر اس پر دوسری حد بھی لازم ہوئی دوسری قسم سے۔ اور جب بندہ توبہ کرتا ہےتو اللہ تعالیٰ پر واجب نہیں ہے کہ اس کی توبہ قبول کرے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں یہ خبر دی ہے کہ وہ اپنے بندوں سے توبہ قبول کرے اور یہ خبر نہیں دی کہ وہ اپنے وعدے کے خلاف کرے گا تو اس سے ہم نے بیان لیا کہ وہ صحیح توبہ کر نے والے پر واپس رد نہیں کرے گا جو کہ یہ اس کی طرف سے محض مہر بانی ہو گی۔اس کے بندوں کی طرف سے اس کے ذمے کسی حال میں کوئی چیز لازم میں ہے وہ نہ تو کسی امر کر نے والے کے امر کے نیچے ہے اور تابع ہے اور نہ ہی کسی نہی کرنے والے کی رکاوٹ کے تابع ہے کہ اس پر کوئی شئی لازم ہو۔ (پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نے خود جو یہ فرمایا ہے کہ) کتب علی نفسہ الرحمۃ کہ اس نے اپنے اوپر رحمت کو لکھ دیا ہے یعنی فرض ولازم کر دیا ہے۔ اور اسہ طرح یہ حکم ہے۔ وکان علی ربک حتما مقضیا کہ تیرے رب کے اوپر لازم ہے فیصلہ شدی یت وطے شدہ ہے۔ (اس سے تو وجوب ثابت ہوتا ہے۔) اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس بات کا فیصلہ کر دیا ہے اور اس کے ساتھ خبر بھی دے دی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور کرے گا وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا۔ اسی طرح یہ آیت بھی ہے:انما التوبۃ علی اللہ للذین یعملون السوء بجھالۃ ثم یتوبون من قریب یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذمے توبہ قبول کرنالازم ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنی حماقت سے برائی کر بیٹھتے ہیں اس کے بعد وہ تھوڑے ہی وقت میں جلدی توبہ کر لیتے ہیں۔ (اس سے بھی اللہ کے ذمے وجوب ثابت ہوتا ہے) (تو اس کا جواب یہ ہے کہ) اس سے مراد وہ توبہ ہے جس کی قبولیت کا اللہ نے وعدہ فرما رکھا ہے اور وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا اور نہیں کرے کا خلاف بلکہ قبولیت لامحالہ اس کی طرف سے واقع ہو گی جیسےوہ فصل واقع ہوتا ہے جو واجب ہے۔ اس کی طرف سے جس پر واجب ہے۔ باقی رہا اللہ کا یہ قول کہ : ثم یتوبون من قریب تو اس کا مطلب ہے کہ جو کچھ توبہ سے قبل وقت ہے وہ قریب ہے چنانچہ للہ تعالیٰ قیامت کے بارے میں فرماتے ہیں: عسی ان یکون قریباً عین ممکن ہے کہ قیامت قریب ہو (یعنی وہ قریب ہے۔) اس آیت سے ثابت ہوا کہ جب سب کا اجل قریب ہے تو ہر ایک کا اجل بھی قریب ہوا۔ اسی کا بیان مندرجہ ذیل میں ہے۔

أبي أمية رجل من الأنصار ← أبي المنذر البزار ← إِسْحَاقُ ← هَمَّامٌ، ← ابْنُ رَجَاءٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7062

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7063

7063 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو الحسن علي بن أبي علي السقا و أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي و أبو سعيد بن أبي عمرو قالوا نا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا أبو زرعة الدمشقي نا علي بن عباس نا عبد الرحمن بن ثابت عن أبيه عن مكحول عن جبير بن نفير عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله ليقبل توبة العبد ما لم يغرغر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو الحسن علی بن ابو علی سقانے اور ابو بکر احمد بن حسن قاضی نے اور ابو سعید بن ابی عمرو نے ان سب کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابوز رعد دمشقی نے ان کو علی بن عباس نے ان کوعبدالرحمٰن بن ثابت نے ان کو ان کے والد نے ان کو مکحول نے ان کو جبیر بن نضیر نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان اللہ لیقبل توبۃ العبد مالم بغرغر بے شک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک موت کی خر خراہٹ نہ لاحق ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← مَكْحُولٌ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبَّاسٍ، ← أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7063

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7064

7064 - وأخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف بمكة نا أبو بكر بن أبي الموت نا أحمد بن علي بن سهل المروزي نا علي بن الجعد أنا ابن ثوبان ح وأخبرنا عبد الرحمن بن عبيد الله الحرفي ببغداد أنا أبو القاسم حبيب بن الحسن بن داود القزاز نا أبو بكر عمر بن حفص بن عمر نا عاصم نا عبد الرحمن بن ثابت عن ثوبان : فذكره بإسناده مثله غير أنهما قالا : عن النبي صلى الله عليه و سلم ومعناه ما لم تبلغ روحه رأس حلقه و ذلك وقت المفازة التي يرى فيه مقعده من الجنة أو مقعدة من النار وعسى أن يعاين فيه الملك ولعل من بلغ أمره أن يغرغر بروحه لم يقبل في تلك الحال توبته أو لم يتمكن منها فكان هذا القول إشارة إلى أن الله يقبل توبة العبد ما دام يتوب وهو ما لم يغرغر بروحه يمكن أن يتوب فإن تاب قبل توبته قال الحليمي رحمه الله : وقد يجوز أن يحدد وقت التوبة مما هو أبين من هذا وأشبه بقول الله عز و جل : { وليست التوبة للذين يعملون السيئات حتى إذا حضر أحدهم الموت قال إني تبت الآن } وهو أن يقول إن التوبة تقبل ما لم تبطل الدعاوي التي تكون للأحياء إلى ضروب المعاصي فإذا بطلت تلك الدواعي بسقوط القوى وبطلان الشهوات والاستسلام للممات فقد انقضى وقت التوبة ولا ينقضي وقتها بعجز الحي عن بعض المعاصي بما يحول دونها فإنه لا يخلوا مع ذلك من أن تعرض له الدواعي فيقول في نفسه : لو لا العجز لكنت فإذا لم يقله فإن الله تعالى طرحها ما يدعا إليه كان مستديما للتوبة وأما انقطعت الدواعي عنه وانمحت آثارها فلا يبين لتوبته أثر قط لا بالعزم ولا بالفعل فلذلك لم تصح توبته والله أعلم قلت : وقد روينا أخبارا في وقت التوبة وفضلها مع ما فيها من الإشارة إلى سعة رحمة الله عز و جل منها ما

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن فضل بن نظیف نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو بکر بن ابو الموت نے ان کو احمد بن علی بن سہل مروزی نے ان کو علی بن جعد نے ان کو ابن تو بان نے ’’ح‘‘ ۔ اور ہمیں خبر دی ہے عبدالرحمٰن بن عبیداللہ حرفی نے بغداد میں ان کو ابو القاسم حبیب بن حسن بن داؤد قزاز نے ان کو ابو بکر عمر بن حفص بن عمر نے ان کو عاصم نے ان کو عبدالرحمٰن بن ثابت نے ان کو ثوبان نے اس نے اس کو ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل علاوہ ازیں انہوں نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اس حدیث کا مطلب ہے کہ جب تک اس کی روح اس کی حلق کے کنارے نہ پہنچ جائے اور یہ وقت ہوتا ہے اس کامیابی کا جو اس وقت دیکھتا اپنا ٹھکانہ جنت یا جہنم کا اور ممکن ہے کہ اس وقت فرشتوں کوبھی دیکھتا ہو۔ اور شاید کہ وہ شخص جس کا معاملہ یہاں تک پہنچ چکا ہو کہ اس کا روح خرخراہٹ کرے اس حال میں اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی یا اس وقت اس کو اس کی قدرت نہیں دی جائے گی تو گویا کہ یہ قول اور حدیث اشارہ ہے اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کرتا رہتا ہے جب تک وہ توبہ کرتا رہے اور جب تک اس کی روح خرخراہٹ نہ کر ے ممکن ہوتا ہے کہ وہ توبہ کر لے اگرچہ وہ توبہ قبول کر چکا ہو بندے کی توبہ کرنے سے قبل۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اور کبھی جائز ہوتا ہے کہ تو یہ کاوقت محدود کر دیا جائے اس قدر جو اس سے زیادہ واضح ہو اور زیادہ انسب ہو اللہ کے اس قول کے ساتھ:ولیست التوبۃ للذین یعملون السینات حتیٰ اذا حضر احدھم الموت قال انی تبت الاٰن ان لوگوں کے لئے کوئی توبہ نہیں ہے جو برائیاں کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کوموت حاضر ہو جاتی ہے تو کہتا ہے کہ میں اب توبہ کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ کہتے ہیں کہ توبہ قبول کی جاتی ہے جب تک وہ اسباب نہ باطل ہو جائیں جو زندگی کا تقاضا کرتے ہیں معاصی کے اقسام کی طرف۔ جو یہ مقتضیٰ قویٰ کے سقوط، خواہشات کے بطلان اور موت کے آنے کے ساتھ باطل ہو جائیں، تو اس وقت توبہ کرنے کا وقت گزر چکا ہوتا ہے اور ختم ہو چکا ہوتا ہے۔اور توبہ کا وقت ختم نہیں ہوتا زندہ آدمی کے بعض معاصی سے عاجز ہو جانے سے بسبب اس کے جو حائل ہے اس کے آگے دو اس کے باوجود نہیں ہے خالی۔ اس بات سے کہ اس کا اس کے لئے پیش آئیں اور وہ کہے اپنے دل میں اگر عاجزی نہ ہوتی تو میں ہوتا (ایسے) جب بندے نے نہیں کہ تو اللہ تعالیٰ نے اس کو گرا دیا ہے جس کی طرف بلایا جاتا ہے تو ہو گا دائمی طور پر مداومت کرنے والا توبہ کے لئے بہر حال وہ شخص جس کے اندر زندگی کے آثارو دواعی ختم ہو چکے ہوں اور زندگی کے آثار مٹ چکے ہوں اس کی توبہ کے لئے کوئی اثر ونشان ہر گزنہیں ہے نہ عزم و ارادے میں نہ ہی بالفعل اور عملی طور پر ایسی ہے اس کی توبہ صحیح نہیں ہو گی۔ میں کہتا ہوں۔تحقیق ہم نے بہت سی احادیث روایت کی ہیں توبہ کے وقت کے بارے میں اور اس کی فضیات کے بارے میں۔ اور اس چیز کے بارے میں بھی جو ان میں اشارہ ہے اللہ کی رحمت کشادگی کا (بعض ان میں سے یہ ہیں)۔

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7064

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7065

7065 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا محمد بن بشار نا ابن أبي عدي عن شعبة عن قتادة عن أبي الصديق الناجي عن أبي سعيد الخدري : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : كان في بني إسرائيل رجل قتل تسعة وتسعين إنسانا ثم خرج يسأل فأتى راهبا فسأله فقال : هل من توبة ؟ قال : لا فقتلته وجعل يسأل فقال رجل : ائت قرية كذا وكذا فأدركه الموت فناء بصدره نحوها ومات فاختصمت فيه ملائكة الرحمة وملائكة العذاب فأوحى الله إلى هذه أن تقربي وأوحى إلى هذه أن تباعدي قال : فوجدوه أقرب إلى هذه بشبر فغفر له رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن يسار هكذا رواه شعبة ورواه هشام الدستوائي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن مسلمہ نے ان کو محمد بن بشر نے ان کو ابن ابی عدی نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو ابو الصدیق ناحی نے ان کو ابو سعید خدری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا: بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا اس نے ننانوے قتل کر رکھے تھے اس کے بعد اس کو احساس ہواتو توبہ کرنے کے لئے مسئلہ پوچھتا ہوا نکلا ایک راہب کے پاس آیا اس سے پوچھا کہ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے اس نے جواب دیا کہ نہیں ہو سکتی؟ سائل نے اس کو بھی قتل کر دیا (پورے سو قتل کر لئے ) مگر بدستور پھر پوچھنے لگا ایک آدمی نے بتایا کہ فلاں فلاں بستی میں جاؤ (وہاں مسئلہ بتانے والا ہے) وہ چلا مگر وہاں پہنچنے سے قبل موت نے اسے گھیر لیا مگر وہ سینے کے بل آگے گھسنے لگا اس بستی کی طرف (کہ شاید پہنچ جاؤں اور میری مغفرت ہو جائے مگر وہیں پر مر گیا۔ رحمت والے اور عذاب والے فرشتوں نے اس کو لے جانے کے لئے باہم جھگڑا کیا للہ تعالیٰ نے پیچھے والے فاصلہ کو وحی کی تو بڑا ہو جا اور آگے والے سے کہا تو سمٹ جا۔ چنانچہ پیمائش کرنے پر آگے کا فاصلہ ایک بالشت کم نکلا الہٰذا اس کو بخش دیا گیا مسلم نے کو صحیح میں روایت کیا ہے محمد بن یسار سے اسی طرح اور کو روایت کیا ہے شعبہ نے اور ہشام دستوائی نے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7065

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7066

7066 - كما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم الهاشمي نا أحمد بن سلمة نا محمد بن المثنى نا معاذ بن هشام حدثني أبي عن قتادة عن أبي الصديق عن أبي سعيد : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كان ممن قبلكم رجل قتل تسعة وتسعين نفسا فسأل عن أعلم أهل الأرض فدل على راهب فأته فقال : إنه قتل تسعة وتسعين نفسا فهل له من توبة ؟ فقال : لا فقتلته فكمل به المائة ثم سأل عن أعلم أهل الأرض فدل على رجل عالم فأتاه فقال : قتل مائة نفس فهل له من توبة ؟ فقال : نعم ومن يحول بينه وبين التوبة انطلق إلى أرض كذا وكذا فإن بها ناسا يعبدون الله تعلى فاعبد معهم ولا ترجع إلى أرضك فإنها أرض سوء فانطلق حتى إذا أتى نصف الطريق فأتاه الموت فاختصمت فيه ملائكة الرحمة وملائكة العذاب فقالت ملائكة الرحمة جاء تائبا مقبلا إلى الله عز و جل وقالت : ملائكة العذاب إنه لم يعمل خيرا قط فأتاهم ملك في صورة آدم فجعلوه بينهم فقال : قيسوا ما بين الأرضين فإلى أيهما كان أدنى فهو له فقاسوا فوجدوه بينهم أدنى إلى الأرض التي أراد فقبضته ملائكة الرحمة قال قتادة فقال الحسن : ذكر لنا أنه ناء بصدره ورواه مسلم في الصحيح عن محمد بن المثنى وقوله ناء بصدره يحتمل أن يكون مراد به تباعد عن معاصيه وتكره عليها

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے کو ابو الفضل محمد بن ابراہیم ہاشمی نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو محمد بن مثنی نے ان کو معاذ بن ہشام نے ان کو ان کے والد نے ان کو قتادہ نے ان کو ابو الصدیق نے ان کو ابو سعید نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا اس نے ننانوے نفوس کو قتل کر دیا تھا لہٰذا اس نے اہل زمین کے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا اس کو کسی راہب کے بارے میں بتایا گیا وہ اس کے پاس گیا کو بتایا کہ اس نے ننانوے قتل کئے ہیں کیا کی توبہ ہو سکتی ہے؟ اس نے بتایا کہ نہیں ہو سکتی اس نے اس کو بھی قتل کر دیا (پورے سول ہو گئے) اس کے بعد وہ پھر دھرتی پر سب سے بڑے عالم کو پو چھنے لگا جو کو توبہ کی راہ بتائے اس کو ایک اور بڑے عالم کے بارے میں کسی نے بتا یا پھر یہ اس کے پاس پہنچا تو اس نے بتایا کہ ہاں تیری توبہ ہے تیرے اور تیری توبہ کے درمیان کوئی حائل نہیں ہو سکتا فلاں زمین پر جاؤ وہاں کچھ لوگ رہتے ہیں جو کہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو بھی ان کے ساتھ مل کر عبادت کر اور اپنی زمین پر واپس نہ آنا یہ برائی کی زمین ہے۔ وہ چلا گیا جب وہ آدھے راستے پر پہنچا تو اس کی موت کا وقت ہو گیا۔ اس کے بارے رحمت کے فرشتوں نے اور عذاب والے فرشتوں نے جھگڑا کیا۔ رحمت والے فرشتے کہتے تھے کہ یہ توبہ کر کے اللہ کی عبادت کی طرف آ رہا تھا۔ اور عذاب والوں نے کہا کہ اس نے کبھی خیر کا کوئی عمل نہیں کیا تھا بالکل۔ چنانچہ ان کے پاس ایک فرشتہ انسانی صورت میں آیا انہوں نے اس کو اپنے درمیان فیصلہ کرنے والا مقرر کر لیا اس نے کہا۔ دونوں طرف کی زمین کو ناپ لو جس طرف یہ قریب تھا بس اس کو اس طرف کا مان لو چنانچہ انہوں نے ناپا تو اس زمین کی طرف اس کو قریب پایا جس طرف ارادہ کر کے چلا تھا۔ لہٰذا رحمت والے فرشتوں نے اس کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ قتادہ نے کہا کہ حسن نے کہا تھا ہمارے لئے ذکر کیا گیا کہ وہ اپنے سینے ے ساتھ گھسیٹ کر قریب ہوا تھا۔ مسلم نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن مثنٰی سے اور لفظ ناء بصدرہ احتمال رکھتا ہے کہ اس سے مراد ہو تباعد عن معاصیہ کے معاصی سے دور ہو اور کو ناپسند کیا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الصديق ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم الهاشمي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← كَمَا

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7066

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7067

7067 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن مرزوق نا وهب بن جرير نا شعبة عن إبراهيم بن ميمون عن رجل عن الحارث بن كعب ثنا رجل منا فقال : له أيوب قال : سمعت عبد الله بن عمرو يقول : من تاب قبل موته بعام تبت عليه حتى قال شهر حتى قال ساعة حتى قال فواق ناقة قلت : سبحان الله أو لم يقل الله { وليست التوبة للذين يعملون السيئات حتى إذا حضر أحدهم الموت قال إني تبت الآن } قال : إنما حدثتك ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو شعبہ نے ان کو ابراہیم بن میمون نے ایک آدمی سے حارث بن کعب سے ہمیں حدیث بیان کی ہم میں سے ایک آدمی نے اس کو ایوب نے کہاوہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن عمرو سے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص توبہ کر لے اپنی موت سے ایک سال قبل میں اس کی موت قبول کرتا ہوں اسی طرح قریب کرتے کرتے ایک مہینے تک یہاں تک کہ اس نے کہا ایک ساعت پھر پہلے والے کی قبول کرتا ہوں۔ یہاں تک کہ فرمایا فسواق ناقہ (اونٹنی کو دوہتے وقت دھار رکنے کا وقفہ) میں نے کہا سبحان اللہ! کیا اللہ نے فرمایا نہیں ہے (اتنی دیر موت سے پہلے توبہ کر لے وہ بھی قبول ہو گی۔) ولیست التوبۃ یعملون السیئات حتیٰ اذا حضر احدھم الموت قال انی تبت الان ان لوگوں کے لئے توبہ نہیں ہے جو برا عمل کرتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی ایک کی موت آ جاتی ہے کہتا ہے کہ میں ابھی توبہ کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے تو تمہیں وہ حدیث بیان کی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔

رَجُلٌ مِنَّا، ← الْحَارِثِ بْنِ كَعْبٍ، ← رَجُلٌ: ← إبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونَ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7067

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7068

7068 - أخبرنا أبو زكريا بن إسحاق أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون أنا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن عبد الرحمن البيلماني سمعت رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من تاب إلى الله قبل أن يموت بيوم قبل منه قال : فحدثتها رجلا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم آخر فقال : أنت سمعته ؟ قلت : نعم قال : فأشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من تاب إلى الله قبل أن يموت بنصف يوم قبل الله منه قال : فحدثتها رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم آخر قال : أنت سمعته ؟ قلت : نعم قال : فاشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من تاب إلى الله قبل أن يموت بالضحوة قبل الله منه فحدثتها رجلا آخر قال : أنت سمعته ؟ قلت : نعم قال : فاشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من تاب إلى الله قبل أن تغرغر نفسه قبل الله منه ورواه عبد الله بن نافع عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن عبد الرحمن بن البيلماني قال : سمعت عبد الله بن عمرو فذكره

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو ہشام بن سعد نے ان کوزید بن اسلم نے ان کو عبدالرحمٰن بیلمانی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ایک آدمی سے اصحاب رسول میں سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو شخص مرنے سے ایک دن قبل توبہ کر لے اس کی توبہ قبول ہو گی۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث اصحاب رسول میں سے ایک دوسرے آدمی کو بیان کی تو انہوں نے پوچھا کہ کیا تم نے واقعی اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا میں نے کہا کہ جی ہاں انہوں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نا فرما رہے تھے۔ جو شخص مرنے سے نصف دن قبل توبہ کرے اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے ایک اور اصحابی رسول کو بیان کی تو اس نے پوچھا کہ واقعی تم نے رسول اللہ سے سنی تھی میں نے کہا جی ہاں اس۔ کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ سے سنی تھی آپ فرما رہے تھے جو شخص مرنے سے ایک ضحوہ یعنی ایک دن چڑ ھے قبل اللہ کی طرف توبہ کرے اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتے ہیں۔ پھر میں نے ایک اور آدمی کو حدیث بیان کی اس نے پوچھا کہ واقع تم نے یہ رسول اللہ سے سنی تھی اس نے کہا کہ جی ہاں اس نے کہا میں گواہی دیتاہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی فرماتے تھے۔ جو شخص اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرے جب تک کہ موت کی خرخراہٹ نہ رک جائے اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ اس کو روایت کیا عبداللہ بن نافع نے ہشام بن سعد سے اس سے زید بن اسلم سے اس نے عبدالرحمٰن بن بیلمانی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن عمر سے اس نے اسی کو ذکر کیا۔

رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ← عبد الرحمن البيلماني ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7068

chevron_left Previous
12345…25
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood