Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7045

7045 - و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أحمد بن يوسف السلمي نا عبد الرزاق أنا معمر عن همام بن منبه قال : هذا ما حدثنا أبو هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا تحدث عبدي بأن يعمل حسنة فأنا أكتبها حسنة ما لم يعملها فإذا عملها فأنا أكتبها له بعشر أمثالها وإذا تحدثت بأن يعمل سيئة فأنا أغفرها ما لم يعملها فإذا عملها فأنا أكتب له بمثلها رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن رافع عن عبد الرزاق

اور ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکرمحمد بن حسین قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ہمام بن منبہ نے انہوں نے کہا یہ وہ ہے جو ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جب میرا بندہ نیکی کے عمل کا ارادہ کرتا ہے تو میں اس کو ایک نیکی لکھ دیتا ہوں جب تک اس کا عمل نہیں کرتا۔ جب عمل کر لیتا ہے تو میں اس کے لئے اس کی دس مثل لکھتا ہوں اور جب گناہ کا ارادہ کرتا ہے تو میں اس کو بخش دیتا ہوں۔ جب تک اس کا عمل نہیں کر لیتا ہے جب اس کو عمل کر لیتا ہے تو میں اس کے ایک مثل لکھ دیتا ہوں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن رافع سے اس نے عبدالرزاق سے۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7045

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7046

7046 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان نا أحمد بن يوسف نا عبد الرزاق أنا معمر عن همام بن منبه : هذا ما حدثنا أبو هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أحسن أحدكم إسلامه فكل حسنة يعملها تكتب له بعشر أمثالها إلى سبعمائة ضعف وكل سيئة يعملها تكتب له بمثلها حتى يلقى الله عز و جل قال : وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قالت الملائكة : يا رب ذاك عبد يريد أن يعمل سيئة وهو أبصر به قال : ارقبوه فإن عملها فاكتبوها له بمثلها وإن تركها فاكتبوها له حسنة إنه تركها من جرائي رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن رفع عن عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے کو ھمام بن منبہ نے یہ وہ ہے جو ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے اسلام کواچھا کرتا ہے تو ہروہ نیکی جس کا وہ عمل کرتا ہے وہ دس گنا کر کے لکھی جاتی ہے سات سو گنا تک اور ہر گناہ جس کا وہ عمل کرتا ہے اس کے لئے اسی کی مثل لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ کو مل جائے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتوں نے کہا یا رب یا ایسا بندہ ہے جو گناہ کرنے کا ارادہ کر رہا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ خوب دیکھتا ہے اس کو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کا انتظار کرو اور اگر اس کا عمل کر لے تو اس کو لکھ لو اگر اس کو چھوڑ دے تو اس کے لئے ایک نیکی لکھ دو کیونکہ اس نے اس کو ترک کیا ہے میری وجہ سے اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن رافع سے اس نے عبدالرزاق سے۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← همام بن منبه هذا ما ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7046

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7047

7047 - أخبرنا أبو القاسم زيد بن جعفر بن محمد بن علي العلوي أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم نا إبراهيم بن عبد الله العبسي أنا وكيع عن الأعمش عن المعرور بن سويد عن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقول الله تبارك وتعالى : من جاء بالحسنة فله عشرة أمثالها أو أزيد ومن جاء بالسيئة فجزاؤه سيئة مثلها أو أعفو ومن تقرب مني شبرا تقربت منه ذراعا ومن تقرب مني ذراعا تقربت منه باعا رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة عن وكيع وزاد في الحديث ومن أتاني يمشي أتيته هرولة من لقيني بقراب الأرض خطيئة لا يشرك بي شيئا لقيته بمثلها مغفرة

ہمیں خبر دی ابو القاسم زید بن جعفر بن محمد بن علی علوی سے ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ عبسی نے ان کو وکیع نے ان کو اعمش نے ان کو معرور بن سوید نے ان کو ابو ذر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں جو شخص کوئی نیکی لے کر آئے اس کے لئے اس کی دس مثل ہیں یا اس سے بھی زیادہ اور جو شخص برائی لے کر آئے اس کی جزا بری ہے اس کی مشکل یا اس سے بھی کم میں معاف کرتا ہوں اور جو شخص ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے میں ایک ہاتھ قریب ہوتا ہوں اور جو شخص ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے میں ایک قدم قریب ہوتا ہوں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ان کو ابو بکر بن ابی شیبہ نے ان کو وکیع نے اور اس نے حدیث میں زیادہ کیا ہے۔ جو شخص میرے پاس چل کر آتا ہے میں دوڑ کر آتا ہوں اور جو شخص پوری زمین بھری ہوئی گناہوں کی لائے اور میرے ساتھ شرک نہ کرتا ہو، میں اس کے مثل مغفرت لے کر اس کو ملوں گا۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَبْسِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أبو القاسم زيد بن جعفر بن محمد بن علي العلوي

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7047

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7048

7048 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو أنا الحسن بن سفيان نا أبو بكر بن أبي شيبة نا وكيع : فذكره بنحوه وزاد ما ذكرنا وقال : في متنه وأزيد وقال : بدل قوله واعفو وأغفر وقال مسلم : في رواية أبي معاوية عن الأعمش أو أزيد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمرو نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو ابو بکر بن ابی شیبہ نے ان کو وکیع نے اس نے ان کو ذکر کیا ہے مذکور کی مثل۔ اور اس کو زیادہ کیا ہے جس کو ہم نے ذکر کیا ہے اور انہوں نے کہا ہے اس کے متین میں وازید۔ اور واعفو کے بدلے واغفر کہا ہے اور مسلم نے کہا ہے کہ ابو معاویہ کی اعمش سے ایک روایت میں ہے اور ازید۔

الأعمش أو أزيد ← مسلم في رواية أبي معاوية ← بدل قوله واعفو وأغفر ← في متنه وأزيد ← وكيع فذكره بنحوه وزاد ما ذكرنا ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو عَمْرٍو ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7048

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7049

7049 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس هو الأصم نا الربيع بن سليمان نا أسد بن موسى نا مروان بن معاوية أنا جعفر بن الزبير عن القاسم عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صاحب اليمين أمين على صاحب الشمال فإذا عمل العبد بحسنة كتبت بعشر أمثالها وإذا عمل سيئة فأراد صاحب الشمال أن يكتبها قال : صحاب اليمين أمسك فيمسك ست ساعات أو سبع ساعات فإن استغفر الله منها لم يكتب عليه شيئا وإن لم يستغفر الله كتبت عليه سيئة واحدة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان دونوں کو ابو العباس اصم نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو اسد بن موسیٰ نے ان کو مروان بن معاویہ نے ان کو جعفر بن زبیری نے ان کو قاسم نے کو ابو امامہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دائیں ہاتھ والا فرشتہ امین ہے بائیں ہاتھ والے پر جب بندہ کوئی نیکی کا عمل کرتا ہے تو کو اس کی دس مثل لکھتا ہے اور جب کوئی برا عمل کرتا ہے اور بائیں ہاتھ والا فرشتہ اس کو لکھنا چاہتا ہے، تو دائیں ہاتھ والا کہتا ہے کہ ابھی رک جا لہٰذا وہ چھ یا سات ساعات تک رک جاتا ہے اگر اس کے بارے میں اللہ سے استغفار کرتا ہے تو اس پر وہ کچھ بھی نہیں لکھتا اور اگر استغفار نہیں کرتا تو صرف ایک گناہ لکھ دیتا ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7049

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7050

7050 - أخبرنا أبو الحسن علي بن عبد الله الخسروجردي أنا أبو بكر أحمد بن إبراهيم الإسماعيلي أخبرني الحسن بن علي بن سلمان نا إسماعيل بن عيسى العطار نا المسيب بن شريك عن بشر بن نمير عن القاسم عن أبي أمامة : فذكر هذا الحديث بمعناه مرفوعا

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن عبداللہ خسرو گردی نے ان کو ابو بکر احمد بن ابراہیم اسماعیلی نے ان کو خبر دی حسن بن علی بن سلیمان نے ان کو اسماعیل بن عیسیٰ عطار نے ان کو مسیب بن شریک نے ان کو بشر بن نمیر نے ان کو قاسم نے ان کو ابو امامہ نے پھر انہوں نے ذکر کیا اس حدیث کواس کے معنی میں بطور مرفوع۔

أبي أمامة فذكر هذا الحديث بمعناه مرفوعا ← الْقَاسِمِ، ← بِشْرِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْمُسَيَّبُ بْنُ شَرِيكٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عِيسَى الْعَطَّارُ ← الحسن بن علي بن سلمان ← أبو بكر أحمد بن إبراهيم الإسماعيلي ← أبو الحسن علي بن عبد الله الخسروجردي،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7050

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7051

7051 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك نا عبد الكريم بن الهيثم نا أبو اليمان و أخبرنا أبو الحسين محمد بن الحسين العلوي أنا عبيد الله بن إبراهيم بن بالويه المزكي نا محمد بن يحيى الإسفرايني نا أبو اليمان الحكم بن نافع نا إسماعيل بن عياش عن عاصم بن رجاء بن حيوة عن عروة بن رويم عن القاسم عن أبي أمامة : عن النبي صلى الله عليه و سلم : إن صاحب الشمال ليرفع القلم ست ساعات وفي رواية أبي عبد الله سبع ساعات عن العبد المسلم المخطئ المسيء فإن ندم واستغفر منها ألقاها عنه وإلا كتبت واحدة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوعمرو عثمان بن احمد بن سماک نے ان کو عبد الکریم بن ہیثم نے ان کو ابو الیمان نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین محمد بن حسین علوی نے ان کوعبیداللہ بن ابراہیم بن بالوینہ مزکی نے ان کو محمد بن یحییٰ اسفرائنی نے ان کو ابو الیمان حکم بن نافع نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو عاصم بن رجاء بن حیوۃ نے ان کو عروہ بن رویم نے ان کو قاسم نے ان کو ابو امامہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بے شک بائیں ہاتھ والا فرشتہ البتہ قلم اٹھا لیتا ہے چھ ساعات تک (مشین نہیں کہتا) اور ابو عبداللہ کی ایک روایت میں ہے سات ساعات۔ بندے مسلم سے جو خطا کرنے والا گنہگار اگر وہ نادم ہو جائے اور اس سے استغفار کرے تو حذف کر دیتا ہے اس کو ورنہ ایک گناہ لکھ دیتا ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ← عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو الْيَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ ← محمد بن يحيى الإسفرايني ← عبيد الله بن إبراهيم بن بالويه المزكي، ← أبو الحسين محمد بن الحسين العلوي ← أبو اليمان و ← عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7051

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7052

7052 - أخبرنا أبو يعلى حمزة بن عبد العزيز أبو إسحاق إبراهيم بن أحمد الراوي أبو بكر محمد بن سليمان الباغندي نا سليمان يعني ابن سلمة الخبائري نا الوليد بن مسلم نا الأوزاعي عن عطاء عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من استفتح أول نهاره وختمه بالخير قال الله عز و جل لملائكته : ألغوا لا تكتبوا على عبدي ما بين ذلك من الذنوب

ہمیں خبر دی ابو یعلیٰ عمزہ بن عبدالعزیز نے ان کو ابو اسحاق ابراہیم بن احمد راوی نے ان کو ابو بکر محمد بن سلیمان باغندی نے ان کو سلیمان نے یعنی ابن سلمہ خبائری نے ان کو ولید بن مسلم نے ان اوزاعی نے ان کوعطاء نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے دن کو شروع کرے خیر کے ساتھ اور آخر کو ختم کرے خیر کے ساتھ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہتا ہے ضائع کر دو (بیچ میں جو کچھ کیا اس نے ہے) نہ لکھو میرے بندے کے خلاف اس کے درمیان جو گناہ ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيَّ،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7052

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7053

7053 - أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الرحمن بن محمد بن محبور الدهان قال : نا أبي نا زكريا بن دلويه نا العلاء بن عمرو التيمي نا بشر بن أحمد نا محمد بن إسحاق بن إبراهيم الثقفي نا زياد بن أيوب نا مبشر بن إسماعيل عن تمام بن نجيح عن الحسن عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من حافظين يرفعان إلى الله عز و جل ما حفظا من ليل أو نهار فيجد الله في أول الصحيفة وفي آخرها خيرا إلا قال للملائكة : أشهدكم إني قد غفرت لعبدي ما بين طرفي الصحيفة وفي رواية الدهان ما حفظا في أول صحيفتهما خيرا وآخرها خيرا إلا قال الله عز و جل : أشهدكم ملائكتي إني قد غفرت له لما بين طرفي الصحيفة

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن محمد بن عبدالرحمٰن بن محمد بن مجبور دہان نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہمارے والد نے ان کو زکریا بن دلویہ نے ان کو علاء بن عمرو تیمی نے ان کو بشر بن احمد نے ان محمد بن اسحٰق بن ابراہیم ثقفی نے ان کو زیاد بن ایوب نے ان کو مبشر بن اسماعیل نے ان کو تمام بن نجیح نے ان کو حسن نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دونوں اعمال کو محفوظ کرنے والے فرشتے رات یا دن کے جو کچھ اعمال کو محفوظ کر کے اوپر اللہ کی طرف جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس دن رات کے صحیفے کو اس طرح پاتا ہے کہ اس کے اول میں یا آخر میں کوئی اچھا اور خیر کا عمل ہوتا ہےتو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو کہتا ہے کہ میں نے تمہیں گواہ کر دیا ہے کہ میں نے اپنے بندے کے وہ گناہ بخش دیئے ہیں جو صحیفے کے دونوں سروں کے بیچ میں ہیں۔ اور دھان کی ایک روایت میں ہے کہ فرشتے جو کچھ محفوظ کرتے ہیں ان میں سے صحیفوں کے اول میں یا آخر میں اللہ کرکسی خیر ے عمل کود یکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے میرے فرشتو میں تمہیں گواہ کرے کہتا ہوں کہ میں نے اس کے وہ گناہ معاف کر دیئے ہیں جو صحیفے سے دونوں کناروں کے درمیان ہیں۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← تمام بن نجيح ← مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الثَّقَفِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ ← العلاء بن عمرو التيمي ← زكريا بن دلويه ← أَبِي ← أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الرحمن بن محمد بن محبور الدهان

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7053

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7054

7054 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو عثمان بن أحمد السماك نا الحسن بن عمرو سمعت بشر بن الحارث يقول : إذا صعد الملكان أو قال الملك بعمل العبد قال : انظروا فإن كان في أوله ذكر وفي آخره ذكر فدعوا له ما بينهما قلت : ويشبه أن يكون حديث الخبائري أو تمام بن نجيح بلغه أو حديثا آخر لم يحضرنا فقال هذا والحديث المرفوع في ذلك فيه نظر والله أعلم

ہمیں خبر دی ابو الحس بن بن بشران نے ان کو ابو عمرو عثمان بن احمد سماک نے ان کو حسن بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے بشر بن حارث سے وہ کہتے ہیں کہ جب دونوں فرشتے اوپر کو چڑھتے ہیں یا کہا تھا کہ فرشتہ نے چڑھتا ہے بندے کے عمل کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو اگر اس سے اول میں اللہ کاذکر ہو اور آخر میں بھی ذکر ہو تو اس کے وہ گناہ چھوڑ دو جو درمیان میں ہیں۔ میں کہتا ہوں مناسب ہے کہ حدیث خبائری یا حدیث تمامہ بن نجیح ان کو پہنچی ہو یا دوسری حدیث جو ہمیں نہیں پہنچی اس لئے انہوں نے یہ بات کہی ہو۔ اور حدیث مرفوع جو اس بارے میں اس میں بحث ہے۔ واللہ اعلم۔

وَفِي آخِرِهِ ← انظروا فإن كان في أوله ← الْمَلَكُ بِعَمَلِ الْعَبْدِ، ← إِذَا صَعِدَ الْمَلَكَانِ، أَوْ ← بِشْرُ بْنُ الْحَارِثِ ← الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، ← أبو عمرو عثمان بن أحمد السماك ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7054

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7055

7055 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن سنان ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا أبو قلابة نا أبو عاصم نا زكريا بن إسحاق عن عمرو بن دينار عن عطاء عن ابن عباس في قوله : ـ { إلا اللمم } قال : هو أن يأتي الرجل الفاحشة ثم يتوب منها قال : وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إن تغفر اللهم تغفر جما وأي عبد لك لا ألما ) وفي وراية ابن سنان اللهم إن تغفر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن سنان نے’’ح‘‘۔ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو ابو عاصم نے ان کو زکریا بن ابو اسحاق نے ان کو عمرو بن دینار نے ان کو عطاء نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اللہ کے اس قول کے بارے میں الا اللھم (سوائے جھوٹے گناہ کے۔) ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ غم یہ ہے کہ آدمی گناہ کا ارتکاب کرے اس کے بعد اس سے توبہ کر لے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: ان تغفر اللھم تغفر جما وای عبادلک لا الما اگر تو معاف کرے تو اے اللہ تو مجموعی گناہ معاف فرماتا ہے۔ ورنہ کون سا بندہ تیرا ایسا ہے جس نے تیرا چھوٹا گناہ بھی نہیں کیا۔ اور ابن سنان کی ایک روایت میں ہے اللھم ان تغفر ۔

هو أن يأتي الرجل الفاحشة ثم يتوب منها ← ابن عباس في قوله إلا اللمم ← عَطَاءٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ← و، ← مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7055

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7056

7056 - أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الرحمن بن محمد بن محبور الدهان نا أبو حامد أحمد بن محمد بن يحيى بن بلال البزار نا أبو الأزهر نا روح بن عبادة عن زكريا عن عمرو بن دينار عن عطاء عن ابن عباس في : قول الله عز و جل : { الذين يجتنبون كبائر الإثم والفواحش إلا اللمم } قال : هو الرجل يصيب الفاحشة يلم بها ثم يتوب منها قال : وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم إن تغفر جما وأي عبد لك لا ألما وروي هذا عن ابن عباس موقوفا كما

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن محمد بن عبدالرحمٰن بن محمد بن محبور دھان نے ان کو ابو حامد احمد بن محمد بن یحییٰ بن بلال بزار نے ان کو ابو الازھر نے ان کو روح بن عبادہ نے ان کو زکریا نے عمرو بن دینار سے اس نے عطاء سے اس نے ابن عباس سے اللہ کے اسی قول کے بارے میں: الذین یجتنبون کبائر الائم والفوا حش الا اللھم جو بڑے گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں اور بے حیائیوں سے سوائے غم کے یعنی معمولی گناہوں کے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سیدہ آدمی ہوتا ہے جو بے حیائی کو پہنچتا ہے اس کا ارتکاب کر لیتا ہے اس کے بعد اس سے توبہ کر لیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اے اللہ اگر تو معاف کرتا ہے تو سب گناہ معاف فرما اور کون سا بندہ تیرا ہے جس نے کوئی چھوٹے سے چھوٹا گناہ نہیں کیا اور یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بطور موقوف روایت مروی ہے

ابن عباس في قول الله عز و جل ← عَطَاءٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← زَکَرِیَّا، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أبو حامد أحمد بن محمد بن يحيى بن بلال البزار ← أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الرحمن بن محمد بن محبور الدهان

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7056

chevron_left Previous
1234…25
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood