Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7309

7309 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الجبار نا أبو معاوية عن يحيى بن سعيد وأنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال البزاز نا محمد بن يحيى نا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن يحيى بن سعيد عن القاسم بن محمد قال : سأل رجل ابن عباس فقال : رجل كثير العمل كثير الذنوب ورجل قليل العمل قليل الذنوب فقال ابن عباس : لا أعدل بالسلامة شيئا ورواية أبي معاوية قال عن ابن عباس قال : سأله رجل فقال : أيهما أعجب إليك رجل كثير العمل كثير الذنوب ورجل قليل العمل قليل الذنوب فقال ابن عباس ما أعدل بالسلامة شيئا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال بزار نے ان کو محمد بن یحییٰ نے ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کو سفیان نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو قاسم بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا ایک آدمی کے عمل کثیر ہیں اور گناہ بھی کثیر ہیں دوسرا آدمی ہے اس کے عمل قلیل ہیں اور گناہ بھی قلیل میں (کون سا اچھا ہے) ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں سلامتی کے برابر کسی شے کو قرار نہیں دیتا اور ابو معاویہ کی ایک روایت میں ہے حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ان سے ایک آدمی نے پوچھا دونوں میں سے کون زیادہ پسندیدہ ہے تیرے نزدیک ایک آدمی کے عمل زیادہ ہیں اور گناہ بھی زیادہ دوسرے کے عمل کم ہیں اور گناہ بھی کم ہیں۔ ابن عباس نے فرمایا میں سلامتی کے برابر کسی شئی کونہیں سمجھتا۔

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 7309

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7310

7310 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا أحمد بن علي الخزاز نا إسماعيل بن خليلاي نا علي بن مسهر عن يوسف بن ميمون عن عطاء عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سره أن يسبق الدائب المجتهد فليكف عن الذنوب

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو احمد بن علی خزاز نے ان کو اسماعیل بن خلیلای نے ان کو علی بن مسہر نے ان کو یوسف بن میمون نے ان کو عطاء نے ان کو عائشہ نے وہ کہتی ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو یہ بات اچھی ہے کہ ہمیشہ سعی و کوشش میں سبقت کرتا رہے اس کو چاہئے کہ وہ گناہوں سے باز آ جائے۔

عَائِشَةَ ← عَطَاءٍ، ← يوسف بن ميمون ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← إسماعيل بن خليلاي ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 7310

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7311

7311 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا حامد بن محمد الهروي نا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن إبراهيم بن الفضل المروزي ببغداد نا سويد بن سعيد نا علي بن مسهر : فذكره بإسناده مثله تفرد به يوسف بن ميمون وهو منكر الحديث

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان حامد بن محمد ہروی نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحاق بن ابراہیم بن فضل مروزی نے بغداد میں ان کو سوید بن سعید نے ان کو علی بن مسیب نے اس نے اس حدیث کوذ کر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ مذکور کی مثل۔ اس روایت میں یوسف بن میمون منفرد ہے۔ اور وہ منکر الحدیث ہے۔

سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو بكر أحمد بن إسحاق بن إبراهيم بن الفضل المروزي ببغداد ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 7311

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7312

7312 - أخبرنا أبو سعيد الصيرفي أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني علي بن أبي مريم عن محمد بن سعيد عن أشعث بن شعبة قال : قال ابن عون لا تثق بكثرة العمل فإنك لا تدري تقبل منك أم لا ولا تأمن ذنوبك فإنك لا تدري هل كفرت عنك أم لا إن عملك عنك مغيب ما تدري ما الله صانع فيه أيجعله في سجين أم يجعله في عليين

ہمیں خبر دی ابو سعید صیرفی نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابی الدنیا نے ان کو علی بن ابی مریم نے ان کو محمد بن سعید نے ان کو اشعث بن شعبہ نے وہ کہتے ہیں کہ ابن عون نے کہا کہ کثرت عمل پر یقین نہ کر ، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ وہ تم سے قبول کئے جائیں گے یا نہیں اور اپنے گناہوں سے بھی بے خوف نہ رہ کیونکہ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ وہ تم سے مٹائے جا ئیں گے یا نہیں۔ تیرے اعمال تیری نظروں سے اوجھل ہیں تم نہیں جانتے کہ اللہ ان کے بارے میں کیا فیصلہ کرنے والا ہے کیا وہ ان کو علیین میں رکھے گا یا سجین میں۔

أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أبو سعيد الصيرفي،

Hadith 7312

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7313

7313 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي سمعت أبي يقول : كنت في حلقة الشبلي : فنظر إلي وإلى ضعفي فرفع يديه داعيا وقال : ( ها أن مددت يدي إليك فردها بالوصل لا بشماتة الحساد )

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے سنا اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ کے حلقے میں بیٹھا تھا انہوں نے میری طرف اور میری ضعیفی کی طرف دیکھا اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیئے اور کہا: ھاان مددت یدی الیک فردھا بالوصل یابشماتۃ الحساد اے میرے مالک میں نے تیری طرف اپنے ہاتھ اٹھائے ہیں اب تو ان کو حاسدوں کے خوش کرنے کے ساتھ نہ واپس لوٹا بلکہ اصل و کامیابی کے ساتھ لوٹا۔

كنت في حلقة الشبلي فنظر إلي وإلى ضعفي فرفع يديه داعيا ← أَبِي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 7313

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7314

7314 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : قرأت بخط أبي عمرو المستملي سمعت أبا أحمد بن محمد بن عبد الوهاب يقول : سمعت أبا المساور محمد بن عبد الجبار العبدي النيسابوري يقول : سمعت الأصمعي بنيسابور سمعت المعتمر يقول : إن من أفضل العصمة أن لا تقدر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو عمرو مستملی کی تحریر کے ساتھ پڑھا انہوں نے سنا ابو احمد محمد بن عبدالوہاب سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو المساور محمد بن عبد الجبار عبدی نیساپوری سے انہوں نے سنا اصمعی سے نیساپور میں انہوں نے سنا معتمر سے وہ کہتے تھے۔ ان من افضل العصمۃ لا تقدر بے شک افضل عصمت اور افضل طریقے سے گناہ سے بچنا یہ ہے تو گناہ پر قدرت ہی رکھے۔ گناہ پر قادر ہی نہ ہو۔

إن من أفضل العصمة أن لا تقدر ← الْمُعْتَمِرُ، ← الأصمعي بنيسابور ← أبا المساور محمد بن عبد الجبار العبدي النيسابوري ← أبا أحمد بن محمد بن عبد الوهاب ← بخط أبي عمرو المستملي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 7314

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7315

7315 - أخبرنا أبو سعيد الصيرفي أنا أبو عبد الله الصفار نا ابن أبي الدنيا حدثني محمد بن إدريس نا عبد الصمد بن محمد قال : كتب محمد بن يوسف الأصبهاني إلى بعض إخوانه أما بعد فإن الدنيا دار عصمة الله أو الهلكة والآخرة دار عفو الله أو النار 7315 - مكرر ـ قال ونا ابن أبي الدنيا نا سويد بن سعيد نا الحكم بن سنان قال : كان مالك بن دينار يقول : اللهم أصلحت الصالحين فأصلحنا حتى نكون صالحين

ہمیں خبر دی ابو سعید صیرفی نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابن ابی الدنیا نے ان کو محمد بن ادریس نے ان کو عبد الصمد بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ محمد بن یوسف اصفہانی نے اپنے بعض بھائیوں کو لکھا۔ اما بعد بے شک دنیا اللہ کی عصمت و حفاظت کا گھر ہے یا ہلاکت کا ہے اور آخرت اللہ کی معافی کا اور درگزر کرنے کا گھر ہے ، یا آگ کا گھر ہے۔ (مکر رہے) کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ان ابی الدنیا نے ان کو سعید بن سعید ان کو حکم بن سنان نے وہ کہتے ہیں کہ مالک بن دینار کہتے تھے۔ اے اللہ تو نے نیک صالح لوگوں کی اصلاح فرمائی تھی اب ہماری بھی اصلاح فرما تاکہ تم بھی صالحین میں سے بن جائیں۔

Hadith 7315

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7316

7316 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن جعفر البغدادي أبو بكر الحافظ نا الحسين بن عبد الله بن سعيد العسكري نا أبو القاسم ابن أخي زرعة نا محمد بن إسحاق بن راهويه نا أبو عمار عن الفضل بن موسى قال : كان الفضيل بن عياض شاطرا يقطع الطريق بين أبيورد و سرخس و كان سبب توبته أنه عشق جارية فبينما هو يرتقي الجدران إليها إذ سمع تاليا يتلو : { ألم يأن للذين آمنوا أن تخشع قلوبهم لذكر الله } قال : فلما سمعها قال : بلى يا رب قد آن فرجع فآواه الليل إلى خربة وإذا فيها سابلة فقال بعضهم : نرتحل وقال بعضهم : حتى نصبح فإن فضيلا على الطريق يقطع علينا قال : ففكرت وقلت : أنا أسعى بالليل في المعاصي وقوم من المسلمين ههنا يخوفونني وما أرى الله ساقني إليهم إلا لأرتدع اللهم إني قد تبت إليك وجعلت توبتي مجاورة البيت الحرام

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو محمد بن جعفر بغدادی نے ان کو ابو بکر حافظ نے ان کو حسین بن عبداللہ بن سعید عسکری نے ان کو ابو القاسم ابن اخی زرعہ نے ان کو محمد بن اسحاق بن راہویہ نے ان کو ابو عمار نے ان کو فضل بن موسیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ فضیل بن عیاض (پہلے پہلے) تیز اور شاطر آدمی تھے مقام ابیورد اور سرخس کے درمیان راہ گیروں کولوٹتے تھے۔ان کی توبہ کا سبب یہ بنا تھا کہ کسی لڑکی پر عاشق ہو گئے تھے ایک مرتبہ وہ اس کی طرف جانے کے لئے دیوار پھلانگ رہے تھے کہ اچانک آواز ان کے کان میں پڑی کہ کوئی تلاوت کرنے والا تلاوت کر رہا تھا:الم یان للذین اٰمنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ کیا ایمان والوں کے لئے ابھی تک وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد کے لئے جھک جائیں۔ کہتے ہیں کہ اس نے جب یہ آواز سنی تو پکاراٹھے:بلٰی یا رب قدان جی ہاں میرے مالک وہ وقت آ گیا ہے۔ لہٰذا وہیں سے واپس لوٹ آئے۔ لہٰذا رات کو کہیں ویرانے میں پہنچے وہاں پر بارش سے چھپ کر کچھ لوگ بھی پڑے ہوے تھے کچھ کہہ رہے تھے کہ ابھی کہیں نکل چلتے ہیں اور کچھ کہہ رہے تھے کہ صبح کو چلیں گے، ورنہ فضیل ہمیں ڈاکہ مار کر لوٹ لے گا۔ فضیل کہتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ میں رات بھر گناہوں میں دوڑتا ہوں ، اور یہاں پر مسلمان لوگ مجھ سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ نے مجھے ان لوگوں تک اس لئے پہنچا دیا ہے کہ میں (اپنے کانوں سے سنوں) اور میں اب باز آ جاؤں۔ پھر دعا کی:اللھم انی قدتیت الیک وجعلت توبتی مجاورۃ البیت الحرام اے اللہ میں نے تیری بارگاہ میں توبہ کر لی ہے اور میں نے اپنی توبہ بیت اللہ کے مجاور بننے کو بنایا ہے۔

الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ← أبو القاسم ابن أخي زرعة ← الحسين بن عبد الله بن سعيد العسكري ← محمد بن جعفر البغدادي أبو بكر الحافظ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 7316

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7317

7317 - وحدثنا أبو سعد الزاهد نا أبو الفضل أحمد بن أبي عمران بمكة نا أبو يعقوب البزار نا محمد بن حاتم السمرقندي نا أحمد بن زيد نا حسين بن الحسن قال : سئل ابن المبارك يا أبا حاضر عن هذه فقال : إني كنت يوما في بستان وأنا شاب مع جماعة من أترابي ذلك في وقت الفواكه فأكلنا وشربنا وكنت مولعا بضرب العود فقمت في بعض الليل وإذا بغصن يتحرك على رأسي فأخذت العود لأضرب به فإذا أنا بالعود ينطق ويقول : { ألم يأن للذين آمنوا أن تخشع قلوبهم لذكر الله } قال : فضربت بالعود الأرض فكسرته وصرفت ما عندي من جميع الأمور التي كنت عليها مما تشغل عن الله عز و جل وجاء التوفيق من الله تعالى وكان ما سهل لنا من الخير بفضله وبرحمته

ہمیں حدیث بیان کی ابو سعد زاہد نے ان کو ابو الفضل احمد بن ابو عمران نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو یعقوب بزار نے ان کو محمد بن حاتم سمر قندی نے ان کو احمد بن زید نے ان کو حسین بن حسن نے وہ کہتے ہیں کہ اے ابو حاضر ہمیں بتائیے آپ اس مقام پر کیسے آئے۔ بتایا کہ ایک دن میں ایک باغ میں اپنے ہم عمروں کے ساتھ بیٹھا تھا اور میں جوان آدمی تھاباغ میں پھل پکنے کا زمانہ تھا ہم نے خوب کھایا پیا اور میں طبلہ سارنگی اور بانسری بجانے کا بڑا شوقین تھا میں رات کے بعض حصے میں اٹھا اچانک دیکھا تو ایک ٹہنی میرے سر کے پاس حرکت کر رہی ہے میں نے سارنگی اٹھائی تاکہ میں اس کے ساتھ طبلہ بجاؤں گا میں نے سارنگی اٹھائی ہی تھی کہ اس سے مجھے یہ آواز محسوس ہوئی الم بأن للذین اٰمنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ کیا ابھی تک وہ وقت نہیں آیا اہل ایمان کے لئے کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لئے جھک جائیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے سارنگی کو زمین پر مار کر توڑ دیا اور وہ تمام امور جو اللہ سے غافل کرتے تھے میں جن میں پھنسا ہوا تھاسب چھوڑ چھاڑ دیئے اور اللہ کی طرف سے توفیق عطا ہوئی اور اللہ نے جو ہمارے لئے خیر آسان فرمائی ہے وہ محض اس کے فضل اور رحمت کے ساتھ ہے۔

حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ ← أَحْمَدُ بْنُ زَيْدٍ ← محمد بن حاتم السمرقندي ← أبو يعقوب البزار ← أَبُو الْفَضْلِ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ← أبو سعد الزاهد

Hadith 7317

chevron_left Previous
1…22232425
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood