Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7297

7297 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا جعفر بن محمد بن نصير نا أحمد بن محمد بن الحجاج عن رشدين بن سعد حدثني زيد بن بشر الحضرمي أنا رشدين بن سعد : فذكره غير أنه قال : أنه سمع أنس بن مالك ولم يقل حدثنا جبريل لكن قال : أخبارها فذكره وخالفه غيره عن يحيى بن سليمان فرواه كما

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد بن نصیر نے ان کو احمد بن محمد بن حجاج نے رشدین بن سعد سے ان کو زید بن بشر حضرمی نے ان کو رشدین بن سعد نے اس نے اس کو ذ کر کیا سوا اس کے کہ انہوں نے کہا انہوں نے سنا انس بن مالک سے لیکن یہ نہیں کہا کہ ہمیں جبرائیل نے حدیث بتائی۔ بلکہ یوں کہا کہ اخبارھا اس نے ذکر کیا اور دوسروں نے اس کی مخالف بیان کی یحییٰ بن سلیمان سے انہوں نے اس کو روایت کیا جیسے ذیل میں ہے۔

يحيى بن سليمان فرواه كما ← أخبارها فذكره وخالفه غيره ← جبريل لكن ← أنس بن مالك ولم يقل ← أَنَّهُ ← رشدين بن سعد فذكره غير أنه ← زَيْدُ بْنُ بِشْرٍ الْحَضْرَمِيُّ ← رشدين بن سعد ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 7297

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7298

7298 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل نا أحمد بن الخليل البغدادي نا أبو جعفر نا أحمد بن الحجاج أبو العباس الخرساني نا عبد الله بن المبارك نا سعيد بن أبي أيوب نا يحيى بن أبي سليمان عن سعيد المقبري عن أبي هريرة قال : قرأ رسول الله صلى الله عليه و سلم هذه الآية : { يومئذ تحدث أخبارها } قالوا : أتدرون ما أخبارها ؟ قالوا : الله ورسوله أعلم قال : فإن أخبارها أن تشهد على كل عبد أو أمة بما عمل على ظهرها أن تقول عمل كذا وكذا في يوم كذا وكذا قال : فهذه أخبارها قال أحمد : فهذا أصح من روايتي رشدين بن سعد و رشدين ضعيف

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل حسن بن یعقوب عدل نے ان کو احمد بن خلیل بغدادی نے ان کو ابو جعفر نے ان کو احمد بن حجاج نے ان کو ابو العباس خراسانی نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو سعید بن ابی ایوب نے ان کو یحییٰ بن ابو سلیمان نے ان کو سعید مقری نے ان کا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے یہ آیت پڑھی: یومئذ تحدث اخبارھا اس دن زمین اپنی خبریں بتائے گی۔ لوگوں نے کہا گیا تم لوگ جانتے ہو کہ زمین کی خبریں کیا ہیں ؟ پھر بولے اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک زمین کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر بندے یا ہر بندی کے بارے ہر اس عمل کے بارے میں شہادت دے گی جو انہوں نے اس کی پشت پر کیا تھا کہ یوں کہے گی فلاں فلاں دن انہوں نے فلاں فلاں غلط کام کیا تھا یا نیک کام کیا تھا یہی اس کی اخبار ہیں۔ امام احمد نے کہا کہ یہ روایت راشدین بن سعد کی روایت سے زیادہ صحیح ہے اور رشدین ضعیف ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أحمد بن الحجاج أبو العباس الخرساني ← أبو جعفر ← أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ "الْبَغْدَادِيُّ" ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 7298

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7299

7299 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الجبار نا أبو فضيل عن عاصم الأحول قال : ما سمعت الحسن يتمثل ببيت شعر قط غير أني سمعته يتمثل بهذا البيت : ( ليس من مات فاستراح بميت إنما الميت ميت الأحياء ) ثم يقول : صدق الله والله إنه ليكون حي الجسد ميت القلب قال : ونا ابن فضيل عن أبي سفيان الحميري قال : ما سمعت الحسن يتمثل بشعر قط غير هذا البيت ( ليس الفتى من كان قدم من تقى إذا عرف الداء الذي هو قاتله )

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابن فضیل نے ان کو عاصم احول نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کبھی حسن بصری کو نہیں سنا کہ وہ کسی شعر سے تمثل پکڑتے ہوں کبھی بھی سواری ہے کہ میں نے ان کو سنا تھا وہ اس شعر سے مثال اخذ کرتے تھے: لیس من مات فاستراح بمیت انما المیت میت الاحیاء جو شخص (آرام) و استراحت پا لے وہ مردہ نہیں ہے حقیقت میں مردہ تو و ہ ہے جو زندہ کر بھی مردہ ہو۔ اس کے بعد وضاحت فرمائی کہ اللہ نے سچ فرمایا للہ کی قسم بے شک شان یہ ہے کہ ایسا شخص زندہ جسم والا اور مردہ دل والا ہوتا ہے۔ ہمیں خبر دی ابن فضیل نے ابو سفیان حمیری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کبھی حسن بصری کو کسی شعر سے مثٓل پیش کرتے نہیں دیکھا سوائے اس شعر کے: لیس الفتی ماکان قدم من نفی اذا عرف الداء الدی ھو قاتلہ وہ شخص جو انمرد نہیں ہے۔ جب اس بیماری کو پہچان لے جو اس کو ہلاک کرنے والی ہے۔ اس وقت وہ متقی بن جائے یا متقی بننے کی کوشش کرے۔

عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← أبو فضيل ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 7299

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7300

7300 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ سمعت عبد الرحمن بن أحمد المؤذن يقول : سمعت أبا بكر محمد بن إسحاق يقول : سمعت يونس بن عبد الأعلى يقول : أنشدني مسلم الخواص عن ابن المبارك : ـ ( رأيت الذنوب تميت القلوب ويتبعها الذل إدمانها ) ( وترك الذنوب حياة القلوب وخير لنفسك عصيانها ) ( وهل بدل الدين إلا الملوك وأخبار سوء ورهبانها ) ( وباعوا النفوس فلم يربحوا وفي البيع لم يغل أثمانها ) ( لقد وقع القوم في جيفة بين لذي العقل انتانها )

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبدالرحمٰن بن احمد موذن نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر محمد بن اسحاق نے وہ کہتے تھے نے سنا یونس بن عبدالاعلیٰ سے وہ کہتے تھے کہ مجھے مسلم خواص نے عبداللہ بن مبارک سے شعر سنائے تھے: رأیت الذنوب تمیت القلوب ویتعھا الذل ادمانھا وترک الذنوب حیان القلوب وخیر لفسک عصیانھا وھل بدل الدین الا الملوک واحبار سوء ورھبانھا وباعوا النفوس لم یربحوا وفی البیع لم یغل ائمانھا لقد وقع القوم فی جیفۃ بین لذی العقل انتانھا تو دیکھے گا گناہ دلوں کو مردہ کر دیتے ہیں اور گنہگار کے پیچھے دائمی ذلت لگا دیتے ہیں اور گناہوں کو چھوڑ دینا دلوں کی زندگی ہے۔ اور انسان نافرمانی کرنا تیرے لئے بہتر ہے۔ دین کو نہیں تبدیل کی مگر بادشاہوں اور علماء سوء اور درویشوں نے (یعنی برے عالموں اور برے پیروں نے) اور انہوں نے نفسوں کو (یعنی اپنے ضمیروں کو) بیچا پھر میں نفع کمایا انہوں نے فروخت میں جس (سود گری) میں ان کی گراں قیمت نہیں ملی تھی۔ البتہ تحقیق لوگ مردار میں واقع ہو گئے ہیں (یعنی حرام خوری میں لگ گئے ہیں) آپ صاحب عقل کے لئے اس مردار کی بدبو واضح کیجئے۔

أنشدني مسلم الخواص ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ← عبد الرحمن بن أحمد المؤذن ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 7300

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7301

7301 - أنشدنا أبو عبد الرحمن السلمي أنشدنا عبد الله بن الحسين الكاتب أنشدني ابن الأنباري لابن المعتز : ـ ( خل الذنوب حقيرها وكثيرها فهو التقى ) ( كن مثل ماش فوق أرض الشوك يحذر ما يرى ) ( لا تحقرن صغيرة إن الجبال من الحصى )

ہمیں شعر بیان کئے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو شعر بیان کئے عبداللہ بن حسین کاتب نے مجھے شعر سنائے ابن الانباری نے ابن المعتز کے: خل الذنوب حقیرھا وکئیر ھا فھو التقی کن مثل ماش فوق ارض الشوک یحذر مایری لا تحقرن صغیرۃ ان الجبال من الحصی معمولی گناہوں کو بھی چھوڑ دیجئے اور بڑے گناہوں کو بھی یہی تقویٰ کا تقاضا ہے ایسے ہو جائیے جیسے پیدل ننگے پاؤں چلنے والا کانٹوں والی زمین پر بچ بچ کر چلتا ہے اس چیز سے جس کو وہ دیکھتا ہے۔ اور چھوٹے گناہ کو چھوٹا نہ سمجھ (کیا تو نہیں دیکھتے کہ ) پہاڑ چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے مل کر بنتے ہیں۔

Hadith 7301

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7302

7302 - أخبرنا أبو سعيد الصيرفي أنا أبو عبد الله نا أبو بكر بن أبي الدنيا أنشدني الحسن بن عبد الرحيم لرجل من بني تميم : ـ ( أنوح على نفسي وأبكي خطيئة تقود خطايا أثقلت مني الظهرا ) ( فيا لذة كانت قليلا بقاؤها يا حسرة دامت ولم تبق لي عذرا )

ہمیں خبر دی ابو سعید صیرفی نے ان کو ابو عبداللہ نے ان کو ابو بکر بن ابی الدنیانے وہ کہتے ہیں کہ مجھے شعر سنائے حسن بن عبدالرحیم نے جو کہ بنی تیم کے ایک آدمی نے کیے تھے: انسوح علی نفسی وابکی خطینۃ تقود خطایا اثقلت منی الظھرا فیالذۃ کانت قلیلا بقاءھا ویا حسرۃ دامت ولم تبق لی عذرا میں اپنے نفس پر نوحہ کرتا ہوں اور گناہ پر روتا ہوں جو بہت سارے گناہوں کوکھینچ لاتا ہے۔ اس گناہ نے میری پیٹھ بوجھل کر دی ہے۔ ہائے افسوس اس لذت پر جس کی بقا بہت کم ہے اور ہائے ندامت و مایوسی جو ہمیشہ کے لئے ہے جس نے میرے لئے عذر معذرت کی گنجائش بھی نہیں چھوڑی۔

أَبُو عَبْد اللَّهِ ← أبو سعيد الصيرفي،

Hadith 7302

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7303

7303 - أخبرنا أبو حازم الحافظ أنا أبو عمرو بن مطر : حضرت مجلس أبي عثمان الحيري الزاهد فخرج وقعد على موضعه الذي كان يقعد للتذكير فسكت حتى طال سكوته فناداه رجل كان يعرف بأبي العباس ترى أن تقول في سكوتك شيئا فأنشأ يقول : ( وغير تقي يأمر الناس بالتقى طبيب يدوي والطبيب مريض ) قال : فارتفعت الأصوات بالبكاء والضجيج

ہمیں خبر دی ابو حازم حافظ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے وہ کہتے ہیں کہ میں ابو عثمان حیری زاہد کی مجلس میں حاضر ہوا وہ باہر نکلے اور اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ جہاں وعظ ونصیحت کرنے کے لئے بیٹھتے تھے۔ اور خاموش ہو گئے یہاں تک کہ ان کی خاموشی لمبی ہوئی۔ لہٰذا ایک آدمی نے ان کو آواز دی جس کو ابو العباس کہتے تھے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ آپ اپنے سکوت اور خاموشی میں کچھ فرمائیں انہوں نے شعر کہا:وغیر تفی ینامر الناس بالتقی طبیب یداوی والطبیب منریض غیر متقی شخص ہے جولوگوں کو تقویٰ کا حکم دے رہا ہے وہ تو ایسا معالج ہے جو علاج کرتا ہے حالانکہ وہ معالج خود بیمار ہے۔ کہتے ہیں کہ اس شعر کا یہ اثر ہوا کہ لوگ دھاڑ مار مار کر رونے لگے۔(کیونکہ حضرت عثمان حیری زاہد یہ بات ازراہ کسر نفسی اپنے بارے میں فرما رہے تھے۔)

أبو عمرو بن مطر حضرت مجلس أبي عثمان الحيري الزاهد فخرج ← أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ،

Hadith 7303

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7304

7304 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ سمعت أبا محمد عبد الله بن محمد الشعراني يقول : سمعت أبا عثمان ينشد أبيات : ( أسأت ولم يحسن وجئتك هاربا وأين لعبد من مواليه مهرب ) ( يؤمل عفرانا فإن خاب ظنه فما أحد منه على الأرض أخيب )

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اس نے سنا ابو محمد عبداللہ بن محمد شعرانی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عثمان سے وہ یہ شعر سناتے تھے: انسات ولم احسن وجئتک ھارباً واین لعبد من موالیہ مھرب یؤمل غفرانا فان خاب ظنہ فما احد منہ علی الارض اخیب برائی کی ہے میں نے اور میں نے کوئی نیکی نہیں کی اور اب میں بھاگ کر آپ کے پاس آیا ہوں اور ایک غلام کے لئے اپنے آقاؤں سے بھاگ کر جانے کی کہاں جگہ ہو گی بخشش کی آرزو کرتا ہے اگر اس کا گمان نا کام ہو گیا (یعنی مغفرت اگر نہ ہوسکی تو) تو دھرتی پر اس سے بڑا نامراد کوئی ایک بھی نہیں ہو گا۔

أبا محمد عبد الله بن محمد الشعراني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 7304

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7305

7305 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ سمعت أبا أحمد بن محمد بن أحمد بن موسى سمعت أبا بكر الساسي الواعظ يقول في دعائه : يا من لا تضره الذنوب ولا تنقصه المغفرة هب لي ما لا يضرك وأعطني ما لا ينقصك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے سنا ابو احمد محمد بن احمد بن موسیٰ سے انہوں نے سنا ابو بکر ساسی واعظ سے وہ اپنی دعا میں کہتے تھے: یامنلاتضرہ ولذنوب ولا تنقصہ المغفرۃ ھب لی مالا یضرک واعطنی مالا ینقصک اے وہ ذات جس کو گناہ نقصان نہیں پہنچاتے اور جس کو مغفرت کمی نہیں کرتی مجھےوہ چیز عطا کر دیجئے جو آپ کو نقصان نہیں دیتی اور مجھے عطا کیجئے وہ چیز جو آپ کو کمی نہیں کرتی۔

أبا بكر الساسي الواعظ ← أبا أحمد بن محمد بن أحمد بن موسى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 7305

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7306

7306 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ نا جعفر بن محمد بن نصير نا أحمد بن محمد بن مسروق نا محمد بن الحسين البرجلاني نا روح بن سلمة الوراق : بتنا ليلة مع رجل من العابدين بالسيراف على الساحل فأخذ في البكاء فلم يزل يبكي حتى خفنا طلوع الفجر ولم نتكلم بشيء ثم قال : جرمي عظيم وعفوك كبير فاجمع بين جرمي وعفوك يا كريم قال : فتصارخ الناس من كل ناحية

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے کو جعفر بن محمد بن نصیر نے ان کو احمد بن محمد بن مسروق نے کو محمد بن حسین بر جلانی نے ان کو روح بن سلمہ وراق نے۔ہم لوگوں نے ایک عابد کے ساتھ رات گزاری مقام سیراف میں ساحل سمندر پر انہوں نے عبادت کے دوران رات کو رونا شروع کیا ہمیشہ روتے رہے حتٰی کہ ہم نے فجر طلوع ہونے کا خوف کیا اور ہم نے کوئی بات نہیں کی دوران دعا انہوں نے یہ کلمات بھی کئے: جرمی عظیم وعفوک کبیر فاجمع بین جرمی وعفوک یاکریم میرا جرم بہت بڑ اہے اور تیری معافی بھی بڑی ہے میرے جرم کو اور اپنی معافی کو اکٹھے کراے کریم۔ ان دعائیہ کلمات کا اثر ہوا کہ ہر کونے سے چیخ چیخ کر رونے لگے۔

مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبُرْجُلَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 7306

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7307

7307 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ سمعت أبا القاسم الحسين بن محمد اللغوي سمعت إبراهيم بن مضارب بن إبراهيم يقول : سمعت أبي يقول : دخلت على الحسين بن الفضل وقد احتضر واغرورقت عيناه فقال لي : اكتب يا مضارب : ( أيا من لا يخيب إليه راجي ولم يراه الحاج المناجي ) ( ويا ثقتي على سرفي وجرمي وإيثار التمادي في اللجاج ) ( أقلني عثرتي واغفر ذنوبي وهب لي منك عفوا واقض حاجي ) ( فما لي غير إقراري بجرمي وعفوك حجة يوم احتجاجي )

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے سنا ابو القاسم حسین بن محمد لغوی سے انہوں نے سنا ابراہیم بن مضارب بن ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے والد سے وہ کہتے تھے۔ میں داخل ہوا حسین بن فضل کے پاس حالانکہ وہ وفات کے قریب تھے ان کی آنکھیں ڈوبی ہوئی تھی، مجھ سےکہا لکھے اے مضارب: ایامن لایحیب الیہ راجی ولم یراہ الھاج المناجی ویائقتی علی سرفی وجرمی وایثار التمادی فی اللجاج اقلنی عشرتی واغفرلی ذنوبی وھب لی منک وفوا واقض حاجی فمالی غیر افراری بجرمی وعفوک حجۃ یوم احتجاجی وہ ذات جس کی طرف امید باندھنے والا کبھی نامراد نہیں ہوتا حالانکہ نہیں دیکھا اس کو حج کا قصد وارادہ کرنے والے سرگوشی کرنے والے نے اے میرا یقین میرے اسراف پر اور میرے جرم پر اور میرا ایثار میرے اصرار میں حد سے بڑھنے پر میری لغزش کو کم فر مامیرے گناہ معاف فرما۔ اور میرے لئے اپنی طرف سے درگزر فرما اور میری حاجت پوری فرما۔ میرے لئے اپنے جرم کے اقرار کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اور تیر اور درگزر کرنا میرے لئے حجت اور دلیل ہو گا جس دن میں دلیل حجت پیش کروں گا۔

دخلت على الحسين بن الفضل وقد احتضر واغرورقت عيناه ← أَبِي ← إبراهيم بن مضارب بن إبراهيم ← أبا القاسم الحسين بن محمد اللغوي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 7307

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7308

7308 - أنشدنا الأستاذ أبو القاسم الحبيص أنشدني علي بن محمد الوراق أنشدني يحيى بن معاذ الرازي : ـ ( جلالك يا مهيمن لا يبيد وملكك دائم أبدا جديد ) ( وحكمك نافذ في كل أمر وليس يكون إلا ما تريد ) ( ذنوبي لا تضرك يا إلهي وعفوك نافع ربه تجود ) ( فهبها لي وإن كثرت وجلت فأنت الله تحكم ما تريد ) ( فلست على عذاب الله أقوى وأنت بغيرها لا تستفيد ) ( فنعم الرب مولانا وإنا لنعلم أننا بئس العبيد ) ( وينقص عمرنا في كل يوم ولا زالت خطايانا تزيد ) ( قصدت إلى الملوك بكل باب عليه حاجب فظ شديد ) ( وبابك معدن للجود يا من إليه يقصد العبد الطريد ) ويروى : إليه يرجع العبد الشريد

ہمیں شعر سنائے استاذ ابو القاسم حبیص نے ان کو شعر سنائے ان کے والد نے ان کو علی بن محمد وراق نے ان کو یحییٰ بن معاذ رازی نے: جلالک یا مھیمن لا یبید وملکک دائم ابدا جدید وحکمک نافذ فی کل امر ولیس یکون الا ماترید ذنوبی لا تضرک یا الٰھی وغفوک نافع وبہ تجود فھبھالی وان کثرت وجلت فانت اللہ تحکم ماترید فلست علی عذاب اللہ اقویٰ وانت بغیر ھا لاتستفید فنعم الرب مولانا وانا لعنلم اننا بئس العبید وینقص عمر نافی کل یوم ولا ذالت خطایا ناتزید قصدت الی الملوک بکل باب علیہ حاجب فظ شدید وبابک معدن للجود یامن الیہ یقصد العبد الطرید اے حفاظت و نگہبانی کرنے والی ذات تیرا جلال و عظمت بوسیدہ نہیں ہوتا تیری بادشاہت دائمی ہے ہمیشہ نئی ہے تیرا حکم ہر معاملے میں جاری ہے اور وہی کچھ ہوتا ہے جو کچھ تو ارادہ کرتا ہے۔اے میرے معبود میرے گناہ تیرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے اور تیرا درگزر کرنا فائدہ دینے والا ہے اور اسی کے ساتھ تو سخاوت کرتا ہے تو مجھے بھی وہ عطا کر اگرچہ وہ سخاوت بہت زیادہ ہے اور بہت بڑی ہے، بس تو اللہ ہے جو کچھ تو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے۔ مجھے تو اللہ کا عذاب برداشت کرنے کی سکت نہیں ہے ، اور تو بغیر مجھے عذاب دینے کے مجبور بھی نہیں ہے۔ پس بہترین رب ہمارا آقاومولیٰ ہے اور بے شک ہم جانتے ہیں کہ ہم بدتر غلام ہیں تیرے ، اور ہر روز ہماری زندگی کم ہو رہی ہے اور ہمارے گناہ ہمیشہ بڑھتے جا رہے ہیں، میں نے ہر بادشاہ کے دروازے کا رخ کیا ہے مگر وہاں سخت بد اخلاق دربان کھڑا ہے صرف تیرا ہی دروازہ ہے جو جو دوسخا کی کان ہے اسی کی طرف ہی ہر درواز ے سے بھگایا ہوا غلام آنے کا قصد وارادہ کرتا ہے۔

Hadith 7308

chevron_left Previous
1…22232425
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood