Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7285

7285 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد المقرئ قالا : نا أبو العباس الأصم نا الخضر بن أبان نا سيار بن حاتم ح وأخبرنا عبد الخالق بن علي أنا أبو بكر عبد الله بن زواد الرازي نا طاهر بن عبد الله الخثعمي نا القطوان نا سيار حدثني جعفر قال : سمعت مالك بن دينار يقول : إن الأبرار تغلي قلوبهم بأعمال البر وإن الفجار تغلي قلوبهم بأعمال الفجور والله يرى همومكم فانظروا في همومكم لفظهما سواء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ا ابو محمد مقری نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار بن حاتم نے ’’ح“۔ اور ہمیں خبر دی عبدالخالق بن علی نے ان کو ابو بکر عبداللہ بن زواد رازی نے ان کو طاہر بن عبداللہ خثعمی نے ان کو القطلو ان نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سناما لک بن دینار سے وہ کہتے ہیں کہ بے شک نیک لوگوں کے دل ان کے نیک اعمال کے ساتھ جوش مارتے ہیں اور بروں کے دل ان کے برے اعمال کے ساتھ جوش مارتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے ارادوں اور خیالوں کو دیکھتے ہیں۔ لہٰذا تم اپنے قصد و ارادوں کوغور کرو (دونوں کے الفاظ برابر ہیں۔)

مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← القطوان ← طاهر بن عبد الله الخثعمي ← أبو بكر عبد الله بن زواد الرازي ← عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ، ← سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد المقري

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7285

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7286

7286 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت محمد بن عبدان خادم الجامع سمعت أبا عثمان الزاهد يقول : احذر رب الجامع فإن الجامع غير مستخدم ثم يقول : سرائركم فإن المطلع على السرائر يراقبكم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اس نے سنا محمد بن عبدان خادم جامع مسجد سے اس نے سنا ابو عثمان زاہد سے وہ کہتے تھے کہ ڈر تو جامع کے رب سے بے شک جامع غیر مستخدم ہے پھر کہتے تھے تمہارے دل کی منفی باتیں تمہاری ذات سے بھی مخفی ہیں مگر مخفی راز پر آگاہی رکھنے والا تمہاری نگرانی میں ہے۔

سرائركم فإن المطلع على السرائر يراقبكم ← احذر رب الجامع فإن الجامع غير مستخدم ثم ← أبا عثمان الزاهد ← محمد بن عبدان خادم الجامع ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7286

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7287

7287 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أبو عتبة نا حمزة نا بشر بن صالح قال : قال عيسى ابن مريم عليه السلام : طوبر لعين نامت ولم تحدث نفسها بالمعصية وانتبهت إلى غير إثم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو عتبہ نے ان کو حمزہ نے ان کو بشر بن صالح نے وہ کہتے ہیں کہ کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے مبارک ہے اس آنکھ کے لئے جو سو جاتی ہے اور وہ اپنے دل میں گناہوں کی باتیں نہیں سوچتا اور وہ آنکھ بیدار ہوتی ہے تو گنہگار نہیں ہوتی۔

بِشْرِ بْنِ صَالِحٍ، ← حَمْزَةَ، ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7287

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7288

7288 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ سمعت أبا الحسين علي بن بندار الزاهد يقول : سمعت أبا بكر محمد بن ملكان الرازي سمعت يحيى بن معاذ الرازي يقول : من خان الله في السر هتك سره في العلانية أنشدنا أبو القاسم الحسن بن محمد بن حبيب المفسر لبعضهم : ( يا كاتم السر ومخفيه أين من الله تواريه ) ( بارزت بالعصيان رب العلى وأنت من جارك تخفيه )

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے سنا ابو الحسین علی بن بندار زاہد سے وہ کہتے تھے جو شخص خلوت میں اللہ کے امر میں خیانت کرتا ہے جلوت میں بھی اس کا پردہ فاش ہو جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں شعر سنائے تھے ابو القاسم حسن بن محمد بن حبیب مفسر نے (بعض شعراء کے کلام میں سے۔) یا کاتم السرومحکفیہ ای من اللہ تواریہ بارزت بالعصیان رب العلی وانت من جارک تخفیہ اے گناہوں کو چھپانے اور مخفی کرنے والے تو ان کو اللہ سے کہاں جا کر چھپائے گا۔ تو گناہوں کو رب علیٰ کے سامنے تو کھل کر کرتا ہے اور تو ان کو اپنے پڑوسی سے چھپاتا پھرتا ہے۔

يحيى بن معاذ الرازي ← أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ مِلْكَانَ الرَّازِيَّ، ← أبا الحسين علي بن بندار الزاهد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7288

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7289

7289 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ سمعت أبا الحسن علي بن أحمد بن إبراهيم البوشنجي : وسئل عن الفتوة فقال : حسن السر وسئل عن المروة فقال : ترك ما يكره كرام الكاتبين وسئل عن التوكل فقال : أن تأكل مما يليك وتضع لقمتك على سكون القلب وتعلم أن ما لك فلا يفوتك 7289 - مكرر ـ سمعت أبا حازم يقول : سمعت أحمد بن حفص يقول : سمعت علي بن أحمد النهري نا أحمد بن محمد الأنصاري نا إسماعيل بن معاذ قال : قال أخي يحيى بن معاذ الرازي : من عبد الله على الخطرات قضى الله حاجته على الخطرات يعني بترك الذنوب إذا حظر على قلبه سمعت أبا عبد الرحمن السلمي سمعت أحمد بن مقسم سمعت عبد العزيز بن أحمد المطرز سمعت الجنيد يقول : من راقب الله في السر حرست جوارحه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اس نے سنا ابو الحسن علی بن احمد بن ابراہیم ابو شنجی سے ان سے پوچھا گیا کہ جوان مروی کیا ہے؟ فرمایا: خلوت میں جو اچھا ہو، پھر پوچھا گیا کہ مروت کیا ہے؟ فرمایا: جو چیز نیکی بدی لکھنے والے فرشتوں کو ناپسند ہو اس کو ترک کر دینا۔ پھر ان سے توکل کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا توکل یہ ہے کہ تو اپنے آگے آگے کھائے اور سکون قلب کے ساتھ لقمہ رکھ دے یہ سوچ کر کے کہ جو تیرے نصیب کا ہے وہ تم سے فوت نہیں ہو گا بلکہ تمہیں وہ ملے گا۔ (مکرر ہے) میں نے ابو حازم سے سنا وہ کہتے تھے میں نے سنا احمد بن حفص سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی بن احمد نہری سے ان کو احمد بن محمد انصاری نے ان کو اسماعیل بن معاذ نے وہ کہتے ہیں کہ کہامیرے بھائی یحییٰ ان معاذ رازی نے۔ جو شخص اللہ کی عبادت کرتا ہے خطرات میں اللہ اس کی حاجت پوری کرتا ہے خطرات میں ، یعنی ترک گناہ سے تھے جب وہ اس کے دل پر کھٹکے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبدالرحمٰن سے سنا وہ کہتے تھے جو شخص خلوت میں اللہ کو نگراں بناتا ہے، اس کے اعضا کی بھی حفاظت کرتا ہے۔

التَّوَكُّلِ، ← ترك ما يكره كرام الكاتبين وسئل ← الْمُرُوَّةِ، ← حسن السر وسئل ← الْفُتُوَّةِ، ← أَبَا الْحَسَنِ عَلِيَّ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، وَسُئِلَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7289

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7290

7290 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي نا أحمد بن سلمان نا إسحاق بن إبراهيم بن إسحاق نا عبد الله بن عمر نا ابن مهدي عن إسرائيل عن خصيف عن عكرمة عن ابن عباس قال يوسف : ليعلم إني لم أخنه بالغيب قال له جبرئيل عليه السلام : ولا حتى هممت قال : وما أبرئ نفسي إن النفس لأمارة بالسوء

ہمیں خبر دی ابو القاسم خرقی نے بغداد میں ان کو احمد بن سلمان نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم بن اسحاق نے ان کو عبداللہ بن عمر نے ان کو ابن مہدی نے ان کو اسرائیل نے ان کو خصیف نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ یوسف علیہ السلام نے کہا تھا۔ لیعلم انی لم اخنہ بالغیب (میں نے یہ وضاحت اس لئے کروائی ہے) تاکہ عزیز مصر جان لے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی کوئی خیانت نہیں کی تھی۔ تو جبرائیل علیہ السلام نے اس سے کہا کہ حتٰی کہ ارادہ بھی نہیں کیا تھا غلطی کرنے کا ؟ تو حضرت یوسف نے فرمایا: وما ابریٰ نفسی ان النفس لامارۃ بالسوء میں اپنے نفس کو پاک نہیں قرار دیتا بے شک نفس تو برائی کا بہت حکم کرنے والا ہوتا ہے۔

وما أبرئ نفسي إن النفس لأمارة بالسوء ← له جبرئيل ولا حتى هممت ← يوسف ليعلم إني لم أخنه بالغيب ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خُصَيْفٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← إسحاق بن إبراهيم بن إسحاق ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7290

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7291

7291 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن محمد بن فنجويه الدينوري بالدامغان نا عبد الله بن محمد بن شيبة نا محمد بن إبراهيم بن البلجاني الأصبهاني نا عمر بن عبد الله الخياري : ـ

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حسین بن محمد بن فنجویہ دینوری نے دامغان میں ان کو عبداللہ بن محمد بن شیبہ نے ان کو محمد بن ابراہیم بلجانی اصفہانی نے ان کو عمر بن عبداللہ خیاری نے۔

عمر بن عبد الله الخياري ← محمد بن إبراهيم بن البلجاني الأصبهاني ← عبد الله بن محمد بن شيبة ← أبو عبد الله الحسين بن محمد بن فنجويه الدينوري بالدامغان

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7291

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7292

7292 - أخبرني محمد بن سهل حدثني الربيع بن سليمان سمعت الشافعي رحمه الله ينشد : ( إذا ما خلوت الدهر يوما فلا تقل خلوت ولكن قل علي رقيب ) ( ولا تحسبن الله يغفل ساعة ولا أن ما يخفى عليه يغيب ) ( غفلنا العمر والله حتى تداركت علينا ذنوب بعدهن ذنوب ) ( فيا ليت إن الله يغفر ما مضى ويأذن في توباتنا فنتوب )

مجھے خبر دی محمد بن سہل نے ان کو ربیع بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا الشافعی رحمۃ اللہ علیہ سے وہ شعر کہتے تھے: اذا ماخلوت الدھر یسوما فلا تقل خلوت ولکن قل علی رقیب ولا نحسبن اللہ یغفل ساعۃ ولا ان مایخفی علیہ بغیب غفلنا النعمر واللہ حتٰی تدارکت علینا ذنوب یعدھن ذنوب فیا لیت ان اللہ یغفر مامضٰی ویأذن فی توبا تنا فنتوب جب تم کسی دن کچھ دیر کے لئے خلوت میں جاؤ تویہ مت کہنا کہ میں اکیلا ہوں بلکہ یہکہنا کہ مجھ پر نگران موجود ہے۔ اور مت گمان کرنا اللہ کو کہ وہ کسی لمحے بھی بے خبر ہے اور یہ بھی نہ سمجھنا کہ کوئی مخفی چیز اس سے مخفی ہے۔ ہم نے عمر بھر غفلت میں گزاری حتٰی کہ ہمارے اوپر گناہ در گناہ جمع ہوگئے۔ کاش کہ جو گناہ گزر چکے ہیں اور ہمیں توبہ کرنے کا حکم دے پس ہم توبہ کریں۔

الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7292

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7293

7293 - أنشدنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنشدني عبد الله أبي يحيى بن معاوية الطلحي أنشدنا حبيب بن نصر لمحمود الوراق : ( ألا أيها المستطرف الذنب جاهلا هو الله لا تخفى عليه السرائر ) ( فإن كنت لم تعرفه حين عصيته فإن الذي لا يعرف الله كافر ) ( وإن كنت من علم به قد عرفته عصيت فأنت المستهين المجاهر ) ( فأيها حالك اعتقدت فإنه عليم بما تطوى عليه الضمائر )

ہمیں شعر سنائے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے۔ وہ کہتے ہیں مجھے شعر سنائے عبداللہ بن یحییٰ بن معاویہ طلحی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں شعر سنائے حبیب بن نصر نے محمود وراق سے: الا ایھا المستطرف الذنب جاھلاً ھواللہ لا تخفی علیہ السرائر فان کنت لم تعرفہ حین عصیتہ فان الذی لا یعرف اللہ کافر ان کنت من علم بہ قد عرفہ عصیت فانت المستھین المجاھر فایھا حالک اعتفدت فانہ علیم بما تطوی علیہ الضمائر اے نادانی سے ہر نیا گناہ کرنے والے وہ ذات جس پر تمام مخفی باتیں پوشیدہ نہیں ہیں۔ وہ صرف وہی اللہ ہی تو ہے اگر تم ایسے ہو کہ اس وقت اس کو نہیں پہچانتے ہو جب تم گناہ کرتے ہو تو بے شک وہ نہیں جو اللہ کو نہیں پہچانتا وہ کافر ہوتا ہے۔ اور اگرتم اس کو جانتے ہوئے پہچانتے ہوئے اس کی نافرمانی کرتے ہو تو پھر تم اللہ توہین کرنے والے اعلانیہ نافرمان ہو۔ اے وہ شخص جس کی یہ حالت پکی ہو چکی ہے سن لو اللہ تو ان تمام خفیہ رازوں کو جانتا ہے جو ضمیر میں پوشیدہ ہیں۔

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7293

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7294

7294 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني لإملاء أنا أبو سعيد بن الأعرابي بمكة نا الحسين بن محمد الزعفراني أنا عمرو بن محمد العنقزي نا أسباط بن نصر عن عبد الملك بن عمير عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن معاذ بن جبل قال : كان في بني إسرائيل رجل عقيم لا يولد له وكان يخرج فإذا رأى غلاما من غلمان بني إسرائيل عليه حلي يخدعه حتى يدخله فيقتله ويلقيه في مطمورة له فبينا هو كذلك إذا لقي غلامين أخوين عليهما حلي لهما فأدخلهما فقتلهما وطرحهما في مطمورة له وكانت له امرأة مسلمة تنهاه عن ذلك فتقول له : إني أحذرك النقمة من الله عز و جل وكان يقول : لو أن الله أخذني على شيء أخذني يوم فعلت كذا وكذا فتقول : إني صاعك لم تمتلئ بعد ولو قد امتلأ صاعك أخذت فلما قتل الغلامين الأخوين خرج أبوهما فطلبهما فلم يجد أحدا يخبره عنهما فأتى نبيا من أنبياء بني إسرائيل فذكر ذلك له فقال له النبي : هل كانت لهما لعبة يلعبان بها ؟ فقال : نعم كان لهما جرو فأتي بالجرو فوضع النبي : خاتمه بين عينيه ثم خلا سبيله فقال : أول دار يدخلها من بني إسرائيل فيها ميتان فأقبل الجرو يتخلل الدور حتى دخل دارا فدخلوا خلفه فوجدوا الغلامين مقتولين مع غلام قد قتله وطرحهم في مطمورة فانطلقوا به إلى النبي فأمر به أن يصلب فلما رفع على خشبته أتت امرأته فقالت : يا فلان قد كنت أحذرك هذا اليوم وأخبرك أن الله غير تاركك وأنت تقول : لو أن الله أخذني على شيء أخذني يوم فعلت كذا وكذا فأخبرك أن صاعك بعد لم تمتلئ ألا وإن هذا قد امتلأ صاعك

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے بطور املا ،ان کو ابو سعید بن اعرابی نے مکہ مکرمہ میں ان کو حسین بن محمد زعفرانی نے ان کو عمرو بن محمد عنقزی نے ان کو اسباط بن نصر نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے ان کو معاذ بن جبل نے کہ بنی اسرائیل میں ایک آدی لاولد تھا اس کے بچے نہیں ہوتے تھے، وہ باہر جاتا جب وہ کسی لڑکی کو دیکھتا بنی اسرائیل میں سے جس پر پوشاک ہوتی اس کو دھوکے سے بلا کر گھر میں لے جاتا اور اس کو قتل کر دیتا اور اس کو تہہ خانے میں ڈال دیتا (یا غلے والی کتھی کلہونی میں) اس دوران اس کو دور کے ملے جو دونوں بھائی تھے اس نے ان دونوں کو پکڑ کر قتل کر دیا اور ان کوبھی تہہ خانے میں پھینک دیا۔ اس کی بیوی مسلمان تھی وہ اس کو منع کرتی رہتی تھی اس قبیح جرم سے اور اس سے وہ کہتی تھی کہ میں تجھے اللہ کی طرف سے سزاو بدلہ سے ڈراتی ہوں اور وہ کہتا تھا کہ اللہ مجھے نہیں پکڑتا اگر پکڑنا ہوتا تو فلاں دن جو کچھ میں نے کیا تھا پر وہ مجھ کو پکڑ لیتا وہ کہتی تھی کہ ابھی تک تیرا برتن نہیں بھرا جب بھر جائے کا تواللہ تعالیٰ تجھے پکڑ لے گا۔ جب اس نے دو بچوں کو قتل کیا جو دونوں بھائی تھے۔ تو ان کا باپ بچوں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا مگر ہزار تلاش کے بعد بچوں کا پتہ نہ چلا لہٰذا وہ انبیاء بنی اسرائیل میں سے کسی نبی کے پاس گئے اور کو جا کر یہ پریشانی سنائی انہوں نے پوچھا کہ کیا ان دونوں کے کھیلنے کا کوئی کھلونا یا کوئی چیز ہے جس کے ساتھ وہ کھیلتے تھے۔اس نے کہا کہ جی ہاں ہے۔ان کا ایک چھوٹا سا کتا ہے انہوں نے اسے طلب کیا وہ اس کو لے آئے اس نبی نے اپنی انگوٹھی اس کتے کی آنکھوں کے سامنے رکھی اس کے بعد اسے چھوڑ دیا اورفرمایا کہ بنی اسرائیل کے جس گھر میں یہ کتا پہلے پہل داخل ہو گا اس میں میت ہیں۔ کتا متوجہ ہوا اور وہ کئی گھر وں کے بیچوں بیچ اس گھر میں داخل ہوا لوگ اس کے پیچھے پیچھے داخل ہوئے انہوں نے دونوں لڑکے ایک اور لڑکے سمت مقتول پائے جنہیں اس نے تہہ خانے وغیرہ میں پھینک دیا تھا وہ اس کو پکڑ کر اس نبی کے پاس لے گئے انہوں نے کو پھانسی لگانے کا حکم دے دیا جب وہ لکڑی پر اٹھایا گیا تو اس کی بیوی آئی اس نے کہا کہ میں تجھے نہیں ڈراتی تھی آج کے دن سے اور تجھے بتاتی تھی کہ اللہ نے تجھے مہلت دی ہوئی ہے وہ تجھے نہیں چھوڑے گا۔ اور تم یہ کہتے تھے کہ اگر وہ پکڑتا تو فلاں دن پکڑ لیتا میں تجھے کہتی تھی کہ ابھی تیرا برتن نہیں بھرا خبردار اب وہ بھر چکا ہے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، ← عمرو بن محمد العنقزي ← الحسين بن محمد الزعفراني ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عبد الله بن يوسف الأصبهاني لإملاء

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7294

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7295

7295 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد علي بن محمد الحبيبي بمرو و أخبرني محمد بن إبراهيم النقاد نا إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة ابن أخت عبد الله بن المبارك نا حفص بن سالم نا مقاتل بن حيان أخبرني عكرمة عن ابن عباس في : قول الله عز و جل : { ولكنكم فتنتم أنفسكم } قال بالشهوات : { وتربصتم } قال بالتوبة : { وغرتكم الأماني } قال التسويف بالأعمال الصالحة : { حتى جاء أمر الله } قال الموت : { وغركم بالله الغرور } قال : الشيطان

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو محمد علی بن محمد حبیبی نے مرو میں اور مجھے خبر دی ہے محمد بن ابراہیم نقاد نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ نے ابن اخت عبداللہ بن مبارک نے ان کو حفص بن سالم نے ان کو مقاتل بن حیان نے ان کو ضبر دی عکرمہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اللہ کے اس قول کے بارے میں: ذالکم بانکم فتنتم انفسکم لیکن تم نے اپنے نفسوں کو فتنے میں ڈال دیا تھا (پھسلا دیا تھا)۔ ابن عباس نے فرمایا کہ بالشھوات خواہشات کے ساتھ۔اور وتربصتم اور انتظار کیا تم نے۔ ای بالتوبۃ یعنی توبہ کے ساتھ۔ وغوتکم الامانی بہکا دیا تم کو آرزؤو ں نے۔ قال التسویف بلاعمال الصالحہ نیک اعمال کی تاخیر نے۔ حتٰی جآء امر اللہ یہاں تک کہ آ گیا اللہ کا حکم قال الموت فرمایا کہ موت آ گئی۔ وغرکم باللہ الغرور اور تمہیں بہکا دیا اس دغا باز نے۔ قال الشیطان فرمایا کہ شیطان مراد ہے۔

الشَّيْطَانُ. ← الموت وغركم بالله الغرور ← التسويف بالأعمال الصالحة حتى جاء أمر الله ← بالتوبة وغرتكم الأماني ← بالشهوات وتربصتم ← ابن عباس في قول الله عز و جل ولكنكم فتنتم أنفسكم ← عِكْرِمَةَ، ← مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ← حفص بن سالم ← إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة ابن أخت عبد الله بن المبارك ← محمد بن إبراهيم النقاد ← أبو محمد علي بن محمد الحبيبي بمرو و ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7295

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7296

7296 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل الترمذي نا ابن أبي السري نا رشدين بن سعد عن يحيى بن أبي سليمان عن أبي حازم عن أنس أنه سمعه يحدث : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الأرض لتخبر يوم القيامة بكل عمل عمل على ظهرها وقرأ رسول الله صلى الله عليه و سلم : { إذا زلزلت الأرض زلزالها } فتلاها حتى بلغ : { يومئذ تحدث أخبارها } أتدرون ما أخبارها جاء جبريل عليه السلام قال : خبرها إذا كان يوم القيامة أخبرت بكل عمل عمل على ظهرها

ہمیں خبر دی علی بن زید بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابو اسماعیل محمد بن اسماعیل ترمذی نے ان کو ابن ابو السری نے ان کو رشدین بن سعد نے ان کو یحییٰ بن ابو سلیمان نے ان کو ابو حازم نے ان کو انس نے کہ اس نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تھا۔ بے شک زمین قیامت کے دن ہر اس عمل کی خبر دے گی جو اس کی پشت پر کیا گیا تھا۔ پھر آپ نے سورۃ پڑھی۔ اذا زلزلت الارض زلزالھا آپ اس کو پڑھتے گئے حتٰی کہ جب اس آیت پر پہنچے یومنذ تحدث اخبارھا زمین جس دن اپنی خبریں بیان کرے گی۔ حضور نے فرمایا کہ کیاتم جانتے ہو کہ اس کی خبریں کیا ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا قیامت کے دن اس کی خبریں وہ ہوں گی جو وہ بیان کرے گی جو کچھ اس کی پشت پر عمل کیا گیا تھا۔

أَنَسٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ ← أَبِي حَازِمٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← رشدين بن سعد ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7296

chevron_left Previous
1…22232425
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood