Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7261

7261 - أخبرنا أبو محمد بن فراس بمكة أنا أبو حفص الجمحي نا علي بن عبد العزيز نا القعنبي نا سعيد يعني ابن مسلم عن عامر بن عبد الله بن الزبير أخبرني عوف بن الحارث أن عائشة أخبرته : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يا عائشة إياك ومحقرات الذنوب فإن لها من الله طالبا

ہمیں خبر دی ابو محمد بن فراس نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو حفص جمحی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو قعنبی نے ان کو سعید یعنی ابن مسلم نے ان کو عامر بن عبداللہ بن زبیر نے ان کوخبر دی ہے عوف بن حارث نے یہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! بچانا اپنے آپ کو معمولی سمجھے جانے والے گناہوں سے بے شک اللہ کے ہاں ان کے بارے میں بھی سوال کرنے والا ذمہ دار فرشتہ مقرر ہے۔

عوف بن الحارث أن عائشة أخبرته ← عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← سعيد يعني ابن مسلم ← الْقَعْنَبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو حفص الجمحي ← أبو محمد بن فراس بمكة

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7261

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7262

7262 - أخبرنا أبو الحسن بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن يزيد عن ابن مسعود قال : مثل المحقرات كمثل قوم سفر تركوا بأرض قفر معهم طعامهم لا يصلحهم إلا النار فتفرقوا فجيء هذه بالروثة ويجيء هذا بالعظم ويجيء هذا بالعود حتى جمعوا من ذلك ما أصلحوا به طعامهم قال : فكذلك صاحب المحقرات يكذب الكذبة ويذنب الذنب ويجمع من ذلك ما يكبه الله على وجهه في نار جهنم هذا موقوف وقد روي معناه عن أبي عياض عن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه و سلم مرفوعا وقد مضى ذكره في أول هذا الكتاب عند ذكر الكبائر

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابو اسحاق نے ان کو عبدالرحمٰن بن یزید نے ان کو ابن مسعود نے ، وہ کہتے ہیں کہ محقرات گناہوں کی مثال ایسے ہے جیسے کچھ لوگ سفر میں ہوں اور وہ میدان میں چھوڑ دیئے جائیں ان کے پاس ان کا کھانا ہو جس کو انہوں نے آگ پر تیار کرتا ہو جو کہ آگ کے بغیر نہ ہو سکے لہٰذا وہ آگ جلانے کے لئے لکڑیاں وغیرہ جمع کرنے کے لئے پھیل جائیں کوئی اپلہ لائے تو کوئی ہڈی لے آئے کوئی لکڑی لے آئے حتٰی کہ وہ اس طرح وہ سامان جمع کر لیں جس سے وہ اپنا کھانا تیار کر سکیں فرمایا کہ اس طرح ہوتے ہیں صاحب محقرأت جھوٹ بھی بول دیتا ہے، گناہ بھی کر لیتا ہے اور وہ اسی طرح کے اعمال جمع کر لیتا ہے جو اس کومنہ کے بل جہنم میں گرا دیں گے۔ یہ روایت موقوف ہے۔ در تحقیق اس کا معنی مروی ہے ابو عیاض سے اس نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بطور مرفوع روایت کے۔ اور تحقیق گزر چکا ہے اس کا ذکر اس کتاب کے شروع میں کبیرہ گناہوں کے ذکر کرتے وقت۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو الحسن بن بشران

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7262

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7263

7263 - أخبرنا أبو القاسم الحرفي ببغداد نا حمزة بن محمد بن العباس نا محمد بن غالب نا القعنبي نا محمد بن أبي الفرات نا إبراهيم الهجري عن أبي الأحوص عن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الشيطان قد يئس أن تعبد الأصنام بأرض العرب ولكن سيرضى منكم بدون ذلك بالمحقرات وهي الموبقات يوم القيامة فاتقوا المظالم ما استطعتم فإن العبد يجيء يوم القيامة وهو يرى أن ستنجيه فما زال عبد يقوم يقول : يا رب ظلمني عبدك فلان بمظلمة قال : فيقول : امحوا من حسناته قال : فيقول : فما زال كذلك حتى يبقى معه حسنة من الذنوب وإن مثل ذلك كسفر نزلوا بفلاة من الأرض ليس معهم حطب فتفرق القوم ليحتطبوا فلم يلبثوا أن احتطبوا وانضجوا ما أرادوا قال : وكذلك الذنوب

ہمیں خبر دی ابو القاسم حرفی نے بغداد میں ان حمزہ بن محمد بن عباس نے ان کو محمد بن غالب نے ان کو قعنبی نے ان کو محمد بن ابو الفرات نے ان کو ابراہیم ہجری نے ان کو ابو الاحوص نے ان کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک شیطان مایوس ہو چکا ہے اس بات سے کہ ارض عرب میں بتوں کی عبادت کی جائے لیکن وہ عنقریب خوش ہو جائے گا تم لوگوں سے اس کے بغیر بھی محقرات کے ساتھ اور وہی مہلکات ہوں گے قیامت کے دن۔ جس قدر استطاعت رکھتے ہو مظالم سے بچو بے شک قیامت کے دن ایک انسان نیکیاں لے کر آئے گا اور وہ یہ سمجھتا ہو گا کہ اس کی ان اعمال کی وجہ سے نجات ہو جائے گی مگر ہمیشہ کوئی نہ کوئی بندہ کھڑ ا ہو کر کہتا رہے گا اے میرے رب تیرے فلاں بندے نے مجھ پر ظلم کیا تھا حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اس کی نیکی اس کے اعمال نامے سے مٹا کر کم کر دو حضور نے فرمایا ہمیشہ یہی ہوتا رہے گا حتٰی کہ اس کے پاس کوئی نیکی باقی نہ رہے گی۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے پکچھ لوگ سفر میں کسی میدان میں اتریں ان کے پاس لکڑیاں نہ ہوں لہٰذا لوگ لکڑیاں جمع کرنے لگ جائیں اور کچھ دیر نہ کریں فوراً لکڑیاں جمع کر لیں اور کھانا تیار کریں جو وہ ارادہ کریں فرمایا کہ اسی طرح ہیں گناہ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← إبراهيم الهجري ← محمد بن أبي الفرات ← الْقَعْنَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ← أبو القاسم الحرفي ببغداد

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7263

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7264

7264 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن أحمد بن الخضر الشافعي نا إبراهيم بن أبي طالب نا محمد بن علي بن حمزة المروزي نا علي بن الحسن بن شقيق نا أبو حمزة عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة و أبي سعيد قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الشيطان قد أيس أن يعبد بأرضكم هذه ولكنه رض منكم بما تحتقرون

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن احمد بن خضر شافعی نے ان کو ابراہیم بن ابی طالب نے ان کو محمد بن علی بن حمزہ مروزی نے ان کو علی بن حسن بن شقیق نے ان کو ابو حمزہ نے اعمش سے ان کو ابو صالح نے کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ابو سعید نے دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے تمہاری اس سر زمین پر اس بات سے کہ اس کی عبادت کی جائے گی لیکن وہ تم سے راضی ہو جائے گا ان اعمال کے ساتھ جنہیں تم حقیر اور معمولی سمجھتے ہو۔

أبي هريرة و أبي سعيد ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو حَمْزَةَ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← محمد بن علي بن حمزة المروزي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبو الحسن أحمد بن الخضر الشافعي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7264

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7265

7265 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو أحمد بن بكر بن محمد بن حمدان الصيرفي نا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي حدثني إسماعيل بن أبي أويس نا سليمان بن بلال عن يونس عن ابن شهاب عن أبي حميد عن أبي هريرة قال : أحذركم محقرات هذه الأعمال وإنها تحصى عليكم وترد عليكم هكذا جاء موقوفا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو احمد بن بکر بن محمد بن حمدان صیرفی نے ان کو ابو الاحوص نے ان کو محمد بن ہیثم قاضی نے ان کو اسماعیل بن ابی اویس نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو یونس نے ان کو ابن شہاب نے ان کو ابو حمید نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں تمہیں ڈراتا ہوں ان اعمال کو حقیر اور بے وزن کر دینے والے اعمال سے بے شک وہ تمہارے خلاف شمار کئے جاتے ہیں۔ اور تمہارے خلاف لائے جائیں گے۔ اسی طرح یہ روایت موقوف آئی ہے (صحابی تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں ہے)۔

أحذركم محقرات هذه الأعمال وإنها تحصى عليكم وترد عليكم هكذا جاء موقوفا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حُمَيْدٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ← أبو أحمد بن بكر بن محمد بن حمدان الصيرفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7265

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7266

7266 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري نا إسماعيل بن محمد الصفار نا عباس بن عبد الله الترقفي نا أبو عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المقرئ نا حيوة و ابن لهيعة قالا : سمعنا يزيد بن أبي حبيب يقول : حدثني أبو عمران أنه سمع أبا أيوب الأنصاري يقول : إن الرجل ليعمل الحسنة يتكل عليها ويعمل المحقرات حتى يأتي الله وقد أخطرته وإن الرجل ليعمل السيئة فيغرق منها حتى يأتي الله آمنا

ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یحییٰ بن عبدالجبار سکری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عباس بن عبیداللہ ترقفی نے ان کو ابو عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن یزید مقری نے ان کو خبر دی حیوٰۃ نے اور ابن لہیعہ نے دونوں نے کہا ہم نے سنا یزید بن ابو حبیب سے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ابو عمران نے انہوں نے سنا ابو ایوب انصاری سے وہ کہتے ہیں بے شک ایک آدمی البتہ نیکی کا عمل کرتا ہے اور اسی پر آسرا کرتا ہے اور محقرات (نیکیوں کو بے قدرو قیمت کرنے والے اعمال) بھی کرتا ہے حتیٰ کہ اللہ کے پاس آ جاتا ہے اور ان اعمال نے اس کو خطرے میں ڈال دیا ہوتا ہے۔ اور ایک آدمی برائی کے عمل کرتا ہے اور اسی میں غرق رہتا ہے حتٰی کہ جب اللہ تعالیٰ کے پاس آ تا ہے تو خطرے سے باہر امن والا ہوتا ہے۔

أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، ← أَبُو عِمْرَانَ أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← حيوة و ابن لهيعة ← أبو عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المقري ← عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7266

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7267

7267 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا حاجب بن أحمد نا محمد بن حماد الأبيوردي نا أنس بن عياض الليثي عن أبي حازم ولا أعلم إلا عن سهل بن سعد : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إياكم ومحقرات الذنوب فإنما مثل محقرات الذنوب كمثل قوم نزلوا ببطن واد فجاء ذا بعود وجاء ذا بعود حتى جمعوا ما أنضح خبزهم وإن محقرات الذنوب متى يأخذها صاحبها تهلكه

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو حاجب بن احمد نے ان کو محمد بن حماد آبیوردی نے کو انس بن عیاض لیثی نے کو ابو حازم نے اور میں ان کو نہیں جانتا مگر سہل بن سعد سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچاؤ تم اپنے آپ کو محقرات گناہوں سے (تمام نیکیوں کو برباد کرنے والے) محقرات گناہوں کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جو کسی وادی کے پیٹ میں اتریں اور ایک آدمی ایک لکڑی لے آئے دوسرا دوسری لے آئے حتٰی کہ اتنی لکڑیاں جمع کر لیں جس سے ان کا کھانا پک جائے بے شک محقرات گناہ جب بھی بندہ ان کو پکڑتا ہے وہ اسے ہلاک کر دیتے ہیں۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أبي حازم ولا أعلم إلا ← أَنَسُ بْنُ عِيَاضِ اللَّيْثِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الْأَبيوردي, ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7267

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7268

7268 - أخبرنا أبو منصور عبد القاهر بن طاهر الفقيه نا أبو سعيد إسماعيل بن أحمد الخلالي أنا المنيعي نا إسحاق بن إبراهيم المروزي نا حماد بن زيد عن سعيد بن أبي صدقة عن قيس بن سعد قال : قال ابن عباس : لا كبيرة بكبيرة مع الاستغفار ولا صغيرة بصغيرة مع الإصرار

ہمیں خبر دی ابو منصور عبدالقاہر بن طاہر فقیہ نے ان کو ابو سعید اسماعیل بن احمد الخلالی نے ان کو منیعی نے ان کو اسحاق بن ابراہیم مروزی نے ان کو حماد بن زید نے ان کو سعید بن ابو صدقہ نے ان کو قیس بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ کہا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کبیرہ گناہ استغفار کے ساتھ کوئی کبیرہ نہیں ہے اور کوئی صغیرہ گناہ صغیرہ نہیں ہے اس پر اصرار کرنے کے ساتھ۔

ابن عباس لا كبيرة بكبيرة مع الاستغفار ولا صغيرة بصغيرة مع الإصرار ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي صَدَقَةَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ، ← المنيعي ← أبو سعيد إسماعيل بن أحمد الخلالي ← أبو منصور عبد القاهر بن طاهر الفقيه

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7268

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7269

7269 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا جعفر بن محمد الخلدي حدثني أبو العباس بن مسروق قال : سمعت سري السقطي يقول : رأيت في بعض كتب الحكماء كان يقال : قليل الحكمة كثير النفع وقليل الصدق كثير الصواب وقليل اليقين كثير الإيمان وقليل الجهل كثير الضرر وقليل الإصرار كثير العقوبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد خلدی نے ان کو ابو العباس بن مسروق رحمۃ اللہ علیہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سری سقطی سے وہ کہتے تھے کہ میں نے دیکھا بعض حکما کی کتابوں میں کہا گیا تھا کہ قلیل حکمت و دانائی کثیر نفع والی ہوتی۔ اور تکلیل سچائی کثیر صواب (درستی والی) ہوتی ہے۔ اور قلیل یقین کثیر ایمان والا ہوتا ہے۔ اور قلیل جہل کثیر نقصان والا ہوتا ہے۔ اور قلیل اصرار کثیر سزا والا ہوتا ہے۔

رأيت في بعض ← سَرِيَّ السَّقْطِيَّ ← أبو العباس بن مسروق ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَلَدِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7269

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7270

7270 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة نا عبد الله بن محمد الرازي نا إبراهيم بن زهير الحلواني نا مكي بن إبراهيم نا جعفر بن حيان عن قتادة قال : قال لقمان لابنه يا بني اعتزل الشر كما يعتزلك فإن الشر للشر خلق

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو عبداللہ بن محمد رازی نے ان کو ابراہیم بن زبیر حلوانی نے ان کو مکی بن ابراہیم نے ان کو جعفر بن حیان نے ان کو قتادہ نے وہ کہتے ہیں۔ کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا شر سے الگ رہ جیسے وہ تم سے دور ہے بے شک شرشر کو ہی پیدا کرتا ہے۔

لقمان لابنه يا بني اعتزل الشر كما يعتزلك فإن الشر للشر خلق ← قَتَادَةَ ← جَعْفَرِ بْنِ حَيَّانَ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ زُهَيْرٍ الْحُلْوَانِيُّ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِيُّ، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7270

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7271

7271 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا عبد الله بن عثمان أنا عبد الله بن المبارك نا الأوزاعي سمعت بلال بن سعد يقول : زاهدكم راغب ومجتهدكم مقصر وعاملكم جاهل وجاهلكم مغتر

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو عبداللہ بن عثمان نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو اوزاعی نے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بلال بن سعد سے وہ کہتے تھے کہ تمہارے تارک دنیا، دنیا کی رغبت رکھنے والے ہیں تمہارے سعی و جہد کرنے والے سعی میں کوتاہی اور کمی کرنے والے ہیں۔ تمہارے عمل کرنے والے جہالت کا شکار ہیں۔ اور تمہارے جاہل وبے علم فریب خوردہ ہیں۔

زاهدكم راغب ومجتهدكم مقصر وعاملكم جاهل وجاهلكم مغتر ← بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7271

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7272

7272 - أخبرنا أبو القاسم الحرفي ببغداد نا محمد بن عبد الله الشافعي نا محمد بن إسماعيل نا أبو صالح نا عبد الله بن صالح حدثني معاوية بن صالح عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه عن يونس بن سمعان الأنصاري قال : أقمت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بالمدينة سنة ما يمنعني من الهجرة إلا المسألة فإن أحدنا إذا هاجر لم يسل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن شيء قال : فسألته عن البر والإثم ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : البر حسن الخلق والإثم ما جال في نفسك وخشيت أن يطلع عليه الناس أخرجه مسلم من حديث ابن مهدي عن معاوية

ہمیں خبر دی ابو القاسم حرفی نے بغداد میں ان کو محمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو محمد بن اسماعیل نے ان کو ابو صالح نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو معاویہ بن صالح نے ان کو عبدالرحمٰن بن جبیر بن نضیر نے ان کو ان کے والد نے ان کو یونس بن سمعان انصاری نے وہ کہتے ہیں کہ میں مدینے میں سال بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت چھوڑ کر جانے میں کوئی چیز مانع نہیں تھی سوائے مسائل پوچھنے کے بے شک ہم میں سے ایک آدمی جب ہجرت کرتا، یعنی جانے لگتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ نیکی حسن خلق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے نفس میں دل میں گردش کرے کھٹکے اور تجھے ڈر گئے کہ اس پر کوئی آگاہ نہ ہو جائے۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے ابن مہدی کی حدیث سے اس نے معاویہ سے۔

يونس بن سمعان الأنصاري ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← محمد بن عبد الله الشافعي ← أبو القاسم الحرفي

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7272

chevron_left Previous
1…202122…25
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood