شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في الطبع على القلب أو الرين · حديث 7213
7212 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل الصفار نا الحسن بن علي بن عفان نا ابن نمير عن الأعمش عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن حذيفة قال : قيل يا أبا عبد الله أكفر بنو إسرائيل في يوم واحد قال : لا ولكن عرضت عليهم فتنة فأبوا أن يركبوها فضربوا عليها حتى ركبوها ثم عرضت عليهم أكبر منها فقالوا : لا نركب هذه أبدا فضربوا عليها حتى ركبوها فانسلخوا من دينهم كما ينسلخ الرجل من قميصه قال أحمد : قال أصحابنا : والختم على القلب والطبع بمعنى واحد ومن طبع على قلبه في ذنب لم يتب منه أبدا قال الله عز و جل : { إن الذين كفروا سواء عليهم أأنذرتهم أم لم تنذرهم لا يؤمنون } فأيس نبيه صلى الله عليه و سلم من إيمانهم وأشار إلى سبب ذلك وعلته فقال { ختم الله على قلوبهم وعلى سمعهم وعلى أبصارهم غشاوة } ومعنى الختم التغطية على الشيء الاستيشاق منه حتى لا يدخله شيء فقوله ختم الله على قلوبهم أي طبع الله والخاتم بمنزلة الطابع والمعنى أنها لا تعقل ولا تعي خيرا فأخبر أنه حال بينهم وبين الدواعي إلى الإيمان أن يخلص إلى قلوبهم وحال بين قلوبهم وبين أبصار ما في الإيمان من الصواب فدل ذلك على أن الكافر مطبوع على قلبه مستحيل وجود الإيمان منه وقال : { أولئك الذين طبع الله على قلوبهم وسمعهم وأبصارهم وأولئك هم الغافلون } فأخبر أن المطبوع عليه غافل ووجود الفعل الذي شرطه الاختيار عن الغافل عنه غير ممكن وأصل الطبع في اللغة من الوسخ والدنس يغشيان السيف ثم يستعمل فيما يشبه الوسخ والدنس من الآثام والأقذار وغيرها من المقابح والاستثناء في قوله : { بل طبع الله عليها بكفرهم فلا يؤمنون إلا قليلا } من جماعة اليهود الذين ابتدأت القصة بذكرهم لا من المطبوع على قلوبهم ويجوز أن يكونوا مأمورين بالإيمان ولا يجوز وجوده منهم فقد أخبر الله عز و جل عن جماعة من الكفار أنهم لا يؤمنون والأمر بالإيمان غير زائل عنهم وأخبر أنه أوحى إلى نوح عليه السلام أنه لن يؤمن من قومك إلا من قد آمن ولذلك غرقهم ثم لا يجوز أن يقال الأمر بالإيمان زال عنهم ولعن إبليس وجعله شيطانا فصار ممن لا يؤمن ولا يتوب أبدا ولا يجوز أن يقال إن الأمر بالإيمان والتوبة زائل عنه فكذلك المطبوع على قلبه والله أعلم وهكذا كله معنى الحليمي وغيره من أهل العلم
ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابن نمیر نے ان کو اعمش نے ان کو عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے ان کو حذیفہ نے وہ کہتے ہیں کہ کہا گیا اے ابو عبداللہ۔ کیابنی اسرائیل ایک دن میں کافر ہو گئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ کوئی فتنہ ان کو پیش آتا تھا وہ اس میں ملوث ہونے سے انکار کر دیتے تھے پھر وہ فتنہ بار بار ان سے ٹکراتا رہتا یہاں تک کہ وہ اس میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ اس کے بعد پہلے سے کوئی اور بڑا فتنہ انہیں درپیش ہوتا تو وہ یہ کہتے کہ ہم اب اس فتنے میں مبتلا نہیں ہوں گے پھر وہ بار بار اس سے دوچار ہوتے ہوتے اس میں مبتلا ہوگئے (لہٰذا رفتہ رفتہ یوں فتنوں میں گھر کر) اپنے دین سے اس طرح نکل گئے جیسے کوئی آدمی قمیص سے باہر آ جاتا ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔ کہ ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ: ختم علی القلب اور طبع علی القلب یعنی دل پر مہر لگنا اور دل طبع ہونا۔ ایک ہی معنی میں ہیں۔ جس شخص کے دل پر گناہ کی وجہ سے یا گناہ میں ٹھپہ لگ جائے، طبع ہو جائے وہ اس سے ہمیشہ توبہ نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ان الذین کفروا سواء علیھمء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یؤمنون بے شک جو لوگ کافر و منکر ہو گئے ان کے اوپر برابر ہے آیا کہ آپ ان کو ڈرائیں یانہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ لہٰذا اللہ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ایمان سے مایوس ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں اس مذکورہ بات کی علت اور اس کے سبب کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس کی جہ یہ ہے: ختم اللہ علی قلوبھم وعلی سمعھم وعلی ابصارھم غشاوۃ کیونکہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔ ختم کا معنی :۔۔۔۔۔ختم کامعنی ہوتا ہے کسی چیز پر ڈھک دینا اور اس کا یقین اور وثوق کر لینا کہ اس میں کوئی چیز داخل نہ ہو سکے گی۔ ختم اللہ علىٰ قلوبھم كا معنی :۔۔۔۔۔اس کا معنی ہے طبع اللہ۔ اللہ نے مہر کر دی۔ اور خاتم بمنزلہ طابع کے ہوتا ہے۔ چنانچہ معنی اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دل میں نہ تو سمجھتے ہیں اور نہ ہی خیر کو محفوظ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ ان کے درمیان ایمان اور مقتضیات ایمان کے درمیان حائل اور رکاوٹ ہے اس سے کوئی چیز ان کے دلوں میں راستہ پا سکے۔ اور حائل ہے ان کے دلوں کے اور ان کی آنکھوں کے درمیان وہ چیز جو ایمان میں ہے صواب اور درست اور صحیح۔تو یہ بات اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کافروں کے دل مطبوع ہیں اور مہر زدہ ہیں لہٰذا ان سے ایمان کا وجود محال ہے۔ ارشاد باری ہے: اولئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم وسمعھم وابصارھم واولئک ھم الغافلون وہی لوگ ہیں کہ مہر کر دی ہے اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر اور وہی لوگ غافل ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ مطبوع علیہ غافل ہے (یعنی جس پر مہر لگ چکی۔) اور کسی غافل سے ایسے فعل وجود میں آنا جس کے لئے اختیار شرط ہے ناممکن ہے اور لغت میں طبع کی اصل حقیقت میل کچیل ہے (وسخ اور دنس) جو تلوار کی دھار کو چھپا دیتے ہیں۔اس کے بعد طبع استعمال ہوتا ہے ان چیزوں کے بارے میں جو میل کچیل (وسخ اور دنس) کے مشابہ ہیں (اثام واقذار) گناہوں کی گندگیاں وغیرہ ہلاکتوں کے بارے میں (اس کے بعد مصنف نے ایک ممکنہ سوال کا جواب دیا ہے کہ ایک آیت میں مذکور استثناء سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگ مہر لگ جانے کے باوجود بھی ایمان لائیں گے؟) فرمایا کہ وہ استثناء جو اس آیت میں مذکور ہے: بل طبع اللہ علیھا بکفرھم فلا یؤمنون الا قلیلاً بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر مہر مار دی ہے اب وہ ایمان نہیں لائیں گے مگر تھوڑے لوگ یہ استثناء یہود کی جماعت سے ہے۔ وہ یہود جن کے تذکرے کے ساتھ قصہ کی ابتداء ہوئی ہے۔ بیان لوگوں سے استثناء نہیں ہے۔ جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے (یعنی مطبوع القلوب سے) اور یہ جائز ہے ممکن ہے کہ وہ ایمان کے لئے مامور ہوں۔ لیکن ایمان کا وجود ان سے جائز اور ممکن نہیں ہے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کفار کی ایک جماعت کی طرف سے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے لیکن ایمان کے بارے میں حکم اور اصر ان سے زائل نہیں ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اس نے نوح علیہ السلام کی طرف وحی کی تھی: انہ لن یؤمن قومک الامن قد اٰمن کہ تیری قوم میں سے ہرگز کوئی ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لا چکے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کو غرق بھی کیا۔ اس کے بعد یہ جائز نہیں ہے کہ یوں کہا جائے کہ امر بالایمان ان سے زائل ہو چکا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو لعنت کی تھی اور اس کو شیطان کردیا تھا لہٰذا وہ ایسا جو گیا کہ ایمان نہیں لائے گا اور ہمیشہ کے لئے توبہ بھی نہیں کرے گا۔ مگر یہ جائز نہیں ہے کہ یوں کہا جائے کہ ایمان کا امر اور توبہ اس سے زائل اور ختم ہو چکے ہیں۔ یہی حال ان لوگوں کا بھی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے۔ واللہ اعلم۔ اور اسی طرح ہے قول حلیمی کا معنی اور اس کے علاوہ دیگر اہل علم کے قول کا معنی۔
قيل يا أبا عبد الله أكفر بنو إسرائيل في يوم واحد ← حُذَيْفَةَ ← عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي ليلى ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in printing on the heart or the rain · Hadith 7213
