Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7177

7177 - أخبرنا محمد بن الحسين الأسدي قال : سمعت محمد بن عبد العزيز البجلي يقول : أنا الحسين المالكي سمعت علي بن الفضل صاحب ذي النون قال : سمعت ذا النون يقول : الاستغفار من غير إقلاع توبة الكاذبين سمعت محمد بن الحسين سمعت عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن الرازي سمعت أبا عثمان سمعت أبا حفص يقول : من قدم الاستغفار على الندم كان مستهزئا ولا يعلم قال : وسمعت عبد الله بن محمد سمعت أبا عثمان يقول : التوبة طول الندم ودوام الاستغفار

ہمیں خبر دی محمد حسین اسدی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن عبدالعزیز بجلی سے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی حسین مالکی نے اس نے سنا علی بن فضل صاحب ذوالنون سے وہ کہتے ہیں کہ اس نے سنا ذوالنون سے وہ کہتے ہیں کہ گناہ کو چھوڑے بغیر استغفار کرنا جونوں کی توبہ ہے۔ میں نے سنا محمد بن حسین سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن رازی سے انہوں نے سنا ابو عثمان سے اس نے سنا ابو حفص سے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص گناہ پر ندامت سے پہلے استغفار کرے وہ استہزاء کرتا ہے اور جانتا بھی نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن محمد سے انہوں نے سنا ابو عثمان سے وہ کہتے تھے کہ توبہ نام ہے لمبی ندامت کا اور ہمیشہ استغفار کرتے رہنے کا۔

التوبة طول الندم ودوام الاستغفار ← أَبَا عُثْمَانَ ← وسمعت عبد الله بن محمد ← من قدم الاستغفار على الندم كان مستهزئا ولا يعلم ← أَبَا حَفْصٍ، ← أَبَا عُثْمَانَ ← عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن الرازي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← الاستغفار من غير إقلاع توبة الكاذبين ← ذَا النُّونِ، ← علي بن الفضل صاحب ذي النون ← الحسين المالكي ← محمد بن عبد العزيز البجلي ← محمد بن الحسين الأسدي

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7177

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7178

7178 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا أحمد بن بديل الأيامي نا سلم بن سالم نا سعيد الحمصي عن عطاء عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : التائب من الذنب كمن لا ذنب له والمستغفر من الذنب وهو مقيم عليه كالمستهزئ بربه ومن آذى مسلما كان عليه من الإثم كذا وكذا ذكر شيئا

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو احمد بن بدیل اباحی نے ان کوسلم بن سالم نے ان کو سعید حمصی نے ان کو عطا ء نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہے جیسے کہ اس کے گناہ نہیں تھے۔ اور گناہ سے استغفار کرنے والا بایں صورت کہ وہ گناہ پر بھی قائم ہو مثل استہزاء کرنے والے کے ہے اپنے رب کے ساتھ اور جو شخص مسلمان کو ایذا دے اس پر ایسا ایسا گناہ ہو گا اس نے کئی چیزوں کا ذکر کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← سعيد الحمصي ← سَلْمُ بْنُ سَالِمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ الْأَيَامِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7178

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7179

7179 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا إبراهيم بن أحمد بن فراس سمعت إبراهيم بن أحمد الخواص يقول : قال ميمون بن مهران عن ابن عباس : كم من تائب يرد يوم القيامة يظن أنه تائب وليس بتائب لأنه لم يحكم أبواب التوبة

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابراہیم بن احمد بن فراس نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے ابراہیم بن احمد خواص سے وہ کہتے ہیں کہ بیان کیا میمون بن مہران نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہ بہت سے توبہ کرنے والے ایسے ہوتے ہیں جو قیامت میں رد کر دیے جائیں گے وہ یہ گمان کرتا ہو گا کہ اس نے توبہ کر رکھی ہے حالانکہ وہ تائب نہیں ہوتا اس لئے کہ اس نے توبہ کے دروازے محکم نہیں کئے تھے۔

مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← إبراهيم بن أحمد الخواص ← إبراهيم بن أحمد بن فراس ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7179

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7180

7180 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا عبد الله بن محمد بن علي بن زياد نا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن نا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي أنا عبد الرحمن بن مهدي أنا معاوية بن صالح عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن عوف بن مالك قال : ما من ذنب إلا وأنا أعرف بتوبته قيل وما هو ؟ قال : أن تتركه ثم لا تعود إليه قلت : وإنما أراد والله أعلم أن يتركه وهو نادم على ما مضى منه عازم على أن لا يعود إليه

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن نے ان کو اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کو معاویہ بن صالح نے ان کو عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر نے ان کو عوف بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ کوئی گناہ ایسا نہیں مگر ہر گناہ کی میں توبہ جانتا ہوں کہا گیا کہ وہ کیا ہے؟ فرمایا کہ اس طرح چھوڑیئے کہ دوبارہ بالکل وہ کام نہ کیجئے۔ میں نے کہا سوا اس کے نہیں کہ اس نے یہ ارادہ کیا ہے کہ اس گناہ کو چھوڑے اس حال میں کہ وہ شرمندہ ہواپنے کئے پر اور عازم ہو اس کو دوبارہ نہ کر نے پر۔

أعرف بتوبته قيل وما هو ← ما من ذنب إلا ← عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عبد الله بن محمد بن علي بن زياد ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7180

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7181

7181 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني جعفر بن محمد بن نصير حدثني الجنيد بن محمد قال : قال السري يوما وقد انصرف من الجمعة وهو شبيه بالمتعجب فسألناه عن ذلك أو بدأنا هو به فقال : لقيني شاب وأنا أمضي إلى الصلاة فقال : ما صدق التوبة فقلت : أن لا تنسى ذنبك فقال لي ما أعجب ما قلت لي فقلت له : فما الذي عندك ؟ فقال لي : هو أن لا يذكر ذنبه فتعجبت من ذلك القول وكان الصواب عندي ما قال هو

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد بن نصیر نے ان کو جنید بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ کہا سری نے ایک دن۔ حالانکہ وہ جمعہ کی نماز سے واپس لوٹے تھے۔ تعجب کرنے والے کے مشابہ تھے۔ ہم نے ان سے اس بارے میں پو چھایا انہوں نے ہمیں خود بتایا انہوں نے فرمایا کہ مجھے ایک نو جوان ملا ہے جب کہ میں نماز کے لئے جا رہا تھا۔ اس نے پوچھا کہ سچی توبہ کیا ہے؟ میں نے اس کو جواب دیا ہے، سچی توبہ یہ ہے کہ تم اپنے گناہ کو نہ بھولو، اس نوجوان نے مجھ سے کہا، یہ زیادہ اچھی بات نہیں ہے آپ نے جو مجھے کہی ہے، پھر میں نے اس سے پوچھا کہ تیرے پاس جو اس کا جواب ہے وہ کیا ہے؟ اس نے مجھے جواب دیا سچی توبہ یہ ہے کہ وہ اپنے گناہ کو یاد ہی نہ کرے۔ مجھے اس قول کو سن کر حیرانی ہوئی ہے اور میرے نزدیک وہی جواب درست ہے جو اس نے کہا ہے۔

ما صدق التوبة فقلت ← أمضي إلى الصلاة ← لقيني شاب ← ذلك أو بدأنا هو به ← السري يوما وقد انصرف من الجمعة وهو شبيه بالمتعجب فسألناه ← الْجُنَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7181

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7182

7182 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا أبو عثمان الخياط قال : سمعت السري يقول : التوبة على أربعة دعائم استغفار باللسان وندم بالقلب وترك بالجوارح واضمار أن لا يعود فيه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کوحسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابوعثمان خیاط نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سری سے وہ کہتے تھے کہ توبہ کے چار ستون ہیں (جن پر وہ قائم ہوتی ہے۔) زبان سے استغفار کرنا، دل سے ندامت کرنا، اعضاء سے گناہ چھوڑنا ضمیر سے یہ تصور کرنا دوبارہ نہیں کروں گا۔

السَّرِيُّ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْخَيَّاطُ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7182

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7183

7183 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا جعفر بن محمد قال : سمعت الجنيد بن محمد يقول : التوبة على ثلاثة معان أولها الندم الذي قال النبي صلى الله عليه و سلم الندم توبة وهو على إصرار من القلوب وتنقل من مذموم الأفعال إلى محمودها والثاني يعزم على ترك المعاودة فيما نهي وأن لا يعاوده فيما بقي والثالث في أداء المظالم في كل عرض من مال ودم فهذه الأحوال الثلاثة التي يتم بها أمر التوبة والله أعلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا جنید بن مجھ سے وہ کہتے تھے کہ توبہ کے تین معانی ہیں پہلی بات ندامت جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ الندم توبہ کہ گناہ پر شرمندہ ہونا۔ وہ ہے دلوں سے اصرار کرنا یا پکا ہوتا۔ اور مذموم افعال سے محمود افعال کی طرف منتقل ہونا۔ دوسرا معنی دوبارہ اس گناہ کی طرف لوٹنے کے ترک پرعزم کرنا جن سے روکا گیا یہ بقایا زندگی میں دوبارہ نہیں کرے گا۔ تیسر امعنی۔ زیادتی اور مظالم کی تلافی کرنا ہر عزت میں خواہ وہ مال سے ہو یا خون سے۔ یہ تینوں احوال وہ ہیں جن کے ساتھ امر توبہ پورا ہوتا ہے۔

التوبة على ثلاثة معان أولها الندم الذي ← الْجُنَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ، ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7183

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7184

7184 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي سمعت منصور بن عبد الله يقول : سمعت جعفر بن محمد يقول : سمعت الحفص بن محمد سمعت الجنيد يقول : التوبة على ثلاث معان أولها الندم والثاني يعزم على ترك المعاودة إلى ما نهي عنه والثالث يسعى في أداء المظالم

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے میں نے سنا منصور بن عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا جعفر بن محمد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حفص بن محمد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا جنید سے وہ کہتے ہیں کہ توبہ کے تین معنی ہیں۔ پہلی چیز ندامت دوسری چیز ترک معاودۃ کا عزم جس چیز سے منع کیا گیا تھا۔ تیسری چیز زیادتی کی تلافی کی ادائیگی کی کوشش کرنا۔

الجنيد ← الحفص بن محمد ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← مَنْصُورَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7184

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7185

7185 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق سمعت سعيد بن عثمان الخياط يقول : سمعت ذا النون يقول : ثلاثة من أعلام التوبة إدمان البكاء على ما سلف من الذنوب والخوف المتعلق من الوقوع فيها وهجران إخوان السوء وملازمة أهل الخير

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سعید بن عثمان خیاط سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ذوالنون سے وہ کہتے تھے کہ تین چیزیں توبہ کی علامت میں سے ہیں سابقہ گناہ پر ہمیشہ روتے رہنا دوبارہ اس گناہ میں واقع ہونے سے ڈرتے رہنا اور برے دوستوں کو چھوڑ دینا اور اہل خیر کے ساتھ مستقل لگ جانا۔

ذَا النُّونِ، ← سعيد بن عثمان الخياط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7185

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7186

7186 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الرازي سمعت يوسف بن الحسين يقول : سئل ذا النون عن الاستغفار فقال : يا أخي الاستغفار اسم جامع لمعان ستة أولهن الندم على ما مضى والثاني العزم على ترك الرجوع إلى الذنوب أبدا والثالث إذا كان فرض ضيعته فيما بينك وبين الله عز و جل والرابع أداء المظالم إلى المخلوقين في أموالهم وأعراضهم ويصالحهم عليها والخامس إذابة كل لحم ودم نبت من الحرام والسادس إذاقة البدن ألم الطاعات كما ذاق حلاوة المعصية

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو بکر محمد بن عبداللہ رازی نے انہوں نے سنایوسف بن حسین سے وہ کہتے ہیں کہ ذوالنون مصری سے استغفار کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔انہوں نے فرمایا اے بھائی استغفار چھے جامع معانی کا نام ہے۔ان میں سے پہلی چیز ندامت ہے گذشتہ گناہ پر۔ دوسری چیز ہمیشہ کے لئے اس گناہ کی طرف رجوع ہونے کو چھوڑنے کا عزم کرنا تیسری چیز یہ کہ جب وہ گناہ کوئی فرض ہو جس کو آپ نے ضائع کیا ہے تیرے درمیان اور اللہ کے درمیان تو اس کی قضاء کرنا۔ اور چوتھی چیز اداء مظالم مخلوقات کی طرف ان کے مالوں میں ہو یا عزتوں میں ان کے ساتھ اس پر صلح کر لے۔ پانچویں چیز ہے ہر گوشت اور ہر خون کو کھلانا جو حرام سے پیدا ہوا ہے۔ چھٹی چیز بدن کو اطلاعات کا الم اور تکلیف چکھانا جیسے اس نے معصیت کا میٹھاس چکھا ہے۔

الاِسْتِغْفَارُ. ← سئل ذا النون ← يُوسُفُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو بكر محمد بن عبد الله الرازي ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7186

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7187

7187 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل المصري بمكة أنا أبو الحسين أحمد بن محمود السمعي نا خلف بن عمرو العكبري نا إسحاق بن إسماعيل نا عمار عن الأعمش عن الربيع بن أبي راشد عن سعيد بن جبير في قوله : ـ { يا عبادي الذين آمنوا إن أرضي واسعة } قال إذا عمل في الأرض بالمعاصي فاخرجوا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ محمد بن فضل مصری نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو الحسین احمد بن محمود سمعی نے ان کو خلف بن عمرو عکبری نے ان کو اسحاق بن اسماعیل نے ان کو عمار نے ان کو اعمش نے ان کو ربیع بن ابو راشد نے ان کو سعید بن جبیر نے اللہ کے اس قول کے بارے میں الذین امنوا ان ارضی واسعۃ اے میرے ایماندار بندو بے شک میری زمین فراغ ہے۔ سعید بن جبیر نے فرمایا اس کی مراد ہے کہ جب کوئی زمین پر گناہوں کا عمل کرے تو اس کو نکال دو

إذا عمل في الأرض بالمعاصي فاخرجوا ← سعيد بن جبير في قوله يا عبادي الذين آمنوا إن أرضي واسعة ← الرَّبِيعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَمَّارٍ ← إسحاق بن إسماعيل ← خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ ← أبو الحسين أحمد بن محمود السمعي ← أبو عبد الله محمد بن الفضل المصري بمكة

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7187

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7188

7188 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو بكر بن داود الزاهد حدثني إبراهيم بن عبد الواحد العبسي نا وزيرة عن محمد الغساني نا شبيب بن واضح سمعت أبا عتبة الخواص سمعت إبراهيم بن أدهم يقول : من أراد التوبة فليخرج من المظالم وليدع مخالطة من كان يخالط وإلا لم ينل ما يريد

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن اسحاق نے ان کو ابو بکر بن داؤد زاہد نے ان کو ابراہیم بن عبدالواحد عیسیٰ نے ان کو خبر دی وزیرہ نے ان کو محمد غسانی نے ان کو شبیب بن واضح نے اس نے سنا ابو عتبہ خواص سے اس نے سنا ابراہیم بن ادہم سے وہ کہتے تھے کہ جو شخص توبہ کا ارادہ کرے اس کو چاہئے کہ وہ پہلے مظالم سے باہر آئے اور جن لوگوں سے میل جول رکھتا تھا اس کو چھوڑ دے ورنہ وہ اپنی مراد نہیں پا سکے گا۔

إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَدْهَمَ ← أبا عتبة الخواص ← شبيب بن واضح ← محمد الغساني ← وزيرة ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْعَبْسِيُّ ← أبو بكر بن داود الزاهد ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7188

chevron_left Previous
1…131415…25
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood