Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7165

7165 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو نا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا يعقوب بن عبيد نا يزيد بن هارون نا يوسف الصقيل عن الحجاج بن أبي زينب قال : سمعت أبا عثمان النهدي يقول : ما في القرآن آية أرجى عندي لهذه الآية من قوله : { وآخرون اعترفوا بذنوبهم خلطوا عملا صالحا وآخر سيئا } الآية

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابی عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو یعقوب بن ابو عبید نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو یوسف صیقل نے ان کو حجاج بن ابی زینب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عثمان نہدی سے وہ کہتے تھے کہ قرآن میں ایسی کوئی آیت نہیں ہے جو اس آیت سے بڑھ کر اس امت کے لئے امید دلاتی ہو:واٰخرون اعترفوا بذنوبھم خلطوا عملاً صالحاً واخر سیئاً الخ کچھ دوسرے وہ لوگ بھی ہیں جو اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں جنہوں نے اپنے عمل ملے جلے کئے ہوئے ہیں نیک بھی بد بھی۔

أبا عثمان النهدي ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي زَيْنَبَ ← يوسف الصقيل ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يعقوب بن عبيد ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7165

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7166

7166 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقرئ قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الخضر بن أبان نا سيار بن حاتم نا جعفر بن سليمان عن ثابت عن مطرف قال : إني لأستلقي من الليل على فراشي وأتدبر القرآن فأعرض أعمالي على أعمال أهل الجنة فإذا أعمالهم شديدة { كانوا قليلا من الليل ما يهجعون } { يبيتون لربهم سجدا وقياما } فلا أراني منهم { أمن هو قانت آناء الليل ساجدا وقائما } فأعرض نفسي على هذه الآية { ما سلككم في سقر * قالوا لم نك من المصلين } إلى قوله : { نكذب بيوم الدين } فأرى القوم مكذبين فأمر بهذه الآية : { وآخرون اعترفوا بذنوبهم خلطوا عملا صالحا وآخر سيئا } فأرجو أن أكون أنا وأنتم يا أخوتاه منهم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو محمد بن ابو حامد مقری نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو خصر بن ابان نے ان کو سیار بن حاتم نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کو ثابت نے ان کو مطرف نے وہ کہتے ہیں کہ میں رات کو اپنے بستر پر لیٹا ہوا قرآن مجید میں تدبر اور غوروفکر کر رہا تھا۔ میں اپنے اعمال کو اہل جنت کے اعمال کے ساتھ تقابل اور موازنہ کر رہا تھا میں نے دیکھا کہ ان کے عمل بڑے سخت ہیں۔مثلا: (1) کانوا قیلا من اللیل مایھجعون کہ رات کو بہت کم ہوتے تھے۔ (2) یبیتون لربھم سدا وقیاماً کہ وہ اپنے رب کے لئے سجدے میں اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ (3) امن ھوقانت اٰناء اللیل ساجدا وقائماًکیا وہ شخص رات کے لمحات میں سجدے اور قیام میں عبادت کرتا ہے۔ میں اپنے نفس کو اسی آیت پر پیش کر رہاتھا۔ (4) ماسلکم فی سقر قالو الم نک من المصلین کیا چیز تمہیں جہنم میں لے آئی ہے وہ کہیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہیں دیتے تھے۔ اور ہم غلط گوئی کرنے والوں میں گھس جاتے تھے۔ اور ہم روز جزء کو بھی نہیں مانتے تھے تو میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اس آیت کی تکذیب کرنے والے ہیں۔ لہٰذا معاملہ اس آیت کے مطابق ہے: واٰخرون اعترفوا بذنوبھم خلطوا عملا صالحاً واٰخر سیئاً دوسرے وہ لوگ بھی ہیں جو اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں جن کے ملے جلے اعمال میں نیک بھی ہیں تو بد بھی۔ میں امید کرتا ہوں کہ میں اور تم لوگ اے میرے بھائیو نہیں میں سے ہیں۔

مُطَرِّفٍ ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7166

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7167

7167 - أخبرناه أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي في المسجد الحرام أنا إسحاق بن أحمد الفاسي أنا أبو العباس السراج نا عبد الله بن محمد نا محمد بن قدامة قال : سمعت سفيان يقول : كان من دعاء مطرف بن عبد الله اللهم إني أستغفرك مما سألتك منه ثم عدت فيه وأستغفرك مما جعلته لك على نفسي ثم لم أوف لك به وأستغفرك مما زعمت أني أردت فيه وجهك فخالط قلبي فيه ما قد علمت

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو ذر عبد بن احمد بن محمد ہروی نے مسجد الحرام میں ان کو خبر دی اسحاق بن احمد الفاسی نے ان کو ابو العباس سراج نے ان کو عبداللہ بن محمد نے ان کو محمد بن قدامہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سفیان سے وہ کہتے ہیں کہ مطرف بن عبداللہ کی یہ دعا ہوتی تھی۔ اے اللہ میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں ان چیزوں کے بارے میں جن کے بارے میں، میں نے تجھ سے سوال کیا تھا پھر میں نے دوبارہ وہ کام کیا۔ اور میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں جو میں نے اپنے اوپر تیرے لئے لازم کیں پھر میں نے اپنے لئے اس میں وفا نہیں کی۔ اور میں تجھ سے استغفار کرتا ہوں جس میں تو جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کا ارادہ کیا پھر میرے دل نے کسی اور شئی کو اس میں خلط کر دیا جسے تو جاتا ہے۔

سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ ← إسحاق بن أحمد الفاسي ← أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي في المسجد الحرام

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7167

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7168

7168 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ سمعت أبا إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى يقول : سمعت أبا حاتم محمد بن موسى السجستاني يقول : سمعت أبا يزيد بن خالد بن يزيد بن داود يقول : سمعت محمد بن سابق المصري يقول : اللهم إني أستغفرك مما تبت إليك منه ثم عدت فيه واستغفرك للنعم التي أنعمت بها علي فقويت بها على معاصيك وأستغفرك من كل شيء أوجبت لك على نفسي ثم لم أوف لك به وأستغفرك لكل شيء أردت بها وجهك ثم خالطها ما ليس لك رضا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن یحییٰ سے وہ کہتے تھے میں نے سنا ابو حاتم محمد بن موسیٰ سجستانی سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا ابو یزید بن خالد بن یزید بن داؤد سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا محمد بن سابق مصری سے وہ دعا کرتے تھے۔اے اللہ میں تجھ سے استغفار کرتا ہوں ان گناہوں سے جن سے میں نے توبہ کی پھر دوبارہ وہ گناہ کئے اور میں تجھ سے استغفار کرتا ہوں ان نعمتوں پر جو تو نے مجھ پر انعام فرمائے مگر میں تیری نعمتیں کھا کر تیری نافرمانی پر قوی ہوا۔ اور میں تجھ سے استغفار کرتا ہوں ہر اس شئی سے جو میں نے (اسلام لاکر) اپنے اوپر واجب کیں پھر میں نے تیرے ساتھ ان میں وفا نہ کی۔ اور میں تجھ سے استغفار کرتا ہوں ہر اس شئی سے جس کے ساتھ میں نے تیری رضا کا ارادہ کیا پھر اس میں غیر رضا والے کام ملا دیئے۔

محمد بن سابق المصري ← أبا يزيد بن خالد بن يزيد بن داود ← أبا حاتم محمد بن موسى السجستاني ← أبا إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7168

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7169

7169 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الفضل بن خيرويه نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا هشيم عن سيار عن أبي وائل قال : قال عبد الله : وددت أن الله عز و جل غفر لي ذنبا من ذنوبي وأنه لا يعرف بنسبي

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الفضل بن خیرویہ نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ہشیم نے ان کو سیار نے ان کو ابو وائل نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عبداللہ نے کہ میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے گناہ معاف کر دے اور وہ میری (خاندانی) نسبت ظاہر نہ کرے۔

أَبِي وَائِلٍ ← سَيَّارٍ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل بن خيرويه ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7169

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7170

7170 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن الحسن السراج نا يوسف بن يعقوب القاضي نا عبد الله بن محمد بن أسماء نا مهدي بن ميمون نا عبد الحميد صاحب الزيادي عن ابن أخت وهب بن منبه عن وهب بن منبه قال : كان فيمن قبلكم رجل عبد الله عز و جل زمانا وصام لله سبعين سبتا يأكل في كل سبت إحدى عشرة تمرة قال : وطلب إلى الله عز و جل حاجة فلم يعطها قال فما رأى ذلك أقبل على نفسه فقال : أيتها النفس منك أعطيت لو كان فيك خير أعطيت حاجتك وليس عندك خير قال : فنزل عليه ملك فقال : يا ابن آدم إن ساعتك التي أزريت على نفسك فيك خير من عبادتك التي مضت كلها وقد أعطاك الله تبارك وتعالى حاجتك التي سألت

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن محمد بن حسن سراج نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن اسماء نے ان کو مہدی بن میمون نے ان کو عبدالحمید صاحب زیادی نے ان کو ابن اخت وہب بن منبہ نے ان کو وہب بن منبہ نے کہ تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا اس نے ایک زمانے تک اللہ کی عبادت کی تھی اور اللہ کے لئے اس نے ستر سبت کی یعنی ہفتے کے دن کے روزے رکھے تھے ہر سبت کو وہ گیارہ دانے کھجور کے کھاتا تھا۔ اس نے اللہ سے کوئی حاجت طلب کی مگر اس کو وہ عطا نہ کی گئی جب اس نے یہ حالت دیکھی تو وہ اپنے نفس کو ملامت کرنے اور ڈانٹنے لگا اور کہا کہ اے نفس تیری وجہ سے یہ ہوا ہے اگر تیرے اندر کوئی بھلائی ہوتی تو تیری حاجت پوری ہوتی تیرے پاس کوئی چیز نہیں ہے کہتے ہیں کہ ان پر فرشتہ اتر ااس نے کہا اے ابن آدم وہ ساعت جس میں تو نے اپنے نفس کو سرزنش کی تھی وہ تیری ساری عبادت سے زیادہ بہتر ہے جو گزر چکی ہے اب اللہ تعالیٰ تجھے وہ حاجت بھی عطا کریں گے جس کا تم نے سوال کیا تھا۔

وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← ابْنِ أُخْتِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7170

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7171

7171 - أخبرنا أبو محمد المؤملي نا أبو عثمان البصري نا أبو أحمد عبد الوهاب أنا يعلى بن عبيد نا مسعر عن جواب التيمي عن الحارث بن سويد عن ابن مسعود قال : إن من أحب الكلام إلى الله عز و جل أن يقول العبد : اللهم اعترفت بالذنب وأبوء بالنعمة فاغفر لي إنه لا يغفر الذنب إلا أنت

ہمیں خبر دی ابو محمد مؤملی نے ان کو ابو عثمان بصری نے ان کو ابو احمد عبدالوہاب نے ان کو یعلی بن عبیدی نے ان کو مسعر بن جواب تیمی نے ان کو حارث بن سوید نے ان کو ابن مسعود نے وہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود نے فرمایا بے شک اللہ کے نزدیک محبوب ترین کلام یہ ہے کہ ہندویوں کہے: اللھم اعترفت بالذنب واٰبوء بالنعمۃ فاغفرلی انہ لا یغفر الذنوب الا انت اے اللہ میں نے گناہ کا اقرار کیا ہے اورنعمت کے ساتھ جوع کیا ہے۔ پس بخش دے تو مجھ کو بے شک نہیں بخشا گناہوں کو مگر صرف تو ہی۔

إن من أحب الكلام إلى الله عز و جل أن ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← جواب التيمي، ← مِسْعَرٍ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أبو أحمد عبد الوهاب ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُؤَمِّلِيُّ،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7171

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7172

7172 - وأخبرنا أبو محمد المؤملي نا أبو عثمان البصري نا أبو أحمد بن عبد الوهاب نا جعفر بن عون أنا موسى بن عبيدة الربذي عن محمد بن كعب القرظي قال : ـ { فتلقى آدم من ربه كلمات فتاب عليه } قال : قوله : { ربنا ظلمنا أنفسنا وإن لم تغفر لنا وترحمنا لنكونن من الخاسرين }

ہمیں خبر دی ابو محمد مؤملی نے ان کو ابو عثمان بصری نے ان کو ابو احمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو موسیٰ بن عبیدہ ربذی نے ان کو محمد بن کعب قرظی نے وہ کہتے ہیں کہ فتلقی اٰدم من ربہ کلمات فتاب علیہ آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات پا لئے اللہ نے اس کی توبہ قبول کی سے مراد یہ کلمات ہیں۔اور یہ قول ایسے ہے:ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخٰسرین اے ہمارے رب! ہم نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا ہے اگر تو ہمیں نہ بخشے اور نہ رحم کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں ہو جائیں گے۔

قوله ربنا ظلمنا أنفسنا وإن لم تغفر لنا وترحمنا لنكونن من الخاسرين ← فتلقى آدم من ربه كلمات فتاب عليه ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← موسى بن عبيدة الربذي ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أبو أحمد بن عبد الوهاب، ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ← وأخبرنا أبو محمد المؤملي

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7172

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7173

7173 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو سهل بن زياد نا علي بن أحمد الأبار نا جناح بن عبد العزيز نا جعفر بن سليمان عن ثابت عن أنس في : قوله عز و جل : { فتلقى آدم من ربه كلمات فتاب عليه إنه هو التواب الرحيم } قال : سبحانك اللهم وبحمدك علمت سوءا وظلمت نفسي فاغفر لي إنك خير الغافرين لا إله إلا أنت سبحانك وبحمدك عملت سوءا وظلمت نفسي فارحمني إنك أنت أرحم الراحمين لا إله إلا أنت سبحانك وبحمدك عملت سوءا وظلمت نفسي فتب علي إنك أنت التواب الرحيم وذكر أنه عن النبي صلى الله عليه و سلم ولكن شك فيه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو سہل بن زیاد نے ان کو علی بن احمد زیاد نے ان کو جناح بن عبدالعزیز نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کو ثابت نے ان کو انس رضی اللہ عنہ نے اللہ کے اس قول کے بارے میں: فتلقی اۃد، ،م ربہ کلمات فتاب علیہ انہ ھو التواب الرحیم کہ آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات پا لئے تھے ان کی وجہ سے اللہ نے ان کی توبہ قبول کی بے شک وہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ کلمات یہ تھے: سبحانک اللھم وبحمدک عملت سوء ظلمت نفسی فارحمنی انک انت ارحم الراحمین لا الٰہ الا انت سبحانک وبحمدک عملت سؤ وظلمت نفسی فتب علی انک انت التواب الرحیم ذکر کیا کہ یہ نبی کریم سے مروی ہیں مگر انہوں نے اس میں شک کیا ہے۔

ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← جناح بن عبد العزيز ← علي بن أحمد الأبار ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7173

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7174

7174 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا أبو جعفر محمد بن عبيد الله المنادي نا يونس بن محمد نا شيبان عن قتادة في : قوله : { فتلقى آدم من ربه كلمات فتاب عليه } قال : ذكر لنا أنه قال : يا رب أرأيت إن تبت وأصلحت قال : فإني إذا أراجعك إلى الجنة قال : { ربنا ظلمنا أنفسنا وإن لم تغفر لنا وترحمنا لنكونن من الخاسرين } فاستغفر آدم ربه وتاب إليه فتاب عليه إنه هو التواب الرحيم وأما عدو الله إبليس فو الله ما تنصل من ذنبه ولا سأل التوبة حتى وقع فيما وقع ولكنه سأل النظرة إلى يوم الدين فأعطى الله كل واحد منهما ما سأل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ابو جعفر محمد بن عبداللہ منادی نے ان کو یونس بن محمد نے ان کو شیبان نے ان کو قتادہ نے اللہ کے اس قول کے بارے میں: فتلقی اٰدم من ربہ کلمات فتاب علیہ قتادہ نے کہا کہ ہمارے لئے ذکر کیا گیا ہے کہ آدم نے یہ کلمات کہے تھے کہ اے میرے رب آپ بتائیں کہ اگر میں توبہ کر لوں اور اصلاح کر لوں تو۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس وقت میں تجھے واپس جنت میں بھیج دوں گا تو آدم علیہ السلام نے دعا کی ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخٰسرین آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے استغفار کیا اور اس کی بارگاہ میں توبہ کی لہٰذا اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ بہرحال اللہ کا دشمن ابلیس نہ تو اپنے گناہ سے دستبردار ہوا اور نہ ہی اس نے توبہ کا سوال کیا یہاں تک کہ وہ واقع ہو گیا جس چیز میں ہونا تھا۔ مگر اس نے مہات کا سوال کیا تھا قیامت تک لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میں سے ہر ایک کا سوال اس کو دے دیا۔

فإني إذا أراجعك إلى الجنة ← يا رب أرأيت إن تبت وأصلحت ← لنا أنه ← قتادة في قوله فتلقى آدم من ربه كلمات فتاب عليه ← شَيْبَانَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمُنَادِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7174

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7175

7175 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني يعقوب بن عبيد أنا يزيد بن هارون أنا العوام بن حوشب حدثني عبد الرحيم المكتب عن عبد الرحمن بن يزيد بن معاوية قال : الكلمات التي تلقى آدم من ربه فتاب عليه لا إله إلا أنت سبحانك و بحمدك اللهم عملت سوءا و ظلمت نفسي فاغفر لي و أنت خير الغافرين لا إله إلا أنت سبحانك و بحمدك عملت سوءا و ظلمت نفسي فارحمني و أنت أرحم الراحمين لا إله إلا أنت سبحانك و بحمدك عملت سوءا و ظلمت نفسي فتب علي إنك أنت التواب الرحيم قال الإمام أحمد رحمه الله : و معنى الاعتراف بالذنب و الاستغفار منه لا بد من التوبة على الوجه الذي معنى تفسيره لأن الله تعالى علق الإجابة على الدعاء بالمشيئة فقال : { بل إياه تدعون فيكشف ما تدعون إليه إن شاء } و أخبر النبي صلى الله عليه و سلم أن إجابة الدعاء قد تكون بدفع البلاء عنه فكان ما سأل أو بأن يعوضه الله منه في الآخرة خيرا منه فلا تعلم نفس ( ) الاستغفار أن الذنب قد سقط عن المستغفر كما يعلم بنفس التوبة أن الذنب قد سقط عن التائب و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابی الدنیا نے ان کو یعقوب بن عبید نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو عورام بن حوشب نے ان کو حدیث بیان کی عبد الرحیم المکتب نے ان کو عبدالرحمٰن بن یزید بن معاویہ نے وہ کہتے ہیں کہ وہ کلمات جو آدم نے اپنے رب سے پائے تھے اور ان پر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی وہ یہ تھے: لا الٰہ الا انت سبحانک وبحمدک اللھم عملت سوء وظلمت نفسی فاغفرلی وانت خیر الغافرین لا الٰہ الا انت سبحانک وبحمدک عملت سوء وظلمت نفسی فارحمنی وانت ارحم الراحمین لا الٰہ الا انت سبحانک وبحمدک عملت سوء وظلمت نفسی فتب علی انک انت التواب الرحیم امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ گناہ کے اعتراف کرنے اور اس سے استغفار کرنے کا مطلب لازمی طور پر توبہ ہے ایسے طریق پر۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے قبولیت کو معلق اور مشروط کیا ہے مشیت کے ساتھ۔ چنانچہ ارشاد باری ہے:بل ایاہ تدعون فیکشف ماتدعون الیہ ان شآء بلکہ خاص اسی کو پکارو وہ کھول دے گا جو تم اس سے مانگو گے اگر چاہے گا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ دعا قبولیت کبھی اس شخص سے آزمائش اور ابتلاء کودور کرنے سے ہوتی ہے وہی سوال اور دعا بن جاتی ہے۔ بایں صورت ہوتی ہے کہ آخرت میں اس کو اس کا معاوضہ دے گا جو اس کے سوال سے اور دعا سے بہتر ہو گا۔ اس کے بارے میں ارشاد ہے: فلا تعلم نفس ما اخفی لھم کوئی نفس نہیں جانتا کہ کیا کچھ مخفی رکھا گیا ہے ان کے لئے اور استغفار یہ ہوتا ہے کہ تحقیق گناہ استغفار کرنے والے سے ساقط ہو جاتا ہے جیسے نفس توبہ سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہ تحقیق ساقط ہو گیا ہے توبہ کرنے والے سے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ← عبد الرحيم المكتب ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يعقوب بن عبيد ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7175

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7176

7176 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي سمعت أبا العباس الفسوي سمعت أحمد بن عطاء نا محمد بن الزبرقان سألت أبا علي الروذباري عن التوبة فقال : الاعتراف والندم والإقلاع

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو العباس فسوی نے اس نے سنا احمد بن عطاء سے اس نے محمد بن زبرقان سے۔ میں نے پوچھا ابو علی روذباری سے توبہ کے بارے میں انہوں نے فرمایا کہ اعتراف ندامت اور دوبارہ نہ کرنا۔

التوبة فقال الاعتراف والندم والإقلاع ← محمد بن الزبرقان سألت أبا علي الروذباري ← أَحْمَدَ بْنَ عَطَاءٍ، ← أبا العباس الفسوي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7176

chevron_left Previous
1…121314…25
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood