Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7153

7153 - وقال أبو بكر قال علي بن محمد بن شقيق حدثني حامد أخبرني ابن المبارك عن الأوزاعي قال : كان يقال من الكبائر أن يعمل الرجل الذنب يحتقره

کہا ابو بکر نے وہ کہتے ہیں کہ کہا علی بن محمد بن شقیق نے ان کو حامد نے ان کو خبر دی ابن مبارک نے ان کو اوزاعی نے وہ کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ یہ بات کبائر میں سے ہے کہ کوئی آدمی کسی گناہ کو معمولی سمجھ کر کرتا رہے۔

كان يقال من الكبائر أن يعمل الرجل الذنب يحتقره ← الْاَوْزَاعِیُّ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← حَامِدٌ ← علي بن محمد بن شقيق ← وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7153

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7154

7154 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم أنا العباس بن الوليد أخبرني أبي قال : سمعت الأوزاعي يقول : الإصرار أن يعمل الرجل الذنب فيحتقره

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو عباس بن ولید نے ان کو خبر دی ان کے والد نے انہوں نے سنا اوزاعی سے وہ کہتے ہیں کہ گناہ پر اصرار کرنا یہ ہے کہ کوئی آدمی گناہ کرے پھر اس کومعمولی سمجھے۔

الإصرار أن يعمل الرجل الذنب فيحتقره ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7154

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7155

7155 - أخبرنا أبو حازم الحافظ سمعت محمد بن عبد الله بن إبراهيم التميمي يقول : سمعت محمد بن المنذر شك نا ابن أبي خيثمة سمعت يحيى بن معين يقول : قال ابن السماك : لا تخف ممن تحدر ولكن احذر ممن تأمن

ہمیں خبر دی ابو حازم حافظ نے انہوں نے سنا محمد بن عبداللہ بن ابراہیم تیمی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن منذر سے شک ہے۔ ان کو خبر دی اطن ابو خیثمہ نے انہوں نے سنا یحییٰ بن معین سے وہ کہتے ہیں کہ کہا ابن سماک نے جس گناہ سے تم ڈرتے ہو اس کا خوف نہ کرو بلکہ جس گناہ سے بے فکر رہتے ہو اس سے بچو۔

ابن السماك لا تخف ممن تحدر ولكن احذر ممن تأمن ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← ابن أبي خيثمة ← محمد بن المنذر شك ← محمد بن عبد الله بن إبراهيم التميمي ← أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7155

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7156

7156 - أخبرنا أبو سعيد أنا أبو عبد الله نا ابن أبي الدنيا حدثني الحسين بن عبد الرحمن حدثني إبراهيم بن رجاء سمعت ابن السماك قال : أصبحت الخليفة على ثلاثة أصناف صنف من الذنب تائب موطن لنفسه على هجران ذنبه لا يريد أن يرجع إلى شيء من سيئته هذا المبرز وصنف يذنب ثم يندم ويذنب ويحزن ويذنب ويبكي هذا يرجى له ويخاف عليه وصنف يذنب ولا يندم ويذنب ولا يحزن ويذنب ولا يبكي فهذا الكائن الحائد عن طريق الجنة إلى النار

ہمیں خبر دی ابو سعید نے ان کو ابو عبداللہ نے ان کو ابن ابو الدنیا نے ان کو حسین بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابراہیم بن رجاء نے انہوں نے سنا ابن سماک سے کہ مخلوق تین قسم کی ہے۔ ایک قسم تو گناہوں سے توبہ کرنے والی ہے اور گناہ ترک کرنے پرنفس کو پکار رکھنے والی ہے یہ قسم نہیں چاہتی کہ اپنے گناہ کی طرف واپس پلٹے یہ شخص تو مقابلہ کرنے والا ہے۔ اور دوسری قسم ہے جو گناہ کرتے ہیں پھر نادم ہوتے ہیں۔ گناہ کرتے ہیں اور غمگین بھی ہوتے ہیں گناہ کرتے ہیں اور گناہ پر روتے بھی ہیں۔ یہ صنف ایسا ہے کہ ان کے لئے امید کی جاتی ہے اور ڈر بھی رہتا ہے۔ اور تیسری قسم وہ جو گناہ کرتے ہیں اور نادم بھی نہیں ہوتے ہیں۔ اور گناہ کرتے ہیں تو ان کو غم بھی نہیں ہوتا گناہ کرتے ہیں اور کر کے روتے بھی نہیں میں یہ قسم وہ ہے جو جنت کے راستے سے جہنم کی طرف دور جاپڑی ہے۔

ابن السماك ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَجَاءٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← أَبُو سَعِيدٍ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7156

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7157

7157 - أخبرنا أبو سعيد أنا أبو عبد الله نا أبو بكر حدثني أبي و عبيد الله بن عمر و شريح بن يونس عن يونس بن العوام بن حوشب قال : كان يقال : الابتهاج بالذنب أشد من ركوبه 7157 - مكرر ـ قال : وحدثني ابن أبي الدنيا نا عبيد الله بن عمر الجشمي نا المنهال بن عيسى عن غالب القطان عن بكر بن عبد الله المزني قال : أنه من يأتي الخطيئة وهو يضحك يدخل النار وهو يبكي

ہمیں خبر دی ابو سعید نے ان کو ابو عبداللہ نے ان کو ابو بکر نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبیداللہ بن عمرو اور شریح بن یونس نے ان کو یونس بن عوام بن حوشب نے وہ کہتے ہیں کہ پہلے زمانے میں کہا جاتا تھا کہ گناہ کر کے خوش ہونا گناہ کا ارتکاب کرنے سے زیادہ سخت گناہ ہے۔ (مکر رہے) کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ابن ابو الدنیا نے کو عبیداللہ بن عمر جشمی نے ان کو منہال بن عیسیٰ نے ان کو غالب قطان نے ان کو بکر بن عبداللہ مزنی نے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص گناہ کر کے ہنستا ہے وہ روتا ہوا جہنم میں جائے گا۔

أنه من يأتي الخطيئة وهو يضحك يدخل النار وهو يبكي ← بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← غَالِبٌ الْقَطَّانُ ← المنهال بن عيسى ← عبيد الله بن عمر الجشمي ← وحدثني ابن أبي الدنيا ← كان يقال الابتهاج بالذنب أشد من ركوبه مكرر ← يونس بن العوام بن حوشب ← أبي و عبيد الله بن عمر و شريح بن يونس ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← أَبُو سَعِيدٍ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7157

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7158

7158 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا حاجب بن أحمد نا عبد الرحيم بن منيب نا الفضيل عن منصور عن سعيد بن جبير في : قوله : { يأخذون عرض هذا الأدنى ويقولون سيغفر لنا } قال : يعلمون بالمعاصي ويقولون : سيغفر لنا { وإن يأتهم عرض مثله يأخذوه }

میں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو حاجب بن احمد نے ان کو عبدالرحیم بن منیب نے ان کو فضل نے ان کو منصور نے ان کو سعید بن جبیر نے اللہ کے اس قول کے بارے میں:یأخذون غرض ھٰذا الادنٰی ویقولون سیغفرلنا وہ لے لیتے ہیں اسباب اس ادنٰی زندگانی کا اور کہتے ہیں کہ ہم کو معاف ہو جائے گا۔ فرمایا تاکہ گناہ کا عمل کرتے ہیں اور کہتے ہیں عنقریب میں معاف کر دیا جائے گا۔ وان یأتھم عرض مثلہ اگر دوبارہ سامنے آئے تو بھی لے لیں گے۔

يعلمون بالمعاصي ويقولون سيغفر لنا وإن يأتهم عرض مثله يأخذوه ← سعيد بن جبير في قوله يأخذون عرض هذا الأدنى ويقولون سيغفر لنا ← مَنْصُورٌ، ← الْفُضَيْلُ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7158

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7159

7159 - أخبرنا أبو سعيد نا أبو عبد الله نا أحمد بن مهران نا خلف نا عبد الله بن المبارك عن الأوزاعي قال : قال بلال بن سعد : لا تنظر إلي صغر الخطيئة ولكن انظر إلى من عصيت

ہمیں خبر دی ابو سعید نے ان کو ابو عبداللہ نے ان کو احمد بن مہران نے ان کو خلف نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو اوزاعی نے وہ کہتے ہیں کہ کہا بلال بن سعد نے کہ گناہ کے چھوٹے ہونے کو دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ نافرمانی کس کی تم نے کی ہے۔

الْاَوْزَاعِیُّ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← خلف ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← أَبُو سَعِيدٍ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7159

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7160

7160 - أخبرنا أبو عمرو الأديب نا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني الحسن بن سفيان نا أبو كامل نا أبو عوانة عن عبد الملك بن عمير عن ربعي بن حراش قال : قال عبيد بن عمرو لحذيفة : ألا تحدثنا ما سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : سمعته يقول : إن من الدجال أن خرج نارا ونهرا فأما الذي يرى الناس أنه نار فماء بارد وأما الذي يرى الناس ماء فنار تحرق فمن أدرك ذلك منكم فليقع في الذي يرى أنه نار فإنها ماء عذب بارد قال حذيفة : وسمعته يقول : إن رجلا فيمن كان قبلكم لما جاء ملك الموت ليقبض نفسه قال ملك : هل عملت من خير ؟ قال : ما أعلم فقيل انظر فقال : ما أعلمك غير أني كنت أبايع الناس في الدنيا وأحار فيهم فنظر المعسر فأتجاوز عن المعسر قال : فأدخله الله الجنة قال : وسمعته يقول : إن رجلا حضره الموت فلما أيس من الحياة أوصى أهله إذا أنا مت فاجمعوا حطبا أحسبه قال : كثيرا جزلا ثم أوقدوا فيه نارا يعني ثم ألقوني فيها حتى إذا أكلت لحمي وخلصت إلى عظمي وامتحشت فخذوها واطحنوها ثم انظروا يوما راحا فاذروني في البحر ففعلوا فجمعه الله فقال لم فعلت ذلك ؟ قال : من خشيتك قال : فغفر الله له فقال : عقبة بن عمرو وأنا سمعته يقول : ذلك وكان نباشا رواه البخاري في الصحيح عن موسى بن إسماعيل عن أبي عوانة

ہمیں خبر دی ابوعمرو ادیب نے ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ان کو خبر دی حسن بن سفیان نے ان کو ابو کامل نے ان کو ابو عوانہ نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے ان کو ربعی بن حراش نے وہ کہتے ہیں کہ عبید بن عمرو نے حذیفہ سے کہا کیا ہمیں حدیث رسول بیان نہیں کریں گے جو آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے سنا تھا آپ فرماتے تھے: بے شک دجال جب نکلے گا اس کے ساتھ آگ بھی ہو گی اور پانی کی نہر بھی جس چیز کو لوگ دیکھیں گے کہ وہ آگ ہے ٹھنڈا پانی ہو گا اور جس کو پانی دیکھیں گے وہ آ گ ہو گی جو جلائے گی جو شخص تم میں سے اس کو پالے اس کو چاہئے کہ اس میں داخل ہو جس کو وہ دیکھے کہ آگ ہے بے شک وہ ٹھنڈا میٹھا پانی ہو گا۔ حضرت حذیفہ نے کہا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے۔ کہ تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جب روح قبض کرنے کے لئے اس کے پاس ملک الموت آیا۔ اس نے کہا تم کوئی خیر جانتے ہو؟ (یعنی کوئی نیکی اگر کی ہو؟ اس نے کہا کہ میں کوئی نیکی نہیں جانتا۔ پھر کہا گیا کہ پھر کچھ اس نے کہا میں کوئی نیکی نہیں جانتا۔ ہاں ایک نیکی ہے وہ یہ ہے کہ میں دنیا میں لوگوں کے ساتھ خرید وفروخت کرتا تھا میں لوگوں کو قرض دیتا تھا اور میں اس میں غریب اور تنگدست کو مہلت دیتا تھا یا تنگدست سے درگزر کر لیتا تھا کہتے ہیں کہ اللہ نے اس کو جنت میں داخل کر لیا۔ حضرت حذیفہ نے فرمایا کہ میں نے سنا حضورصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بے شک ایک آدمی کی موت آن پہنچی جب وہ زندگی سے مایوس ہو گیا۔اس نے اپنے گھر والوں کو وصیت کی کہ جب میں مر جاؤں میرے لئے موٹی موٹی لکڑیاں جمع کرنا پھر ان میں آگ سلگانا پھر مجھے اس میں ڈال دینا حتٰی کہ جب آگ میرے گوشت کو کھا جائے اور میری ہڈیوں تک پہنچ جائے اور میں جل کر کوئلہ ہو جاؤں اس کوئلے کو لے لینا اور اس کو پیس لینا پھر کسی ہوا والے دن کا انتظار کرنا ہوا میں مجھے دریا میں اڑا کر بہا دینا پس ان لوگوں نے ایسے ہی کیا۔ مگر اللہ نے اس کی راکھ کے ذرات کو جمع کر کے اس سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کرایا تھا پھر اس نے بتایا کہ میں نے اے اللہ یہ سب کچھ تیرے ڈر کی وجہ سے کیا تھافرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف کر دیا۔حضرت عقبہ بن عمرو نے کہا کہ میں نے ان سے سنا فرماتے تھے کہ وہ شخص کفن چور تھا۔ بخاری نے صحیح میں اس کو روایت کیا ہے موسیٰ بن اسماعیل سے اس نے ابو عوانہ سے۔

عبيد بن عمرو لحذيفة ألا تحدثنا ما ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو کَامِلٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7160

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7161

7161 - أخبرنا أبو سعيد الصيرفي أنا أبو عبد الله نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا هارون بن عبد الله نا سيار نا جعفر نا مالك بن دينار عن معبد الجهني عن أبي العوام ساكن بين المقدس عن كعب قال : أصاب رجل من بني إسرائيل ذنبا فحزن عليه وجعل يذهب ويجيء ويقول : بم أرضي ربي قال : فكتب صديقا

ہمیں خبر دی ابو سعیدصیرفی نے ان کو ابو عبداللہ نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو ہارون بن عبداللہ نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے ان کو مالک بن دینار نے ان کو معبد جہنی نے ان کو ابو العوام نے وہ بیت المقدس کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے روایت کی کعب سے وہ کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے کسی آدمی نے کوئی گناہ کیا پھراس پر دو غمگین ہو گیا پریشانی سے کبھی باہر جاتا کبھی اندر آتا اور وہ یہ کہتا کہ میں اپنے رب کو کس چیز کے ساتھ راضی کروں فرمایا کہ وہ صدیق لکھ دیا گیا۔

صديقا ← بم أرضي ربي ← أصاب رجل من بني إسرائيل ذنبا فحزن عليه وجعل يذهب ويجيء ← کَعْبٍ ← أبي العوام ساكن بين المقدس ← مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← أبو سعيد الصيرفي،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7161

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7162

7162 - وبإسناده عن كعب قال : انطلق رجلان من بني إسرائيل إلى مسجد من مساجدهم فدخل أحدهما وجلس الآخر خارجا من المسجد وجعل يقول : ليس مثلي يدخل بيت الله عز و جل وقد عصيت الله تعالى ليس مثلي يدخل بيت الله وقد عصيت الله قال : وكتب صديقا

اسی اسناد کے ساتھ مروی ہے کعب سے وہ کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے دو آدمی مسجد کی طرف روانہ ہوئے ان کی مساجد میں سے کسی مسجد کی طرف دونوں میں سے ایک مسجد کے اندر چلا گیا دوسرا باہر رک گیا اور باہر بیٹھ کر یہ کہنا شروع کیا کہ میرے جیسا بندہ اللہ کے گھر میں داخل نہیں ہو سکتا میں نے اللہ کی نافرمانی کی ہے میرے جیسا بندہ اللہ کے گھر میں داخل نہیں ہو سکتا میں نے اللہ کی نافرمانی کی ہے فرمایا کہ پھر وہ شخص صدیق لکھ دیا گیا۔

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7162

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7163

7163 - أخبرنا أبو سعيد أنا أبو عبد الله نا أبو بكر نا الحسين بن الصباح نا زيد بن الحباب نا محمد بن نشيط الهلالي نا بكر بن عبد الله المزني : أن قصابا ولع بجارية فأرسها أهلها إلى حاجة لهم في قرية أخرى فتبعها فراودها عن نفسها فقالت : لا تفعل لأنا أشد جبا لك منك لي ولكني أخاف الله قال : فأنت تخافينه وأنا لا أخافه فرجع تائبا فأصابه العطش حتى كاد ينقطع عنقه فإذا هو برسول لبعض أنبياء بني إسرائيل فسأله قال : ما لك قال : العطش قال : تعال ندعو حتى تظلنا سحابة حتى ندخل القرية قال : ما لي من عمل فادعو قال : فأنا أدعو فأمن أنت قال : فدعا الرسول وأمن هو فأظلتهم سحابة حتى انتهوا إلى القرية فأخذ القصاب إلى مكانه ومالت السحابة فمالت عليه ورجع الرسول فقال له : زعمت أن ليس لك عمل وأنا الذي دعوت وأنت أمنت فأظلتنا السحابة ثم تبعتك لتخبرني ما أمرك ؟ فأخبره فقال الرسول : التائب إلى الله تعالى بمكان ليس أحد من الناس بمكانه

ہمیں خبر دی ابو سعید نے ان کو ابو عبداللہ نے ان کو ابو بکر حسین بن صباح نے ان کو زید بن حباب نے ان کو محمد بن نشیط ھلانی نے ان کو بکر بن عبداللہ مزنی نے کہ ایک قصاب تھا بنی اسرائیل میں اس کو اپنے پڑوسی کی لڑکی سے عشق ہو گیا تھا ایک دن لڑکی کے گھر والوں نے اس کو کسی ضروری کام سے دوسری بستی میں بھیج دیا قصاب نے لڑکی کو اکیلے جاتے دیکھاتو پیچھے ہو لیا آگے جا کر اس کو بہکایا اور پھسلایا مگر لڑکی نے اس کو گناہ کرنے سے منع کیا اور کہا کہ جتنی تم مجھ سے محبت کرتے ہوں میں تمہارے ساتھ شاید اس سے بھی زیادہ محبت کرتی ہوں مگر میں گناہ کے معاملے میں اللہ سے ڈرتی ہوں۔ چنانچہ لڑکی کی یہ بات سننے کے بعد اس نے کہا کہ تم اللہ سے ڈرتی ہو اور میں اس سے نہیں ڈر رہا (یہ بڑی شرم کی بات ہے گویا میرے لئے) چنانچہ وہ توبہ کرتا ہوا واپس لوٹ آیا۔ اسی دن یا کسی دن کسی موقع سفر میں اس کو شدید پیاس نے آن گھیرا یہاں تک کہ ممکن تھا کہ اس کی گردن ٹوٹ جاتی (یعنی مرنے کے قریب تھا) اچانک اس کی ملاقات انبیاء بنی اسرائیل میں سے کسی نبی سے ہو گئی اس نے پوچھا کہ پریشانی ہے اس نے بتایا کہ شدید پیاس لگی ہے انہوں نے کہا آئیے ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اوپر کسی بادل کا سایہ کر دے تاکہ ہم بستی میں پہنچ جائیں اس قصاب نے کہا کہ میرا تو ایسا کوئی عمل نہیں ہے (جس کے وسیلے سے میں دعا کروں) چنانچہ اس رسول نے دعا کی اور قصاب نے آمین کہی بادل سایہ افگن ہو گیا حتٰی کہ بستی میں پہنچ گئے قصاب اپنے گھر کی طرف مڑا تو بادل بھی اس کے اوپر چلا گیا۔ رسول نے یہ منظر دیکھا تو واپس لوٹ آیا اور پوچھنے لگا کہ تم نے تو کہا تھا کہ میرا ایسا کوئی عمل نہیں ہے اس لئے میں نے دعا کی اور تم نے آمین کہی پھر بادل نے ہم دونوں پر سایہ کیا تھا اب بادل تیرے ساتھ چلا گیا ہے تو مجھے بتاؤ کہ تمہاری نیکی کیا ہے؟ تمہارا کیا معاملہ ہے۔ قصاب نے رسول کو خبر دی ساری کہانی بتائی اپنی توبہ کی۔ لہٰذا اس رسول نے کہا کہ اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرنے والا ایسے مرتبے پر ہوتا ہے کہ لوگوں میں سے کوئی بھی اس مرتبے پر نہیں ہوتا۔

بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ نَشِيطٍ الْهِلَالِيُّ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← الحسين بن الصباح ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← أَبُو سَعِيدٍ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7163

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7164

7164 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك نا حنبل بن إسحاق نا عاصم بن علي نا ابن هلال نا ابن سيرين قال : خرجت دابة تقتل الناس من يدنو منها غير أنها سحرت لإنسان فقتلها قال : فجاءت جارية فقالت : دعوني وإياها وما أراني مغنية عنكم شيئا فدنت إلى الدابة فقتلتها الدابة فجاء رجل أعور فقال : دعوني وإياها فدنا منها فوضعت رأسها حتى قتلها فقالوا : حدثنا من أمرك قال : ما أصبت ذنبا قط إلا ذنبا يعني فأخذت سهما ففقأتها به قال الإمام أحمد : لعل هذا كان في بني إسرائيل وفي شريعة من كان قبلنا في شريعتنا فلا يجوز فقء العين التي ينظر بها إلى ما لا يحل لكن يستغفر الله تعالى من ذلك ولا يعود إليه وبالله التوفيق

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو عمرو بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحاق نے ان کو عاصم بن علی نے ان کو ابن ہلال نے ان کوابن سیرین نے وہ کہتے ہیں کہ ایک جانور نکلا جو کہ لوگوں کو قتل کر دیتا جو بھی اس کے قریب جاتا، ہاں مگر وہ ایک انسان کے تابع ہو گیا تھا جس نے اس کو مار دیا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک لڑکی آئی اس نے کہا مجھے اس کے پاس جانے دو وہ گئی جیسے قریب ہوئی اس نے اسے مار دیا اتنے میں ایک کانا آدمی آیا اس نے کہا کہ مجھے اس کے قریب جانے دو وہ جیسے قریب گیا تو جانور نے اپنا سر رکھ دیا حتٰی کہ آدمی نے جانور کو مار دیا لوگوں نے پوچھا کہ بتائیے تیرا کیا معاملہ ہے۔اس نے بتایا کہ میں نے کبھی کوئی گناہ نہیں کیا ہے مگر صرف ایک گناہ (یعنی بے محل نگاہ انھی تھی) میں نے اس پر آنکھ کو بھی نکال دیا تھا۔ امام احمد فرماتے ہیں کہ شاید یہ بنی اسرائیل میں تھا اور ہم سے پہلے کی شریعت میں مگر ہماری شریعت میں آ نکھ پھوڑ دینا جائز نہیں ہے جب وہ ایسی جگہ دیکھے جہاں دیکھا حلال نہیں بلکہ اس گناہ سے اللہ سے توبہ واستغفار کرے اور دوبارہ وہ غلطی نہ کرے۔

ابْنِ سِيرِينَ، ← ابن هلال ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7164

chevron_left Previous
1…111213…25
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood