Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7129

7129 - أخبرنا أبو بكر بن الحسن القاضي أنا عبد الله بن إسماعيل الهاشمي نا عبد الله بن أبي الدنيا نا الحسين بن عمرو عن يحيى بن اليمان قال : قال سفيان الثوري : ما أحب أن حسابي جعل إلى والدتي ربي عز و جل خير لي من والدتي

ہمیں خبر دی ابو بکر بن حسن قاضی نے ان کو عبداللہ بن اسماعیل ہاشمی نے ان کو عبداللہ بن ابو الدنیا نے ان کو حسین بن عمرو بن یحییٰ بن یمان نے وہ کہتے ہیں کہ سفیان ثوری نے کہا تھا کہ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرا حساب و کتاب میری والدہ کے سپرد کر دیا جائے میرا رب میرے لئے میری ماں سے زیادہ بہتر ہے۔

يحيى بن اليمان ← الحسين بن عمرو ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← عبد الله بن إسماعيل الهاشمي، ← أبو بكر بن الحسن القاضي

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7129

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7130

7130 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة نا أبو داود نا عبد الله بن محمد النفيلي نا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق حدثني رجل من أهل الشام يقال له : أبو منظور عن عمه حدثني عمي عن عامر الرام أخي الخضر قال النفيلي : هو الخضر ولكن كذا قال محمد بن سلمة : إني لببلادنا إذ رفعت لنا رايات وألوية فقلت ما هذا ؟ فقالوا هذا لواء رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتينا وهو جالس عليه وقد اجتمع إليه أصحابه فجلست إليهم فذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم الأسقام فقال : إن المؤمن إذا أصابه السقم ثم أعفاه الله منه كان كفارة لما مضى من ذنوبه وموعظة له فيما يستقبل وإن المنافق إذا مرض ثم أعفى كان كالبعير عقله أهله ثم أرسلوه فلم يدر لم عقلوه ولم أرسلوه فقال رجل : ممن حوله يا رسول الله وما أسقام ؟ والله ما مرضت قط فقال النبي صلى الله عليه و سلم : قم عنا فلست منا فبينا نحن عنده إذ أقبل رجل عليه كساء وفي يده شيء قد التف عليه فقال لرسول الله صلى الله عليه و سلم : إني لما رأيتك أقبلت فمررت بغيضة شجر فسمعت فيها أصوات فراخ طائر فأخذتهن فوضعتهن في كسائي فجاءت أمهن فاستدارت على رأسي فكشفت لها عنهن فوقعت عليهن أمهن فلففتهن بكسائي فهن أولاء معي فقال : ضعهن عنك فوضعتهن وأبت أمهن إلا لزومهن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأصحابه : أتعجبون لرحمة أم الفراخ بفراخها ارجع بهن حتى تضعهن من حيث أخذتهن وأمهن معهن فرجع بهن

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے کو عبداللہ بن محمد نفیلی نے ان کو محمد بن مسلمہ نے ان کو محمد بن اسحاق نے ان کو حدیث بیان کی اہل شام کے ایک آدمی نے اسے ابو منظور نے، کہتے تھے اس نے اپنے چچا سے ان کو عامر الرام اخی خضر نے کہا نفیلی نے وہی خضر ہے لیکن ایسے ہی کیا تھا محمد بن سلمہ نے میں اپنے شہروں میں تھا اچانک ہمارے لئے جھنڈے اور لوا بلند کئے گئے میں نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ رسول کا جھنڈا ہے ہم آئے اور وہ درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے ان کے لئے چادر بچھائی گئی تھی ، آپ اس کے اوپر تشریف فرما تھے آپ کے صحابہ آپ کے گرد جمع تھے میں بھی ان میں جا کر بیٹھ گیا۔اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماریوں کا ذکر فرمایا اورفرمایا کہ مومن کو جب کوئی بیماری پہنچی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کو اس بیماری سے صحت و شفا دے دیتا ہے تو وہ تکلیف اس کے گذشتہ گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے۔ اور اس کے لئے نصیحت ہوتی ہے آنے والے وقت کے لئے۔اور بے شک منافق جب بیمار ہوتا ہے پھر صحت یاب ہوتا ہے تو وہ اس اونٹ کی طرح ہوتا ہے جس کے مالکوں نے اس کو باندھ دیا ہو پھر چھوڑ دیا ہو۔ اس کو نہیں جانتا کہ کیوں اس کو باندھا تھا اور کیوں چھوڑ دیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے پو چھایا رسول یہ اسقام اور بیماریاں کیا ہوتی ہیں ؟اللہ کی قسم میں تو کبھی بیمار ہی نہیں ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اٹھ جا تو تم میں سے نہیں ہے۔ ہم بیٹھے ہی تھے کہ ایک اور آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا۔ اس کے اوپر ایک چادر تھی اور اس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میں نے آپ کو دیکھا تو چلا آیا۔ میں اصل میں درختوں کے جھنڈ کے ساتھ گزر رہا تھا کہ میں نے اس میں سے پرندے کے بچوں کی آواز سنی میں نے انہیں پکڑ کر اس چادر میں ڈال لیا اتنے میں ان کی ماں آ گئی اور وہ میرے سر کے اوپر منڈلانے لگی، میں نے اس کے لئے اس کے بچوں کے اوپر سے چادر ہٹائی تو ان کی ماں اپنے بچوں کے اوپر اتر آئی میں نے ان سب کو اس چادر میں لپیٹ لیا ہے وہ سب یہ ہیں میرے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کو نیچے چھوڑیئے میں نے ان کو چھوڑا تو ان کی ماں ان کے ساتھ لگی رہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : کیا تم لوگ تعجب کر رہے ہو پرندے کے بچوں اور ان کی ماں کو دیکھ کر اور اس کی شفقت کو دیکھ کر۔ لے جا ان کو جہاں سے اٹھایا تھا وہیں رکھ دے اور ان کی ماں بھی ان کے ساتھ تھی وہ انہیں لے گیا۔

محمد بن سلمة إني لببلادنا ← النُّفَيْلِيُّ هُوَ الْخُضْرُ وَلَکِنْ کَذَا ← عامر الرام أخي الخضر ← عَمِّي، ← عَمِّہٖ ← رجل من أهل الشام يقال له: أبو منظور، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7130

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7131

7131 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق أنا معمر عن زيد بن أسلم : قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم في بعض أسفاره فأخذ رجل فرخ طائر فجاء الطير فألقى نفسه في حجر الرجل مع فرخه فأخذه الرجل فقال النبي صلى الله عليه و سلم : عجبا لهذا الطائر جاء فالقى نفسه في أيديكم رحمة لولده فو الله لله أرحم بعبده المؤمن من هذا الطائر بفرخه وهذا شاهد لما تقدم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کوزید بن اسلم نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعض سفروں میں تھے کہ ایک آدمی نے پرندے کے بچے پکڑ لئے پرندہ آیا اور اس نے اپنے آپ کو اس آدمی کی گود میں ڈال دیا اپنے بچوں کے ساتھ اس آدمی نے سب کو بھی پکڑ لیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تعجب ہے اس پرندے پر کہ اس نے اپنے آپ کو تمہارے ہاتھوں میں ڈال دیا ہے اپنے بچوں پر شفقت کرنے کے لئے۔ پس تم ہے اللہ کی اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ اس پرندے کے اپنے بچوں پرشفیق ہونے سے زیادہ شفیق اور مہربان ہے۔ یہ روایت پہلی روایت کے لئے شاہد ہے۔

زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7131

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7132

7132 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا ابن أبي مريم نا أبو غسان حدثني زيد بن أسلم عن أبيه عن عمر بن الخطاب : أنه قدم على رسول الله صلى الله عليه و سلم سبي فإذا امرأة من السبي قد تحلب ثديها تبتغي إذا وجدت صبيا في السبي أخذته فألزقته ببطنها فأرضعه فقال لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم : أترون هذه المرأة طارحة ولدها في النار ؟ فقلنا لا والله وهي تقدر على أن لا تطرحه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لله تعالى أرحم بعباده من هذه المرأة يولدها رواه البخاري عن ابن أبي مريم ورواه مسلم عن ابن عسكر وغيره عن ابن أبي مريم وقد روي عن زيد بن أسلم مرسلا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو العباس نے ان کو محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن استحقاق صنعانی نے ان کو ابن ابی مریم نے ان کو ابو غسان نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو ان کے والد نے ان کو عمر بن خطاب سے کہ رسول اللہ کے پاس قیدی لائے گئے اچانک دیکھا تو ایک عورت اپنا دودھ دوھو رہی ہے چاہتی ہے کہ جب قید میں بچے کو پالے گی تو اس کو دودہ پلائے گی بچہ ملا تو اس نے جلدی سے اس کو لیا اور اس کو سینے سے پر چپکا لیا اور اس کو دودھ پلانا شروع کر دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں سے فرمایا: کیا سمجھتے ہو تم لوگ کہ یہ عورت اپنے اس بچے کو آگ میں پھینک دے گی؟ ہم نے کہا کہ نہیں ڈالے گی اللہ کی تم وہ اس پر قادر ہی نہیں ہو سکتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا البتہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس عورت سے زیادہ شفیق ہے جتنی یہ بچے پر مہر بان ہے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے ابو مریم سے اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے ابن عسکر وغیرہ سے اس نے ابن ابی مریم سے اور تحقیق روایت کیا ہے زید بن اسلم نے مرسل روایت کے طور پر۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← أبو غسان، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7132

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7133

7133 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا محمد بن إسحاق الصغاني أنا عبد الله بن أبي بكر نا حميد عن أنس قال : كان نبي الله صلى الله عليه و سلم في طريق من طرق المدينة وصبي على ظهر الطريق فخشيت أمه أن يؤطأ الصبي فشقت وقالت : ابني ابني فاحتملت ابنها فقالوا : يا رسول الله صلى الله عليه و سلم ما كانت هذه لتلقي ابنها في النار قال : والله لا يلقي حبيبه في النار

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو عبداللہ بن ابو بکر نے ان کو حمید نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک راستے پر تھے مدینے کے راستوں میں سے اور راستہ پر چھوٹا بچہ بھی موجود تھا اس کی ماں کو ڈر لگا کہ کہیں بچہ اوندا نہ جائے اس نے چیخ ماری اور بولی میرا بچہ۔ میرا بچہ۔ اور بھاگ کر اس نے بچے کو اٹھا لیا لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں نہیں پھینک سکتی آپ نے فرمایا اللہ اپنے محبوب اور پیارے کو آگ میں نہیں پھینکے گا۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7133

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7134

7134 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر أنا أحمد بن الحسين بن نصر ح وأخبرنا محمد بن أبي معروف الفقيه أنا أبو سهل الإسفرايني أنا أبو جعفر أحمد بن الحسين الحذاء أنا علي بن المديني نا مروان أنا معاوية نا يزيد بن كيسان عن أبي حازم عن أبي هريرة قال : كان رجل من الأنصار عند رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعه صبي له قال : فجعل يضمنه إليه ويرحمه فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم اترحمه ؟ قال : نعم يا رسول الله قال : فالله أرحم به منك وهو أرحم الراحمين

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو احمد بن حسین بن نضر نے ’’ح‘‘ ۔ ہمیں خبر دی محمد بن ابو المعروف فقیہ نے ان کو ابو سہل اسفرائنی نے ان کو ابو جعفر احمد بن حسین حذاء نے ان کو علی بن مدینی نے ان کو مروان نے ان کو معاویہ نے آپ کو یزید بن کیسان نے ان کو ابو حازم نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا اور اس کے پاس کا بچہ تھا وہ اس کو بار بار اپنے سینے سے لگاتا اور اس پر شفقت کرتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم اس پر شفقت کرتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بچہ کے ساتھ تم سے زیادہ مہربان ہے وہ ارحم الراحمین ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← مُعَاوِيَةَ، ← مَرْوَانَ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أبو جعفر أحمد بن الحسين الحذاء ← أبو سهل الاسفرايني ← محمد بن أبي معروف الفقيه ← أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7134

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7135

7135 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أحمد بن عبيد الله النرسي نا حجاج بن محمد نا يونس بن أبي إسحاق عن أبي جحيفة عن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أصاب في الدنيا ذنبا فعوقب به فالله أعدل من أن يثني عقوبته على عبده ومن أذنبه ذنبا في الدنيا فستره الله عليه وعفا عنه فالله أكرم من أن يعود في شيء عفا عنه

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو احمد بن عبیداللہ نرسی نے ان کو حجاج بن محمد نے ان کو یونس بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو جحیفہ نے ان کو علی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا میں کوئی گناہ کرتا ہے اور اس کے بدلے میں اس کو سزا دے دی جاتی ہے بس اللہ تعالیٰ بڑا انصاف کرنے والا ہے اس سے کہ اپنے بندے پر دہری سزا دے۔ اور جو شخص کوئی گناہ کرتا ہے دنیا میں اور اللہ تعالیٰ اس پر پردہ ڈھک دیتا ہے اور اس کو معاف کر دیتا ہے اللہ اس سے بڑا کریم ہے کہ جس چیز کو معاف کر چکا ہے دوبارہ اس کو سزا دے۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي جُحَيْفَةَ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7135

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7136

7136 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أبو قلابة عبد الملك بن محمد الرقاشي حدثني أبي حدثني معتمر بن سليمان قال : سمعت أبي نا أبو عثمان النهدي قال : احتجب عبد الله بن العلاء فبعثوا امرأة فتلطفت فدخلت عليه فسألته عن الذنب الذي لا يغفره الله فقال : ما من عمل بين السماء والأرض يعمله العبد ثم يتوب قبل أن يموت إلا تاب الله عليه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو عبد الملک بن محمد رقاشی نے ان کو ان کے والد نے ان کو معتمر بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا اپنے والد سے انہوں نے ابو عثمان نہدی سے کہ عبداللہ بن علاء نے لوگوں کو ملنے سے حجاب کر لیا تھا۔ لوگوں نے ایک عورت کو بھیجا اس نے خوب نرم گفتگو کی اور ان کے پاس مسئلہ پوچھنے کے لئے چلی گئی اس نے جا کر ان سے پوچھا اس گناہ کے بارے میں جس کواللہ معاف نہیں کرتا۔ انہوں نے فرمایا کہ کوئی عمل ایسا نہیں ہے آسمان اور زمین کے درمیان بندہ جس کا عمل کرے پھر موت سے پہلے توبہ کرے مگر اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا۔

الذنب الذي لا يغفره الله ← احتجب عبد الله بن العلاء فبعثوا امرأة فتلطفت فدخلت عليه فسألته ← أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ← أَبِي ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبِي ← أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7136

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7137

7137 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصغاني نا الحجاج نا ابن لهيعة عن أرفد قال : سمعت أبا عبد الرحمن المزني يقول : حدثني أبو عبد الرحمن الحلبي أنه سمع ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : ما أحب أن لي الدنيا وما فيها بهذه الآية { يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله } إلى آخرها فقال رجل : يا رسول الله ومن أشرك ؟ فسكت النبي صلى الله عليه و سلم ثم قال : إلا ومن أشرك إلا ومن أشرك إلا ومن أشرك قال الإمام أحمد رحمه الله : وسبب نزول هذه الآية قد ذكرنا في كتاب دلائل النبوة وهو أنهها نزلت في بعض من رد من الهجرة وفتن عن دينه فافتتن ثم حين عرضت عليه هذه الآية فرح بها وعلم أن له توبة فعاد في الإسلام

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو حجاج نے ان کو ابن لہیعہ نے ان کو ارفد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن مزنی سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے عبدالرحمٰن حنبلی نے انہوں نے سنا ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتے تھے میں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے۔ مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میرے لئے اس آیت کے بدلے میں دنیا ساری مل جائے اور جو کچھ دنیا میں ہے وہ سارا مل جائے:یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لاتقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعاً انہ ھوا الغفور الرحیم اسے میرے بندو جو اپنے اوپر زیادتی کر چکے ہو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو بے شک وہی سارے گناہوں کو معاف کرے گا بے شک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔ ایک آدمی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ اور جو شخص شرک کرے ؟ حضور خاموش ہو گئے اس کے بعد فرمایا ہاں مگر جو شخص شرک کرے، مگر جو شخص شرک کرے، مگر جو شخص شرک کرے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اس آیت کا سبب نزول ہم نے کتاب دلائل نبوت میں ذکر کر دیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ بعض ان لوگوں کے بارے میں جو ہجرت کرنے سے رک گئے تھے اور اپنے دین سے فتنے میں مبتلا ہو گئے اور مبتلا ہو گے پھر ان پر جب یہ آیت پیش کی گئی تو خوش ہو گئے اور یقین کر لیا کہ ان کے لئے بھی توبہ ہے پھر وہ اسلام کی طرف لوٹ آئے۔

أبو عبد الرحمن الحلبي ← أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُزَنِيِّ، ← أرفد ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← الْحَجَّاجِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7137

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7138

7138 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القاري نا عثمان بن سعيد الدارمي نا الحسين بن الربيع نا عبد الله بن إدريس حدثني محمد بن إسحاق أخبرني نافع عن عبد الله بن عمر قال : كنا نقول : ما لمفتن توبة وما الله بقابل منه شيئا فلما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة أنزل فيهم { يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله } والآية التي بعدها قال الإمام أحمد وروينا عن ابن عباس في سبب نزول هذه الآية ما

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو اسحاق ابراہیم بن اسماعیل قاری نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو حسین بن ربیع نے ان کو عبداللہ بن ادریس نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو خبر دی نافع نے ان کو عبداللہ بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ فتنہ میں مبتلا لوگوں کی توبہ نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی کوئی شئی قبول نہیں کرے گا جب حضور مدینے میں آئے تو انہیں لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ اے میرے گنہگار بندو جواپنے نفسوں پر زیادتیاں کر چکے ہو میری رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت تھی۔ امام احمد نے فرمایا کہ ہم نے روایت کیا ہے ابن عباس سے اس آیت کے شان نزول کے بارے میں (حدیث جو درج ذیل ہے۔)

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← الحسين بن الربيع، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القاري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7138

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7139

7139 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن محمد و إبراهيم بن أبي طالب و زكريا بن داود الخفاف قالوا نا الحسن بن محمد الزعفراني نا حجاج عن ابن جريج أخبرني يعلى بن مسلم عن سعيد بن جبير أنه سمعه يحدث عن ابن عباس : أن ناسا من أهل الشرك قتلوا فأكثروا ثم زنوا فأكثروا ثم أتوا محمدا صلى الله عليه و سلم فقالوا : إن الذي تقول وتدعو إليه لحسن لو تخبرنا أن لما علمناه كفارة فنزلت { والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون } ونزلت : { يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا } أخرجاه من حديث ابن جريج فروى في ذلك عن ابن جريج كما

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن محمد اور ابراہیم بن ابو طالب اور زکریا بن داؤد خفاف نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو حجاج نے ان کو ابراہیم بن جریج نے ان کو خبر دی یعلی بن مسلم نے ان کو سعید بن جبیر نے انہوں نے سنا وہ حدیث بیان کرتے تھے ابن عباس سے کہ اہل شرک کے بہت سے لوگ ایسے تھے جنہوں نے کثرت کے ساتھ قتل کئے تھے ان کے بعد کثرت کے ساتھ زنا کئے تھے۔ اس کے بعد محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے آپ کی باتیں بھی اچھی ہیں اور آپ کی دعوت بھی پیاری ہے بشرطیکہ اگر آپ ہمیں یہ بتا دیں کہ ہم نے جو جو عمل کئے ہیں اس کا کوئی کفارہ بھی ہے۔لہٰذا یہ آیت نازل ہوئی:والذین لا یدعون مع اللہ الھا اٰکر ولا یقتلون الفس التی حرم اللہ الا بالحق ولا یزنون رحمٰن کے بندے وہ لوگ ہیں جواللہ کے ساتھ دوسرے اللہ کو نہیں پکارتے اور ناحق قتل نہیں کرتے اور زنا نہیں کرتے۔ اور یہ آیت نازل ہوئی: یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا اے میرے بندو جو اپنے نفسوں پر زیادتی کر چکے ہیں میری رحمت سے ناامید نہ ہو۔ بخاری ومسلم نے اس کو روایت کیا ہے ابن جریج کی حدیث ہے۔ اس بارے میں ابن جریج سے مروی ہے (جیسے مندرجہ ذیل میں۔)

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← يَعْلَی بْنِ مُسْلِمٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حجاج، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← إبراهيم بن محمد و إبراهيم بن أبي طالب و زكريا بن داود الخفاف ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7139

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7140

7140 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا الحسن بن محمد بن إسحاق نا أبو عثمان سعيد بن عثمان الخياط نا محمد بن يزيد الأدمي نا سعيد بن سالم القداح نا عبد الملك بن جريج عن عطاء بن رباح عن ابن عباس قال : جاء وحشي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا محمد جئتك مستجيرا بك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قد كنت أحب أن أراك على خير جوار فأما إذا كنت مستجيرا فأنت في جواري حتى تسمع كلام الله تعالى قال : فإني أشركت بالله العظيم وقتلت النفس التي حرم الله فهل تقبل من مثلي توبة فصمت رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم يجبه حتى نزل عليه القرآن { والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق } إلى قوله : { يبدل الله سيئاتهم حسنات } الآية فقرأها عليه فقال : أرى شرطا فلعلي لا أعمل صالحا أنا في جوارك حتى يسمع كلام الله فنزلت { إن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء } فدعاه فقرأها عليه : فقال وحشي : فلعلي ممن لا يشاء الله أنا في جوارك حتى أسمع كلام الله قال : فنزلت { يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله } الآية قال : وحشي الآن لا أرى شرطا فتشهد وأسلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابو عثمان سعید بن عثمان خیاط نے ان کو محمد بن یزید آدمی نے ان کو سعید بن سالم قداح نے ان کو عبدالملک بن جریج نے ان کو عطابن ابی رباح نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ وحشی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے محمد میں تیرے پاس تیری پناہ لینے کے لئے آیا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو تجھے بغیر پناہ کے دیکھنا چاہتا تھا چلو تم پناہ مانگنے آ ہی گئے ہو تو سن او تم میری پناہ میں ہو یہاں تک کہ تم اللہ کا کلام سنو۔وحشی نے کہا کہ میں نے اللہ عظیم کے ساتھ شرک کیا ہے اوران جانوں کو ناحق قتل کیا جن کو قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے۔ کیا میرے جیسے انسان کی توبہ قول ہو سکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوال سن کر خاموش ہو گئے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ حتٰی کہ قرآن نازل ہو گیا: والذین لایدعون مع اللہ الٰھا اٰخر ولا یقتلون النفس التی حرم اللہ الا بالحق ولا۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔ تبدل اللہ سیئاتھم حسنات رحمٰن کے بندے وہ لوگ ہیں جواللہ کے ساتھ کوئی دوسرا اللہ نہیں پکارتے جس نفس کو قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے اس کو ناحق قتل نہیں کرتے اور بدکاری نہیں کرتے جو شخص یہ کام کرتا ہے وہ کئی کئی گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس کے لئے دھرا عذاب ہے قیامت کے روز اور ہمیشہ اس میں ذلیل ہوتا رہے مگر جولوگ توبہ کریں، ایمان لائیں، عمل صالح کریں اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو نیکیوں کے ساتھ بدل دیں گے۔ حضور نے یہ آیات وحشی کے سامنے پڑھیں وحشی نے کہا میری ایک شرط ہے شاید کہ میں عمل صالح نہ کر سکوں میں تیری پناہ میں ہوں۔حضور نے فرمایا کہ تو پناہ میں ہے انتظار کر حتٰی کہ یہ آیت نازل ہوئی:ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشآء بے شک اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرتے اور اس کے ماسوا جو چاہیں معاف کر دیتے ہیں۔ اب حضور نے وحشی کو بلایا اور اس کے سامنے اس آیت کو پڑھا وحشی نے کہا شاید میں ان لوگوں میں سے ہوں جن کو اللہ بخشنانہیں چاہتا ہو تو میں تیری پناہ میں حتٰی کہ میں اس بارے میں بھی اللہ کا کلام سن لوں پھر یہ آیت نازل ہوئی: یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ اے میرے بندو جو اپنے اوپر زیادتی کر چکے ہو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اب وحشی نے کہا کہ اب میری کوئی شرط نہیں ہے۔ اب اس نے کلمہ شہادت پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عطاء بن رباح ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ ← سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْقِدَاحُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْآدَمَيُّ ← أبو عثمان سعيد بن عثمان الخياط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7140

chevron_left Previous
1…91011…25
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood