شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7021
7021 - ما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله أنا الحسن بن سفيان نا حرملة بن يحيى أنا ابن وهب أخبرني يونس عن ابن شهاب أخبرني ابن المسيب و أبو سلمة بن عبد الرحمن أن أبا هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم حين أنزل عليه { وأنذر عشيرتك الأقربين } يا معشر قريش اشتروا أنفسكم من الله لا أغني عنكم من الله شيئا يا بني عبد المطلب لا أغني عنكم من الله شيئا يا عباس بن عبد المطلب لا أغني عنك من الله شيئا يا صفية عمة رسول الله صلى الله عليه و سلم لا أغني عنك من الله شيئا يا فاطمة بنت محمد سليني ما شئت لا أغني عنك من الله شيئا رواه مسلم في الصحيح عن حرملة بن يحيى وأخرجه البخاري من حديث شعبة عن ابن شهاب الزهري
وہ جس کی ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو بکر بن عبداللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کوحرملہ بن یحییٰ نے ان کو ابن وھب نے ان کو یونس نے ان کو ابن شہاب نے ان کو ابن مسیب نے اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ (جب یہ آیت نازل ہوئی: وانزر عشیرتک الاقربین اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے) (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اے قریش کی جماعت اپنے آپ کو اللہ سے خرید کر لو میں تمہیں اللہ سے کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکوں گا۔ اے عبدالمطلب کی اولاد میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکوں گا۔اے عباس کی اولاد میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکوں گا۔ اے فاطمہ بینی محمد کی میرے مال سے جو چاہو تم مانگ سکتی ہو میں اللہ کے عذاب سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکوں گا۔ اے صفیہ پھوپھی رسول اللہ کی میں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکوں گا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں حرملہ بن یحییٰ سے اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے شعبہ کی حدیث سے اس نے ابن شہاب ز ہری سے۔
ابن المسيب و أبو سلمة بن عبد الرحمن أن أبا هريرة ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مَا
Hadith 7021
