Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7021

7021 - ما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله أنا الحسن بن سفيان نا حرملة بن يحيى أنا ابن وهب أخبرني يونس عن ابن شهاب أخبرني ابن المسيب و أبو سلمة بن عبد الرحمن أن أبا هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم حين أنزل عليه { وأنذر عشيرتك الأقربين } يا معشر قريش اشتروا أنفسكم من الله لا أغني عنكم من الله شيئا يا بني عبد المطلب لا أغني عنكم من الله شيئا يا عباس بن عبد المطلب لا أغني عنك من الله شيئا يا صفية عمة رسول الله صلى الله عليه و سلم لا أغني عنك من الله شيئا يا فاطمة بنت محمد سليني ما شئت لا أغني عنك من الله شيئا رواه مسلم في الصحيح عن حرملة بن يحيى وأخرجه البخاري من حديث شعبة عن ابن شهاب الزهري

وہ جس کی ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو بکر بن عبداللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کوحرملہ بن یحییٰ نے ان کو ابن وھب نے ان کو یونس نے ان کو ابن شہاب نے ان کو ابن مسیب نے اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ (جب یہ آیت نازل ہوئی: وانزر عشیرتک الاقربین اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے) (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اے قریش کی جماعت اپنے آپ کو اللہ سے خرید کر لو میں تمہیں اللہ سے کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکوں گا۔ اے عبدالمطلب کی اولاد میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکوں گا۔اے عباس کی اولاد میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکوں گا۔ اے فاطمہ بینی محمد کی میرے مال سے جو چاہو تم مانگ سکتی ہو میں اللہ کے عذاب سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکوں گا۔ اے صفیہ پھوپھی رسول اللہ کی میں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکوں گا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں حرملہ بن یحییٰ سے اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے شعبہ کی حدیث سے اس نے ابن شہاب ز ہری سے۔

ابن المسيب و أبو سلمة بن عبد الرحمن أن أبا هريرة ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مَا

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7021

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7022

7022 - أخبرنا أبو بكر بن محمد الحسين بن فورك قال : أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني نا يونس بن حبيب نا أبو داود وأخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر محمد بن محمويه نا جعفر بن محمد نا آدم قالا : نا شعبة أخبرني عمرو وهو ابن مرة سمع أبا بردة يحدث أنه سمع رجلا من جهينة يقال له : الأغر يحدث عن ابن عمر : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يا أيها الناس توبوا إلى ربكم فإني أتوب إليه في اليوم مائة مرة لفظ حديث أبي داود في رواية آدم نا عمرو بن مرة قال : سمعت أبا بردة بن أبي موسى الأشعري قال : سمعت رجلا من جهينة يقال له : الأغر يحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن المثنى عن أبي داود

ہمیں خبر دی ابو بکر بن محمد حسین بن فورک نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر محمد بن محمویہ نے کو جعفر بن محمد نے ان کو آدم نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی شعبہ نے ان کو عمرو بن مرہ نے اس نے سنا ابو بردہ سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ اس نے سنا قبیلہ جہینہ کے ایک آدمی سے جس کو اغر کہا جاتا ہے وہ حدیث بیان کرتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ فرماتے تھے۔اے لوگو! اپنے رب کی طرف توبہ کرو میں اس کی بارگاہ میں ایک دن میں سو بار توبہ کر تا ہوں۔ یہ الفاظ ہیں ابو داؤد کی روایت کے اور آدم کی روایت میں ہے کہ ہمیں خبر دی ہے عمرو بن مرہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بردہ بن ابو موسیٰ اشعری سے انہوں نے سنا جہینہ کے ایک آدمی سے جسے اغر کہتے تھے وہ حدیث بیان کرتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اس کو روایت کیا ہے مسلم نے صحیح میں محمد بن مثنٰی سے اس نے ابو داؤد سے۔

أَبَا بُرْدَةَ ← عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ مُرَّةَ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أبو بكر محمد بن محمويه ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أبو بكر بن محمد الحسين بن فورك

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7022

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7023

7023 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن إسحاق نا إسماعيل بن قتيبة نا يحيى بن يحيى أنا حماد بن زيد و أخبرنا أحمد بن زيد الثقفي نا يوسف بن يعقوب نا أبو الربيع نا حماد بن زيد نا ثابت البناني عن أبي بردة عن الأغر المزني وكانت له صحبة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنه ليغان على قلبي وإني لأستغفر الله في اليوم مائة مرة رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى و أبي الربيع وروينا في الحديث الثابت عن ابن شهاب الزهري أخبرني أبو سلمة بن عبد الرحمن قال : قال أبو هريرة : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : والله إني لأستغفر الله وأتوب في اليوم أكثر من سبعين مرة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحاق نے ان کو اسماعیل بن قتیبہ نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو حماد بن زید نے اور ہمیں خبر دی ہے احمد بن زید ثقفی نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابو الربیع نے ان کو حماد بن زید نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو ابو بردہ نے ان کو اغر مزنی رضی اللہ عنہ نے وہ صحابی تھے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ البتہ خیالات وخواہشات کا ہجوم ہوتا ہے میرے دل پر اور بے شک میں اللہ سے ایک دن میں سو سو بار (پناہ مانگتا ہوں) استغفار کرتا ہوں۔ مسلم نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں یحییٰ بن یحییٰ سے اور ابو الربیع سے اور ہم نے روایت کی ہے اس حدیث میں جو ثابت ہے ابن شہاب زہری سے۔ اس نے مجھے خبر دی ہے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے وہ کہتے ہیں کہ کہا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہیں۔اللہ کی قسم بے شک میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اورتوبہ کرتا ہوں ایک دن میں ستر بار سے بھی زیادہ۔

الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، ← أَبِي بُرْدَةَ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أحمد بن زيد الثقفي ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ و ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7023

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7024

7024 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت عبد الواحد بن محمد يقول : سمعت بندار بن الحسين يقول : استحسنت لأبي بكر بن طاهر قوله : في الغين أن الله أطلع نبيه صلى الله عليه و سلم على ما يكون في أمته من بعده من الخلاف وما يصيبهم فيه وكان إذا ذكر ذلك وجد غينا في قلبه فاستغفر لأمته قال الإمام أحمد : زعم بعض أهل العلم أن الغين شيء يغشى القلب فيغطيه بعض التغطية ويحجبه عما يشاهده وهو كالغيم الرقيق الذي يعرض في الهواء فلا يكاد يحجب عين الشمس ولا يمنع ضوءها والنبي صلى الله عليه و سلم ذكر أنه يغشى قلبه ما هذه صفته وذكر أنه ليستغفر الله في كل يوم مائة مرة

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبدالواحد بن محمد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بندار بن حسین سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے استحسان کیا ابو بکر بن طاہر کے لئے اس کے قول میں دل پر خواہشات کے دباؤ کے بارے میں کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے مطلع فرمایا تھا اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان امور پر جو آپ کے بعد آپ کی امت میں ظاہر ہوں کے اختلاف اور اس میں جو ان کو پریشانی پہنچے گی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب ان امور کو یاد کرتے تھے تو اپنے دل پر خیالات کا بہت دباؤ اور ہجوم پاتے تھے لہٰذا اپنی امت کے لئے حضور استغفار کرتے تھے۔ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا بعض اہل علم نے گمان کیا ہے۔ کہ غین وہ چیز ہوتی ہے جو قلب کو چھپا لیتی ہے اور اس پر ڈھک دیتی ہے اور پردہ ڈال دیتی ہے کچھ پردہ ڈالنا۔ اور جن چیزوں کا وہ مشاہدہ کر رہا ہوتا ہے اس کے آگے حجاب اور پردہ آ جاتا ہے اور وہ اس باریک بادل کی طرح ہوتا ہے جو فضاء میں سورج کے سامنے آتا ہے تو قریب ہوتا ہے کہ چشمہ آفتاب کو چھپا دے مگر اس کی روشنی پوری نہیں روکتا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر فرمایا کہ وہی چیز آپ کے دل کو چھپا دیتی ہے جس کی یہی کیفیت ہوتی اور آپ نے ذکر فرمایا کہ آپ اللہ سے ہر روز ایک سو بار استغفار کرتے ہیں۔ (یعنی اس کیفیت پر بھی۔)

بُنْدَارَ بْنَ الْحُسَيْنِ، ← عبد الواحد بن محمد، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7024

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7025

7025 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت الأستاذ أبا سهل محمد بن سليمان الحنفي يقول : قوله ليغان على قلبي له تأويلان أحدهما مختص به وهو حملهم إياه على غشية السكرة التي هي الصحو في الحقيقة ومعنى الاستغفار عقيبها على التحسر للكشف عنها وأهل الظاهر يحملونها على الخطرات العارضة للقلب والطلبات الواردة عليه الشاغلة له بهذه الغشية الملابسة ثم يستدركها النبي صلى الله عليه و سلم بالاستغفار والإنابة والرجوع منها إلى ربه عاتبا على قلبه فإذا كان الرسول صلى الله عليه و سلم هذا وصفه فما ظنك بالخليقة المنهمكة في الهلكة وبالله العياذ وبه الاعتصام وعليه التوكل قال الإمام وفي أهل العلم من عمل ذلك على ما يهمه من أمر أمته حين أخبر بما يكون فيهم من الآيات والاستغفار الذي كان بعده كان لأمته قلت : ومنهم من زعم أن النبي صلى الله عليه و سلم كان ينقل من حال إلى حال هو أرفع منه فإذا رفع إلى درجة أخرى رأى ما نقل عنها تقصيرا في واجب حق الله فرأى ذلك غينا يجب له الاستغفار منه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا استاذ ابو سہل محمد بن سلیمان حنفی سے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرقان کہ لیغان علی قلبی کہ میرے دل پر خیالات کا کثرت سے درود ہوتا ہے۔ اس کی دو تاویلیں ہیں۔ایک کے ساتھ مختص ہے۔ وہ ہے علماء کا اس کو محمول کر نا خاص اس کیفیت کو نشہ کی سی بیہوشی پر (جو کہ ہوشیاری ہے تو حقیقت) اور اس کے بعد استغفار کرنے کا مطلب ہے پچھتانا اس کیفیت کے کھل جانے پر اور اہل ظاہر اس کیفیت کو محمول کرتے ہیں ان خیالات پر جو درپیش آتے ہیں دل کے لئے اور خواہشات وارد ہونے والے جو دل کو غافل کرنے والے ہیں بوجہ اس بے دھیانی کے جو غلط کرنے والی ہے اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا تدارک اور اصلاح اور تلافی کرتے تھے۔استغفار کے ساتھ انابت ورجوع کے ساتھ اپنے رب کی طرف اپنے دل پر سرزنش کرتے ہوئے اور غصہ کرتے ہوئے (سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ) جب رسول کی یہ حالت ہو اور اس کی یہ صفت اور یہ کیفیت ہو تو پھر آپ کا کیا خیال ہے؟ باقی ساری مخلوق کے بارے میں جو جو منہمک ہیں اور مصر میں ہلاکت و تباہی کے اوپر ہم اس تاویل سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں اوراسی کی رحمت کا دامن تھامتے ہیں اور اسی پر توکل کرتے ہیں۔ امام نے فرمایا کہ ہل علم میں وہ بھی ہے جنہوں نے اس کو محمول کیا ہے اس حالت پر جو حضور کو فکر مند کرتی تھی یا فکر وغم میں مبتلا کرتی تھی آپ کی امت کے معاملے سے جب ان کو خبر دی جاتی تھی اس چیز کے بارے میں جوان میں نشانیاں ہوں گی۔ اور استغفار جو اس کیفیت کے بعد ہوتا تھا وہ آپ کی امت کے لئے تھا۔ میں کہتا ہوں کہ بعض ان میں سے وہ ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہوتے رہتے تھے۔ جو پہلی سے اعلیٰ وارفع ہوتی تھی وہ جب دوسرے درجے کی طرف بلند ہوتے تھے تو جس کیفیت سے منتقل ہوتے تھے اس حالت کو آپ تقصیر اور کوتاہی خیال کرتے تھے اللہ کے لازمی حق کے اندر لہٰذا آپ اس حالت کو غین سے سمجھتے تھے اور دل پر گرانی اور پر یشانی محسوس کرتے تھے اور اس کیفیت مذکورہ پر استغفار کو واجب جانتے تھے۔

الأستاذ أبا سهل محمد بن سليمان الحنفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7025

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7026

7026 - أخبرنا الشيخ أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت عبد الله بن محمد الأصبهاني قال : سمعت بندار بن الحسين الصوفي يقول : الغين ثقل مطالبة الحق على قلب النبي صلى الله عليه و سلم فإنه كان مطالبا بالأوامر فكان إذا أمر بأمر التزمه فكان يثقل عليه إلى أن يدخل فيه قال الله عز و جل : { إنا سنلقي عليك قولا ثقيلا }

ہمیں خبر دی شیخ عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن محمد اصفہانی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بندار بن حسین صوفی سے وہ کہتے ہیں کہ غین اور بیہوشی سے مراد قلب رسول پر مطالبہ حق (و تقاضائے خداوندی) کا ثقل اور وزن ہے کیونکہ آپ سے اوامر کا مطالبہ اور تقاضا تھا۔ آپ عادۃ اس طرح کے تھے کہ جب کسی امر کے ساتھ مامور کئے جاتے تھے تو اس کا التزام کرتے تھے لہٰذا آپ کے اوپر اس کا ایک وزن ہوتا تھا یہاں تک کہ اللہ کا یہ فرمان بھی اسی میں داخل ہے انا سنلقی علیک قولاً ثفیلاً ہم عنقریب تیرے اوپر ایک قول مفصل اور وزنی بات رکھیں گے۔

بندار بن الحسين الصوفي ← عبد الله بن محمد الأصبهاني ← الشَّيْخُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7026

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7027

7027 - أخبرنا أبو الحسن الأهوازي أنا أحمد بن عبيد نا تمام حدثني إبراهيم بن بشار نا سفيان عن وائل بن داود عن أبيه عن بكر عن الزهري قال : أخبرني أربعة عروة بن الزبير و سعيد بن المسيب و عبد الله بن عبد الله بن عتبة و علقمة بن وقاص عن عائشة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن كنت ألممت بذنب فاستغفري الله وتوبي إليه فإن التوبة من الذنب الندم والاستغفار وبهذا اللفظ رواه حامد بن يحيى عن سفيان غير أنه شك في إسناده

ہمیں خبر دی ابو الحسن اھوازی نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمام نے ان کو ابراہیم بن بشار نے ان کو سفیان نے ان کو وائل بن داؤد نے ان کو ان کے والد نے ان کو بکر نے زہری سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے چار آدمیوں نے عروہ بن زبیر ، سعید بن مسیب، عبداللہ بن عبدالله بن عتبہ اور علقمہ بن وقاص نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے گناہ کا ارادہ کیا ہے یا صغیرہ گناہ کیا ہے تو اللہ سے بخشش طلب کر اور ان کی بارگاہ میں توبہ کہ بے شک گناہ سے توبہ ندامت اور استغفار ہے (یعنی نادم ہو تا شرمندہ ہونا اور بخشش طلب کرنا۔) اسی لفظ کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے حامد بن یحییٰ نے ان کو سفیان نے۔ علاوہ ازیں یہ بات ہے کہ اس کی اسناد میں انہوں نے شک کیا ہے۔

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7027

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7028

7028 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد عبد الرحمن بن حمدان بن المرزبان الجلاد بهمدان نا أبو إسحاق إبراهيم بن الحسين بن ديزيل وأخبرنا أبو عبد الله أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي نا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السلمي نا أبو يعقوب إسحاق بن محمد بن إسماعيل بن عبد الله بن أبي وفرة المدني مولى عثمان بن عفان نا مالك بن أنس عن يحيى بن سعيد الأنصاري و عبد الله بن عمر عن ابن شهاب أخبرني عروة بن الزبير و سعيد بن المسيب و عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود و علقمة بن وقاص الليثي عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم : حين قال لها أهل الافك ما قالوا فبرأها الله منه فكلهم حدثني بطائفة من حديثها وبعضهم كان أوعى لحديثها من بعض وأثبت لها اقتصاصا وقد وعيت من كل رجل منهم حديث الذي حدثني عن عائشة وبعضهم يصدق بعضا وإن كان بعضهم أوعى من بعض زعموا أن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أراد سفرا أقرع بين أزواجه فأيتهن خرج سهما خرج بها رسول الله صلى الله عليه و سلم معه قالت عائشة : فأقرع بيننا رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوة غزاها فخرج سهمي فخرج بي رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوته تلك أذن الله بالرحيل فخرجت حين أذنوا بالرحيل فمشت حتى جاوزت الجيش فلما قضيت شأني أقبلت إلى رحلي فلمست صدري فإذا عقد لي خرج لظفار قد انقطع فخرجت فالتمست عقدي وحبسني ابتغاؤه وأقبل الرهط الذين كانوا يرحلون بي فحملوا هودجي فرحلوه على بعيري الذي كنت أركب وهم يحسبون أني فيه وكان النساء إذ ذاك خفافا لم يثقلن ولم يحملن اللحم إنما يأكلن العلقة من الطعام فلم يستنكر القوم خفة الهودج حين حملوه وكنت جارية حديثة السن فبعثوا الجمل فساروا فوجدت عقدي بعدما استمر الجيش فجئت منازلهم ليس بها داع ولا مجيب فتيممت منزلي الذي كنت به وظننت أنهم سيفقدوني فيرجعوا إلي فبينا أنا جالسة إذ غلبتني عيناي فنمت وكان صفوان بن المعطل الصفواني ثم الذكواني من وراء الجيش فأدلج فأصبح عند منزلي فرأى سواد إنسان نائم فعرفني حين رآني قبل الحجاب فاستيقظت باسترجاعه حين عرفني فخمرت وجهي بجلبابي و والله ما كلمته كلمة ولا سمعت منه كلمة غير استرجاعه حين عرفني أناخ راحلته ووطئ على يدها فركبتها وانطلق يقود بي الراحلة حتى أتينا الجيش بعدما نزلوا معرسين في نحر الظهيرة وملك في من هلك وكان الذي تولى كبر الإفك عبد الله بن أبي سلول فقدمنا المدينة فشكيت شهرا والناس يفيضون في قول أصحاب الإفك وأنا لا أشعر بالشيء حتى نقهت فخرجت أنا و أم مسطح قبل المناصع وكان متبرزنا لا نخرج إليها إلا ليلا إلى ليل وذلك قبل أن نتخذ الكنف قريبا من بيوتنا وإنما أمرنا أمر العرب الأول في البرية قبل الغائط وكنا نتأذى بالكنف أن نتخذها عند بيوتنا فأقبلت أنا و أم مسطح قيل يعني حين فرغنا من شأننا و أم مسطح وهي ابنة أبي إبراهيم بن المطلب بن عبد مناف وأمها بنت صخر بن عامر خالة أبي بكر الصديق وابنها مسطح بن أثاثة بن عباد بن عبد المطلب فعثرت أم مسطح في مرطها فقالت : تعس مسطح فقلت لها : بئس ما قلت وماذا قال : فأخبرتني بقول أهل الإفك فازددت مرضا على مرضي فلما دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كيف تيكم ؟ فقلت : أتأذن لي أن آتي أبوي ؟ وأنا حينئذ أريد أن أستيقن الخبر من قبلهما فأذن لي رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتيت أبوي فقلت لأمي : يا أمتاه ما يتحدث به الناس ؟ فقالت : يا بنيه هوني عليك هذا الشأن فوالله لقلما كانت امرأة وضيئة عند رجل يحبها ولا ضرائر إلا أكثرن عليها فقلت سبحان الله ولقد تحدث الناس بها قالت : فبكيت تلك الليلة حتى أصبحت ثم أصبحت ودعا رسول الله صلى الله عليه و سلم علي بن أبي طالب و أسامة بن زيد حين استلبث الوحي يستشيرهما في فراق أهله فأما أسامة فإنه أشار على رسول الله صلى الله عليه و سلم بالذي يعلم من براءة أهله وبالذي يعلم من الود لهم قال : يا رسول الله أهلك ولا نعلم إلا خيرا وأما علي فقال : يا رسول الله لم يضيق الله عليك والنساء بكثير سواها سلوا الجارية تصدقك فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بريرة فقال : يا بريرة هل رأيت على عائشة شيئا تنكرينه عليها قالت : لا والذي بعثك بالحق ما رأيت على عائشة شيئا أغمصه عليها غير أنها جارية حديثة السن تنام عن عجين أهلها فتأتي الداجن فتأكله قالت عائشة : فقام على المنبر حين استلبث الوحي يستعذر من عبد الله ابن أبي ابن سلول فقال : يا معشر المسلمين من يعذرني من رجل بلغ أذاه في أهلي فوالله ما علمت على أهلي إلا خيرا وما كان يدخل على أهلي إلا وهو معي فقام سعد بن معاذ الأنصاري فقال : يا رسول الله أنا والله أعذرك منه إن كان من الأوس ضربت عنقه وإن كان من إخواننا الخزرج أمرتنا ففعلنا أمرك فقام سعد بن عبادة الخزرجي وهو سيد الخزرج وكان قبل ذلك رجلا صالحا ولكن احتملته الحمية فقال لسعد بن معاذ : كذبت لعمر الله لا تقتله ولا تقدر على قتله فقام سعد بن معاذ فقال لسعد بن عبادة : كذبت لعمر الله لنقتلنه فإنك منافق تجادل عن المنافقين فثار الحيان الأوس والخزرج حتى هموا أن يقتتلوا ورسول الله صلى الله عليه و سلم على المنبر فلم يزل رسول الله صلى الله عليه و سلم يخفضهم حتى سكتوا قالت عائشة : وبكيت يومي ذلك لا يرقأ لي دمع ولا اكتحل بنوم ولا أظن البكاء إلا فالق كبدي قالت : فبينا أنا أبكي وأبواي عندي إذا استأذنت علي امرأة من الأنصار فأذنت لها أمي فجلست تبكي معنا فبينا نحن على ذلك إذ دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم فسلم ثم جلس ولم يجلس عندي منذ قيل لي ما قيل قبلها وقد لبث شهرا لا يوحى إليه في شأن بشيء قالت : فتشهد رسول الله صلى الله عليه و سلم حين جلس ثم قال : يا عائشة أما فقد بلغني عنك كذا وكذا فإن كنت بريئة فسيبرئك الله وإن كنت ألممت بذنب فاستغفري الله وتوبي إليه فإن العبد إذا اعترف بذنبه ثم تاب تاب الله عليه قالت : فلما قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم مقالته قلص دمعي حتى ما أحس منه قطرة فقلت لأبي : أجب عني رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما قال : قال : والله ما أدري ما أقول لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت لأمي أجيبي عني رسول الله فيما قال : فقالت : والله ما أدري ما أقول لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت وإني لجارية حديثة السن لا أقرأ شيئا من القرآن : والله لقد علمت أنكم سمعتم بهذا الحديث واستقر في أنفسكم ولئن قلت لكم إني بريئة والله ليعلم إني بريئة وأعلم أنه مبرئي ببراءة إني بريئة لا تصدقون ولئن اعترف لكم بأمري والله يعلم أني منه بريئة لتصدقني فو الله ما أجد لي ولكم مثلا إلا أن أبا يوسف قال : فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون زاد ابن ديزيل في حديثه ونسيت اسم يعقوب لما بي من الحزن واخراق القلب ثم رجع إلى حديثهما قالت : ثم تحولت إلى فراشي فنمت وأنا أعلم أني بريئة والله مبرئي ببراءتي ولكن والله ما علمت أن الله ينزل في شأني قرآنا يتلى ولشأني أحقر في نفسي من أن ينزل الله في وحيا يتلى قالت : فو الله ما رام رسول الله صلى الله عليه و سلم مجلسه ذاك ولا خرج أحد من أهل البيت حتى يأخذه ما كان يأخذه من البرحاء حتى إنه لينحدر مثل الجمان من العرق في اليوم الشاتي قالت : فلما سري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يبتسم كان أول كلمة تكلم بها أن قال : يا عائشة أما الله فقد برأك فقال لي أبي قومي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : لا أقوم ولا أحمد إلا الله تعالى قالت : أنزل على رسول الله صلى الله عليه و سلم : { إن الذين جاؤوا بالإفك عصبة منكم } العشر الآيات كلها قالت : فلما أنزل الله في براءتي هذا قال أبو بكر الصديق : وكان ينفق على مسطح بن أثاثة لقرابته منه والله لا أنفق مسطح شيئا أبدا بعد الذي قال لعائشة ما قال قالت : فأنزل الله : { ولا يأتل أولو الفضل منكم والسعة أن يؤتوا أولي القربى والمساكين والمهاجرين في سبيل الله وليعفوا وليصفحوا ألا تحبون أن يغفر الله لكم } فقال أبو بكر : بلى والله إني لأحب أن يغفر لي فرجع على مسطح نفقته التي كان ينفق عليه فقال : والله لا أنزعها منه أبدا قالت عائشة : وكانت زينب بنت جحش هي التي تساميني من بين أزواج النبي صلى الله عليه و سلم فعصمها الله بالورع فطفقت أختها حمنة تحارب لها فهلكت فيمن هلك قال ابن شهاب : فبلغني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما سأل بريرة عن شأن عائشة قالت : يا رسول الله تسألني عن عائشة فو الله لعائشة أطيب من طيب الذهب ولئن كان ما يقول الناس حقا ليخبرنك الله قال ابن شهاب : فهذا ما انتهى إلينا من خبر هؤلاء الرهط هذا حديث مخرج في الصحيحين من حديث يونس بن زيد و صالح بن كيسان و فليح بن سليمان وغيرهم من الزهري وهو غريب من حديث مالك عن عبيد الله ابن عمر و يحيى بن سعيد عن الزهري تفرد به إسحاق بن محمد الفروي ومقصود ما في هذا الموضع من الحديث قول النبي صلى الله عليه و سلم : إن كنت ألممت بذنب فاستغفري الله وتوبي إليه فإن العبد إذا اعترف بذنبه ثم تاب تاب الله عليه فأمر بالتوبة إن كان الذنب موجودا وأخبر بقبول الله تعالى توبة العبد متى ما اعترف بذنبه وتاب منه وأخبرني خبرا آخر أن الندم توبة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو محمد عبدالرحمٰن بن حمدان بن مرزبان الجلاب نے ہمدان میں ان کو ابو اسحاق ابراہیم بن حسین بن دیزیل نے۔ اور ہمیں خبر دی ہے۔ ابو عبداللہ نے ان کو ابو بکر محمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو ابو اسماعیل محمد بن اسماعیل سلمی نے ان کو خبر دی ابو یعقوب اسحاق بن محمد بن اسماعیل بن عبداللہ بن ابو فرہ مد نی مولیٰ عثمان بن عفان نے ان کو مالک بن انس نے ان کو یحییٰ بن سعید انصاری نے اور عبداللہ بن عمر نے ان کو ابن شہاب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے عروہ بن زبیر نے اور سعید بن مسیب نے اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عقبہ بن مسعود نے اور علقمہ بن وقاصی لیثی نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے بارے میں جھوٹ تراشنے والوں نے کہا جو کچھ کہا تھا لہٰذا اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس سے بری قرار دیا تھا پس ان میں سے ہر ایک نے مجھے حدیث بیان کی سیدہ کی روایت کردہ احادیث کے ایک طائفہ اور ایک گروپ کے بارے میں اور ان میں سے ہر ایک سیدہ کی حدیث کو محفوظ کرنے میں دوسرے سے زیادہ یادر کھنے والا تھا۔ اور (سیدہ رضی اللہ عنہا کی روایت کردہ احادیث کے لئے) اثبت تھا بطور روایت کرنے کے تحقیق میں نے یاد کی تھی ہر آدمی سے ان میں سے وہ حدیث جو اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مجھے بیان کی تھی۔ اور بعض ان کا بعض کی تصدیق کرتا ہے۔ اگرچہ بعض ان میں سے بعض سے زیادہ یاد کرنے والا تھا انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب سفر کا ارادہ کرتے تھے تو اپنی بیبیوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تھے جس کا قرعہ نکلتا اس کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غزوے میں جاتے وقت ہمارے درمیان قرعہ اندازی کی تو میرا قرعہ نکلا چنانچہ آپ اس غزوے میں مجھے ساتھ لے کر چلے۔ اللہ تعالیٰ نے کوچ کرنے کا حکم فرمایا۔ میں بھی نکلی جب انہوں نے کوچ کرنے کا اعلان کیا میں پیدل چلتی ہوئی لشکر سے آگے چلی گئی (قضائے حاجت کے لئے) جب میں قضائے حاجت سے فارغ ہوئی تو میں واپس اپنے سامان کی طرف لوٹ آئی۔ اب جو میں نے اپنے سینے پہ ہاتھ پھیرا تو کیا دیکھتی ہوں کہ میرا چمڑے کا ہار ٹوٹ کر گر چکا ہے میں دوبارہ ہار کی تلاش کرنے نکل گئی۔اس کی تلاش نے مجھے روک لیا۔ اتنے میں وہ گروہ آیا جو مجھے اونٹ پر کجاوے سمیت سوار کرتے تھے۔ انہوں نے میرا کجاوہ اٹھا کر میرے اونٹ پر ہاتھ دیا جس پر میں سوار ہوتی تھی۔ انہوں نے خیال کیا کہ میں اسی کجاوے میں ہوں اور اس زمانے میں عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں۔ وزنی نہیں تھیں مونی اور گوشت سے لدی ہوئی نہیں ہوتی تھیں۔ زندہ رہ سکنے کے بقدر کھانا کھاتی تھیں۔لوگوں نے کجاوے کے ہلکا ہونے کو اٹھاتے وقت عجیب سانہ سمجھا۔ ویسے بھی میں نو عمر لڑکی تھی۔ان لوگوں نے اونٹ کو اٹھایا اور چلائے لشکر کے گزر جانے کے بعد میں نے اپنا ہار بھی پا لیا لہٰذا میں ان کے ٹھکانے پر آئی۔ وہ تو نہ کوئی آواز دینے والا تھا نہ کوئی جواب دینے والا تھا لہٰذا میں نے اسی منزل پر جہاں تھی رکنے کا ارادہ کر لیا یہ سوچ کر کے کہ وہ لوگ ابھی تھوڑی دیر بعد مجھے جب نہیں پائیں گے تو میری طرف واپس آئیں گے میں بھی تھی کہ اچانک میری آنکھیں بند ہونے لگیں اور میں سو گئی۔ اور صفوان بن معطل صفوانی اس کے بعد ذکوانی لشکر کے پیچھے تھا وہ منہ اندھیرے چلا تو علی الصبح وہ میری منزل پر پہنچ گیا۔ اس نے دور سے کسی انسان کانشان دیکھا کہ ہو رہا ہے۔ قریب آئے تو انہوں نے مجھے پہچان لیا جب کہ مجھے دیکھا ہوا تھا انہوں نے پردے کا حکم نازل ہونے سے قبل اس کے اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھنے سے میں جاگ گئی۔ جب اس نے مجھے پہچان لیا۔ لہٰذامیں نے اپنا چہرہ اپنی چادر کے ساتھ چھپا لیا اللہ کی قسم میں نے نہ کوئی کلمہ بولا نہ ہی اس سے کوئی کلمہ سنا سوائے اس کے اناللہ پڑھنے کے جب اس نے مجھے پہچانا تھا۔ اس نے اپنی سواری میٹھائی اور اس کی اگلی ٹانگ کے گھٹنے پر پیر رکھ لیا میں اس میں سوار ہو گئی وہ مجھے سوار کرنے کے بعد آگے مہار تھامے چلتے رہے یہاں تک کہ ہم شکر کے پاس پہنچ گئے اس کے بعد کہ جب و ولوگ دوپہر کے وقت اتر کر ادھر کرنے لگے تھے اور ہلاک ہوا میرے بارے میں جو ہلاک ہوا۔ اور وہ شخص جو پڑے جھوٹ کا سر پرست بنا تھا وہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ پھر ہم لوگ مدینے میں آ گئے میں مہینہ بھر بیمار ہو گئی۔ادھر لوگ جھوٹ بولنے والوں کی وجہ سے پریشان ہو کر آنسو بہا رہے تھے۔ اور مجھے بھی تک کچھ بھی علم میں تھا حتٰی کہ میں کچھ سمجھ گئی ایک دن میں (قضاء حاجت کے لئے) نکلی میرے ساتھ اُم مسطح بھی تھی مناصع کی طرف یہ ہم لوگوں کی قضاء حاجت کرنے کی جگہ تھی ہم لوگ اس کی طرف صرف رات کو ہی جاتے تھے یہ اس وقت کی بات ہے جب غسل خانے پاخانے ہمارے گھروں کے پاس بنے ہوئے نہیں تھے۔ نام لوگوں کا معاملہ عرب اول والا تھا جنگل میں قضاء حاجت کے لئے۔ گھروں کے پاس پاخانے اس لئے نہیں بناتے تھے کہ اس سے ہمیں اذیت پہنچتی تھی۔ اگر گھروں کے پاس بناتے ہیں اور اُم مسطح واپس لوٹے فارغ ہونے کے بعد۔ اُم مسطح ابو ابراہیم کی بیٹی تھی ابراہیم بن عبدالمطلب بن عبد مناف تھے۔ اور اُم مسطح کی ماں بنت صخر تھی صخر عامر کے بیٹے تھے اُم مسطح ابو بکرصدیق کی خالہ تھی۔ اُم مسطح کا بیٹا ابن اثاثہ عباد بن عبدالمطلب تھا۔ اُم مسطح کا پیرانکی چادر میں الجھ کر وہ پھسل گئیں تو بولی ہلاک ہو جائے مسطح۔ چنانچہ میں نے اس نے کہا۔ آپ نے بر الفظ کہاہے(کیا ہوا؟) کیا کہا ہے مسطح نے ؟ لہٰذا اس نے مجھے اہل افک کی بات بتائی میں بیماری پر مزید بیمار ہو گئی جب رسول اللہ میرے پاس تشریف لائے تو فرمایا کہ کیسی ہو تم؟ میں نے کہا کیا مجھے اجازت دیں گے کہ میں اپنے والدین کے ہاں جاؤں؟ میں اس وقت یہ ارادہ کر رہی تھی کہ میں وہاں جا کر اس خبر کے بارے میں یقین حاصل کروں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی میں والدین کے ہاں چلی گی اور میں نے اپنی امی سے پوچھا کہ اے ای کیا باتیں بنا رہے ہیں لوگ ؟ انہوں نے کہا اے بیٹی پریشان نہ ہو اس معاملے کو آسان کر اپنے اوپر البتہ بہت کم ہوتا ہے ایسے کہ کوئی خوبصورت عورت ہو کسی مرد کے پاس اور وہ اس سے محبت کرتا ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں۔مگر اس پر بہت کچھ کہتی ہیں۔ میں نے کہا سبحان اللہ تحقیق لوگ اس معاملے میں باتیں کر رہے ہیں۔ فرماتی ہیں کہ پھر میں رات بھر روتی رہی حتٰی کہ صبح ہو گئی اس کے بعد دوسری صبح ہوئی۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی المرتضیٰ کو بلایا اور اسامہ بن زید کو جب وحی بھی رک گئی ان سے مشورہ کیا اپنی اہلیہ کی طلاق اور فراق کے بارے میں اسامہ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اشارہ دیا اس صورت کے بارے میں جو وہ جانتا تھا ان کے اہل اور ان کے حرم کے بارے میں برات کا اور اس کے بارے میں جو وہ جانتا تھا حضور کی اپنی اہلیہ سے محبت کو۔ اس نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے اہل کے بارے میں نہیں جانتے سوائے خیر کے اور علی مرتضی نے کہا اللہ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں کر رکھی۔ اور عورتیں اس کے سوا اور بھی بہت ہیں آپ لڑکی سے پوچھیں وہ آپ کو پکی بات بتائے گی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو بلایا اور فرمایا کہ بریرہ کیاتم عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے بارے میں کوئی ایسی ویسی بات جانتی ہو جس کوتم نا پسند کرو۔ اس نے کہا کہ نہیں قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے۔ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں جاتی جس پر میں اس سے چشم پوشی کروں سوائے اس کے کہ وہ نوسن لڑکی ہے اپنے گھر والوں کا آٹا گوندھا چھوڑ کر سو جاتی ہے اور بکری کا بچہ آ کر کھا جاتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر تشریف لے جا کر کھڑے ہوئے۔ جب وحی رک چکی بھی آپ عبداللہ بن ابی بن سلول سے نجات چاہتے تھے۔ آپ نے فرمایا مسلمانوں کی جماعت کو کون مجھے نجات دلائے گا ایک آدمی سے جس نے میرے گھر کے معاملے مجھے ایذا پہنچائی ہے۔ اللہ کی قسم میں اپنے اہل پر خیر کے سوا کچھ نہیں جانتا۔ اور وہ شخص میرے اہل پر کبھی نہیں داخل ہوا مگر وہ میرے ساتھ ہوا تھا۔ (بس پھر کیا ہوا کہ) پہلے سعد بن معاذ انصاری کھڑے ہو گئے اور بولے :یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں اس سے آپ کو نجات دلاتا ہوں۔ اگر وہ قبیلہ اس سے (میرے قبیلے سے) ہے تو میں خود اس کی گردن اڑا دوں گا۔ اور اگر وہ ہے ہمارے بھائیوں بنو خزرج میں سے تو آپ جو بھی حکم کریں گے میں وہی کروں گا (اتنے میں بنوخزرج سے) سعد بن عبادہ خزرجی اٹھ کھڑے ہوئے۔ (وہ بنو خزرج کے سردار تھے) اور اس سے قبل وہ نیک آدمی تھے لیکن اس کو غیرت نے اٹھایا۔ اس نے سعد بن معاذ سے کہامیری بیان کی قسم تم نے جھوٹ بولا ہے۔ تو اس آدمی کو قتل نہیں کرے گا اور نہ ہی تو اس پر قادر ہو سکے گا (یعنی اگر وہ میرے قبیلے سے ہوا۔) اس کے بعد سعد بن معاذ دوبارہ اٹھے اور انہوں نے سعد بن عبادہ سے کہا تم نے جھوٹ کہا ہے ہم اس آدمی کو ضرور قتل کریں گے۔ تم منافق ہو منافقوں کی طرف جھگڑتے ہو۔ لہٰذا دونوں قبیلے اچھل پڑے اوس بھی اور خزرج بھی حتٰی کہ انہوں نے باہم لڑنے (اور قتال کرنے) کا ارادہ کر لیا حالانکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک منبر پر تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بدستور ان کو چپ کرواتے رہے حتٰی کہ وہ چپ ہو گئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ادھر میں دن بھر روتی رہی نہ میرے آنسو تھمتے تھے اور نہ ہی مجھے ایک لمحے کے لئے نیند آتی تھی۔ اور میں یہ گمان کرتی تھی کہ روتے روتے میرا کلیجہ پھٹ پڑے گا۔ فرماتی ہیں کہ میں یکایک رو رہی تھی اور میرے والدین میرے پاس بیٹھے تھے۔ اچانک انصار کی ایک عورت نے آنے کی اجازت مانگی میری امی نے اجازت دی۔ وہ بھی ہم لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر رونے لگی ہم لوگ اسی حال میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے آپ نے سلام کیا اور بیٹھ گئے اور اس سے قبل جب سے یہ سلسلہ شروع ہوا تھامیرے پاس بھی نہیں بیٹھے تھے۔ ایک مہینہ گزر چکا تھا وحی بھی بند تھی، میرے بارے میں کچھ نہیں اتر اتھا۔ کہتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اشھدان لا الہ الا اللہ پڑھا جب بیٹھے اس کے بعد پوچھا اے عائشہ مجھے تیری طرف سے ایسے ایسے باتیں پہنچی ہیں۔ اگر تم بری ہو تو عنقریب اللہ تعالیٰ تمہاری برات نازل کر کے تمہیں بری کرے گا۔ اور اگر تم نے کسی قسم کے گناہ کا ارادہ کیا ہے تو تم اللہ سے استغفار کرو اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اعتراف کر لیتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتے ہیں۔ کہتی ہیں کہ جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات پوری کر چکے تو میرے آنسو خشک ہو گئے حتٰی کہ میں نے آنسو کا ایک قطرہ بھی محسوس نہ کیا میں نے اپنے والد سے کہا کہ آپ میری طرف سے رسول اللہ کوئی جواب دیجئے۔ اس بارے میں جو کچھ انہوں نے کہا ہے۔ والد نے کہا اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ میں رسول اللہ سے کیا کہوں پھر میں نے اپنی امی سے کہا کہ آپ میری طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیجئے ان کی بات کا۔ وہ بولی میں نہیں جانتی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہوں؟ (آپ سے میں نے خود بولنے کی اجازت لی) میں نے کہا میں ایک نوعمر لڑکی ہوں میں قرآن میں سے کوئی شئی نہیں پڑھتی ہوں۔اللہ کی قسم میں جانتی ہوں کہ تم لوگ یہ بات سن چکے ہو اور وہ بات تمہارے دلوں میں اتر چکی ہے لیکن تمہیں ایک بات کہتی ہوں کہ اگر میں کہوں کہ میں اس گناہ سے پاک ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں اور میں یقین رکھتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری برٔات کرے گا۔ (اگر میں کہوں تو تم لوگ) میری تصدیق نہیں کروگے۔ اللہ کی قسم میں نہیں پاتی ہوں اپنے لئے اور تمہارے لئے کوئی مثال مگر یوسف علیہ السلام کے والد کی کہ انہوں نے کہا تھا:فصبر جمیل واللہ المستعان علیٰ ماتصفون پس صبر خوبصورت ہے اللہ سے مدد مانگی جاتی اس حالت پر جو تم بتلاتے ہو۔ ابن دیزیل نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ سیدہ نے کہا تھا۔ میں یعقوب علیہ السلام کا نام بھول گئی تھی غم کی وجہ سے اور دل پھٹنے کی وجہ سے۔اس کے بعد راوی ان کی بات کی طرف لوٹے۔ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد میں اپنے بستر پر جا کر لیٹ گئی اور میں یقین کر رہی تھی کہ بری ہوں اور اللہ میری برات کرنے والا ہے۔ مگر اللہ کی قسم میں یہ نہیں جانتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میری اس حالت کے بارے میں قرآن نازل کرے گا جو کہ پڑھا جاتا ہے کہ میری نظر میں میری حالت اس سے کہیں زیادہ حقیر تھی کہ اللہ میرے بارے میں وحی اتارے جو پڑھی جاتی رہے۔ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک اس مجلس سے نہیں اٹھے تھے اور نہ ہی کوئی ابھی تک گھر سے باہر گیا تھا۔ حتٰی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کیفیت نے لے لیا جو آپ کے اوپر کپکپی طاری ہوتی تھی حتٰی کہ بے شک حالت یہ ہوتی تھی کہ بخت سردی کے موسم میں پینے کے قطرے موتیوں کی طرح چہرے سے گرنے لگتے تھے۔ فرماتی ہیں کہ جب وہ کیفیت آپ کی کھل گئی تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے پہلا کلمہ جو آپ نے بولا تھاوہ یہی تھا کہ اے عائشہ۱ سنو بہر حال اللہ نے تجھے پاک قرار دے دیا ہے میرے والد نے مجھ سے کہا کھڑی ہو جاؤ رسول اللہ کے پاس جاؤ۔ مگر میں نے کہا کہ میں نہ ہی انھوں کی اور نہ ہی کسی کا شکر یہ ادا کروں گی اللہ کے سواہ میں اللہ کا شکر ادا کروں گی کہتی ہوں اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمائی: ان الذین جاء وابالافک عصبۃ منکم بے شک جو لوگ جھوٹ لے کر آئے ہیں۔ ایک جماعت ہے تم میں سے۔ یہ دس آیات ہیں پوری۔ جب اللہ تعالیٰ نے میری برأت میں یہ آیات نازل فرمائیں تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، مسطح بن اثاثہ پر خرچ کرتے تھے۔ اس کی قرابت داری کی وجہ سے انہوں نے قسم کھالی کہ میں مسلح پر کبھی کوئی چیز خرچ نہیں کروں گا اس لئے کہ وہ بھی منافقین کے ساتھ مل کر عا ئشہ کے بارے میں جھوٹی تہمت میں شامل ہو گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ ارشاد فرمایا :ولا یاتل اولو الفضل منکم والسعۃ ان یؤتوا اولی القربی والمساکین والمھاجرین فی سبیل اللہ ولیعفوا ولیصفحوا الا تحبون ان یغفر اللہ لکم تم میں سے صاحب مال اور صاحب کشادگی قسمیں نہ کھائیں اس بات سے کہ وہ قرابت داروں کو میں اور مسکینوں اور مہاجرین کواللہ کی راہ میں چاہئے کہ معاف کریں اور درگزر کریں کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے۔ اس کے بعد ابو بکر صدیق نے کہائی ہاں میں یہی چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف کردے۔ لہٰذا مسطح کا خرچہ بحال ہو گیا جواس کو ملتا تھا۔ ابو بکر صدیق نے کہا اللہ کی قسم میں اس سے یہ خرچہ کبھی نہیں روکوں گا۔ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ زینب بنت جحش ازواج رسول میں سے ایسی تھی جو کہ مجھ سے خلوص رکھتی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کی پرہیزگاری کی وجہ سے اس کو جھوٹ میں شامل ہونے سے بچالیا تھا مگر اس کی بہن حمنہ اس سے لڑتی تھی لہٰذا وہ بھی اس جھوٹ میں شامل ہو کر برباد ہونے والوں میں برباد ہو گئی تھی۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بریرہ سے پوچھا تھا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں تو اس نے کہا تھا یا رسول اللہ آپ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں پوچھتے ہیں اللہ کی قسم البتہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سونے کے پاک صاف ہونے سے بھی زیادہ پاک صاف ہے۔ البتہ اگر وہ بات سچ ہوتی جو لوگ کہتے ہیں تواللہ تعالیٰ آپ کو ضرور اس کی خبر دےدیتا۔ ابن شہاب نے کہا یہ ہے وہ خبر جو ہمارے پاس اس جماعت کی طرف سے پہنچی ہے۔ یہ حدیث بخاری ومسلم میں بھی موجود ہے یونس بن زید اور صالح بن کیسان اور بیع بن سلیمان و غیرہ سے انہوں نے زہری سے۔ مگر وہ حدیث غریب ہے حد یث مالک سے اس نے عبیداللہ بن عمر سے اور یحییٰ بن سعید سے اس نے زہری سے اس کے ساتھ اسحاق بن محمد قروی کا تفرد ہے۔ اس مقام پر اس حدیث کو درج کرنے کا جو مقصد ہے وہ اس حدیث کا یہ حصہ ہے صرف کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) کہ اگر تم نے گمان کا ارادہ کیا ہے تو تم اللہ سے استغفار کرو اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو بے شک ایک بندہ جب اپنے گناہ کا اعتراف کر لیتا ہے اسکے بعد وہ توبہ کرتا ہےتو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ تو یہ تو بہ کرنے کا امر اور حکم ہے اگر گناہ موجود ہو۔ اور حضور نے خبر یہی دی ہے اللہ تعالیٰ کے توبہ قبول کرنے کی بندے کی توبہ جب گناہ کا اعتراف کرے اور اس سے توبہ کرے۔ اور مجھے خبر دی ہے ایک خبر کہ بے شک توبہ ندامت ہوتی ہے۔

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7028

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7029

7029 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن شيبان نا سفيان بن عيينة الهلالي ثنا أبو محمد عبد الكريم الجزري عن زياد بن أبي مريم عن عبد الله بن معقل قال : دخلت أنا وأبي على عبد الله بن مسعود فقال له أبي سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : الندم توبة ؟ قال : نعم أنا سمعته يقول : الندم توبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن شیبان نے ان کو سفیان بن عیینہ ہلالی نے ان کو ابو محمد عبدالکریم جزری نے ان کو زیاد بن ابی مریم نے ان کو عبداللہ بن معقل نے وہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے میرے والد نے ان سے کہا کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی تھی کہ ندامت و پشیمانی توبہ ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے سنی تھی فرما رہے تھے کہ ندامت توبہ ہے۔ (یعنی گناہ کرنے کے بعد اس پر شر مندہ ہونا ناوم ہونا۔)

"النَّدَمُ توبة" ← نَعَمْ ← "النَّدَمُ توبة" ← النبي صلى الله عليه و سلم ← وأبي على عبد الله بن مسعود فقال له أبي ← دَخَلْتُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ← زياد بن أبي مريم ← أبو محمد عبد الكريم الجزري ← سفيان بن عيينة الهلالي ← أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7029

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7030

7030 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس نا الحسين بن مكرم البزاز نا أبو النصر نا أبو خيثمة نا عبد الكريم الجزري عن زياد عن عبد الله بن معقل قال : كنت مع أبي إلى جنب عبد الله بن مسعود فقال له : أنت سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الندم توبة ؟ قال : نعم سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الندم توبة الندم توبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس نے ان کو حسین بن مکرم بزار نے ان کو ابو النصر نے ان کو ابو خثیمہ نے ان کو عبدالکریم جزری نے ان کو زیاد نے ان کو عبداللہ بن معقل نے کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھا تھا میرے والد نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا یہ کہتے تھے کہ ندامت توبہ ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جی ہاں میں نے یہ بات سنی تھی کہ فرماتے تھے کہ ندامت توبہ ہے ندامت توبہ ہے۔

الندم توبة الندم توبة ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← نَعَمْ ← "النَّدَمُ توبة" ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← كنت مع أبي إلى جنب عبد الله بن مسعود فقال له أنت ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ← زِيَادٍ، ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أبو النصر ← الحسين بن مكرم البزاز ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7030

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7031

7031 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسين محمد بن أحمد القنطري ببغداد نا أبو قلابة نا أبو عاصم نا سفيان و أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي بالكوفة نا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن الأسدي الهمداني نا محمد بن كثير نا سفيان الثوري نا عبد الكريم نا زياد بن أبي مريم عن عبد الله بن معقل المزني قال : سأل أبي عبد الله بن مسعود أنت سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الندم توبة ؟ قال : نعم لفظ حديث جناح وفي رواية الحافظ عن زياد عن عبد الله بن معقل عن ابن مسعود أن النبي صلى الله عليه و سلم قال الندم توبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسین محمد بن احمد قنطری نے بغداد میں ان کو ابو قلابہ نے ان کو عاصم نے ان کو سفیان نے۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو محمد حناح بن نذیر بن جناں قاضی نے کوفے میں ان کو ابو القاسم عبدالرحمٰن بن حسن اسدی ہمدانی نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو عبدالرحیم نے ان کو زیاد بن ابی مریم نے ان کو عبداللہ بن معقل مزنی نے وہ کہتے ہیں کہ پوچھا انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کیا آپ نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے کہ ندامت توبہ ہے۔انہوں نے فرمایا۔ جی ہاں فرمایا تھا۔ حدیث جناح کے الفاظ ہیں۔ اور حافظ کی روایت میں ہے زیاد سے اس نے عبداللہ بن معقل سے اس نے ابن مسعود سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ندامت توبہ ہے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ← زِيَادٍ، ← نعم لفظ حديث جناح وفي رواية الحافظ ← "النَّدَمُ توبة" ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سأل أبي عبد الله بن مسعود أنت ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ الْمُزَنِيِّ، ← زياد بن أبي مريم ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن الأسدي الهمداني ← أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ ← سفيان و ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7031

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7032

7032 - و أخبرنا جناح بن نذير بن جناح أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم نا أحمد بن حازم بن أبي غزرة أنا أبو نعيم و علي بن حكيم قالا أنا شريك عن عبد الكريم عن زياد بن الجراح عن عبد الله بن معقل قال : دخلت مع أبي على عبد الله بن مسعود فسمعته يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الندم توبة

ہمیں خبر دی جناح بن نذیر بن جناح نے ان کو ابو جعفرمحمد بن علی بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم بن ابو عرزہ نے ان کو ابو نعیم اور علی بن حکیم نے وہ دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی شریک نے ان کوعبد الکریم نے ان کو زیاد بن جرح نے ان کو عبداللہ بن معقل نے وہ کہتے ہیں کہ میں داخل ہوا اپنے والد کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر میں نے ان سے سنا فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ندامت توبہ ہے۔

"النَّدَمُ توبة" ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← دخلت مع أبي على عبد الله بن مسعود فسمعته ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ← زياد بن الجراح ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← شَرِيکٍ ← أبو نعيم و علي بن حكيم ← أحمد بن حازم بن أبي غزرة ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← جناح بن نذير بن جناح ← و،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7032

chevron_left Previous
1234…25
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood