Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10331

10331 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني عبد الله بن سعد الحافظ نا إبراهيم بن أبي طالب نا أبو كريب نا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن عبد الله بن سخبرة عن علي قال : ما أصبح بالكوفة أحد إلا ناعم إن أدناهم منزلة يشرب من ماء الفرات و يجلس في الظل و يأكل من البر و إنما أنزلت هذه الآية في أهل الصفة { و لو بسط الله الرزق لعباده لبغوا في الأرض و لكن ينزل بقدر ما يشاء } و ذلك لأنهم قالوا إن لنا فتمنوا الدنيا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی عبد اللہ بن حافظ نے ان کو ابراہیم بن ابو طالب نے ان کو ابوکریب نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے مجاہد سے اس نے عبداللہ بن سخبرہ سے اس نے علی سے انہوں نے کہا کہ کوفے میں کوئی باقی ایسے نہیں رہا تھا ہر شخص خوش حال اور تروتازہ تھا بے شک کم تر درجے کی آدمی کو بھی یہ سہولت حاصل تھی کہ وہ اس کو پینے کے لئے میٹھا پانی میسر تھا اور سایہ حاصل رہنے کے لئے میسر تھا اور کم درجہ کا انسان بھی گندم کی روٹی کھاتا تھا۔ یقینی بات ہے کہ یہ آیت اہل صفہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی: ولوبسط الله الرزق لعباده لبغوا فى الارض ولكن الله ينزل وبقدر ما يشاء. اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے رزق فراخ کر دیتا تو زمین پر بغاوت کرتے لیکن اللہ تعالیٰ جس قدر چاہتا ہے اتارتا ہے۔یہ اس لئے ہیں کہ انہوں نے یہ کہا تھا کاش کہ ہمارے ایسے ایسے ہوتا یعنی انہوں نے دنیا کی تمنیٰ کرلی تھی۔

عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10331

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10332

10332 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف انا أبو سعيد بن الأعرابي نا أبو يحيى بن أبي مسرة و محمد بن إسماعيل قالا نا أبو عبد الرحمن المقري نا حيوة : أنه سمع عمرو بن حريث و غيره إنما نزلت هذه الآية في أهل الصفة { و لو بسط الله الرزق لعباده لبغوا في الأرض و لكن ينزل بقدر ما يشاء } لأنهم قالوا لو أن لنا فتمنوا الدنيا

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو ابو یحییٰ بن ابو مسرہ نے اور محمد بن اسماعیل نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو عبد الرحمٰن مقری نے ان کو حیوۃ نے کہ اسنے سنا عمر بن حریث وغیرہ سے کہ یہ آیت اصحاب صفہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ ولو بسط الله الرزق لعباده لبغوا فى الارض ولكن الله ينزل بقدر ما يشاء. اگر اللہ تعالٰی اپنے بندوں کے لئے رزق کشادہ کر دیں تو زمین پر سرکشی کریں گے لیکن اللہ تعالیٰ جس قدر اندازے کے مطابق چاہتے ہیں اتارتے ہیں یہ اس لئے ہوا کہ انہوں نے کہا تھا کاش کہ ہمارے لئے اس قدر رزق ہوتا۔ گویا کہ انہوں نے دنیا کی تمنا اور آرزو کی تھی۔

حَيْوَةُ ,أَنَّهُ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← أبو يحيى بن أبي مسرة و محمد بن إسماعيل ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10332

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10333

10333 - و أخبرنا أبو محمد بن يوسف نا أبو سعيد بن الأعرابي نا أبو الحسن عبد الملك بن عبد الحميد الميموني و أبو جعفج محمد بن إسماعيل الصائغ قالا نا روح بن عبادة نا عوف عن الحسن : أن نبي الله صلى الله عليه و سلم خرج على أهل الصفة يوما فرآهم بحال شديدة قال الصائغ في حديثه : و كان أهل الصفة قوما يجيئون مهاجرين إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى غير أهل و إلى غير عشيرة و إلى غير مال ثم اتفقا و كانوا إذا مسهم عرضهم على المسلمين فينطلق الرجل بالرجلين و الرجل بالثلاثة و ما بقى منهم أدخلهم رسول الله صلى الله عليه و سلم بيته فأطعمهم ما كان عنده ثم يكون مأواهم و مقيلهم صفة المسجد فقال لهم يوما أنتم اليوم خير أم أنتم يوم تغدون في حلة و تروحون في حلة و تغدو عليكم قصعة و تروح أخرى فقالوا يا رسول الله نحن اليوم بخير و إنا لنرانا يومئذ خيرا منا اليوم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كلا و الذي نفس محمد بيده لأنتم اليوم خير منكم يومئذ

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو ابوالحسن عبد الملک بن عبد الحمید میمونی نے اور ابو جعفر محمد بن اسماعیل صائغ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی روح بن عبادہ نے ان کو عوف نے حسن سے یہ کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل صفہ کے پاس تشریف لائے اور آپ کو شدید حالت میں دیکھا۔ صائغ نے اپنی حدیث میں کہا کہ اہل صفہ وہ لوگ تھے جو ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جاتے تھے جن کا نہ گھر بار ہوتا نہ کنبہ قبیلہ نہ مال متاع (صرف ایمان و اسلام سے آراستہ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت میں شامل ہونے کے لئے ) پھر جب ان کی حاجت وضرورت مسلمانوں پر سامنے آتی ۔ تو کوئی مسلمان ان میں سے ایک آدمی کو ساتھ لے جاتا کوئی دو کو لے جاتا۔ کوئی تین آدمیوں کو لے جاتا ان میں سے جو باقی بچ جاتے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر لے جاتے اور جو کچھ گھر میں موجود ہوتا ان کو کھلاتے اس کے بعد ان کا ٹھکانہ اور دن رات آرام کی جگہ مسجد کا صفہ ہوتا۔ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم لوگ آج بہتر ہو یا اس وقت بہتر ہوں گے جب صبح کو ایک پوشاک پہنو گے اور شام کو دوسری پوشاک صبح کو ایک کھانا کھاؤ گے شام کو دوسرا کھانا ان لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ہم لوگ آج بھی بہتر ہیں اور اس وقت آج سے زیادہ بہتر ہوں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر گز نہیں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تم آج کے دن بہتر ہو اس دن سے۔

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10333

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10334

10334 - و أخبرنا أبو محمد قال : أنا أبو سعيد قال : نا عباس الدوري و الحسن بن مكرم قالا نا سعيد بن عامر قال : نا عبد الله بن عمر العمري عن ربيعة عن عطاء عن جابر بن عبد الله قال : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : كيف أنتم إذا غدى عليكم بجفنة و ريح باخرى أنتم يومئذ خير أم اليوم قالوا : نحن يومئذ بخير قال : انتم اليوم خير

ہمیں خبر دی ابو محمد نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابو سعید نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی عباس دوری نے اور حسن بن مکرم نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی سعید بن عامر نے ان کو عبد اللہ بن عمر عمری نے ان کو ربیعہ نے عطاء سے اس نے جابر بن عبد اللہ سے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تم کیسے ہو گے اس وقت جب صبح کو تمہارے پاس کھانے کے ایک تھال آئیں گے اور شام کو دوسرے؟ تم اس دن بہتر ہو گے یا آج بہتر ہو؟ لوگ بولے ہم اس وقت بہتر ہوں گے آپ نے فرمایا کہ تم لوگ آج بہتر ہو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← رَبِیعَۃَ، ← عبد الله بن عمر العمري ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← عباس الدوري و الحسن بن مكرم ← أَبُو سَعِيدٍ ← أَبُو مُحَمَّد ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10334

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10335

10335 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن علي بن عفان العامري نا زيد بن الحباب نا سفيان الثوري عن المغيرة الخراساني عن الربيع بن أنس عن أبي العالية عن أبي بن كعب : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : بشر هذه الأمة بالسناء و الرفعة و النصر و التمكين في الأرض و من عمل منهم عمل الآخرة للدنيا لم يكن في الآخرة من نصيب

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان عامری نے ان کو زید بن حباب نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو مغیرہ خراسانی نے ان کو ربیع بن انس نے ابو العالیہ سے اس نے ابی بن کعب سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس امت کو بشارت دے دو بلندی اور اونچے مرتبے کی نصرت کی اور تمکین فی الارض ( دھرتی پر پنپنے کی ) اور ان میں سے جو بھی آخرت کا عمل دنیا کمانے کے لئے کرے گا اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← الْمُغِيرَةِ الْخُرَاسَانِيِّ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10335

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10336

10336 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أحمد بن جعفر القطيعي نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا أبو المغيرة نا صفوان بن عمرو عن شريح بن عبيد : أن أبا مالك الأشعري لما حضرته الوفاة قال : يا معشر الأشعريين يبلغ الشاهد منكم الغائب أني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : حلوة الدنيا مرة الآخرة و مرة الدنيا حلوة الآخرة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور مجھے خبر دی احمد بن جعفر قطیعی نے ان کو عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو حدیث بیان کی ان کے والد نے ان کو ابوالمغیرہ نے ان کو صفوان بن عمر نے ان کو شریح بن عبید نے ان کو ابو مالک اشعری نے جب ان کو وفات آن پہنچی تو فرمایا اے اشعریوں کی جماعت تم میں سے جو موجود ہے وہ ان تک بات پہنچا دے جو موجود نہیں ہیں۔ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے دنیا کی مٹھاس آخرت کی کڑواہٹ ہے اور دنیا کی کڑواہٹ اور ناگواری آخرت کی مٹھاس ہے۔

حلوة الدنيا مرة الآخرة و مرة الدنيا حلوة الآخرة ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← يا معشر الأشعريين يبلغ الشاهد منكم الغائب أني ← شريح بن عبيد أن أبا مالك الأشعري لما حضرته الوفاة ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10336

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10337

10337 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف المصري نا أبو بكر أحمد بن محمد بن أبي الموت نا أبو عبد الله محمد بن علي بن زيد الصائغ نا سعيد بن منصور نا يعقوب بن عبد الرحمن و عبد العزيز بن محمد عن عمرو بن أبي عمرو عن المطلب بن عبد الله بن حنطب عن أبي موسى الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أحب دنياه أضر بآخرته و من أحب آخرته أضر بدنياه فآثروا ما يبقى على ما يفنى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ محمد بن فضل بن تکلیف مصری نے ان کو ابو بکر احمد بن محمد بن ابوالموت نے ان کو ابو عبد اللہ محمد بن علی بن زید صائغ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو یعقوب بن عبد الرحمٰن نے اور عبد العزیز بن محمد نے ان کو عمرو بن ابو عمرو نے مطلب بن عبد اللہ بن حنطب سے اس نے ابو موسیٰ اشعری سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی دنیا سے محبت کرتا ہے وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو شخص اپنی آخرت سے محبت کرتا ہے وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے لہٰذا تم اس چیز کوترجیح دو جو باقی رہے گی اس چیز پر جوفنا ہو جائے گی۔ یعنی آخرت کو دنیا پر ۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبِ ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← يعقوب بن عبد الرحمن و عبد العزيز بن محمد ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أبو عبد الله محمد بن علي بن زيد الصائغ ← أبو بكر أحمد بن محمد بن أبي الموت ← أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف المصري

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10337

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10338

10338 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق نا حجاج يعني ابن محمد أنا شعبة و أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك رحمه الله قال : أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة عن عمر بن سليمان عن عبد الرحمن بن أيان عن أبيه عن زيد بن ثابت قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من كانت الدنيا همته فرق الله عليه أمره و جعل فقره بين عينيه و لم يأته من الدنيا إلا ما كتب له و من كانت الآخرة نيته جعل الله غناه في قلبه و جمع له أمره و أتته الدنيا و هي راغمة و هذا لا يخالف الأول لأنه إذا أحب الآخرة لم يبالغ في طلب الدنيا و هذا هو إضرار بها ثم يأتيه منها ما كتب له منها بمشيئة الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو حجاج نے یعنی ابن محمد نے ان کو شعبہ نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن حسن بن فورک رحمۃ اللہ علیہ نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو عمر بن سلیمان نے ان کو عبد الرحمٰن بن ابان نے اپنے والد سے اس نے زید بن ثابت سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فر ماتے تھے : جس شخص کی فکر دنیا کی فکر ہو اللہ تعالیٰ اس کے معاملے پراگندہ کر دیتے ہیں اور اس کے فقر کو اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتے ہیں۔ اور دنیا میں سے اس کو وہی کچھ دیتے ہیں جو اس کے لئے لکھ دیا گیا ہوتا ہے۔ اور جس کی نیت آخرت کی ہو۔ اللہ اس کے دل میں تمنا پیدا کر دیتے ہیں اور اس کے معاملے مجتمع کر دیتے ہیں اور اس کے پاس دنیار سوا ہو کر آتی ہے۔ اور یہ اول کے مخالف نہیں ہے۔ اس لئے کہ جب وہ آخرت کو محبوب رکھے گا تو دنیا کی طلب میں مبالغہ کرے گا۔ اور یہ دنیا کا اضرار ہے۔ پھر اس کے پاس اس میں سے اسی قدر دنیا آئے گی جو اس کے لئے لکھ دی گئی ہے۔ اللہ کی مشیت سے۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أَبِيهِ ← عبد الرحمن بن أيان ← عُمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ ← شُعْبَةُ و ← حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10338

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10339

10339 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو أحمد بكر بن محمد الصيرفي نا أحمد بن عبد الله النرسي نا أبو أحمد الزبيري نا عمران بن زائدة بن نشيط عن أبيه عن أبي خالد الوالبي عن أبي هريرة قال : تلا رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان يريد حرث الآخرة نزد له في حرثه و من كان يريد حرث الدنيا نؤته منها و ماله في الآخرة من نصيب ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقول الله عز و جل : ابن آدم تفرغ لعبادتي أملأ صدرك غنا و أسد فقرك و إلا تفعل ملأت صدرك شغلا و لم أسد فقرك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو احمد بکر بن محمد صیرفی نے ان کو احمد بن عبد اللہ نرسی نے ان کو ابو احمد زبیری نے ان کو عمران بن زائدہ بن نشیط نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو خالد والبی نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔من كان يريد حرث الآخرة نزدله في حرثه ومن كان يريد حرث الدنيا نوته منها وما له في الآخرة من نصيب. جو شخص آخرت کی کھیتی کا ارادہ کرتا ہے ہم اس کے لئے اس کی کھیتی میں اضافہ کریں گے اور جو شخص دنیا کی کھیتی کا ارادہ کرتا ہے ہم اس کو اس میں سے دے دیں گے اور اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے اے ابن آدم تو اپنے آپ کو میری عبادت کے لئے فارغ کرلے میں تیرا سینہ غنا سے بھر دوں گا۔ اور تیرے فقر کو روک دوں گا۔ اور اگر تو ایسا نہ کر سکے تو تیرے دل کو شغل سے بھر دوں گا اور تیرے فقر کو بھی نہیں روکوں گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، ← أَبِيهِ ← عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ بْنِ نَشِيطٍ ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← أحمد بن عبد الله النرسي ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10339

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10340

10340 - و أخبرنا أبو عبد الله نا أبو بكر بن إسحاق أنا محمد بن غالب نا سعيد بن سليمان الواسطي نا أبو عقيل يحيى بن المتوكل عن عمر بن محمد بن زيد عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من جعل الهم واحدا كفاه الله هم دنياه و من تشعبته الهموم لم يبال الله في أي أودية الدنيا هلك

جو شخص فکر و غم کو ایک آخرت کا فکر وغم بنادے اللہ تعالیٰ اس کو اس کی فکر دنیا نے کفایت کرتے (یعنی اس کی دنیا کی ضرورت پوری کر دیتے ہیں ) اور جو شخص گونا گوں قسم کی فکریں اپنا لے اللہ تعالی ٰپرواہ نہیں کرتے کہ وہ دنیا کی کون سی وادیوں میں ہلاک ہو جائے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ← أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10340

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10341

10341 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا دعلج بن أحمد نا إسماعيل بن إسحاق السراج نا يحيى بن يحيى نا المحاربي عن إسماعيل بن مسلم و أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي نا جدي يعني أبو عمرو بن نجيد نا محمد بن إسحاق الثقفي نا أبو المسهر نا أبو معاوية عن إسماعيل عن الحسن عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن العبد إذا كانت الدنيا همته أفشى الله عليه ضيعته و جعل فقره بين عينيه فلا يصبح إلا فقيرا و لا يمسي إلا فقيرا و من كانت الآخرة همته كف الله عليه في قلبه و لا يصبح إلا غنيا و لا يمسي إلا غنيا لفظ حديث السلمي

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی دعلج بن احمد نے ان کو اسماعیل بن اسحاق سراج نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو محاربی نے ان کو اسماعیل بن مسلم نے اور ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمٰن سلمی نے ان کو ان کے دادا یعنی ابو عمرو بن نجید نے ان کومحمد بن اسحٰق ثقفی نے ان کو ابو مسہر نے ان کو ابو معاویہ نے اسماعیل سے اس نے حسن سے اس نے انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک جس وقت بندے کا مطمع نظر دنیا ہی رہ جائے اللہ اس پر اس کی ضروریات کو پھیلا کر عام کر دیتے ہیں اور اسکے فقر کو اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتے ہیں لہٰذاوہ صبح کو بھی فقیر ہوتا ہے اور شام کو بھی فقیر ہی ہوتا ہے۔ اور جس شخص کی فکر فکر آخرت ہو اللہ تعالیٰ اس پر اس کی دل میں رکاوٹ ڈال دیتے ہیں لہذاوہ صبح کرتا ہے تو غنی ہوتا ہے اور شام کرتا ہے تو غنی ہوتا ہے۔ یہ الفاظ سلمی کی روایت کے نہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أبو المسهر ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ← جدي يعني أبو عمرو بن نجيد ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← إسماعيل بن مسلم و ← الْمُحَارِبِيُّ2 ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّرَّاجُ ← دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10341

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10342

10342 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا عباس الدوري ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد الدوري نا أحمد بن يونس نا أبو بكر بن عياش نا أبو حصين عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس الغنى عن كثرة المال و العرض و لكن الغنى غنى النفس و في رواية ابن الأعرابي إنما الغنى غنى النفس رواه البخاري في الصحيح عن أحمد بن يونس و أخرجه مسلم من حديث الأعرج عن أبي هريرة

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو عباس دوری نے ’’ح“ اور ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن نمد دوری نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو ابو بکر بن عباس نے ان کو ابو حصین نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غنی کثرت مال اور عزت سے نہیں ہوتا بلکہ غنی دراصل دل کا غنی ہوتا ہے۔ اور ابن اعرابی کی ایک روایت میں ہے یقینی بات ہے کہ اصل غنی ہونا دل کا غنی ہوتا ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔ صحیح میں احمد بن یونس سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے اعرج سے اس نے ابو ہریرہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبُو حُصَيْنٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10342

chevron_left Previous
1…8910…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood