شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10331
10331 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني عبد الله بن سعد الحافظ نا إبراهيم بن أبي طالب نا أبو كريب نا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن عبد الله بن سخبرة عن علي قال : ما أصبح بالكوفة أحد إلا ناعم إن أدناهم منزلة يشرب من ماء الفرات و يجلس في الظل و يأكل من البر و إنما أنزلت هذه الآية في أهل الصفة { و لو بسط الله الرزق لعباده لبغوا في الأرض و لكن ينزل بقدر ما يشاء } و ذلك لأنهم قالوا إن لنا فتمنوا الدنيا
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی عبد اللہ بن حافظ نے ان کو ابراہیم بن ابو طالب نے ان کو ابوکریب نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے مجاہد سے اس نے عبداللہ بن سخبرہ سے اس نے علی سے انہوں نے کہا کہ کوفے میں کوئی باقی ایسے نہیں رہا تھا ہر شخص خوش حال اور تروتازہ تھا بے شک کم تر درجے کی آدمی کو بھی یہ سہولت حاصل تھی کہ وہ اس کو پینے کے لئے میٹھا پانی میسر تھا اور سایہ حاصل رہنے کے لئے میسر تھا اور کم درجہ کا انسان بھی گندم کی روٹی کھاتا تھا۔ یقینی بات ہے کہ یہ آیت اہل صفہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی: ولوبسط الله الرزق لعباده لبغوا فى الارض ولكن الله ينزل وبقدر ما يشاء. اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے رزق فراخ کر دیتا تو زمین پر بغاوت کرتے لیکن اللہ تعالیٰ جس قدر چاہتا ہے اتارتا ہے۔یہ اس لئے ہیں کہ انہوں نے یہ کہا تھا کاش کہ ہمارے ایسے ایسے ہوتا یعنی انہوں نے دنیا کی تمنیٰ کرلی تھی۔
عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10331
