شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10319
10319 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أبو القاسم الطبراني نا معاذ بن المثنى و يوسف القاضي نا ابن كثير نا سفيان عن أبي حازم عن سهل بن سعد قال : كانوا يصلون مع النبي صلى الله عليه و سلم و هم عاقدون أزرهم من الصغر على رقابهم فقيل للنساء لا ترفعن رؤوسكن حتى يستوي الرجال جلوسا رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن كثير و أخرجه مسلم من وجه آخر عن سفيان
ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو القاسم طبرانی نے ان کو معاذ بن مثنی ٰنے اور یوسف بن قاضی نے نے ان کو ابن کثیر ان کو سفیان نے ان کو ابو حازم نے ان کو سہل بن سعد نے وہ کہتے ہیں مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے حالانکہ وہ تہہ بند چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کی گردنوں میں بندھے ہوتے تھے لہٰذا عورتوں سے کہا گیا تھا کہ تم اپنے سروں کو نہ اٹھایا کرو یہاں تک کہ مرد سیدھے ہو کر بیٹھ جائیں ۔ بخاری نے ان کو روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن کثیر سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے دوسرے طریق سے سفیان سے۔
سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ کَثِيرٍ ← معاذ بن المثنى و يوسف القاضي ← أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10319
