Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10319

10319 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أبو القاسم الطبراني نا معاذ بن المثنى و يوسف القاضي نا ابن كثير نا سفيان عن أبي حازم عن سهل بن سعد قال : كانوا يصلون مع النبي صلى الله عليه و سلم و هم عاقدون أزرهم من الصغر على رقابهم فقيل للنساء لا ترفعن رؤوسكن حتى يستوي الرجال جلوسا رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن كثير و أخرجه مسلم من وجه آخر عن سفيان

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو القاسم طبرانی نے ان کو معاذ بن مثنی ٰنے اور یوسف بن قاضی نے نے ان کو ابن کثیر ان کو سفیان نے ان کو ابو حازم نے ان کو سہل بن سعد نے وہ کہتے ہیں مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے حالانکہ وہ تہہ بند چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کی گردنوں میں بندھے ہوتے تھے لہٰذا عورتوں سے کہا گیا تھا کہ تم اپنے سروں کو نہ اٹھایا کرو یہاں تک کہ مرد سیدھے ہو کر بیٹھ جائیں ۔ بخاری نے ان کو روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن کثیر سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے دوسرے طریق سے سفیان سے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ کَثِيرٍ ← معاذ بن المثنى و يوسف القاضي ← أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10319

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10320

10320 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتاب العبدي ببغداد نا جعفر بن محمد بن شاكر نا محمد بن سابق نا مالك بن مغول عن فضيل بن غزوان عن أبي حازم عن أبي هريرة قال : لقد كان أصحاب الصفة سبعين رجلا ما لهم أردية أخرجه البخاري

ہمیں حدیث بیان کی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن عبد اللہ بن عتاب عبدی نے بغداد میں ان کو جعفر بن محمد بن شاکر نے ان کو محمد بن سابق نےان کو مالک بن مغول نے ان کو فضیل بن غزوان نے ان کو ابو حازم نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں البتہ تحقیق اصحاب صفہ ستر آدمی تھے جن کے اوپر اوڑھنے کی چادریں تک نہیں ہوتی تھیں۔

لقد كان أصحاب الصفة سبعين رجلا ما لهم أردية أخرجه البخاري ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ بِبَغْدَادَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10320

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10321

10321 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي نا أبو العباس الميكالي نا عبدان الجواليقي نا هشام بن عمار نا صدقة بن خالد نا زيد بن واقد حدثني بشر بن عبد الله عن واثلة بن الأسقع قال : كنت من أصحاب الصفة و ما منا إنسان عليه ثوب تام و قد اتخذ العرق في جلودنا طرقا من الغبار و الوسخ

ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمٰن سلمی نے ان کو ابو العباس میکالی نے ان کو عبدان جوالیقی نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو صدقہ بن خالد نے ان کو زید بن واقد نے ان کو حدیث بیان کی بشر بن عبداللہ نے واثلہ بن اسقع سے وہ کہتے ہیں کہ میں اصحاب صفہ میں سے تھا۔ ہم لوگوں میں سے کوئی ایک انسان بھی ایسا نہیں تھا جس کے اوپر مکمل کپڑا موجود ہو گردو غبار اور میل سے ہماری کھا لوں کے اوپر پسینے کی وجہ سے تہہ جمی ہوئی تھی۔

وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← بشر بن عبد الله، ← زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← عبدان الجواليقي ← أبو العباس الميكالي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10321

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10322

10322 - أخبرنا محمد بن الحسين السلمي أنا أبو بكر محمد بن المؤمل نا الفضل بن محمد الشعراني نا النفيلي نا الوليد بن عبد الله الحمصي عن أبي خيثمة سليمان بن حيان نا واثلة بن الأسقع قال : كنت من فقراء المصلين من أهل الصفة فأتانا النبي صلى الله عليه و سلم ذات يوم فقال : كيف أنتم بعدي إذا شبعتم من خبز البر و الزيت و أكلتم ألوان الطعام و لبستم أنواع الثياب فأنتم اليوم خير أم ذاك ؟ قلنا أو ذاك قال بل أنتم اليوم خير قال واثلة : فما ذهبت بنا الأيام حتى شبعنا من خبز البر و الزيت و أكلنا ألوان الطعام و لبسنا ألوان الثياب و ركبنا المراكب

ہمیں خبر دی محمد بن حسین سلمی نے ان کو ابو بکر محمد بن مومل نے ان کو فضل بن محمد شعرانی نے ان کو نفیلی نے ان کو ولید بن عبد اللہ حمصی نے ان کو خیثمہ سلیمان بن حیان نے ان کو واثلہ بن اسقع نے وہ کہتے ہیں کہ میں فقراء نمازیوں میں سے اہل صفہ میں سے تھا ۔ ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کیا حال ہو گا میرے بعد تمہارا جب تم لوگ گندم کی روٹی گھی (تیل) کے ساتھ پیٹ بھر کر کھاؤ گےاور تم قسم قسم کے کھانے کھاؤ گے ۔اور قسم قسم کے کپڑے زیب تن کرو گے۔ تم لوگ آج کے دن بہتر ہو یا اس وقت بہتر ہوگے ؟ ہم نے کہا کہ اس وقت بہتر ہوں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ تم لوگ آج بہتر ہو ۔ حضرت واثلہ کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر بہت زیادہ ایام نہیں گزرے تھے کہ ہم پیٹ بھر کر گندم کی روٹی گھی کے ساتھ بھی کھانے لگے اور رنگ رنگ کے کھانے بھی کھائے اور قسم قسم کے کپڑے بھی پہنے اور ہم سواریوں پر بھی سوار ہونے لگے۔

وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← أَبِي خَيْثَمَةَ سُلَيْمَانَ بْنِ حَيَّانَ ← الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحِمْصِيُّ، ← النُّفَيْلِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أبو بَكْر محمد بن المؤمل ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10322

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10323

10323 - أخبرنا أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي نا أبو جعفر محمد بن البغداي أنا علي بن عبد العزيز نا أبو نعيم نا عمر بن ذر نا مجاهد : أن أبا هريرة كان يقول و الله الذي لا إله إلا هو إن كنت لأعتمد بكبدي على الأرض من الجوع و إن كنت لأشد الحجر على بطني من الجوع فذكر الحديث إلى أن قال : و أهل الصفة أضياف الإسلام لا يأوون إلى أهل و لا مال إذ أتته صدقة بعث بها إليهم و لا يتناول منها شيئا و إذا أتته هدية أرسل إليهم فأصاب منها و أشركهم فيها

ہمیں خبر دی ابوعبدالله اسحاق بن محمد بن یوسف سوسی نے ان کو ابو جعفر محمد بن بغداد نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابونعیم نے ان کو عمر بن ذر نے ان کو مجاہد نے یہ کہ حضرت ابو ہریر ہ فرماتے تھے قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی الہ ٰنہیں ہے (معبود مشکل کشا حاجت روا ) بے شک میں اپنے کلیجے کو ( پیٹ کو ) بھوک کی وجہ سے زمین کے ساتھ لگالیتا تھا یعنی پیٹ کے بل زمین پر پڑا رہتا تھا اور میں بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا۔ انہوں نے آگے حدیث کو ذکر کیا۔ یہاں تک کہ فرمایا کہ اصحاب صفہ اسلام کے مہمان تھے نہ گھر کی طرف ٹھکانہ پکڑتے تھے نہ مال کے ساتھ (یعنی ان کا نہ گھر در تھانہ مال متاع تھا۔) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب صدقہ آ جاتا تو آپ ان کے پاس بھیج دیتے تھے آپ اس میں خود کچھ بھی نہیں لیتے تھے نہیں کھاتے تھے اور جب آپ کے پاس ہدیہ آ جاتا تو ان کے پاس بھی بھیجتے اور خود بھی اس میں سے لیتے تھے اور ان کو بھی اس میں شریک کرتے تھے۔

مُجَاهِدٍ ← عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو جعفر محمد بن البغداي ← أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10323

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10324

10324 - و ذكر الحديث قد نقلناه بتمامه في كتاب دلائل النبوة : رواه البخاري في الصحيح عن أبي نعيم

اور حدیث کو ذکر فرمایا ہم نے اس کو مکمل طور پر کتاب دلائل النبوہ میں نقل کیا ہے بخاری نے اس کو صحیح میں ابو نعیم سے روایت کیا ہے۔

أَبِي نُعَيْمٍ، ← الحديث قد نقلناه بتمامه في كتاب دلائل النبوة رواه البخاري في الصحيح ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10324

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10325

10325 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن عبد الله بن محمد بن قريش أنا الحسن بن سفيان نا وهب بن بقية نا خالد بن عبد الله عن داود بن أبي هند عن أبي حرب بن أبي الأسود عن طلحة يعني النضري قال : كان الرجل إذا قدم المدينة و كان له بها عريف نزل على عريفه فإن لم يكن بها عريف نزل الصفة قال : فكنت فيمن نزل الصفة فرافقت رجلا و كان يجري علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم كل يوم مد هن من تمر بين رجلين فسلم ذات يوم من الصلاة فناداه رجل منا فقال يا رسول الله قد أحرق التمر بطوننا و تخرقت عنا الحيف و الحيف ثياب برود تشبه اليمانية قال : فمال رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى منبره فصعده فحمد الله و أثنى عليه ثم ذكر ما لقي من قومه قال : حتى مكثت أنا و صاحبي بضعة عشر يوما ما لنا إلا طعام البرير و البرير تمر الأراك فقدمنا على إخواننا من الأنصار و عظم طعامهم التمر فواسونا فيه فوالله لو أجد لكم الخبز و اللحم لأطعمتكم و لكن لعلكم تدركون زمانا أو من أدركه منكم تلبسون مثل أستار الكعبة يغدي و يراح عليكم بالجفان زاد فيه غيره قال : فقالوا يا رسول الله أنحن اليوم خير أم ذاك اليوم ؟ قال : بل أنتم اليوم متحابون و أنتم يومئذ متباغضون يضرب بعضكم رقاب بعض

ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمٰن سلمی نے ان کو محمد بن عبداللہ بن محمد بن قریش نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو وھب بن بقیہ نے ان کو خالد بن عبد اللہ نے ان کو داؤد بن ابو ھند نے ان کو ابو حرب بن ابو الاسود نے ان کو طلحہ نے یعنی نضری نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی تھا وہ جب مدینے میں آتا تھا تو اس کا اگر کوئی جاننے والا موجود ہو تا تو اس کے پاس چلا جاتا تھا اگر نہ ہوتا وہ اصحاب صفہ کے پاس آجا تا تو یہ کہتے ہیں کہ میں خود بھی اصحاب صفہ کے پاس اترا ہوا تھا میں نے ایک آدمی کے پاس دوستی کر رکھی تھی وہ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہمارے اوپر ایک‘ جاری کرتے تھے‘دوآدمیوں کے درمیان یہ کھجوریں ہوتی تھیں ۔ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز کا سلام پھیرا تو ہم میں سے ایک آدمی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی یا رسول اللہ ! کھجوروں نے ہمارے پیٹوں کو گرمی سے جلا کے رکھ دیا ہے اور ہم سے حیف پھٹ گئے ہیں ۔ حیف کپڑے کی چادریں ہوتی تھیں جو یمنی چادروں کے مشابہ ہوتی تھیں۔ کہتے ہیں یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منبر کی طرف مائل ہوئے اور اس پر تشریف فرما ہوئے۔ اور آپ نے اللہ کی حمد وثنا کی۔ پھر آپ نے اپنی قوم کی تکلیف کا ذکر کیا۔ کہتے ہیں کہ حتی کہ میں اور میرا دوسرا ساتھی دس دن سے زیادہ اس طرح رہے کہ ہمارے پاس کھانے کے لئے بریر کے سوا کچھ نہ تھا۔ اور بریر پیلو کے درخت کا پھل ہوتا تھا ( یعنی پیلو ) لہذا نام لوگ اپنے انصاری بھائیوں کے پاس پہنچے ان لوگوں کے پاس بھی کھانے لئے سب سے بڑی چیز کھجوریں تھیں۔ ان لوگوں نے ہمیں اس میں از راہ ہمدردی شریک کر لیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم اگر میرے پاس تمہارے لئے روٹی اور گوشت ہوتا تو میں تمہیں ضرور کھلاتا۔ لیکن تم لوگ شاید ایسا زمانہ پا لو گے۔ جو شخص تم میں سے اس وقت کو پالے گا اس وقت تم لوگ کعبے کے خلاف کے مثل لباس پہنو گے۔ اور صبح و شام تمہارے پاس کھانے کے تھال اور لگن آیا کریں گے۔ اس کے سوا دیگر راویوں نے اس میں یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہم لوگ آج بہتر ہیں یا اس وقت بہتر ہوں گے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ آج تم لوگ آپس میں محبت کرتے ہو اور تم اس وقت ایک دوسرے سے بغض رکھو گے ۔ بعض تمہار ا بعض کی گردنیں مارے گا۔

طلحة يعني النضري ← أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← محمد بن عبد الله بن محمد بن قريش ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10325

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10326

10326 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو سهل بن زياد القطان نا يحيى بن أبي طالب نا علي بن عاصم عن داود بن أبي هند : فذكر هذه الزيادة و ذكر الحديث بمعناه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو سہل بن زیاد قطان نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو علی بن عاصم نے ان کو داؤد بن ابو ہند نے اس نے اس اضافے کو بھی ذکر کیا ہے اور اسی مفہوم کے ساتھ حدیث ذکر کی ہے۔

الحديث بمعناه ← داود بن أبي هند فذكر هذه الزيادة و ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10326

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10327

10327 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد الدوري نا روح بن عبادة ح و أخبرنا أبو بكر بن عبد الله قال : أنا الحسن بن سفيان نا شيبان بن فروخ قالا نا سليمان بن المغيرة نا حميد بن هلال عن خالد بن عمير العدوي قال : خطبنا عتبة بن غزوان فحمد الله و أثنى عليه ثم قال : أما بعد فإن الدنيا قد آذنت بصرم و ولت حذاء و لم يبق منها إلا صبابة كصبابة الإناء يتصابها صاحبها و إنكم منقلبون منها إلى دار لا زوال لها فانتقلوا بخير ما حضرتكم فإنه قد ذكر لنا أن الحجر يلقى من شفير جهنم فيهوى فيها سبعين عاما لا يدرك لها قعرا و والله لتملأن الجحيم فعجبتم و لقد ذكر لنا أن ما بين مصراعين من مصاريع الجنة مسيرة أربعين سنة و ليأتين عليه يوم و هو كظيظ من الزحام و لقد رأيتني سابع سبعة مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ما لنا طعام إلا ورق الشجر حتى فرغت أشداقنا فالتقطت بردة فشققتها بيني و بين سعد بن مالك فاتزرت ببعضها و اتزر سعد ببعضها فما أصبح اليوم منا أحدا إلا أصبح أميرا على مصر من الأمصار و إني أعوذ بالله أن أكون في نفسي عظيما و عند الله صغيرا و إنها لم تكن نبوة قط إلا تناسخت حتى يكون آخر عاقبتها ملكا و ستجربون الأمراء بعدي رواه مسلم في الصحيح عن شيبان بن فروخ

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو روح بن عبادہ نے’’ح‘‘نے۔ اور ہمیں خبر دی ابو بکر بن عبد اللہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی حسن بن سفیان نے ان کو شیبان بن فرح نے دونوں نے کہا۔ ان کو خبر دی سلیمان بن مغیرہ نے ان کو حمید بن ہلال نے ان کو خالد بن عمیر عدوی نے وہ کہتے ہیں عقبہ بن غزوان نے ہم لوگوں کو خطبہ دیا اور اس نے اللہ کی حمدوثنا کی۔ پھر فرمایا اما بعد بے شک دنیا اپنے ختم ہو جانے کا اعلان کر چکی ہے۔ اور پیچھے لوٹ کر برابر آچکی ہے ‘نہیں باقی رہ گیا اس میں سے مگر جیسے انڈیلا ہوا پانی جسے دھو کر برتن میں سے کوئی شخص بچا ہوا پانی گرا دیتا ہے۔ بے شک تم لوگ اس دنیا سے ایسے دار کی طرف لوٹنے والے ہو جس کو زوال نہیں ہے لہذا جب تمہیں موت آئے تو خیر کے ساتھ دنیاسے منتقل ہو جاؤ ۔بے شک انہوں نے ہمارے لئے یہ بات بھی ذکر کی تھی کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر اس میں گرایا جائے گا وہ ستر سال تک اس میں نیچے گرتا جائے گا اور جہنم کی گہرائی معلوم نہیں کر سکیں گے ۔ اللہ کی قسم تم لوگ جہنم کو ضرور بھرو گے پھر تم حیران ہو گے۔ اور اس نے ہمارے لئے یہ بات بھی ذکر کی تھی کہ جنت کے دو کواڑوں کے درمیان کا فاصلہ اور اس کی مسافت چالیس سال کی ہوگی۔ اور اس پر ایک ایسا دن ضرور آئے گا کہ و ہ ہجوم کی وجہ سے اور انبوہ کی وجہ سے تنگ ہو چکا ہوگا۔ البتہ تحقیق میں دیکھتا تھا اپنے آپ کو سات میں سے ساتواں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جن کے پاس کھانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہوتا مگر درختوں کے پتے یہاں تک کہ ہماری باچھیں خشک ہو گئی تھیں۔ چنانچہ میں نے ایک چادر نیچے سے اٹھائی اور اس کو بیچ سے پھاڑ کر دو حصے کر کے ایک حصہ میں نے لیا اور دوسرا حصہ سعد بن مالک کو دے دیا۔ میں نے ایک حصے کے ساتھ تہہ بندباندھا اور دوسرے کے ساتھ سعد نے تہہ بند باندھا۔ مگر آن تو یہ حال ہے کہ جب صبح ہوتی ہے تو ہم میں سے کوئی آدمی نہیں رہتا مگر کسی نہ کسی شہر کا امیر اور حکمران بن چکا ہوتا ہے۔ اور میں بے شک اللہ کی پنا لیتا ہوں اس بات سے کہ میں اپنے دل میں عظیم بن جاؤں اور اللہ کے نزدیک چھوٹا ہو جاؤں۔ بے شک حالت یہ رہی ہے کہ نہیں گذری کوئی نبوت ہر گز مگر تبدیل ہوگئی حتی کہ آخری انجام اس کا بادشاہت ہی بنی میرے بعد تم لوگ امیروں اور حکمرانوں کو آزماؤ گے۔مسلم نے اس کو روایت کیا صحیح میں شیبان بن فروخ سے۔

خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَدَوِيِّ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← و، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10327

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10328

10328 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا حسين بن حسن بن مهاجر نا عمرو بن سواد العامري نا عبد الله بن وهب أنا عمرو بن الحارث أن بكر بن سواده حدثه أن يزيد بن رباح و هو أبو فراس مولى عبد الله بن عمرو بن العاص حدثه عن عبد الله بن عمرو بن العاص : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : إذا فتحت عليكم فارس و الروم أي قوم أنتم ؟ قال عبد الرحمن نقول كما أمرنا الله عز و جل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أو غير ذلك تتنافسون ثم تتحاسدون ثم تتدابرون ثم تتباغضون أو نحو ذلك ثم تنطلقون في مساكن المهاجرين فتجعلون بعضهم على رقاب بعض رواه مسلم في الصحيح عن عمرو بن سواد

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ محمد بن یعقوب نے ان کو حسین بن حسن بن مہاجر نے ان کو عمر و بن سواد عامری نے ان کو عبد اللہ بن وہب نے ان کو عمرو بن حارث نے کہ بکر بن سوادہ نے اس کو حدیث بیان کی ہے کہ یزید بن رباح ابو فراس مولی عبد اللہ بن عمرو بن عاص نے اس کو حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ انہوں نے فرمایا جب تمہارے لئے روم اور فارس فتح ہو جائیں گے تو تم کون سی قوم ہو گے؟ عبد الرحمٰن نے کہا۔ ہم ایسے کہیں گے جیسے اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے۔ لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ تم اس سے مختلف ہو گے تم لوگ ایک دوسرے سے رغبت کرو گے ۔ پھر تم ایک دوسرے کے ساتھ سفر کرو گے پھر تم ایک دوسرے سے نفرت کرو گے۔ پھر باہم بغض رکھوگے۔ یا اس کی مثل فرمایا تھا پھر تم لوگ مہاجرین کے ٹھکانوں میں چلے جاؤ گے۔ پھر تم لوگ بعض کو بعض کی گردنوں پر سوار کرو گے ۔ مسلم نے اس کو عمر و بن سواد سے روایت کیا ہے۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ← حسين بن حسن بن مهاجر ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10328

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10329

10329 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان نا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني هارون بن إبراهيم الإمام نا زيد بن الحباب أخبرني موسى بن عبيدة أخبرني عبد الله بن عبيدة عن عروة بن الزبير : أن مصعب بن عمير أقبل و عليه نمرة ما تكاد تواريه و النبي صلى الله عليه و سلم جالس و معه نفر من أصحابه فلما رأوه نكسوا ليس عندهم ما يعطونه يتوارى به قال : فأثنى عليه النبي صلى الله عليه و سلم خيرا قال : فسلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لقد رأيته عند أبويه و ما فتى من فتيان قريش عند أبويه مثله يكرمانه و ينعمانه فخرج من ذلك ابتغاء مرضاة الله و نصرة رسوله صلى الله عليه و سلم أما إنكم لو تعلمون من الدنيا ما أعلم لاستراحت أنفسكم منها أما إنه لا يأتي عليكم إلا كذا حتى تفتحوا فارس و الروم فيغدوا أحدكم في حلة و يروح في حلة و يغدى عليكم بقصعة و يراح عليكم بأخرى

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ بن ابوالد نیا نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ہارون بن ابراہیم امام نے ان کو زید بن حباب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی موسیٰ بن عبیدہ نے ان کو خبر دی عبداللہ بن عبیدہ نے عروہ بن زبیر سے یہ کہ مصعب بن عمیر آئے اور ان پر جو چادر تھی وہ ان کا جسم چھپانے کے لئے ناکافی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے آپ کے ساتھ صحابہ کرام کی ایک جماعت بھی تھی سب نے اس کو جب دیکھا تو شرم سے ان کے سر جھک گئے ان کے پاس بھی اس قدر کپڑا فالتو نہیں تھا جس سے اس کا تن ڈکھنے کے لئے اس کو دے سکتے ۔ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعریف تحسین فرمائی کہتے ہیں کہ اس نے سلام کیا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ البتہ میں نے اس کو دیکھا ہے اپنے والدین کے پاس قریش کے نو جوانوں میں سے اس کے والدین کے نزدیک اس کی مثل کوئی جس کا وہ اکرام کریں۔ اور اس کو آرام دیں۔ چنانچہ وہ یہاں سے اللہ کی رضاء کی تلاش میں نکلے تھے اور رسول اللہ کی نصرت کے لئے نکلے تھے۔ خبردار اگر تم لوگ دنیا کو اس قدر جانو جقنا میں جانتا ہوں تو تمہارے دل اس سے اچاٹ ہو کر راحت محسوس کریں۔ خبر دار تمہارے اوپر ایک خاص وقت آئے گا کہ تم لوگ روم کو اور فارس کو فتح کر لو گے لہذا صبح کو تم ایک پوشاک پہنو گے تو شام کو دوسری پہنو گے اور صبح کو تمہارے پاس کھانے کا بھرا برتن الگ آئے گا اور شام کو الگ۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدَةَ، ← موسى بن عبيدة ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← هارون بن إبراهيم الإمام ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10329

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10330

10330 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران انا أبو جعفر الرزاز نا يحيى بن جعفر أنا زيد بن الحباب أنا موسى بن عبيدة عن عبد الله بن عبيدة عن عروة بن الزبير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو تعلمون من الدنيا ما اعلم لاستراحت أنفسكم منها

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو یحییٰ بن جعفر نے ان کو زید بن حباب نے ان کو موسی بن عبید ہ نے ان کو عبداللہ بن عبیدہ نے ان کو عروہ بن زبیر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ جانتے ہوتے دنیا کو جتنا کہ میں جانتا ہوں تو تمہارے دل اس سے اور اٹھ جاتے اور اچاٹ ہو جاتے۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدَةَ، ← موسى بن عبيدة ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10330

chevron_left Previous
1…789…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood