Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10307

10307 - أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن إبراهيم الطوسي الفقيه نا أبو الحسن محمد بن محمد الكارزي نا علي بن عبد العزيز نا حجاج نا شعبة بن الحجاج نا سعيد بن إبراهيم سمعت معبدا قال : كان معاوية قل ما يحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا قال : كن هؤلاء كلمات يحدث بهن في الجمع من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين دين الله و إن هذا المال حلو خضر فمن أخذه بحقه بورك له فيه و إياكم و التمادح فإنه الذبح

ہمیں خبر دی ابواسحٰق ابراہیم بن محمد طوسی فقیہ نے ان کو ابو الحسن محمد بن محمد کا رزی نے ان کوعلی بن عبد العزیز نے ان کوحجاج نے ان کو شعبہ بن حجاج نے ان کو سعید بن ابراہیم نے کہتے ہیں کہ میں نے سنا معید سے وہ کہتے ہیں حضرت معاویہ بہت کم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے تھے۔ ہاں مگر یہ کلمات تھے جنہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے تھے۔ ان الفاظ کے ساتھہ مجمع میں ۔ ( کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين وان هذا المال حلو خضر فمن اخذه بحقه بورك له فيها واياكم و التمادح فانه الذبح.جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں اس کو دین کی فہم عطا کرتے ہیں اور بے شک یہ مال دنیا شیرین ہے ہرا بھرا اور خوشنما ہے۔ جو شخص اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا اس کے لئے اس میں برکت دی جائے گی اور بچنا تم لوگ ایک دوسرے کی تعریف و خوشامدسے بے شک یہ ذبح اور ہلاکت ہے۔

كن هؤلاء كلمات ← رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا ← كان معاوية قل ما ← معبدا ← سعيد بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ← شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← حجاج، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَارِزِيُّ، ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن إبراهيم الطوسي الفقيه

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10307

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10308

10308 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا أبو داود نا عثمان بن أبي شيبة و أبو قدامة قالا نا جرير بن عبد الحميد عن منيرة عن رجل من بني عامر قال : حدثني مصعب بن سعد عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أنا من فتنة السراء أخوف عليكم من فتنة الضراء إنكم قد ابتليتم في فتنة الضراء فصبرتم و إن الدنيا خضرة حلوة

ہمیں خبر دی ابو محمد عبد اللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرانی نے ان کو ابوداؤد نے ان کوعثمان بن ابو شیبہ نے ان کو ابو قدامہ نے دونوں نے کہا کہ ان کو جریر بن عبد الحمید نے ان کو منبرہ نے ایک آدمی سے بنو عامر میں سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے مصعب بن سعد نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تم لوگوں پر تنگدستی کے فتنے سے زیاد ہ خوشحالی کے فتنے سے خوف زدہ ہوں اور فکر مند ہوں۔ اور بے شک تم لوگ تنگ دستی کے فتنے اور آزمائش میں بھی مبتلا کئے جاؤ۔ پس تم صبر کرنا اور بے شک یہ دنیا میٹھی ہے اور سرسبز و خوشنما ہے۔

أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ← منيرة ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عثمان بن أبي شيبة و أبو قدامة ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10308

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10309

10309 - أخبرنا أبو علي الروذباري و أبو عبد الله الحافظ قالا أنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أويب الطوسي أنا أبو حاتم الرازي نا صالح ح و أخبرنا أبو ذر محمد بن عبد الرحمن بن أبي الحسين بن أبي القاسم المذكر نا أبو بكر محمد بن المؤمل بن الحسن بن عيسى نا الفضل بن محمد الشعراني نا عبد الله بن صالح حدثني معاوية بن صالح أن عبد الرحمن بن جبير بن نفير حدثه عن أبيه عن كعب بن عياض قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول إن لكل أمة فتنة و إن فتنة أمتي المال لفظ حديثهما سواء و رواه أيضا الليث بن سعد و غيره عن معاوية بن صالح

ہمیں خبر دی ابو علی روز باری نے اور ابو عبد اللہ حافظ نے وہ دونوں کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ابوعبداللہ حسین بب حسن بن ایوب طوسی نے ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو ابو صالح نے۔

مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بن الحَسَن بن عيسى ← أبو ذر محمد بن عبد الرحمن بن أبي الحسين بن أبي القاسم الم ← و، ← صَالِحٍ، ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أويب الطوسي ← أبو علي الروذباري و أبو عبد الله الحافظ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10309

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10310

10310 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا علي بن الحسن بن شقيق ح و أخبرنا أبو القاسم عبد الخالق بن علي بن عبد الخالق النيسابوري أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن خنث نا يحيى بن أبي طالب أنا زيد بن الحباب أنا الحسين بن واقد نا عبد الله بن بريدة عن أبيه : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن أحساب أهل الدنيا هذا المال و في رواية ابن شقيق قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أحساب أهل الدنيا هذا المال

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو علی بن حسن بن شقیق نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم عبد الخالق بن علی بن عبد الخالق نیشاپوری نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن خنث نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو زید بن حباب نے ان کو حسین بن واقد نے ان کو عبد اللہ بن بریدہ نے اپنے والد سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا : بے شک اہل دنیا کا حساب یہی مال ہے اور ابن شقیق کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل دنیا کے نزدیک شرافت یہی حال ہے۔

إن أحساب أهل الدنيا هذا المال و في رواية ابن شقيق ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبو بكر محمد بن أحمد بن خنث ← أبو القاسم عبد الخالق بن علي بن عبد الخالق النيسابوري ← و، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10310

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10311

10311 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا عم بن إسماعيل الصائغ قال : نا أبو عثمان نا مسعود بن سعد عن يزيد بن أبي زياد عن مجاهد عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أشد ما أتخوف على أمتي ثلاثا زلة عالم و جدال منافق بالقرآن و دنيا تقطع أعناقكم فاتهموها على أنفسكم و كذلك رواه جعفر بن محمد بن شاكر و أحمد بن زهير بن حرب عن أبي غسان و روي عن محمد بن رزق الله عن أبي غسان مالك بن إسماعيل فقال عن عبد الله بن عمرو

ہمیں خبر دی ابومحمد عبد اللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو عمر بن اسماعیل صائغ نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ابو عثمان نے ان کو مسعود بن سعد نے ان کو یزید بن ابو ذیاد نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک شدید ترین اس کا جو میں ڈرتا ہوں اپنی امت پر۔ تین بار فرمایا : وہ ہے عالم کا پھسلنا اور غلطی کرنا۔ اور منافق کا قرآن کے ساتھ جھگڑ او جدالی کرنا۔ اور دنیا جو تمہاری گردنوں کو توڑ دے گی۔ پس تم اپنے نفسوں پر تہمت دھرو گے۔اسی طرح روایت کیا ہے اس کو جعفر بن محمد بن شا کرنے اور احمد بن زبیر بن حرب نے ابو غسان سے اور روایت کی گئی ہے۔ محمد بن رزق اللہ تے اس نے ابو غسان مالک بن اسماعیل سے پس کہا کہ عبداللہ بن عمرو سے۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← مَسْعُودُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبُو عُثْمَانَ ← عم بن إسماعيل الصائغ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10311

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10312

10312 - حدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان رحمه الله أنا أبو بكر محمد بن علي بن إسماعيل الشاشي نا يحيى بن محمد الشامي نا محمد بن رزق الله نا مالك بن إسماعيل : فذكره بإسناده و قال عن عبد الله بن عمرو قال : إن أشد ما أخاف على أمتي و الباقي سواء و الأول أصح و الله أعلم

ہمیں حدیث بیان کی امام ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن علی بن اسماعیل شاشی نے ان کویحییٰ بن محمد شامی نے ان کو محمد بن رزق اللہ نے ان کو مالک بن اسماعیل نے اس نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے اس کی اسناد کے ساتھ۔ اور کہا ہے کہ مروی ہے عبداللہ بن عمرو سے وہ کہتے ہیں کہ بے شک وہ چیز یں جس چیز کا اپنی امت پر شدید ترین خوف محسوس کرتا ہوں……. اس کے بعد باقی الفاظ برابر ہیں اور پہلی زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مالك بن إسماعيل فذكره بإسناده و ← مُحَمَّدُ بْنُ رِزْقِ اللَّهِ، ← يحيى بن محمد الشامي ← أبو بكر محمد بن علي بن إسماعيل الشاشي ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10312

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10313

10313 - و قد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم العدل نا أبي نا محمد بن هانىء السلمي يعني النيسابوري نا هشيم عن يزيد بن أبي زياد عن مجاهد عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أخوف ما أخاف على أمتي ثلاثا فذكره بمثله

اور تحقیق ہمیں خبر دی ہے ابو عبد حافظ نے ان کو ابراہیم بن عصمہ بن ابراہیم عدل نے ان کو ابو محمد بن‘ مانی سلمی نے یعنی نیسا پوری نے ان کو خبر دی ہثیم نے یزید بن ابوزیاد سے اس نے مجاہد سے اس نے ابن عمر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک سب سے زیادہ خوفناک چیز جس کا میں اپنی امت پر خوف کھاتا ہوں۔ تین بار فرمایا۔ پھر اس کوذ کر کیا اس نے اسی کی مثل ۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← هُشَيْمٌ ← محمد بن هانىء السلمي يعني النيسابوري ← أَبِي ← إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم العدل، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و قد

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10313

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10314

10314 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن سنان القزاز نا محمد بن بكر البرساني نا جعفر بن برقان قال : سمعت يزيد بن الأصم يحدث عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أخشى عليكم الفقر و لكن أخشى عليكم التكاثر و ما أخشى عليكم الخطأ و لكن أخشى عليكم التعمد

ہمیں حدیث بیان کی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن سنان قزاز نے ان کو محمد بن بکر برسانی نے ان کو جعفر بن برقان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا یزید بن اصم سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے اوپر فقر ومحتاجی کا خوف نہیں رکھتا ہوں بلکہ میں تمہارے بارے میں کثرت مال کی طلب اور اس طلب میں ایک دوسرے پرسبقت لے جانے کے تگ دو سے ڈرتا ہوں ۔ میں تمہارے بارے میں غلطی اور گناہ سے نہیں ڈرتا ہوں بلکہ تمہارے اوپر ڈرتا ہوں تعمد سے اور قصد اًٍ غلط کام کرنے سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ← محمد بن سنان القزاز ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10314

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10315

10315 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا محمد بن كثير أنا سفيان نا يزيد بن أبي زياد نا زيد بن وهب الجهني عن أبي ذر قال : جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله أكلتنا الضبع ـ يعني السنة ـ فقال غير الضبع أخوف عليكم دنيا تصب عليكم صبا فيا ليت أمتي لا يلبسون الذهب و كذلك رواه شعبة عن يزيد

ہمیں خبر دی ابو الحسین علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سفیان نے ان کو یزید بن ابو زیاد نے ان کو زید بن وہب جھنی نے ان کو ابوذر نے وہ کہتے ہیں ایک دیہاتی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ہم لوگوں کو ڈائن کھا گئی ہے یعنی قحط سالی کھا گئی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تم لوگوں پر ڈائن کے علاوہ چیز کا زیادہ خطرہ ہے تمہارے اوپر وہ ہے دنیا جو تمہارے اوپر اونڈیل دی جائے گی اے کاش کہ میری امت کے لوگ سونا نہ پہنتے (یعنی نہ استعمال کرتے ) اسی طرح اس کو روایت کیا ہے شعبہ نے یزید سے۔ لگر بگڑ۔ بجو۔کفتار۔ ڈائن۔قحط سالی۔)

جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال ← اَبِیْ ذَرٍّ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ الْجُهَنِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10315

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10316

10316 - أخبرنا أبو بكر عبد الله بن محمد بن محمد بن سعيد بن مسعود السكري بنيسابور و أبو أحمد الحسين بن علوشا الأسدأبادي بها قالا نا أبو بكر أحمد بن جعفر بن حمدان بن مالك القطيعي نا أبو علي بشر بن موسى بن صالح الأسدي نا أبو عبد الرحمن بن عبد الله بن يزيد المقري نا حيوة بن شريح أخبرني أبو هاني أن أبا علي حدثه أنه سمع فضالة بن عبيد يقول : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا صلى بالناس يخبر رجال من قامتهم في الصلاة لما بهم من الخصاصة و هم أهل الصفة حتى تقول الأعراب إن هؤلاء مجانين فإذا قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم انصرف إليهم فيقول لو تعلمون ما لكم عند الله عز و جل لأحببتكم لو أنكم تزدادون حاجة و فاقة قال فضالة : و أنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يومئذ

ہمیں خبر دی ابو بکر عبداللہ بن محمد بن محمد بن سعید بن مسعود سکری نے نیسار پور میں اور ابو احمد حسین بن علوشا اسد آبادی نے وہاں پر۔ دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو بکر احمد بن جعفر بن حمدان بن مالک قطبیعی نے ان کو ابوعلی بشر بن موسیٰ بن صالح اسدی نے ان کو ابوعبد الرحمٰن عبد اللہ بن یزید مقری نے ان کو خیوۃ بن شریح نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ابو ہانی نے ان کو ابوعلی نے اس نے حدیث بیان کی کہ اس نے سنا تھا فضالہ بن عبید سے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔ لوگ آپ کو نماز میں کھڑے نہ ہو سکنے کی وجہ بیان کرتے یعنی جو ان کو بھوک لاحق ہوتی تھی وہ زیادہ تر اہل صفہ تھے۔ یہاں تک کہ دیہات کے لوگ ان کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ مجنون اور دیوانے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھا کر فارغ ہو جاتے تھے تو ان کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے ۔ اور فرماتے تھے کہ اگر تم لوگ جان لیتے جو کچھ تمہارے لئے اللہ کے ہاں انعامات ہیں تو تم یہ چاہتے کہ تمہارا فقر اور فاقہ اس سے بھی زیادہ ہو جائے۔ فضالہ نے کہا ہے کہ اس دن میں رسول اللہ کے ساتھ تھا۔

أَبُو هَانِئٍ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← أبو عبد الرحمن بن عبد الله بن يزيد المقري ← أبو علي بشر بن موسى بن صالح الأسدي ← أبو بكر أحمد بن جعفر بن حمدان بن مالك القطيعي

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10316

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10317

10317 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز نا محمد بن عبيد الله بن يزيد نا يونس بن محمد نا مبشر ابن مكسر قال نا أبو حازم عن سهل بن سعد قال : كان أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم : يشهدون الصلاة عاقدي أزرهم في أعناقهم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمر ورزاز نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن عبید اللہ بن یزید نے ان کو یونس بن محمد نے ان کو مبشر بن مکسر نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی حازم نے سہل بن سعد سے وہ کہتے ہیں کہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں حاضر ہوتے تھے اس حال میں کہ ان کی چادریں یعنی تہہ بند ان کی گردنوں میں بندھے ہوتے تھے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو حَازِمٍ ← مبشر ابن مكسر ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10317

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10318

10318 - قال و نا سهل بن سعد قال : أمر النساء على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم أن لا يرفعن رؤوسهن من السجود حتى يأخذ الرجال مقاعدهم من ضيق أزرهم

کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی سہل بن سعد نے وہ کہتے ہیں عہد رسول اللہ میں عورتوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ سجدوں سے اپنے سرنہ اٹھایا کریں اس وقت تک جب تک کہ مرد حضرات اپنے اپنے بیٹھنے کی جگہ پر نہ بیٹھ جایا کریں۔ یہ ان کی چادریں تنگ اور چھوٹی ہونے کی وجہ سے حکم ہوا تھا ۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10318

chevron_left Previous
1…678…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood