Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10295

10295 - حدثنا القاضي أبو عمر محمد بن الحسين نا أبو بكر أحمد بن محمود خرزاذ القاضي بالأهواز نا محمد بن جعفر بن حبيب نا أبو نعيم الفضل بن دكين نا سفيان عن الأعمش و حدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان رحمه الله قال أنا أبو سهل بشر بن أبي يحيى المهرجاني قال : نا عبد الله بن محمد بن باجيه نا مومل بن اهاب نا أبو داود نا شعبة عن الأعمش عن أبي وائل عن أبي موسى : عن النبي صلى الله عليه و سلم : قال : إن هذا الدينار و الدرهم أهلكا من كان قبلكم و لا أراهما إلا مهلكاكم و في رواية الثوري و هما مهلكاكم

ہمیں حدیث بیان کی قاضی ابو عمر محمد بن حسین نے ان کو ابو بکر احمد بن محمود خرزاذ قاضی اہواز نے ان کو محمد بن جعفر بن حبیب نے کو ابو نعیم فضل بن دکین نے ان کو سفیان نے اعمش سے۔ اور ہمیں حدیث بیان کی ہے امام ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان رحمہ اللہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو سہل بشر بن ابو یحییٰ مہرجانی نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عبداللہ بن محمد بن باجیہ نے ان کو موصل بن اباب نے ان کو خبر دی ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو اعمش نے ان کو ابو وائل نے ان کو ابو موسیٰ نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا بے شک ان دینار اور درہم نے ( روپے پیسے نے دولت نے ) تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا تھا میں نہیں سمجھتا کہ یہ تمہیں چھوڑ دیں تمہیں بھی بلاک کریں گے۔ اور ثوری کی روایت میں ہے کہ و ہ دونوں تمہیں ہلاک کرنے والے ہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ اِھَابٍ ← عبد الله بن محمد بن باجيه ← أبو سهل بشر بن أبي يحيى المهرجاني ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← الأَعْمَشِ، وَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَبِيبٍ ← أبو بكر أحمد بن محمود خرزاذ القاضي بالأهواز ← القاضي أبو عمر محمد بن الحسين

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10295

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10296

10296 - و أخبرنا أبو علي بن شاذان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا أبو عبد الرحمن مؤمل بن اهاب سمعته بحلب نا مالك بن سعير نا الأعمش عن أبي وائل عن أبي موسى قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن هذا الدينار و الدراهم أهلكا من كان قبلكم و لا أراهما إلا مهلكاكم

ہمیں خبر دی ابو علی بن شاذان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو عبدالرحمٰن موئل بن اھاب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کو سنا حلب میں۔ ان کو مالک بن سعیر نے ان کو اعمش نے ابو وائل سے اس نے ابو موسیٰ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک ان دینار اور درہم نے تم سے پہلوں کو بلاک کیا تھا میں نہیں سمجھتا مگر وہ دونوں تمہیں بھی بلاک کریں گے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، ← بحلب ← أبو عبد الرحمن مؤمل بن اهاب ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو علي بن شاذان ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10296

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10297

10297 - و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر أنا جعفر بن محمد بن الليث نا سليمان بن حرب و الوليد بن الحكم عن حماد بن زيد عن عاصم بن أبي وائل عن أبي موسى : عن النبي صلى الله عليه و سلم فذكره

10297 ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو جعفر بن محمد بن لیث نے ان کو سلیمان بن حرب اور ولید بن حکم نے الحج حماد بن زید نے عاصم سے اس نے ابو وائل سے اس نے ابو موسیٰ سے اس نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے۔پھر راوی نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے اس نے ابو وائل سے اس نے۔

النبي صلى الله عليه و سلم فذكره ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← عاصم بن أبي وائل ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سليمان بن حرب و الوليد بن الحكم ← جعفر بن محمد بن الليث ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10297

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10298

10298 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا عبد الله أحمد بن يحيى الحجري نا أبي نا ابن الأجلح عن الأعمش عن يحيى بن وثاب عن علقمة عن عبد الله بن مسعود : كان يعطي الناس عطاياهم فجاءه رجل فأعطاه ألفي درهم ثم قال : خذها بارك لك أما إنس سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إنما هلك من كان قبلكم بالدينار و الدرهم و هما مهلكاكم

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو عبداللہ احمد بن یحییٰ حجری نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ااجلح نے اعمش سے اس نے یحییٰ بن وثاب سے اس نے علقمہ سے اس نے عبداللہ بن مسعود سے کہ وہ دلوگوں کو عطیے دیا کرتے تھے۔ چنانچہ ان کے پاس ایک آدمی آیا آپ نے ان کو دو ہزار درہم دیئے پھر فرمایا لے لیجئے اس کو اللہ تیرے لئے برکت عطا کر۔۔۔۔۔ خبردار میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم سے پہلے والے لوگ دینار و درہم کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے اور وہ دونوں تمہیں بھی ہلاک کرنے والے ہیں۔

عَلْقَمَةَ ← يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، ← الْاَعْمَشِ ← ابْنُ الْأَجْلَحِ، ← أَبِي ← عبد الله أحمد بن يحيى الحجري ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10298

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10299

10299 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا أبو عاصم الضحاك بن مخلد نا المستمر بن الريان عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الدنيا حلوة خضرة قال : و كان في بني إسرائيل امرأتان طويلتان و امرأة قصيرة و كانت للقصيرة خف من خشب و اصطنعت خاتما و حشته بأطيب طيبكم بالمسك و اتخذت له غلقا فكانت إذا مرت بملأ فتحته أخرجه مسلم من حديث شعبة عن المستمر و خليد بن جعفر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر احمد بن حسن نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو ابو عاصم ضحاک بن مخلد نے ان کو مستمر بن ربّان نے ان کو ابو نضرہ نے ان کو ابو سعید نے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک یہ دنیا میٹھی ہے خوشنما ہے۔ فرمایا کہ بنی اسرائیل میں دو لمبی عورتیں تھیں اور ایک چھوٹے قد کی تھی ، چھوٹے قد والی کے پاس لکڑی کی چپل تھی اس نے انگوٹی بنوائی اور اس کے اندر بہترین کستوری کی خوشبو اندر بھر وادی اور اس کے اوپر ایک گزر بنوایا جب وہ مجلس میں جاتی تو اس کو کھول دیتی تھی ۔ (جس کی وجہ سے خوشبو مہکتی ۔ ) اس کو مسلم نے نقل کیا ہے شعبہ کی حدیث سے اس نے مستمر سے اور خلید بن جعفر سے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ، ← أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10299

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10300

10300 - حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي إملاء قال : أنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن الرازي نا إسحاق بن إبراهيم بن أبي حسان نا شريج بن يونس نا عباد بن عباد نا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ويل للنساء من الأحمرين الذهب و المعصفر

ہمیں حدیث بیان کی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے بطور املاء کے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن رازی سے ان کو خبر دی اسحاق بن ابراہیم بن ابو حسان نے ان کو شریح بن یونس نے ان کو عباد بن عباد نے ان کو محمد بن عمرو نے ابو سلمہ سے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے تیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کے لئے ہلاکت ہے دو سرخ چیزوں سے ایک سونا اور دوسری پیلے رنگ سے رنگے ہوئے کپڑے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← شريج بن يونس ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حَسَّانَ ← عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن الرازي ← أبو عبد الرحمن السلمي إملاء

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10300

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10301

10301 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه نا أبو حامد بن بلال نا أحمد بن حفص حدثني أبي حدثني إبراهيم بن طهمان عن الحجاج عن قتادة عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الدنيا حلوة خضرة و إن الله مستخلفكم فيها فناظر كيف تعلمون فاتقوا الدنيا و اتقوا النساء

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال نے ان کو احمد بن حفص نے ان کو حدیث بیان کی ان کے والد نے ان کو ابراہیم بن طہمان نے ان کو حجاج نے ان کو قتادہ نے ان کو ابو نضرہ نے ان کو ابو سعید خدری نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک دنیا میٹھی ہے خوشنما ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا میں خلیفہ بنانے والا پھر دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو لہٰذا تم لوگ دنیا سے بچنا اور عورتوں سے بچنا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← الْحَجَّاجِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10301

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10302

10302 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه نا عثمان بن سعيد الدارمي نا بندار نا محمد بن جعفر نا شعبة عن أبي مسلمة سمعت أبا نضرة يحدث عن أبي سعيد الخدري : عن النبي صلى الله عليه و سلم فذكره غير أنه قام : لينظر كيف تعملون و زاد فإن أول فتنة بني اسرائيل كانت في النساء رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن بشار

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور مجھے خبر دی ابو نضر فقیہ نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو بندار نے ان کو محمد بن جعفر نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو مسلمہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو نضرہ سے۔ وہ حدیث بیان کرتے تھے ابو سعید خدری سے اس نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کو ذکر فرمایا سوائے اس سے کہ فرماتا تھا کہ کھڑا ہو گا تاکہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ اور یہ اضافہ بھی فرمایا کہ بے شک پہلا فتنہ اور آزمائش بنی اسرائیل کی عورتوں کے بارے میں تھی۔ مسلم نے اس کو روایت کیا صحیح میں محمد بن بشار سے۔

مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبَا نَضْرَةَ ← اَبِیْ مَسْلَمَۃَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10302

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10303

10303 - أخبرنا أبو محمد بن عبد الله يوسف الأصبهاني أنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي نا يحيى بن أبي مسرة نا عبد الله بن يزيد المقري نا سعيد بن أبي أيوب حدثني أبو الأسود عن النعمان بن أبي عياش الزرقي عن خولة بنت قيس : أنها سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : إن الدنيا خضرة حلوة و إن رجالا سيخوضون في مال الله بغير حق لهم النار يوم القيامة رواه البخاري في الصحيح عن المقري

ہمیں خبر دی ابو محمد بن عبداللہ یوسف اصفہانی نے ان کو ابو محمد عبداللہ بن محمد بن اسحاق فاکھی نے ان کو ابو یحییٰ بن ابو میسرہ نے ان کو عبداللہ بن یزید مقری نے ان کو سعید بن ابو ایوب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ابو الاسود نے ان کو نعمان بن ابو عیاش زرقی نے ان کو خولہ بنت قیس نے کہ اس نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے ؟ بے شاک دنیا خوشنما ہے میٹھی ہے اور بے شک بعض لوگ ایسے ہوں گے جو عنقریب اللہ کے مال میں ناحق کھیس کے ان کے لئے قیامت کے دن آگ ہو گی۔ بخاری نے اس کو روایت کیا صحیح میں المقری سے۔

خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرْقِيُّ، ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← يحيى بن أبي مسرة ← أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي ← أبو محمد بن عبد الله يوسف الأصبهاني

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10303

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10304

10304 - و أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا عباس الترقفي نا يزيد بن هارون نا محمد بن عمرو بن سعيد بن أبي سعيد عن عبيد سنوطا قال : دخلنا على أم محمد التي كانت عند حمزة بن عبد المطلب فدخل عليها زوجها حنظلة الزرقي فقال يا أم محمد اتقي الله و انظري ما تحدثي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم على حمزة بيته فذكروا الدنيا و الأماني فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الدنيا حلوة خضرة من أخذها بحقها بارك الله له فيها و رب متخوض في مال الله و رسوله فيما اشتهت نفسه له النار يوم القيامة

10304ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو عباس ترقفی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو محمد بن عمرو بن سعید بن ابو سعید نے عبید سنوطأ سے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ اُم محمد کے پاس گئے جو حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کے ہاں تھی لہٰذا ان کے شوہر حنظلہ زرقی بھی داخل ہوئے اور کہا اے اُم محمد اللہ سے ڈر اور غور کر کہ تم مجھے کیا حدیث بیان کرتی ہو رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ۔ اس نے کہا کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ کے پاس اس کے گھر میں داخل ہوئے وہاں پر لوگوں نے دنیا اور اس کی آرزوؤں کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک دنیا میٹھی ہے سر سبز اور خوشنما ہے ترو تازہ ہے جو شخص اس کو اس کے حق کے مطابق حاصل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس لئے اس میں برکت دیتا ہے اور بہت سارے دنیا میں گھسنے والے لوگ اللہ اور اس کے رسول کے مال میں گھستے ہیں اس میں جو ان کا نفس خوہش کرتا ہے ان کے لئے قیامت کے دن آگ ہو گی۔

عُبَيْدِ سَنُوطَا، ← محمد بن عمرو بن سعيد بن أبي سعيد ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عباس الترقفي ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10304

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10305

10305 - رواه ابن كثير بن أفلح عن عبيد سنوطا عن خولة بنت قيس : ـ

10305اس کو ابن کثیر نے روایت کیا ہے بن افلح نے عبید سنوطاسے خولہ بنت قیس سے۔

خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← عُبَيْدِ سَنُوطَا، ← رواه ابن كثير بن أفلح

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10305

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10306

10306 - حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي إملاء قال : أنا أحمد بن محمد عبدوس الطرائفي نا يحيى بن سعيد نا أبو بكر بن أبي الأسود البصري نا محمد بن خالد بن سلمة المخزومي نا أبي عن محمد بن الحارث بن أبي ضرار عن عمته عمرة بنت الحارث : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الدنيا خضرة حلوة فمن أصاب منها شيئا من حله بورك له فيها و كم متخوض في مال الله و مال رسوله له النار يوم القيامة

ہمیں حدیث بیان کی ابو عبد الرحمٰن سلمی نے بطور املا ءاس نے کہا ہمیں خبردی احمد بن محمد بن عبدوس طرائفی نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو ابوبکر بن ابو الاسود بصری نے ان کو محمد بن خالد بن سلمہ مخزومی نے ان کو ان کے والد نے محمد بن حارث بن ابوضرارسے اس نے اپنی پھو پھی عمر و بنت حارث نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا: دنیا خوشنما ہے میٹھی ہے جو شخص اس کے کچھ اس حصے کو پائے جو حلال ہو اس کے لئے اس میں برکت دی جاتی ہے اور کتنے لوگ ہوتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں گھستے ہیں قیامت کے دن ان کے لئےآگ ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عمته عمرة بنت الحارث ← محمد بن الحارث بن أبي ضرار ← أَبِي ← محمد بن خالد بن سلمة المخزومي ← أبو بكر بن أبي الأسود البصري ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أحمد بن محمد عبدوس الطرائفي ← أبو عبد الرحمن السلمي إملاء

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10306

chevron_left Previous
1…567…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood