Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10283

10283 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال نا محمد بن يونس السرخسي نا عبد الله بن رجاء أنا سعيد نا العلاء و أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ حدثني علي بن عمر الحافظ نا عبد الله بن محمد البغوي نا سويد بن سعيد حدثني حفص بن ميسرة عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يقول العبد مالي مالي إنما له من ماله ثلاث ما أكل فأفنى أو لبس فأبلى أو أعطى فأمضى و ما سوى ذلك فهو ذاهب و تارك للناس رواه مسلم في الصحيح عن سويد بن سعيد

ہمیں خبر دی ابو طا ہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال نے ان کو محمد بن یونس سرخسی نے ان کو عبداللہ بن رجاء نے ان کو سعید نے ان کو علاء نے۔ اور ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عمر حافظ نے ان کو عبداللہ بن محمد بغوی نے ان کو سوید بن سعید نے ان کو حفص بن میسرہ نے علاء سے اس نے اپنے والد سے اس نے ابو ہریرہ سے یہ کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابن آدم کہتا ہے میرا مال ۔ میرا مال۔ حالانکہ در حقیقت اس کے مال میں سے صرف تین طرح کا مال اس کا ہوتا ہے جو کچھ وہ کھا کر ختم کر دے یا پہن کر پرانا کر دے یا کسی کو دے کر ختم کر دے۔ اور اس کے ماسوا جو کچھ ہے وہ جانے والا ہے یعنی لوگوں کے لئے چھوڑ دیا جائے گا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں سوید بن سعید سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← عبد الله بن محمد البغوي، ← عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← العلاء و ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← محمد بن يونس السرخسي ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10283

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10284

10284 - حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا أبو القاسم عبيد الله بن إبراهيم بن تالويه المزكي و و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان قالا نا أحمد بن يوسف السلمي نا عبد الرزاق أنا معمر عن همام بن منبه قال : هذا ما حدثنا أبو هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا نظر أحدكم إلى من فضل عليه في المال و الخلق فلينظر إلى من هو أسفل منه ممن فضل عليه رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن رافع عن عبد الرزاق و أخرجاه من حديث الأعرج عن أبي هريرة

ہمیں حدیث بیان کی ابو الحسن محمد بن حسین بن دؤاد علوی نے ان کو ابو القاسم عبیداللہ بن ابراہیم بن تالویہ مزکی نے ۔۔۔۔۔اور ہمیں خبر دی ابو طا ہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ہمام بن منبہ نے وہ کہتے ہیں یہ وہ ہے جو ہمیں بیان کیا ہے ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس وقت جب تم میں سے کوئی ایسے شخص کو دیکھے جو مال میں اس سے فوقیت رکھتا ہے اور اخلاق میں تو اس کو چاہئے کہ وہ اس کو دیکھے جو اس سے نیچے ہو جو اس سے اوپر تھا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا صحیح میں محمد بن رافع سے اس نے عبدالرزاق سے اور دونوں نے اس کو نقل کیا ہے حدیث اعرج سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← أبو القاسم عبيد الله بن إبراهيم بن تالويه المزكي و و ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10284

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10285

10285 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الجبار نا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : انظروا إلى من هو أسفل منكم و لا تنظروا إلى من هو فوقكم فإنه أجدر ألا تزدروا نعمة الله عليكم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابو معاویہ نے اعمش سے اس نے ابو صالح سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ سلم نے فرمایا: اس شخص کی طرف دیکھو جو تم سے نیچے ہو اور اس کو نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہو بے شک زیادہ لائق ہے کہ اپنے اللہ کی نعمت کو کم تر نہ سمجھو حقیر نہ جانو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10285

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10286

10286 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا العطاردي نا أبو معاوية قال : و نا إبراهيم بن عبد الله العبسي نا وكيع جميعا عن الأعمش : فذكره أخرجه مسلم في الصحيح من حديث أبي معاوية و وكيع

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو عطار دی نے ان کو ابو معاویہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابراہیم بن عبداللہ عبسی نے ان کو وکیع نے سب کے سب نے اعمش سے اس نے مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے۔ اس کو مسلم نے صحیح میں نقل کیا ہے ابو معاویہ کی روایت سے اور وکیع کی روایت سے۔

الأعمش فذكره أخرجه مسلم في الصحيح من حديث أبي معاوية و وكيع ← وَكِيعٌ، جَمِيعًا ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَبْسِيُّ، ← و، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← الْعُطَارِدِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10286

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10287

10287 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التاريخ قال نا إسحاق بن سعد بن الحسن بن سفيان نا جدي نا عمار بن زربي نا بشر بن منصور عن شعيب بن الحجاب عن أبي العالية عن مطرف يعني ابن عبد الله بن الشخير عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أقلوا الدخول على الأغنياء فإنه أجدر ألا تزدروا نعمة الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے تاریخ میں وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی اسحٰق بن سعید بن حسن بن سفیان نے ان کو ان کے دادا نے ان کو عمار بن زربی نے ان کو بشر بن منصور نے ان کو شعیب بن حجاب نے ابو العالیہ سے اس نے مطرف سے عینی ابن عبداللہ بن شخیر نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ مالداروں کے پاس جانا آنا کم رکھو بے شک حالت یہ ہے کہ یہ زیادہ بہتر ہے کہ تم اللہ کی نعمت کو حقیر نہ سمجھو۔

أَبِيهِ ← مُطَرِّفٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← شعيب بن الحجاب ← بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ ← عَمَّارُ بْنُ زَرْبِيٍّ ← جَدِّي، ← إسحاق بن سعد بن الحسن بن سفيان ← أبو عبد الله الحافظ في التاريخ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10287

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10288

10288 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا علي بن الحسن الهلالي نا أبو نعيم نا ابن عيينة عن الزهري أخبرني عروة و سعيد بن المسيب عن حكيم بن حزام : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأعطاني ثم سألته فأعطاني ثم سألته فأعطاني ثلاث مرات ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يا حكيم إن هذا المال حلوة خضرة فمن أخذه بطيب نفس بورك فيه و من أخذه بإشراف نفس لم يبارك له فيه و كان كالآكل و لا يشبع و اليد العليا خير من اليد السفلى رواه البخاري في الصحيح عن علي عن سفيان

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو علی بن حسن حلالی نے ان کو ابو نعیم نے ان کو ابن عیینہ نے ان کو زہری نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے عروہ نے اور سعید بن مسیب نے ان کو حکیم بن حزام نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا تو آپ نے مجھے دے دیا۔ کچھ دن بعد مانگا تو پھر بھی دے یدا۔ کچھ دن بعد مانگا تو پھر بھی دے دیا۔ تین باس ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے حکیم بے شک یہ مال میٹھا ہے تروتازہ ہے خوبصورت ہے جو شخص اس کو لیتا ہے، بطیب ظاھر (اور نیک نیتی ) کے ساتھ اس کے لئے اس میں برکت دے دی جاتی ہے۔ اور جو شخص اس کو دل کی لانچ کے ساتھ لیتا ہے اس کے لئے اس میں برکت نہیں دی جاتی۔ پھر وہ آدمی اس آدمی کی طرح ہو جاتا ہے جو کھاتا تو ہے مگر یہ نہیں ہوتا۔ اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں علی سے اس نے سفیان سے۔

عروة و سعيد بن المسيب ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10288

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10289

10289 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن المصري نا عبيد الله بن محمد العمري نا إسماعيل بن أبي أويس و أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد الصفار و أخبرنا أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف أنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي قالا نا إسماعيل بن إسحاق القاضي نا إسماعيل بن أبي أويس نا مالك بن أنس عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري أنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أكثر ما أخاف عليكم ما يخرج الله لكم من بركات الأرض فقيل : ما بركات الأرض ؟ قال : زهرة الحياة الدنيا فقال له رجل هل يأتي الخير بالشر ؟ قال : فصمت رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى ظننا أن ينزل عليه الوحي ثم جعل يمسح العرق عن جبينه و قال أين السائل هل يأتي الخير بالشر ؟ قال الرجل : أنا ذا قال أبو سعيد لقد حمدناه حين صنع ذلك ـ قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الخير لا يأتي إلا بالخير ثلاث مرات و لكن هذا المال خضرة حلوة إن كل ما ينبت الربيع يقتل حبطا أو يلم إلا أكلة الخضر تأكل حتى إذا امتدت خاصرتاها استقبلت الشمس فاجترت و تلطت و بالت ثم عادت فأكلت إن هذا المال خضرة حلوة من أخذه بحقه و وضعه في حقه فنعم المعونة هو و من أخذه بغير حقه كان كالذي يأكل و لا يشبع لفظهما سواء رواه البخاري في الصحيح عن إسماعيل بن أبي أويس و أخرجه مسلم من وجه آخر عن مالك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسن مصری نے ان کو عبیداللہ بن محمد عمری نے ان کو اسماعیل بن ابو اویس کے اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی احمد بن عبید صفار نے ۔۔۔۔۔اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ اسحٰق بن محمد بن یوسف نے ان کو ابو جعفر محمد بن محمد عبداللہ بغدادی نے دونوں نے کہا کہ ان کو اسماعیل بن اسحاق قاضی نے ان کو اسماعیل بن ابو ابویس نے ان کو مالک بن انس نے اس نے زید بن اسلم سے عطا بن یسار سے اس نے ابو سعید خدری سے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے زیادہ تر تمہارے بارے میں جو خوف لگا رہتا ہے وہ ہے زمین کی پیداوار اور برکات کے بارے میں ( کہ کہیں وہ ختم نہ ہو جائے ) آپ سے پوچھا گیا زمین کی برکات کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد دنیاوی زندگی کی تازگی مراد ہے۔ چنانچہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا خیر بھی شر کو لاتی ہے اور پیدا کرتی ہے؟ کہتے ہیں کہ حضورصلیٰ اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ کے اوپر وحی نازل ہو رہی ہے پھر آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم اتنے میں اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کرنے لگے اور فرمایا کہ سائل کہاں ہے؟ جس نے پوچھا کہ کیا خیر بھی شر کو لے آتی ہے؟ تو ایک آدمی نے کہا میں ہوں یا رسول اللہ تو ابو سعید نے کہا البتہ ہم نے ان کی حمد کی ہے جب انہوں نے یہ کام کیا ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک خیر تو خیر ہی کو لے آتی ہے۔ تین بار یہ فرمایا۔ لیکن یہ مال سر سبز خوشنما ہے میٹھا ہے بے شک بعض سبزہ جو موسم بہارا گاتی ہے وہ مار دیتا ہے بلاک کر دیتا ہے جانور کویا بیمار کردیتا ہے یا اس کی اصلاح کر لے مگر چارہ سبز جس کو وہ کھاتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی دونوں کو کھلانا دراز کر لیتا ہے تو پھر وہ سورج کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو جاتا ہے پھر چلتا پھرتا ہے پیشاب، پاخانہ کرتا ہے۔ پھر لوٹ کر آتا ہے پھر اس کو کھاتا ہے۔ (یہی مثال ہے دنیا کے مال کی ) بے شک یہ مال بھی خوشنما ہے میٹھا ہے جو شخص اس کو لے اس کے حق کے ساتھ اور اس کو رکھے اس کے حق کے ساتھ تو پھر یہ بہترین مددگار ہے یہ مال اور جو اس کو نا حق طریقے سے اور ناجائز طریقے سے حاصل کرے وہ اس جانور (یا انسان) کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا جائے مگر کبھی سیر نہ ہو ۔ دونوں کے الفاظ برابر ہیں۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں اسماعیل بن ابو اویس سے اور اس کو نقل کیا ہے مسلم نے دوسرے طریقے سے مالک سے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مالک بن أنس ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ← أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف ← أحمد بن عبيد الصفار و ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← إسماعيل بن أبي أويس و ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10289

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10290

10290 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه قال قريء على عبد الملك و انا أسمع قال : نا معاذ بن فضالة نا هشام بن أبي عبد الله عن يحيى بن أبي كثير عن هلال بن أبي ميمونة عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري قال : جلس رسول الله صلى الله عليه و سلم على المنبر ذات يوم فقال : إن مما أتخوف عليكم ما يفتح الله عليكم من زهرة الدنيا و زينتها فقال رجل يا رسول الله و يأتي الخير بالشر فلم يرد عليه قلنا يا فلان ما شأنك سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم يرد عليك فرأينا أنه ينزل عليه الوحي قال : فمسح الرحضاء عنه فقال : أين السائل ـ و كأنه حمده ـ فقال : إنه لا يأتي الخير بالشر و إنه مما ينبت الربيع ما يقتل أويلم إلا أكله الخضر أكلت حتى إذا امتلأت خاصرتها استقبلت مطلع الشمس فثلطت و بالت و رتعت و إن هذا المال حلو خضر فمن أخذه بحقه بورك له فيه و نعم صاحب المال من أعطى منه المسكين و اليتيم و ابن السبيل ـ أو كما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و الذي يأخذ بإشراف نفس كالذي يأكل و لا يشبع فيكون عليه حسرة يوم القيامة و رب متخوض في مال الله و مال رسول الله له النار يوم القيامة رواه البخاري في الصحيح عن معاذ بن فضالة غير انه قال : فنعم صاحب المسلم ما أعطى منه المسكين و اليتيم و ابن السبيل و قال : شهيدا بدل قوله حسرة و لم يذكر ما بعده

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن سلمان فقیہ نے وہ کہتے ہیں کہ یہ روایت پڑھی گئی عبدالملک کے سامنے اور میں سن رہا تھا کہتے ہیں کہ ہمیں خبردی معاذ بن فضالہ نے ان کو ہشام بن ابو عبداللہ نے یحییٰ بن ابو کثیر سے اس نے بلال بن ابو میمونہ سے اس نے عطاء بن یسار سے اس نے ابو سعید خدری سے وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا کہ بے شک ان چیزوں میں سے جن کے بارے میں تمہارے بارے میں ڈرتا ہوں وہ ہے جو اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر کھول دے گا دنیا کی تازگی اور دنیا کی زینت میں ہے۔ ایک آدمی نے عرض کی یارسول اللہ کیا خیر بھی شر کو لے آتی ہے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اس کو کوئی جواب نہ دیا۔ ہم نے کہا اے فلانے کیا ضرورت تھی پوچھنے کی ؟ تم نے پوچھا اور رسول اللہ نے تجھے جواب بھی نہیں دیا۔ پھر ہم نے یہ سوچا کہ آپ کے اوپر وحی نازل ہو رہی ہے۔ کہتے ہیں اتنے میں حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماتھے سے گرمی کے اثر کو صاف کیا۔ پھر فرمایا کہ سائل کہاں ہے؟ جیسے کہ آپ اس کی تعریف کریں گے۔ آپ نے فرمایا بے شک خیر شر کو پیدا نہیں کرتی اور حقیقت یہ ہے کہ بعض وہ سبزہ جس کو موم بہار اگاتا ہے وہ گھاس بھی ہوتا ہے جو بسا اوقات مار دیتا ہے یا بیمار کر دیتا ہے۔ مگر سبزے کو وہ کھائے یہاں تک کہ کہ جب اس کا پیٹ بھر جاتے۔ پھر سورج کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو جائے۔ پھر وہ لید پیشاب کرے اور چرے اور بے شک یہ مال میٹھا ہے اور سر سبز ہے جو شخص اس کو لے کے اس کے حق کے ساتھ اس کے لئے اس میں برکت دی جائے گی بہترین مال دار وہ ہے جو اس میں سے مسکین کو اور یتیم اور مسافر کو دے۔ یا جیسے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور وہ شخص جو مال کو لالچی دل کے ساتھ حاصل کرے وہ اس کے مثل ہے جو کھائے مگر کبھی سیر نہ ہو سکے اس کو قیامت کے دن اس مال پر حسرت ہو گی اور بہت سارے لوگ وہ ہوتے ہیں جو اللہ اور رسول کے مال میں گھسٹے والے ان کے لئے قیامت کے دن آگ ہے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں معاذ بن فضالہ سے۔ سوائے اس کے کہ آپ نے کہا بہترین مالدار مسلمان وہ ہے جو اس میں سے مسکین کو اور یتیم کو اور مسافر کو دے اور اس روایت میں لفظ خسرۃ کی جلد لفظ شہیدا ہے اور اس کے مابعد مذکور نہیں ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، ← أسمع ← قريء على عبد الملك و ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10290

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10291

10291 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن أيوب الفقيه أنا الحسن بن علي بن زياد نا إسماعيل بن أبي أويس حدثني إسماعيل بن إبراهيم بن عقبة عن عمه موسى بن عقبة قال : قال ابن شهاب : حدثني عروة بن الزبير : أن المسور بن مخرمة أخبره أن عمرو بن عوف و هو حليف لبني عامر بن لؤي كان شهد بدرا مع رسول الله صلى الله عليه أخبره أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث أبا عبيد بن الجراح يأتي بجزيتها و كان رسول الله صلى الله عليه و سلم هو صالح أهل البحرين و أمر عليهم ابن الحضرمي فقدم أبو عبيدة بمال من البحرين فسمعت الأنصار بقدومه فوافقت صلاة الصبح مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما انصرف تعرضوا له فتبسم حين رآهم و قال : أظنكم سمعتم بقدوم أبي عبيدة و أنه جاء بشيء ؟ قالوا أجل يا رسول الله قال : فأبشروا و أملوا ما يسركم فوالله ما الفقر أخشى عليكم و لكني أخشى عليكم أن تبسط عليكم الدنيا على من قبلكم فتنافسوها كما تنافسوها و تلهيكم كما ألهتهم رواه البخاري في الصحيح عن ابن أبي أويس

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحٰق بن ایوب فقیہ نے ان کو حسن بن علی بن زیاد نے ان کو اسماعیل بن ابو اویس نے ان کو حدیث بیان کی اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ نے ان کے چچا موسیٰ بن عقبہ نے وہ کہتے ہیں ابن شہاب نے کہا مجھے حدیث بیان کی ہے عروہ بن زبیر نے یہ کہ مسور بن مخرمہ نے اس کو خبر دی کہ عمرو بن عوف جو تھے وہ حلیف تھے عامر بن لوی کے اور وہ بدری صحابی تھے جنگ بدر میں شریک تھے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ۔ انہوں نے مسور کو خبر دی تھی کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کو جزیہ ( ٹیکس) وصول کرنے کے لئے بھیجا تھا ۔ وجہ یہ ہوئی تھی کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اہل بحرین کے ساتھ صلح کر لی تھی۔ اور ابن الحضرمی کو ان پر امیر بنا دیا تھا۔ لہٰذا ابو عبیدہ بحرین سے جزیہ کا مال لے کر مدینہ پہنچے تھے۔ انصار نے ابو عبیدہ کی آمد کی خبر سنی تو صبح کی نماز میں رسول اللہ کے ساتھ ملے۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ کر ہنسنے لگے تو انہوں نے آپ کو روکا۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو دیکھا تو مسکرا دئیے۔ اور فرمایا کہ میراخیال ہے کہ تم لوگوں نے ابو عبیدہ کی آمد کی خبر سن لی ہے کہ وہ کیا ہے؟۔ انصار نے کہا کہ جی ہاں یا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم تو رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ خوش ہو جاؤ اور امید قائم رکھو اس چیز کی جو تمہیں خوش کرتی ہے۔ پس اللہ کی قسم مجھے تمہارے اوپر فقرو غربت کا خوف نہیں ہے بلکہ مجھے تمہارے اوپر اس بات کا خوف ہے کہ دنیا کی تمہارے اوپر ریل پیل ہو جائے گی جیسے تم سے پہلے لوگوں پر ریل پیل ہو گئی تھی۔ پھر تم اسی کی طرف رغبت کرو گے جیسے تم سے پہلے لوگوں نے رغبت کی تھی۔ پھر وہ مال تمہیں غافل کر دے گا جیسے اس نے تم سے پہلے لوگوں کو غافل کر دیا تھا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں ابن ابو ابویس سے۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَمِّهِ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الحسن بن علي بن زياد ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الْفَقِيهُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10291

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10292

10292 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أخبرني أبو محمد المزني أنا علي بن محمد بن عيسى أنا أبو اليمان أخبرني شعيب عن الزهري : فذكره باسناده غير أنه قال : قال بعث أبا عبيدة بن الجراح إلى البحرين يأتي بخراجها و قال في آخره و تهلككم كما أهلكتهم رواه البخاري في الصحيح عن أبي اليمان رواه مسلم عن عبد الله بن عبد الرحمن عن أبي اليمان

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور مجھے خبر دی ہے ابو محمد مزنی نے ان کو علی بن محمد بن عیسیٰ نے ان کو ابو الیمان نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے شعیب نے زہری سے اس نے اس کو ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ ۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا ہے کہ زہری کہتے ہیں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ بن جراح کو بحرین کی طرف خراج وصول کرنے کے لئے بھیجا تھا ۔ آخر میں ۔ آپ نے فرمایا کہ مال تمہیں ہلاک کر دے گا جیسے اس نے ان لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں ابو الیمان سے۔ اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے عبداللہ بن عبدالرحمٰن سے اس نے ابو الیمان سے۔

أَبِي الْيَمَانِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أبي اليمان رواه مسلم ← في آخره و تهلككم كما أهلكتهم رواه البخاري في الصحيح ← بعث أبا عبيدة بن الجراح إلى البحرين يأتي بخراجها و ← الزهري فذكره باسناده غير أنه ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10292

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10293

10293 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو عبد الله بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب نا جعفر بن عون أنا الأعمش من شقيق عن أبي موسى : أن هذا الدينار و الدرهم أهلكا من كان قبلكم و هما مهلكاكم و كذلك رواه الثوري عن الأعمش موقوفا و رواه محمد بن عبيد كما

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابوعبیداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبد الوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو اعمش نے شقیق سے اس نے ابو موسیٰ سے۔ یہ کہ ان دئنار اور درہم نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا اور تمہیں بھی بلاک کرنے والے ہیں۔ اسی طرح اس کو ثوری نے روایت کیا ہے۔ اعمش سے بطور موقوف روایت۔ اور اس کو محمد بن عبید نے بھی روایت کیا ہے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← الأعمش من شقيق ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10293

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10294

10294 - حدثنا أبو طاهر الفقيه و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا إبراهيم بن عبد الله القصار أنا محمد بن عبيد عن الأعمش عن شقيق عن أبي موسى و لا أعلمه إلا قد رفعه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن هذا الدينار و الدراهم أهلكا من كان قبلكم و إنهما مهلكاكم و روي أيضا عن الثوري و شعبة و مالك بن سعير عن الأعمش موقوفا

ہمیں حدیث بیان کی ابو طاہر فقیہ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ قصار نے ان کو محمد بن عبید نے ان کو اعمش نے ان کو شقیق نے ابو موسیٰ سے میں نہیں جانتا مگر تحقیق اس نے اس روایت کو مرفوع کیا ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک ان دینار اور درہم نے تم سے پہلے والے لوگوں کو بلاک کیا تھا اور بے شک وہ تمہیں بھی بلاک کرنے والے ہیں۔ اور یہ روایت ثوری سے بھی مروی ہے اور شعبہ سے اور مالک بن سعیر سے اس نے اعمش سے بطور موقوف روایت کے۔

أبي موسى و لا أعلمه إلا قد رفعه ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← إبراهيم بن عبد الله القصار ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو طاهر الفقيه و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10294

chevron_left Previous
1…456…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood