شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10283
10283 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال نا محمد بن يونس السرخسي نا عبد الله بن رجاء أنا سعيد نا العلاء و أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ حدثني علي بن عمر الحافظ نا عبد الله بن محمد البغوي نا سويد بن سعيد حدثني حفص بن ميسرة عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يقول العبد مالي مالي إنما له من ماله ثلاث ما أكل فأفنى أو لبس فأبلى أو أعطى فأمضى و ما سوى ذلك فهو ذاهب و تارك للناس رواه مسلم في الصحيح عن سويد بن سعيد
ہمیں خبر دی ابو طا ہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال نے ان کو محمد بن یونس سرخسی نے ان کو عبداللہ بن رجاء نے ان کو سعید نے ان کو علاء نے۔ اور ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عمر حافظ نے ان کو عبداللہ بن محمد بغوی نے ان کو سوید بن سعید نے ان کو حفص بن میسرہ نے علاء سے اس نے اپنے والد سے اس نے ابو ہریرہ سے یہ کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابن آدم کہتا ہے میرا مال ۔ میرا مال۔ حالانکہ در حقیقت اس کے مال میں سے صرف تین طرح کا مال اس کا ہوتا ہے جو کچھ وہ کھا کر ختم کر دے یا پہن کر پرانا کر دے یا کسی کو دے کر ختم کر دے۔ اور اس کے ماسوا جو کچھ ہے وہ جانے والا ہے یعنی لوگوں کے لئے چھوڑ دیا جائے گا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں سوید بن سعید سے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← عبد الله بن محمد البغوي، ← عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← العلاء و ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← محمد بن يونس السرخسي ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10283
