Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في الزهد · حديث 10787

10787 - قال : و نا أبو بكر نا محمد أظنه ابن عثمان نا الوليد بن صالح عن عامر بن يساف عن عبد الله بن رزين العقيل قال : كان الحسن يقول : في موعظته : المبادرة عباد الله المبادرة فإنما هي الأنفاس لو قد حبست انقطعت عنكم أعمالكم التي تقربون بها إلى الله عز و جل رحم الله امرأ نظر لنفسه و بكى على ذنوبه ثم يقرأ هذه الآية : { إنما نعد لهم عدا } ثم يبكي و يقول : آخر العدد خروج نفسك آخر العدد فراق أهلك آخر العدد دخولك في قبرك

فرماتے ہیں۔ ہمیں خبر دی ابو بکر نے ان کو محمد نے میرا خیال ہے کہ ابن عثمان نے ان کو ولید بن صالح نے ان کو عامر بن سیاف نے ان کو عبد اللہ بن رزین عقیلی نے وہ کہتے ہیں کہ حسن بصری فرماتے تھے اپنے وعظ کے اندر ۔ ایک دوسرے سے جلدی کرو اللہ کےبندو ایک دوسرے سے جلدی کرو تمہاری حقیقت صرف چند سانس ہیں اگر وہ رک گئے تو تمہارے وہ اعمال ختم ہو جائیں گے اور منقطع ہو جائیں گے جن کے ذریعے اللہ کے قریب ہونا چاہتے ہو ۔ اللہ تعالٰی اس بندے پر رحم کرے اس کو خوش رکھے جو اپنے آپ پر ترس کھاتا ہے اور اپنے گناہوں پر روتا ہے پھر وہ یہ آیت پڑھتے تھے انما نعد لهم عدا یعنی بات ہے کہ ہم ان لوگوں کے لئے خوب شمار کریں گے۔ پھر وہ رو پڑتے تھے اور فرماتے تھے کہ آخری گنتی تیری سانس کا نکل جانا ہے آخری شمار تیرا اپنے گھر والوں کو داغ فراق دینا ہے اور آخری گنتی تیری قبر میں تیرا د خول ہے۔

كَانَ الْحَسَنُ ← عبد الله بن رزين العقيل ← عَامِرُ بْنُ يِسَافٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ ← محمد أظنه ابن عثمان ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Hadith 10787

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في الزهد · حديث 10788

10788 - قال : و أنا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني محمد بن الحسين نا إسحاق بن منصور السلولي نا أسباط بن نصر عن السدي : : { الذي خلق الموت و الحياة ليبلوكم أيكم أحسن عملا } قال : أيكم أكثر للموت ذكرا و له أحسن استعدادا و منه أشد خوفا و حذرا

کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر بن ابوالد نیا نے ان کو محمد بن حسین نے ان کو اسحاق بن منصور سلولی نے ان کو اسباط بن نصر نے سدی سے کہ یہ آیت ۔ الذي خلق الموت والحيات لیبلوکم ایکم احسن عملاً یعنی اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا موت اور حیات کو اس لئے تا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ کون تم میں سے احسن عمل والا ہے۔ فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ کون تم میں سے موت کو زیادہ یاد کرتا ہے اور کون اس کے لئے بہتر تیاری کرتا ہے اور کون اس سے زیادہ شدید خوف اور ڈر رکھتا ہے۔

السدي الذي خلق الموت و الحياة ليبلوكم أيكم أحسن عملا ← أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← و،

Hadith 10788

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في الزهد · حديث 10789

10789 - و نا أبو بكر حدثني محمد بن الحسين نا أبو عقيل زيد بن عقيل حدثني محمد بن ثابت العبدي عن محمد بن واسع قال : قال خليد العصري : كلنا قد أيقن بالموت و ما نرى له مستعدا و كلنا قد أيقن بالجنة و ما نرى لها عاملا و كلنا قد أيقن بالنار و ما نرى لها خائفا فعلى ما تعرجون و ما عسيتم تنتظرون الموت فهو أول وارد عليكم من الله بخير أو شر فيا أخوتاه سيروا إلى ربكم سيرا جميلا

اور ہمیں خبر دی ابو بکر نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن حسین نے ان کو ابو عقیل زید بن عقیل نےان کو محمد بن ثابت عبدی نے ان کو محمد بن واسع نے وہ کہتے ہیں کہ خلید عصری نے کہا۔ ہم میں سے ہر شخص موت پر یقین رکھتا ہے۔ مگر اس کے لئے ہم نے اس کو تیاری کرتا نہیں دیکھا ۔ اور ہم میں سے ہر شخص جنت پر یقین رکھتا ہے مگر ہم نے اس کے لئے عمل کرتے نہیں دیکھا۔ اور ہم میں سے ہر شخص جہنم پر بھی یقین رکھتا ہے مگر ہم نے اس سے ڈرتے نہیں دیکھا۔ لہٰذا تم کس بنیاد پر اور کسی چیز پر امید کرتے ہو اور قریب ہے کہ تم موت کا انتظار کر رہے ہو وہ پہلی چیز ہے تمہارے اوپر وارد ہونے والی اللہ کی طرف سے خیر کے ساتھ ہو یا شر کے ساتھ ۔ اے میرے بھائیو چلو تم اپنے رب کی طرف چلنا خوبصورت طریقے کے ساتھ ۔

مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو عَقِيلٍ زَيْدُ بْنُ عَقِيلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Hadith 10789

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في الزهد · حديث 10790

10790 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب الطوسي قال : سمعته يتمثل من شعر العرب ثلاثة أبيات : ( ليس من مات فاستراح بميت إنما الميت ميت الأحياء )

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ حسین بن حسن بن ایوب طوسی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا کہ عرب کے تین اشعار کے ساتھ تمثیل دی جاتی تھی۔ ليس من مات فاستراح بميت انما الميت ميت الأحياء حقیقت میں مردہ وہ نہیں ہے جو مر کر جان چھڑا جائے بلکہ مردو تو وہ ہے جیتے جی مردار ہو۔

أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 10790

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في الزهد · حديث 10791

10791 - قال : و كان يقول : ( و ما الدنيا بباقية لحي و لا حي على الدنيا بباق )

کہتے ہیں کہ وہ یہ بھی کہتے تھے۔ وما الدنيا بباقية لحى ولاحى على الدنيا بياق. دنیا کسی زندہ کے لئے باقی نہیں رہے گی اور نہ ہی کوئی زندہ دنیا کے( نقشے ) پر زندہ رہے گا۔

و ما الدنيا بباقية لحي و لا حي على الدنيا بباق ← و كان

Hadith 10791

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في الزهد · حديث 10792

10792 - قال : و كان يقول : ( يسر الفتى ما كان قدم من تقى إذا علم الداء الذي هو قاتله )

کہتے ہیں کہ وہ یہ بھی فرماتے تھے۔ يسرا لفتى ماكان قدم من تقى اذاعلم الداء الذي هو قاتله جب کوئی شخص اپنی جان لیوا بیماری کو جان لیتا ہے تو بچنے کی جو بھی صورت آ جائے اس سے وہ خوش ہو جاتا ہے۔

و كان

Hadith 10792

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في الزهد · حديث 10793

10793 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو سعيد محمد بن موسى بن القاسم الأديب نا محمد بن دينار نا بكر بن دلويه قال : سمعت يحيى بن معاذ الرازي يقول : من لم يترك الدنيا اختيارا تركته الدنيا اضطرارا و من لم يزل عنه نعمته في حياته زال عن نعمته بعد وفاته

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو سعید محمد بن موسیٰ بن قاسم ادیب نے ان کو محمد بن دینار نے ان کو بکر بن دلو یہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا یحیی ٰبن معاذ رازی سے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص دنیا کو اختیار اور مرضی سے نہ چھوڑے دنیا اس کو مجبور کر کے چھوڑ دیتی ہے۔ جس کی لعنت اس کی زندگی میں اس سے زائل نہ ہو وہ اپنی وفات کے بعد اپنی لعنت سے ہٹ جاتا ہے ۔

يحيى بن معاذ الرازي ← بكر بن دلويه ← مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ؛ ← أبو سعيد محمد بن موسى بن القاسم الأديب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 10793

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في الزهد · حديث 10794

10794 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني جعفر بن محمد بن نصير قال : سمعت الجنيد يقول : قال بعض شيوخنا : لا تكون لله عبدا حقا و أنت بما يكرهه مسترقا

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد بن نصیر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا جنید سے وہ کہتے تھے کہ ہمارے بعض شیوخ نے کہا تھا آپ اللہ تعالی ٰکے سچ مچ اور برحق بندے نہیں بن سکتے جب تک آپ اس چیز کو جس کو وہ نا پسند کرتا ہے اس سے چوری چوری کرتے رہیں گے۔

بعض شيوخنا لا تكون لله عبدا حقا و أنت بما يكرهه مسترقا ← الجنيد ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 10794

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في الزهد · حديث 10795

10795 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني محمد بن قدامة الجوهري نا سعيد بن محمد الثقفي قال : سمعت القاسم بن غزوان يذكر قال : كان عمر بن عبد العزيز يتمثل بهذه الأبيات ( أيقظان أنت اليوم أم أنت نائم و كيف يطيق النوم حيران هائم ) ( فلو كنت يقظان الغداة لحرقت مدامع عينيك الدموع السواحم ) ( بل أصبحت في النوم الطويل و قد دنت إليك أمور مفظعات عظائم ) ( نهارك يا مغرور سهو و غفلة و ليلك نوم و الردى لك لازم ) ( يغرك ما يغني و تشغل بالمنى كما غر باللذات في النوم حالم ) ( و يشغل فيما سوف يكره غبه كذلك في الدنيا تعيش البهائم ) قال الإمام أحمد رحمه الله : أقاويل السلف و الخلف رضي الله عنهم في فضيلة الزهد و تفسيره كثيرة لا يحتمل هذا الكتاب ذكرها فاقتصرنا على ما نقلنا و قد أفردنا لها كتابا من أراد معرفتها رجع إليه إن شاء الله تعالى

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد الله صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالدنیا نے ان کومحمد بن قدامہ جو ہری نے ان کو سعید بن محمد ثقفی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا قاسم بن غزوان سے وہ ذ کر کرتے تھے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز ان اشعار سے تمثیل پکڑتے تھے۔ انقطان لست اليوم امانت نائم وكيف يطيق النوم حيران هانم فلو كنت يقظان الغداة لحرقت مدمع عينيك الدموع السواحم بل اصبحت في النوم الطويل وقد دنت الیک امور مقطعات عظائم نهارک با مغرور سهو وغفلة ولیلک نوم والردی لک لازم یغرک مایغنى وتشغل بالمنى كما غر باللذات في النوم حالم ويشغل فيما سوف يكره عبه کدالك في الدنيا تعيش البهائي. آج کیا آپ بیداری میں ہیں یا آپ خواب غفلت میں ہیں حیران پریشان شدید پیاسا انسان کیسے سو سکتا ہے؟ اگر آپ صبح کے وقت بیداری میں ہوتے تو سیاہ آنسو ( یا آنکھوں کی سیاہ پتلیوں کے آنسو ) تیری آنکھوں کی چھپیروں کو جلا دیتے۔ بلکہ آپ طویل نیند میں پڑے ہیں حالانکہ انتہائی ڈراؤنے اور بڑے بڑے خطرناک امور تیرے قریب آچکے ہیں۔ اے فریب خوردہ اور دھو کہ خورد ہ انسان تیرا دن بھول اور غفلت میں گذرتا ہے اور تیری رات نیند میں گذرتی ہے (ایسی صورت میں ) ہلاکت و تباہی تیرے لئے لازم ہے۔ غیر ضروری امور نے تجھے دھوکے میں واقع کر رکھا ہے اور تو امیدوں اور آرزوں میں مصروف ومگن ہے جیسے حالت نیند میں خواب دیکھنے والا لذات کے ساتھ دھو کہ کھاتا ہے۔ اور سبز باغوں اور سنہرے خوابوں میں مشغول رہتا ہے۔ ۔ دنیا میں چوپائے جانور بھی تو اسی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا کہ سلف اور خلف کے اقوال (اللہ ان سے راضی ہو ) زہد کی فضیلت اور تشریح کے بارے میں کثیر ہیں۔ یہ کتاب ان کے تذکرے کی متحمل نہیں ہے ہم نے اسی پر اکتفاء کیا ہے جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے اور ہم نے اس موضوع پر مستقل ایک کتاب تصنیف کی ہے جو شخص ان کی معرفت کا ارادہ کرے گا انشاء اللہ اس کی طرف رجوع کرے گا۔

القاسم بن غزوان يذكر ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْجَوْهَرِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 10795

chevron_left Previous
1…44454647
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood