شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في الزهد · حديث 10787
10787 - قال : و نا أبو بكر نا محمد أظنه ابن عثمان نا الوليد بن صالح عن عامر بن يساف عن عبد الله بن رزين العقيل قال : كان الحسن يقول : في موعظته : المبادرة عباد الله المبادرة فإنما هي الأنفاس لو قد حبست انقطعت عنكم أعمالكم التي تقربون بها إلى الله عز و جل رحم الله امرأ نظر لنفسه و بكى على ذنوبه ثم يقرأ هذه الآية : { إنما نعد لهم عدا } ثم يبكي و يقول : آخر العدد خروج نفسك آخر العدد فراق أهلك آخر العدد دخولك في قبرك
فرماتے ہیں۔ ہمیں خبر دی ابو بکر نے ان کو محمد نے میرا خیال ہے کہ ابن عثمان نے ان کو ولید بن صالح نے ان کو عامر بن سیاف نے ان کو عبد اللہ بن رزین عقیلی نے وہ کہتے ہیں کہ حسن بصری فرماتے تھے اپنے وعظ کے اندر ۔ ایک دوسرے سے جلدی کرو اللہ کےبندو ایک دوسرے سے جلدی کرو تمہاری حقیقت صرف چند سانس ہیں اگر وہ رک گئے تو تمہارے وہ اعمال ختم ہو جائیں گے اور منقطع ہو جائیں گے جن کے ذریعے اللہ کے قریب ہونا چاہتے ہو ۔ اللہ تعالٰی اس بندے پر رحم کرے اس کو خوش رکھے جو اپنے آپ پر ترس کھاتا ہے اور اپنے گناہوں پر روتا ہے پھر وہ یہ آیت پڑھتے تھے انما نعد لهم عدا یعنی بات ہے کہ ہم ان لوگوں کے لئے خوب شمار کریں گے۔ پھر وہ رو پڑتے تھے اور فرماتے تھے کہ آخری گنتی تیری سانس کا نکل جانا ہے آخری شمار تیرا اپنے گھر والوں کو داغ فراق دینا ہے اور آخری گنتی تیری قبر میں تیرا د خول ہے۔
كَانَ الْحَسَنُ ← عبد الله بن رزين العقيل ← عَامِرُ بْنُ يِسَافٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ ← محمد أظنه ابن عثمان ← أَبُو بَکْرٍ ← و،
Hadith 10787
