Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10763

10763 - قال : و أنا أبو بكر حدثني محمد أظنه بن الحسين نا عبد الله بن محمد التيمي نا محمد بن كثير عن شيخ له : أن غزوان كان له خص فكان إذا سافر هدمه و إذا رجع أعاده

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر نے ان کو حدیث بیان کی محمد نے میں گمان کرتا ہوں بن حسین ان کو عبد اللہ بن محمد تیمی نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو ان کے شیخ نے کہ حضرت غزوان کی ایک جھونپڑی ہوا کرتی تھی جب وہ سفر کو جاتے تھے تو اس کو گرا دیتے تھے اور جب واپس آتے تھے اس کو دوبارہ بنا لیتے تھے۔

مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← عبد الله بن محمد التيمي ← محمد أظنه بن الحسين ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10763

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10764

10764 - قال : و أنا أبو بكر حدثني إبراهيم بن عبد الله حدثني إسحاق بن محمد الفروي نا عبد الله بن عمر العمري عن محمد بن أبي بكر قال : تشاح رجلان في أرض بينهما فقالت الأرض : على رسلكما فوالله لقد ملكني قبلكما مائة أعور سوى الأصحاء

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر نے ان کو حدیث بیان کی ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو حدیث بیان کی اسحاق بن محمد فروی نے ان کو عبد اللہ بن عمر عمری نے ان کو محمد بن ابو بکر نے وہ کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے اختلاف کیا زمین کے بارے میں جو دونوں کے درمیان مشترکہ تھی۔ لہٰذا از مین نے کہا کہ تم دونوں اپنی اپنی جگہ قائم رہو تحقیق تم دونوں سے پہلے ایک سو کانے آدمی میرے مالک بن چکے ہیں تندرستوں کے علاوہ۔

تشاح رجلان في أرض بينهما ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عبد الله بن عمر العمري ← إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِي ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10764

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10765

10765 - قال : و أنا أبو بكر حدثني محمد بن يحيى الأزدي قال : سمعت عبد الله بن داود قال : قال سمعت سفيان الثوري قال : ما انفقت درهما في بناء قط

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن یحییٰ از دی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبد اللہ بن داؤدسے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سفیان ثوری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کبھی ایک درہم بھی کسی بنیاد اور عمارت میں خرچ نہیں کیا۔

ما انفقت درهما في بناء قط ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10765

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10766

10766 - قال : و أنا أبو بكر حدثني محمد بن إدريس نا سليمان بن عبد الرحمن نا محمد بن الحجاج عن يونس بن ميسره بن حلبس عن مالك بن يخامر السكسكي : أن قوما دخلوا عليه يعودنه فقالوا : إن منزلك من المدينة موضع جيد فلو رممته قال : إنما نحن سفر قائلون نزلنا للمقيل فإذا برد النهار و هبت الريح ارتحلنا فلا أعالج منها شيئا حتى أرحل منها

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی محمد بن ادر یس نے ان کو سلیمان بن عبد الرحمٰن نے ان کو محمد بن حجاج نے یونس بن میسرہ بن جلیس نے اس نے مالک بن یامر سکسکی نےیہ کہ کچھ لوگ اس کی بیمار پرسی کرنے کے لئے آئے اور کہنے لگے جناب آپ کا مکان شہر میں اچھی جگہ پر واقع ہے اگر آپ اس کو تو ڑ کر دوبارہ اچھا بنا لیں تو بہت ہی اچھا ہوگا۔ انہوں نے فرمایا میاں ہم لوگ مسافر میں دو پہر کی نیند اور قیلولہ کرانے لگے ہیں اور اسی لئے یہاں اترے ہیں جب ذرا دن ٹھنڈا ہو اور ہوا چلی ہم یہاں سے کوچ کر جائیں گے میں یہاں کوئی چیز نہیں بنواؤں گا بلکہ یہاں سے ایسے ہی کوچ کر جاؤں گا۔

إن منزلك من المدينة موضع جيد فلو رممته ← مالك بن يخامر السكسكي أن قوما دخلوا عليه يعودنه ← يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10766

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10767

10767 - قال : و أنا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني إبراهيم بن الأصبهاني نا نصر بن علي حدثني رمان المرادي قال : قيل لطاوس : أن منزلك قد استرم قال : قد أمسينا

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر بن ابوالدنیا نے ان کو ابراہیم بن اصفہانی نے ان کو نصر بن علی نے ان کو رمان مرادی نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت طاؤس سے کہا گیا کہ آپ کا گھر تو بوسیدہ ہو چکا ہے وہ فرمانے لگے کہ ہماری بھی شام ہو چکی ہے۔

«قَدْ أَمْسَيْنَا» ← قِيلَ لِطَاوُسٍ: إِنَّ مَنْزِلَكَ قَدِ اسْتَرَمَّ. ← رمان المرادي ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← إبراهيم بن الأصبهاني ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10767

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10768

10768 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني محمد بن الحسين حدثني محمد بن يزيد بن خنيس عن وهيب بن الورد قال : نظر أبو مطيع يوما إلى داره فأعجبه حسنها بكى ثم قال : و الله لولا الموت لكنت بك مسرورا و لولا ما نصير إليه من ضيق القبور لقرت بالدنيا أعيننا قال : ثم بكى بكاء شديدا حتى ارتفع صوته

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور ابوسعید بن ابو عمرو نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابوعبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالد نیانے ان کومحمد بن حسین نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن یزید بن خنیس نے ان کو وہب بن ورد نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو مطیع نے ایک دن اپنے گھر کی طرف دیکھا تو ان کو اس کا حسن اور خوبصورتی پسند آئی تو وہ رو پڑے اس کے بعد فرمانے لگے اللہ کی قسم اگر موت نہ ہوتی تو میں تیرے ساتھ خوش ہو جا تا اور یہ بات نہ ہوتی کہ قبر کی تنگی کے وقت ہمارا کوئی مددگار نہ ہوگا تو دنیا کے ساتھ ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں۔ کہتے ہیں کہ یہ کہہ کر پھر وہ رو پڑے اور انتہائی شدید روئے یہاں تک کہ ان کی چیخیں نکل گئیں ۔

نظر أبو مطيع يوما إلى داره فأعجبه حسنها بكى ثم ← وُهَيْبَ بْنَ الْوَرْدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10768

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10769

10769 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني محمد بن الحسين نا عبد الله بن مسلم بن زياد الهمداني قال : سمعت عمر بن ذر يقول : ورث فتى من الحي دارا عن أبائه و أجداده فهدمها ثم ابتناها فشيدها فأتى في منامه فقيل له : ( إن كنت تطمع بالحياة فقد ترى أرباب دارك ساكني الأموات ) ( أن تحسن من الأكارم ذكرهم خلت الديار و بادت الأصوات ) قال : فأصبح و الله الفتى متعظا و أمسك عن كثير مما كان يصنع و أقبل على نفسه

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد الله صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالد نیا نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن حسین نے ان کو عبداللہ بن مسلم نے ابن زیاد الھمدانی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عمرو بن ذر سے وہ کہتے تھے کہ ایک نوجوان شخص محلے میں سے ایک حویلی کا وارث بنا اپنے باپ دادا سے اس نے اس کو توڑا پھر گھر بنا لیا اور اس کو مضبوط تر بنا یاوہ آباؤ اجداد ان کو خواب میں نظر آئے اور اس سے آکر کہنے لگے۔ شعر جن کا مفہوم کچھ یوں ہے۔ اگر تو زندگی کا طمع رکھتا ہے تو تو اپنی اس حویلی کے سابقہ مالکان کو اور اس کے رہائشیوں کو دیکھ کہ وہ مرچکے ہیں۔ اگر تو بزرگوں اور بڑوں کے ذکروں کو محسوس کرے تو دیکھ کہ اس کے رہنے والے اس کو ویران کر گئے ہیں اور یہی شہر وہ چھوڑ گئے ہیں کہ مر گئے ۔ کہتے ہیں کہ اس نوجوان نے صبح کی تو اس نے نصیحت قبول کر لی اور بہت سارے غلط کاموں سے اور ارادوں سے باز آ گیا اور اپنے نفس کی اصلاح کی طرف متوجہ ہو گیا۔

ورث فتى من الحي دارا ← عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ← عبد الله بن مسلم بن زياد الهمداني ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10769

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10770

10770 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا حاجب بن أحمد نا محمد بن حماد نا أبو ضمرة أنس بن عياض الليثي قال : سمعت زيد بن أسلم يقول : بلغني أنه رئيت ضبع و أولادها رابضة في حجاج عين رجل من العمالقه

ہمیں خبر دی ابو طا ہر فقیہ نے ان کو حاجب بن احمد نے ان کو محمد بن حماد نے ان کو ابو ضمر ہ انس بن عیاض لیثی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنازید بن اسلم سے وہ کہتے ہیں مجھے خبر پہنچی کہ میں نے دیکھا صبح کو لکڑ بگڑ کو اپنے بچوں کے ساتھ عمالقہ کے ایک آدمی کے سامنے زمین میں اپنی جگہ بنا رہی تھی ۔

زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← أَبُو ضمرة أنس بن عياض الليثي، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10770

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10771

10771 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس هو الأصم نا الحسن بن مكرم نا أبو النضر نا أبو خيثمة نا أبو إسحاق الهمداني عن نوف قال : كان سرير عوج الذي قتله موسى عليه السلام كان طول سريره ثمانمائة ذراع و عرضه أربعمائة ذراع و كان موسى عشرة أذرع و عصاه عشرة أذرع و وثبته حين وثب عشرة أذرع فضربه فأصاب كعبه فخر على نيل مصر فجسره الناس عاما يمرون على صلبه و أضلاعه

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو ابو النضر نے ان کو ابو خثیمہ نے ان کو ابو اسحٰق ہمدانی نے ان کو نوف نے وہ کہتے ہیں کہ سریر عوج نامی شخص جس کو موسیٰ علیہ السلام نے قتل کر دیا تھا۔ اس کی چار پائی کی لمبائی آٹھ سو ہاتھ تھی اور ان کی چوڑائی چارسو ہاتھ تھی۔ اور موسیٰ علیہ السلام دس ہاتھ لمبے تھے اور ان کا عصا اور لاٹھی دس ہاتھ لمبی تھی۔ اور ان کا اچھلنا اور چھلانگ لگا نا بھی دس ہاتھ ہوتی تھی۔ جب وہ چھلانگ لگاتے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان کو مارا تو ان کا ڈنڈا عوج (کافر) کے ملنے تک پہنچا تھا لہٰذ اوہ نیل مصر میں گھر گیا اور لوگوں نے ایک سال تک اس کو پل بنادیا تھا لوگ اس کی پشت پر اور پسلیوں پر گزرتے رہے۔

نوف ← أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو النَّضْرِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10771

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10772

10772 - أخبرنا محمد بن موسى نا أبو العباس الأصم نا يحيى بن أبي طالب نا بكر بن بكار نا عبد الله بن عون قال : بنى عبد الله بن محمد بن سيرين بناء فزخرفه قال : فذكر ذلك لمحمد فقال : ما أعلم على رجل بأسا أن يبني بناء يلتمس جماله و هذا في الإباحة

ہمیں خبر دی محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو یحیی ٰبن ابو طالب نے ان کو بکربن بکار نے ان کو عبد اللہ بن عون نے وہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن محمد بن سیرین نے ایک گھر بنایا اور اس کو آراستہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بات محمد سے ذکر کی گئی تو انہوں نے فرمایا میں نہیں جانتا کسی آدمی پر کوئی گناہ یہ کہ وہ گھر بنائے اور اس کا جمال اور خوبصورتی تیار کرے اور یہ اباحت اور جواز کے درجے میں ہے۔

ذلك لمحمد ← بنى عبد الله بن محمد بن سيرين بناء فزخرفه ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ، ← بكر بن بكار ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10772

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10773

10773 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن إسحاق الصيدلاني نا أحمد بن سهل بن بحر نا حرمله بن يحيى أنا ابن وهب أخبرني يحيى بن أيوب عن زبان بن قائد عن سهل بن معاذ عن أبيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من بنى بنيانا في غير ظلم و لا اعتداء كان أجره جاريا عليه ما انتفع به أحد في خلق الرحمن قال الإمام أحمد : و هذا إن صح فيحتمل أن يكون في بناء الرباطات و فيما لا بد منه من بناء يكنه من الحر و البرد دون بناء يراد به الزينة فقط و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو احمد بن اسحٰق صید لانی نے ان کو احمد بن سہل بن بحر نے ان کو حرملہ بن یحییٰ نے ان کو ابن و ہب نے ان کو خبر دی یحییٰ بن ایوب نے ان کو زبان بن قائد نے ان کو سہل بن معاذ نے اپنے والد سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کوئی عمارت بنائے بطور ظلم اور ناحق کے نہ ہو اور نہ ہی کسی پر تعدی کرے اس کا اجر اس پر جاری رہے گا جب تک اس سے کوئی فائدہ واٹھاتا رہے گا اللہ کی مخلوق میں سے امام احمد نے فرمایا اگر یہ روایت صحیح ہو تو احتمال رکھتی ہے کہ بنیاد اور عمارت سے مراد در بار اور سرائے وغیرہ مراد ہو۔ اور اس میں بھی اس قدر تعمیر مراد ہوگی جس کی تعمیر انتہائی ضروری ہو جو اس کو گرمی سردی سے بچائے وہ تعمیر مراد نہیں ہے جس کا مقصد محض زینت اور خوبصورتی ہو فقط۔ واللہ اعلم ۔

أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، ← زبان بن قائد ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ بَحْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّيْدَلَانِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10773

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في الزهد · حديث 10774

10774 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان نا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا نا أبو مسلم الحراني نا مسكين بن بكير عن محمد بن مهاجر عن يونس بن ميسره الجبلاني قال : ليس الزهادة في الدنيا بتحريم الحلال و لا بإضاعة المال و لكن الزهادة في الدنيا أن تكون بما في يد الله عز و جل أوثق منك بما في يدك و أن يكون حالك في المصيبة و حالك إذا لم تصب بها بسوء و أن يكون مادحك و ذامك في الحق سواء

ہمیں خبر دی ابوالحسن بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ بن محمد بن الدنیا نے ان کو ابومسلم حرانی نے ان کو مسکین بن بکیر نے ان کو محمد بن مہاجر نے ان کو یونس بن میسر جیلانی نے وہ فرماتے ہیں کہ دنیا سے بے رغبتی اور تارک الدنیا ہوتا اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہر الینا اور ان کے استعمال سے رک جانے کا نام نہیں ہے اور نہ ہی مال کو ضائع کر دینے کا نام ہے۔ بلکہ دنیا میں زاہد ہونا اور تارک دنیا ہونا یہ ہے کہ جو کچھ اللہ کے قبضے میں اور ہاتھ میں ہے اس پر اس سے زیادہ وثوق اور یقین آپ کو ہو جائے جو تیرے اپنے ہاتھ میں ہے اور تیرے قبضے میں ہے۔ اور یہ کہ مصیبت کے وقت تیرا حال اور بغیر مصیبت اور خوشی کے وقت تیرا حال برابر ہو۔ اور حق کے معاملے میں تیری تعریف کرنے والا اور تیری برائی کرنے والا تیرے نزدیک برابر ہوں۔ ( یعنی حق کے معاملے میں تعریف کرنے والے کی تعریف سے اور برائی کرنے والے کی برائی سے آپ بے پرواہ ہو جائیں۔)

يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُبْلانِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، ← مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← أبو مسلم الحراني ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Separation in asceticism · Hadith 10774

chevron_left Previous
1…44454647
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood