Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10751

10751 - قال : و أنا أبو بكر نا الحسين بن الصباح نا علي بن شقيق عن عبد الله بن المبارك عن وهيب بن الورد قال : بنى نوح بيتا من قصب فقيل له لو بنيت غير هذا فقال : هذا كثير لمن يموت

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر حسین بن صباح نے ان کو علی بن شقیق نے ان کو عبد اللہ بن مبارک نے ان کو وھیب بن ورد نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام نے کانے (سرکنڈوں کا ) گھر بنایا تھا۔ ان سے کسی نے کہا کہ آپ اس سے علاوہ کوئی اچھا گھر بنائیے؟ انہوں نے فرمایا کہ جس نے مرنا ہے اس کے لئے یہی کافی ہے۔

هذا كثير لمن يموت ← بَنَى نُوحٌ بَيْتًا مِنْ قَصَبٍ فَقِيلَ لَهُ: لَوْ بَنَيْتُ غَيْرَ هَذَا ← وُهَيْبَ بْنَ الْوَرْدِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَلِيِّ بْنِ شَقِيقٍ، ← الحسين بن الصباح ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10751

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10752

10752 - قال : و نا أبو بكر حدثني أبو بكر محمد بن هاني حدثني أحمد بن شبويه حدثني سليمان حدثني عبد الله عن حرمله بن عمران عن كعب بن علقمة قال : أرسل عبد الله بن سعد بن أبي سرح إليه يعني إلى عرفه بن الحارث و كان عبد الله بنى بيتا يسأله عن بنيانه فقيل له لا تفعل فإنه لا يكظم على حرته فقال : ما تقول في بنائي هذا فقال : ما أقول أن كنت بنيته من مالك فقد أسرفت و الله لا يحب المسرفين و إن كنت بنيته من مال الله فقد خنت و الله لا يحب الخائنين قال : يقول أبو مسعود : إنا لله و إنا إليه راجعون

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر نے ان کو ابو بکر محمد بن ھانی نے ان کو احمد بن شبویہ نے ان کو سلیمان نے ان کو عبد اللہ بن حرملہ بن عمران نے ان کو کعب بن علقمہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن سعد بن ابو سرح نے عرفہ بن حارث کی طرف بندہ بھیجا۔ کیونکہ عبداللہ نے گھر تعمیر کیا تھاوہ ان سے اس کی تعمیر کے بارے میں پوچھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ کام نہ کریں۔ کیونکہ بے شک وہ اس کی گرمی کو نہیں چھپا سکیں گے۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ میری اس عمارت کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں کیا کہوں؟ اگر آپ نے اس کو اپنے مال سے بنایا ہے تو آپ نے اسراف اور فضول خرچی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ والله لا يحب المسرفین اللہ تعالی اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتے۔ اور اگر آپ نے اس کو بنایا ہے اللہ تعالیٰ کے مال میں سے تو پھر آپ نے اللہ کے مال میں خیانت کی ہے۔ اور والله لا يحب الخائنين اللہ تعالٰی خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا کہتے ہیں ابو مسعود نے سن کر کہا انا لله وانا اليه راجعون

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10752

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10753

10753 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد نا سعيد بن عامر عن جويريه بن أسماء عن ابن معدان قال : سعيد بن عامر و قد رأيت أبا معدان عن عون بن عبد الله : أن ملكا ابتنى مدينته فتنوق في بنائها و صنع طعاما و دعا الناس فأقعد ناسا عليها على أبوابها يسألون كل من مر بهم هل رأيتم عيبا قالوا : رأينا عيبين اثنين فحبسوهم و دخلوا على الملك فذكروا له ذلك قال : ما كنت أرضى بواحدة فادخلوها فأدخلوهم عليه قال : رأيتم عيبا قالوا : رأينا عيبين اثنين قال : ما كنت أرضى بواحدة فما هما ؟ قالوا : يخرب و يموت صاحبها قال : فتعلمون دارا لا يخرب و لا يموت صاحبها قالوا : نعم الجنة قال : فدعوه فاستجاب فقال : إن خرجت معكم علانية لم يدعني أهل مملكتي فواعدهم ميعادا فتنكر و خرج معهم و كان يتعبد معهم قال : فبينا هو ذات يوم إذ قال : عليكم السلام قالوا : ما لك ؟ رأيت منا شيئا تكرهه ؟ قال لا و لكن أنتم تعرفون حالي التي كنت عليها فانتم تكرمونني لذلك انطلق فأكون مع قوم لا يعرفون حالي التي كنت عليها فأتعبد معهم

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو جو یر یہ بن اسماء نے ابن معدان سے ۔کہا سعید بن عامر نے کہ تحقیق میں نے دیکھا ہے ابو معدان کو وہ روایت کرتے ہیں عون بن عبد اللہ سے کہ ایک بادشاہ نے اپنا ایک ہر آباد کیا۔ اسکی تعمیر میں اس نے بہت سی دولت اور سرمایہ خرچ کیا ۔ پھر اس کے بعد اس نے عام لوگوں کے لئے ایک دعوت کھلانے کا انتظام کیا اور لوگوں کو بلایا اور شہر کے دروازے پر کچھ لوگوں کو بٹھایا کہ وہ ہر اس شخص سے جو ان کے پاس گذرے یہ پوچھیں کہ کیا تمہیں اس میں کوئی عیب اور کوئی کمی اور خرابی نظر آتی ہے ؟لہٰذاوہ پوچھتے رہے اور سب لوگ گذرنے والے یہ کہتے رہے کہ کوئی عیب نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ان سب کے آخر میں کچھ ایسے نوجوان آئے جن کے اوپر چادر یں لپیٹی ہوئی تھیں ان سے پوچھنے والے نے پوچھا کہ کیا تم نے اس میں کوئی عیب دیکھا ہے انہوں نے بتایا کہ جی ہاں اس میں دو عیب ہیں جو ہم نے دیکھے ہیں لہٰذا پوچھنے والوں نے ان نو جوانوں کو روک لیا اور بادشاہ کو جا کر اطلاع دے دی کہ کچھ نو جوان یہ کہتے ہیں کہ اس میں دو عیب ہیں بادشاہ نے کہا کہ میں تو ایک عیب بھی دیکھنا گوارا نہیں کرتا دو عیب کیوں ہیں؟ لا ؤان کو چنا نچہ ان کو پیش کیا گیا بادشاہ نے ان سے پوچھا کہ کیا تم نے اس میں کوئی عیب دیکھا ہے انہوں نے وہی جواب دیا کہ جی ہاں دو عیب ہیں۔ اس نے کہا میں تو ایک عیب بھی پسند نہیں کرتا دو کیوں رہیں؟ بتائیے وہ کون کون سے ہیں؟ نوجوان نے بتایا کہ ایک تو یہ ہے کہ یہ ویران ہو جائے گا۔ دوسرا عیب یہ ہے کہ اس کا مالک مرجائے گا۔ بادشاہ نے پوچھا کہ کیا تم لوگ کوئی ایسی حویلی اور گھر بتا سکتے ہو؟ جو کبھی بھی ویران نہ ہو۔ اور اس کا مالک بھی نہ مرے۔ انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں وہ جنت ہے۔ اس نے کہا کہ میرے لئے اس کی دعا کرو اس نے آمین کہی پھر انہوں نے اس کو دعوت دی اور بادشاہ نے ان کی دعوت مان لی ۔ اور بادشاہ نے کہا کہ اگر میں تمہارے ساتھ ظاہر اًسب کے سامنے نکلوں تو میری حکومت اور مملکت والے مجھے نہیں چھوڑیں گے چنانچہ اس نے ان کو کسی وقت کا وعدہ دیا اس نے خلوت پا کر ان کے ساتھ کوچ کیا اور جا کر ان کے ساتھ عبادت کرنے لگا۔ ایک دن وہ اسی حالت میں تھا کہ اچا نک اس کو خیال آیا اور اس نے ان سے کہا کہ سلام علیکم میں آپ لوگوں کو چھوڑ کر جارہا ہوں ۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ نے ہمارے اندر کوئی عیب دیکھا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں بلکہ آپ لوگ میری حالت اور کیفیت کو خوب جانتے ہو جس پر میں تھا لہٰذا اب تم لوگ اس کی وجہ سے میرا اکرام کر رہے ہو ۔ اسی لئے میں جارہا ہوں کہ میں ایسے لوگوں کے ساتھ مل کر عبادت کروں اور جا کر رہوں جو میرے حال سے واقف نہ ہوں ۔ لہٰذاوہ ان کو چھوڑ کر چلا گیا ۔

عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← سعيد بن عامر و قد رأيت أبا معدان ← ابْنُ مَعْدَانَ، ← جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10753

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10754

10754 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الزاهد الأصبهاني نا إسماعيل بن إسحاق القاضي نا بحير بن عبد الحق نا شريك بن عبد الله عن عبد الملك بن عمير : أن الحجاج بن يوسف لما بنى حصن واسط سأل ما عيبها قالوا : لا نعرف عيبها و سندلك على رجل يعرف عيبها يحيى بن يعمر قال : فبعث إليه ليستقدمه فسأله عن عيبها فقال : بنيتها عن غير ملك و يسكنها غير ولدك فغضب الحجاج و قال : ما حملك على ذلك قال : ما أخذ الله على العلماء في علمهم أي و لا يكتمون الله حديثا أو آية غيرها من القرآن فنفاه إلى خراسان

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ زاہد اصفہانی نے ان کو اسماعیل بن اسحاق قاضی نے ان کو بحر بن عبد الحق نے ان کو شریک بن عبد اللہ نے ان کو عبد الملک بن عمیر نے کہ حجاج بن یوسف نے جب واسط کا قلعہ بنوایا ۔ تو اس نے لوگوں سے پوچھا کہ اس میں عیب کیا ہے؟ لوگوں نے اس سے کہا کہ ہمیں تو اس میں کوئی عیب نظر نہیں آتا ہم آپ کو ایک دوسرے آدمی کے بارے میں بتاتے ہیں جو اس کا عیب سمجھے گا اور آپ کو بتائے گاوہ ہے حضرت یحییٰ بن یعمرو کہتے ہیں کہ اس نے نمائندہ بھیجا کہ وہ جا کر ان کو لے آئے ان کے پاس اور وہ اس سے اس کا عیب دریافت کریں۔ چنانچہ وہ لائے گئے انہوں نے دیکھ کر فرمایا کہ اس کی بنیا دو عمارت بھی تیری ملکیت میں نہیں ہے اور تیری اولا دبھی اس میں نہیں رہے گی دوسرے ان کے علاوہ رہیں گے۔ حجاج نے ناراض ہو کر کہا کہ آپ کو یہ بات کرنے کی کیسے جرأت ہوئی ؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ نے علماء پر ان کے علم میں گرفت نہیں فرمائی ہے۔ ولا یکتمون اللہ حدیثا۔ یا کوئی دوسری آیت پڑھی قرآن میں سے۔ لہٰذا حجاج نے ان کو خراسان کی طرف شہر بدر کر دیا اور ملک بدر کر دیا۔

عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شريك بن عبد الله ← بحير بن عبد الحق ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10754

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10755

10755 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا القاسم يوسف بن صالح النحوي يقول : سمعت أبا بكر محمد بن يحيى الصولي يقول : قصدت عبد الله بن المعتز فوجدته مشغولا بمخاطبة القوام على بناء داره في أمر العمارة ثم أنشدني في أثر فراغه : ( الأمن لنفسي و أشجانها و دار تداعت بعمرانها ) ( إسود وجهي بتبيضها و أخرب كيسي بعمرنها )

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوالقاسم یوسف بن صالح نحوی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر محمد بن یحییٰ صولیٰ سے وہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن معتز کے پاس ملنے کے لئے گیا تو وہ اس وقت کچھ لوگوں کے ساتھ محو گفتگو تھے اپنے گھر کی تعمیر کے بارے میں جب وہ بات کر کے فارغ ہوئے تو انہوں نے مجھے کچھ شعر سنائے۔ جس کا خلاصہ مطلب یہ تھا سکون اور امن تو میرے دل کے لئے اور اس کی شاخوں اور ٹہنیوں کے لئے اور یہ ایسا گھر ہے جو اپنی تعمیر و آباد ہونے کے باوجود مائل بہ ویرانی ہے۔ اس کو سفید کرتے کرتے اور چکاتے چمکاتے میرا اپنا چہرہ سیا ہ پڑ گیا ہے اور اس کو آباد کرتے کرتے میری جیب ویران ہو گئی ہے۔

أبا بكر محمد بن يحيى الصولي ← أبا القاسم يوسف بن صالح النحوي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10755

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10756

10756 - قال أبو القاسم و قال لي : بعض من اختار من المشايخ له قرأ على جدار بقصر شيرين ( بنوا و قالوا لا نموت و للخراب بنى البنى ) ( ما عاقل فيما علمت إلى الزمان يطمئن )

فرماتے ہیں کہ کہا ابو القاسم نے اور کہا مجھ سے میرے بعض مشائخ نے کہ اس نے قصر شیرین کی دیوار پر لکھا ہوا یہ شعر پڑھا۔ (اس عمارت کو بنانے والوں نے ) اس کو بنایا ہے اور انہوں نے یہ سمجھا ہے کہ وہ مریں گے نہیں حالانکہ ویران ہونے کے لئے انہوں نے عمارت بنائی ہے۔ جہاں تک میں سمجھا ہوں وہ زمانے سے مطمئن ہو گئے ہیں (یعنی زمانے پر اعتبار کر بیٹھے ہیں۔)

أبو القاسم و

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10756

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10757

10757 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو علي الحسين بن صفوان نا عبد الله بن محمد القرشي قال : أنشدني محمد بن الحسن من قوله : ( زينت بيتك جاهدا و نحيته و لعل غيرك صاحب البيت ) ( فالمرء مرتهن بسوف و ليتني و ملاكه في السوف و الليت ) ( من كانت الأيام سائرة به فكأنه قد حل بالموت ) ( لله در فتى يدبر أمره بعدي و راح مبادرا لفوت )

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو علی حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ بن محمد قرشی نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے شعر سنائے محمد بن حسن نے اپنے کلام میں سے جن کا مطلب کچھ اس طرح ہے آپ نے اپنے گھر کو انتہائی سعی و جہد کے ساتھ تراشا ہے اور مزین اور آراستہ کیا ہے جیسے کہ تیرے علاوہ دوسرا کوئی بھی تیرے گھر کا مالک نہیں بنے گا ( گویا تو ہی ہمیشہ ہمیشہ اس کا مالک بنا ر ہے گا ) حالانکہ انسان تو محض اسی جملے کا رہن ہے کہ عنقریب یہ کروں گا، اور کاش کہ میں ایسا کر لیتا ویسا کر لیتا۔ الغرض خلاصہ بات صرف اتنی ہے کہ وہ سوف اور لیت ( جلدی یہ یہ کرلوں گا۔ کاش کہ ایسا ہو جاتا ) میں ہی گھرارہتا ہے۔ وہ شخص کہ ایام اس کے ساتھ گردش کرنے والے ہوں گویا کہ وہ موت کے ساتھ اتر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس نوجوان کو نیکی دے جو میرے بعد اس کے انتظام کو سنبھالے اور اور شام اس طرح کرے کہ موت کے لئے جلدی تیاری کرنے والا ہو۔

عبد الله بن محمد القرشي ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10757

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10758

10758 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا عبد الله محمد بن يعقوب الشيباني يقول : سمعت محمد بن عبد الوهاب يقول : سمعت جعفر بن عون يقول : سمعت مسعر بن كدام ينشد : ( و مشيدا دارا ليسكنه سكن القبور و داره لم يسكن )

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عبد اللہ محمد بن یعقوب شیبانی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن عبد الوہاب سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا جعفر بن عون سے وہ کہتے ہیں کہ مسعر بن کدام سے وہ شعر کہتے تھے ۔ جس کا مطلب یہ ہے۔ جس شخص نے اپنے گھر کو مضبوط سے مضبوط تر اس لئے بنایا ہے تا کہ وہ اس میں سکونت کرے اس نے قبروں میں جا کر سکونت کر لی اور اپنی حویلی میں سکونت نہ کرے گا۔

جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أبا عبد الله محمد بن يعقوب الشيباني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10758

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10759

10759 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا عبد الله الجرجاني في مواعظه ينشد : ( أحمد الله كل من سيموت لخراب البيوت تبنى البيوت ) ( ليس يبقى إلا الذي خلق الخلق هو الدائم الذي لا يموت )

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوعبداللہ جرجانی سے وہ اپنے وعظ میں یہ شعر پڑھتے تھے۔ میں اللہ کی تعریف کرتا ہوں کہ ہر کوئی عنقریب مر جائے گا اور گھر تو ویران ہونے کے لئے ہی تعمیر کئے جاتے ہیں۔ اس ذات کے سوا کوئی بھی باقی نہیں رہے گا جس نے مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ وہی ہمیشہ رہنے والا ہے جو کبھی نہیں مرے گا۔

أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10759

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10760

10760 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار أنا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني محمد بن الحسين حدثني بدل بن المحبر نا هشام بن زياد قال : سمعت الحسن و نحن في جناده رحم الله سابق البربري حيث يقول : ( و للموت تغدوا الوالدات سخائها كما لخراب الدهر تبنى المساكن )

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابوبکر بن ابوالدنیا نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی محمد بن حسین نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی بدل بن محبر نے ان کو ہشام بن زیاد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسن سے اور ہم اس کی جناد میں تھے اللہ رحم فرمائے سابق بریری کو اس حیثیت سے جیسے اس نے یہ فرمایا ہے۔ صبح کو جنم لینے والے نومولود بچے موت کے لئے سخاوت کرتے ہوئے صبح کرتے ہیں جیسے گھر اور مکان زمانے کے خراب اور ویران کرنے کے لئے بنائے جاتے ہیں۔

و للموت تغدوا الوالدات سخائها كما لخراب الدهر تبنى المساكن ← الحسن و نحن في جناده رحم الله سابق البربري حيث ← هشام بن زياد ← بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10760

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10761

10761 - قال : و أنا أبو بكر نا علي بن الجعد أخبرني أبو إسحاق الشيباني عن عباد بن راشد قال : خرجنا مع الحسن فنظر إلى بعض بناء المهالبه فقال : يا سبحان الله رفعوا الطين و وضعوا الدين ركبوا البراذين و اتخذوا البساتين و تشبهوا بالدهاقين فذرهم فسوف يعلمون

کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر نے ان کو علی بن جعد نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ابو اسحاق شیبانی نے عباد بن راشد سے وہ کہتے ہیں ہم لوگ حضرت حسن (بصری) کے ساتھ باہر نکلے انہوں نے ایک پرشکوہ عمارت پر نظر ڈالی اور فرمایا اے سبحان اللہ ان لوگوں نے کیچڑ و گارے کو اونچا کر دیا ہے اور دین کو نیچے کر دیا ہے خچروں پر سوار ہو گئے ہیں اور باغ حاصل کر لیے ہیں اور کسانوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرلی ہیں پس چھوڑئیے ان کو ( ان کے حال پر ) عنقریب جان لیں گے (یعنی ان کو خود ہی پتہ چل جائے گا۔)

خرجنا مع الحسن فنظر إلى بعض بناء المهالبه ← عَبَّادِ بْنِ رَاشِدٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10761

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10762

10762 - قال : و أنا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني محمد بن عبد الله القرشي نا المغيره بن عبد الله العتكي أنا أبو هاشم صاحب الزعفراني عن الحسن : أنه مر بقصر أوس فقال : لمن هذا القصر قالوا : هذا قصر أوس قال علي : ود أوس أن له بدل هذا القصر في الآخرة رغيف

فرماتے ہیں کہ نہیں خبر دی ابو بکر بن ابوالد نیا نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی محمد بن عبداللہ قرشی نے ان کو مغیرہ بن عبد اللہ عتکی نے ان کو ابو ہاشم صاحب زعفرانی نے ان کو حسن نے کہ وہ قصر اوس سے گذرے تو پوچھا کہ یہ کس کا محل ہے لوگوں نے کہا کہ قصر اوس ہے۔ اوس یہ پسند کرے گا آخرت میں کہ اس کو اس محل کے بدلے میں ایک روٹی مل جائے ۔

علي ود أوس أن له بدل هذا القصر في الآخرة رغيف ← هذا قصر أوس ← الحسن أنه مر بقصر أوس فقال لمن هذا القصر ← أَبُو هَاشِمٍ، صَاحِبُ الزَّعْفَرَانِيِّ ← المغيره بن عبد الله العتكي ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيِّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10762

chevron_left Previous
1…4344454647
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood