Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10739

10739 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن الفضل بن نظيف المصري بمكة نا أبو الفضل العباس بن محمد بن نصر الرافقي املاء نا هلال ابن العلاء بن هلال نا أبي نا عبيد الله بن عمرو عن عبد الملك بن عمير عن رجاء بن حيوة عن أبي الدرداء قال : إنما العلم بالتعلم و الحلم بالتحلم و من يتحرى الخير يعطه و من يتوقى الشر يوقه و ثلاثة لا ينالون الدرجات العلى من تكهن أو استقسم أو رجع من سفره طيره و قال : أبو الدرداء يا أهل دمشق اسمعوا قول أخ لكم ناصح ما لي أراكم تجمعون ما لا تأكلون و تبنون ما لا تسكنون و تأملون ما لا تدركون و أن من كان قبلكم جمعوا كثيرا و بنوا شديدا و أملوا طويلا فأصبح جمعهم بورا و مساكنهم و ما لهم غرورا

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ محمد بن فضل بن نظیف مصری نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو الفضل عباس بن محمد بن نصر رافقی نے بطور املاء کے ان کو ہلال بن علاء بن ہلال نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبید اللہ بن عمرو نے ان کو عبد الملک بن عمیر نے رجاء بن حیوۃ سے اس نے درداء سے سوائے اس کے نہیں کہ علم ‘علم سیکھنے سے آتا ہے اور حلم وحوصلہ بردبار بننے سے آتا ہے۔ اور جوشخص خیر کا متلاشی ہوتا ہے اسی کوملتی ہے اور جو شخص شر سے بچنے کی کوشش کر تاہےو ہی اس سے بچایا جاتا ہے۔ تین شخص درجات کی بلندی کو نہیں پہنچ سکتے۔ وہ شخص جو غیب کی خبریں دیتا ہے۔(کا ہن) یا قسمت کا حال بتاتا ہے (قسمت کے تیر نکالنے والا ) اور وہ شخص جو بد شگونی پکڑتے ہوئے سفر سے واپس آ جاتا ہے۔ اور حضرت ابو درداء نے فرمایا۔ اے اہل دمشق اپنے بھائی کا قول سنو جو تمہارے لئے خیر خواہ ہے کیا بات ہے میں تم لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ تم مال جمع کرتے ہو جس کو تم کھا نہیں سکتے ہو اور تعمیر کرتے ہو جس میں تم رہائش نہیں کر سکتے ہو آرزوئیں ایسی کرتے ہو جن کوتم پا نہیں سکتے ہو۔ بے شک وہ لوگ جو تم سے پہلے گذرے میں انہوں نے بھی بہت سارامال جمع کیا تھا۔ اور سخت مضبوط عمارتیں بھی بنا ئیں تھیں اور نبی لمبی امیدیں بھی قائم کی تھیں نتیجہ یہ ہوا کہ جمع شدہ مال ہلاکت ثابت ہوا اور ان کے گھر اور ان کے مال غرور اور دھو کہ ثابت ہوئے۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبِي ← هلال ابن العلاء بن هلال ← أبو الفضل العباس بن محمد بن نصر الرافقي ← محمد بن الفضل بن نظيف المصري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10739

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10740

10740 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا عبد الرحمن بن يونس نا حاتم بن إسماعيل عن محمد بن عجلان عن أوس بن يزيد اللخمي : أن أبا الدرداء خرج من دمشق فنظر إلى الغوطة قد سقت أنهارها و غرست شجرا و بنيت قصورا فرجع إليهم فقال : يا أهل دمشق فلما أقبلوا عليه قال : ألا تستحيون ثلاث مرات تجمعون ما لا تأكلون و تأملون ما لا تدركون و تبنون ما لا تسكنون إلا أنه قد كان قبلكم قرون يجمعون فيوعون و تأملون فيطيلون و يبنون فيثقون فأصبح جمعهم يورا و أصبح أملهم غرورا و أصبحت منازلهم قبورا إلا أن عادا ملكت ما بين عدن و عمان نعماء و اموالا فمن يشتري مني مال عاد بدرهمين

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابوبکر بن ابوالد نیا نے ان کو عبد الرحمٰن بن یونس نے ان کو حاتم بن اسماعیل نے ان کو محمد بن عجلان نے ان کو اوس بن یزید لخمی نے ان کو ابو درداء نے کہ وہ دمشق سے نکلے تو باہر انہوں نے مقام غوطہ کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق اس کی نہریں سیراب کر رہی تھیں۔ درخت لگ رہے تھے محلات بن رہے تھے آپ ان کی طرف چلے گئے اور واپس جا کر وعظ فرمایا اے اہل دمشق (جب وہ لوگ ان کے پاس گئے ) فرمایا کیا تمہیں شرم نہیں آتی ؟ تین بار یہی جملہ فرمایا۔ اس قدر جمع کرتے ہو جس کو تم کھا نہیں سکتے ہو امیدیں وہ قائم کرتے ہو جنہیں تم پا نہیں سکتے ہو محل ایسے بناتے ہو جن میں تم سکونت نہیں کر سکتے ہو خبر دار تم سے پہلے لوگ ایسے زمانے ہو گذرے ہیں کہ وہ مال جمع کرتے تھے اور اس کی نگہداشت کرتے تھے۔ اور امیدیں باندھتے تھے اور خوب لمبی لمبی آرزوئیں کرتے تھے ۔ اور عمارتیں بناتے تھے اور انہیں خوب مضبوط کرتے تھے نتیجۃً ان کا جمع کردہ مال ہلاکت بن گیا۔ اور ان کی امیدیں دھو کہ ثابت ہوئیں اور ان کے گھر قبریں بن گئے ۔ خبر دار قوم عاد کو (دیکھ لو ) عدن سے عمان تک کے مالک تھے اس کے درمیان جتنی نعمتیں تھیں اور مال تھے ۔ آج مجھ سے قوم عاد کا مال دو درہم کے بدلے میں کوئی ہے جو خرید کر لے؟

مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10740

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10741

10741 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو نا أبو العباس الأصم نا يحيى بن أبي طالب أنا يزيد بن هارون انا قيس بن الربيع عن محمد بن عبد الله المرادي عن عمرو بن مره عن عبد الله بن سلمه قال : مر عمار بن ياسر على ابن مسعود و هو يؤسس داره فقال : كيف ترى يا أبا اليقظان قال : أراك بنيت شديدا و أملت بعيدا و تموت قريبا

ہمیں خبر دی ابوسعید بن ابو عمر نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو قیس بن ربیع نے ان کو محمد بن عبداللہ مرادی نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو عبد اللہ بن سلمہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے جب کہ وہ اپنے گھر کی بنیاد اٹھارہے تھے انہوں نے فرمایا کیا دیکھتے ہیں آپ اے ابوالیقظان؟ وہ کہتے ہیں کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ مضبوط عمارت بنا رہے ہیں اور دور کی آرزو کر رہے ہیں اور آپ تو عنقریب وفات پا جائیں گے۔

كَيْفَ تَرَى يَا أَبَا الْيَقْظَانِ ← مر عمار بن ياسر على ابن مسعود و هو يؤسس داره ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُرَادِيِّ، ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10741

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10742

10742 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أحمد بن سهل ثنا إبراهيم بن معقل نا حرملة نا ابن وهب قال : سمعت مالكا يقول : كان سلمان الفارسي يعمل الخوص بيده و لا يقبل من أحد شيئا و كان يعيش به و لم يكن له بيت إنما كان يستظل بظل الجدر و الشجر و أن رجلا قال له : أنا ابني لك بيتا قال : ما لي به حاجة قال : فما زال الرجل يردد عليه و يأبى سلمان حتى قال الرجل : أني أعرف البيت الذي يوافقك قال : فصفه لي قال : ابني لك بيتا إذا أنت قمت فيه أصاب رأسك سقفه و إذا أنت مددت فيه رجليك أصابت الجدار قال : نعم فبنى له

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو خبردی احمد بن سہل نے ان کو حدیث بیان کی ابراہیم بن معقل نے ان کو حرملہ نے ان کو ابن وھب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا مالک سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی اپنے ہاتھ سے جھونپڑے بناتے تھے اور وہ کسی سے کوئی خدمت وغیرہ قبول نہیں کرتے تھے اور وہ اسی طرح زندگی گذارتے تھے ان کا کوئی گھر وغیرہ نہیں تھا سایہ حاصل کرنے کے لئے وہ درختوں اور دیواروں سے سایہ حاصل کرتے تھے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا میں آپ کے لئے ایک گھر بنا دیتا ہوں۔ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے وہ آدمی اسی بات پر بار بار اصرار کرتارہا اور حضرت سلمان فارسی برابر انکار کرتے رہے یہاں تک کہ اس آدمی نے کہا میں ایسا گھر جانتا ہوں جو اس کو موافق آئے گا۔ انہوں نے فرمایا کہ میرے سامنے اس کی کیفیت بیان کریں۔ اس شخص نے کہا کہ میں ایسا گھر آپ کے لئے بناؤں گا کہ آپ جب اس کے اندر کھڑے ہوں تو آپ کا سر اس کی چھت تک پہنچ جائے اور آپ جب اس میں اپنے پیر دراز کریں تو وہ دیوار کے ساتھ لگ جائیں۔ انہوں نے فرمایا کہ جی ہاں؟ پھر اس شخص نے ایسا ہی بنا دیا۔

مَالِکًا ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← إبراهيم بن معقل ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10742

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10743

10743 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا الحسن بن يحيى أنا عبد الرزاق أنا معمر عن يزيد بن أبي زياد قال : قال حذيفة لسلمان : ألا تبني لك مسكنا يا أبا عبد الله قال : لم تجعلني ملكا أو تجعل لي بيتا مثل دارك التي بالمدائن قال : لا و لكن نبني لك بيتا من قصبه و نسقفه بالبردي أو بالبوري إذا قمت كاد أن يصيب رأسك و إذا نمت كاد أن يمس طرفيك قال : فكأنك كنت في نفسي

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ نے ان کو ابو بکر بن ابوالد نیا نے ان کو حسن بن یحییٰ نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو یزید بن ابو زیاد نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ نے کہا سلمان فارسی سے کیا آپ اپنے لئے کوئی گھر نہیں بناتے ؟ اے ابو عبداللہ ۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھے بادشاہ نہ بنائیے۔ کیا آپ میرے لئے ایسا گھر بنا ئیں گے جیسے مدائن میں آپ کی حویلی ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں بلکہ ہم آپ کے لئے ایسا گھر بنا ئیں گے جو سرکنڈوں کا بنا ہوا ہو گا ہم اس کی چھت بردی کی یعنی سرکنڈے کی یا نر کل چٹائی کی ڈالیں گے۔ آپ جب کھڑے ہوں تو آپ کے سرکو لگے اور آپ جب سوئیں تو آپ کے سر پیروں سے دیوار یں ٹکرائیں۔ حضرت سلمان نے فرمایا : گویا کہ آپ میرے دل میں رہتے ہیں (یعنی بالکل میں بھی یہی چاہتا ہوں۔ )

لم تجعلني ملكا أو تجعل لي بيتا مثل دارك التي ← حذيفة لسلمان ألا تبني لك مسكنا يا أبا عبد الله ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَی ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10743

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10744

10744 - و أخبرناه عاليا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الغاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق : فذكره غير أنه قال : لم تجعلني ملك أتبني لي مثل دارك بالمدائن

ہمیں اس کی خبر دی سند عالی کے ساتھ ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن علی غانی نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو عبد الرزاق نے اس نے اس کو ذکر کیا ہے علاوہ ازیں اس نے کہا ہے کہ مجھے بادشاہ مت بنائیے کیا میرے لئے مدائن میں اپنی حویلی جیسا گھر بنا ئیں گے۔

لم تجعلني ملك أتبني لي مثل دارك بالمدائن ← عبد الرزاق فذكره غير أنه ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الغاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← عاليا أبو عبد الله الحافظ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10744

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10745

10745 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن المقري قالا : نا أبو العباس الأصم نا الخضر بن أبان نا سيار نا جعفر نا مالك بن دينار قال : قالوا لعيسى بن مريم : يا روح الله ألا نبني لك بيتا قال : بلى ابنوه على ساحل البحر قالوا : إذا يجيء الماء فيذهب به قال : أين تريدون تبنون لي على القنطرة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور ابومحمد بن مقری نے دونوں نے کہا ان کو ابو العباس اصم نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے ان کو مالک بن دینار نے اس نے کہا کہ لوگوں نے حضرت عیسیٰ بن مریم سے کہا اے روح اللہ کیا ہم آپ کے لئے گھر نہ بنادیں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ہاں ساحل سمندر پر بنائیے ۔ لوگوں نے کہا کہ جب پانی آئے گا تو اس کو تو وہ لے جائے گا۔ فرمایا پھر تم کہاں بنانا چاہتے ہو کسی پل کے اوپر ؟

أين تريدون تبنون لي على القنطرة ← إذا يجيء الماء فيذهب به ← بلى ابنوه على ساحل البحر ← لعيسى بن مريم يا روح الله ألا نبني لك بيتا ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن المقري

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10745

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10746

10746 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا سعيد المؤذن يقول : سمعت محمد بن إبراهيم التاجر يقول : سمعت إبراهيم بن سلمه بن زياد يقول : مر أحمد بن حرب برجل يبني دارا فقال : لمن هذه قال لي : قال أحمد : إلى متى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو سعید مؤذن سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن ابراہیم تاجر سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابراہیم بن سلمہ بن زیاد سے وہ کہتے ہیں احمد بن حرب ایک آدمی کے پاس گذرے وہ گھر بنا رہا تھا انہوں نے پوچھاکہ یہ کس کے لئے ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میرے لئے ہے انہوں نے فرمایا کہ کب تک؟

أحمد إلى متى ← لِي ← مر أحمد بن حرب برجل يبني دارا فقال لمن هذه ← إبراهيم بن سلمه بن زياد ← محمد بن إبراهيم التاجر ← أبا سعيد المؤذن ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10746

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10747

10747 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد نا العباس بن حمزة نا أحمد بن حرب نا حماد بن سليمان عن صالح المري عن جعفر بن زيد : عن أبي الدرداء أنه كان يقوم على أبواب المدائن الخربه يقول : يا مدينة أين أهلك أين سكانك أين ثم لا يخرج حتى يبكي و يبكي

ہمیں اس کی خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن احمد سعید نے ان کو ابو العباس بن حمزہ نے ان کو احمد بن حرب نے ان کو حماد بن سلیمان نے ان کو صالح مری نے ان کو جعفر بن زید نے ان کو ابو درداء نے کہ حضرت ابو دردا ، و یران شدہ شہروں کے دروازوں پر کھڑے ہو کر فرماتے تھے۔ اے شہر تو کہاں ہے ؟ تیرے رہنے والے کہاں ہیں ؟ تیرے مالک کہاں ہیں ؟ پھر آپ وہاں سے اس وقت تک نہ جاتے جب تک خودرو نہ لیتے اور دوسروں کو رولا نہ لیتے۔

أبي الدرداء أنه كان يقوم على أبواب المدائن الخربه ← جعفر بن زيد ← صالح المري ← حماد بن سليمان ← أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْزَةَ ← أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10747

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10748

10748 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار أنا أبو بكر بن أبي الدنيا نا إسحاق بن إبراهيم نا يحيى بن اليمان عن شعيب بن إسحاق قال : قيل لعيسى عليه السلام : لو اتخذت بيتا قال : يكيفينا خلقان من كان قبلنا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالد نیا نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کویحییٰ بن یمان نے ان کو شعیب بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے کہا گیا اگر آپ اپنے لئے کوئی گھر بنا لیں تو بہتر ہوگا۔ انہوں نے فرمایا ہم سے پہلے جو لوگ گذرے ہیں ان کے پرانے ہمارے لئے کافی ہیں۔

يكيفينا خلقان من كان قبلنا ← قيل لعيسى لو اتخذت بيتا ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← يحيى بن اليمان ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10748

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10749

10749 - قال : و أنا أبو بكر حدثني عبد الرحمن بن صالح نا محمد بن فضيل الرقي عن عطاء بن السائب عن ميسرة قال : ما بنى عيسى عليه السلام بيتا فقيل له : ألا تبني قال : : لا أترك بعدي شيئا من الدنيا أذكر به

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر نے ان کو حدیث بیان کی عبد الرحمٰن بن صالح نے ان کو محمد بن بن فضیل نے ان کو عطاء بن سائب نے میسر ہ سے وہ کہتے ہیں کہ عیسی ٰبن مریم علیہ السلام نے کوئی گھر نہیں بنایا تھا ان سے کسی نے کہا کیا آپ گھر نہیں بناتے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں اپنے بعد دنیا میں سے کوئی چیز نہیں چھوڑ نا چاہتا جس کے ساتھ میں یاد کیا جاؤں۔

لا أترك بعدي شيئا من الدنيا أذكر به ← ما بنى عيسى بيتا فقيل له ألا تبني ← مَيْسَرَةَ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← محمد بن فضيل الرقي ← عبد الرحمن بن صالح ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10749

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10750

10750 - قال : و أنا أبو بكر نا مجاهد بن موسى نا علي بن ثابت عن ابن المهاجر الرقي قال : لبث نوح في قومه ألف سنة إلا خمسين عاما في بيت من شعر فيقال له : نبي الله ابن بيتا فيقول : أموت اليوم أموت غدا

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر نے ان کو مجاہد بن موسیٰ نے ان کو علی بن ثابت نے ان کو ابن المہا جر رقی نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کے اندر پچاس کم ہزار سال تک بالوں کے بنے ہوئے ایک گھر میں رہے۔ ان سے کہا جاتا تھا کہ اے اللہ کے نبی گھر بنائیے۔ وہ کہتے تھے میں آج مر جاؤں گا میں کل مر جاؤں گا۔

أموت اليوم أموت غدا ← له نبي الله ابن بيتا ← لبث نوح في قومه ألف ← ابن المهاجر الرقي ← عَلِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10750

chevron_left Previous
1…424344…47
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood