Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10727

10727 - أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا حماد بن سلمة عن شعيب بن الحباب عن أبي العالية قال : بنى العباس غرفة فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ألقها قال : أنفق مثل ثمنها في سبيل الله قال : ألقها ثلاثا

ہمیں خبر دی ابو بکر محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو شعیب بن حباب نے ان کو ابو العالیہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عباس نے ایک کمرہ بنایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو گراد یجئے۔ اور اس کی قیمت کے برابر قیمت اللہ کی راہ میں خرچ کر وپیچھے اور تین بار فرمایا کہ اس کو گرادیجئے۔

ألقها ثلاثا ← أنفق مثل ثمنها في سبيل الله ← بنى العباس غرفة فقال النبي صلى الله عليه و سلم ألقها ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← شعيب بن الحباب ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10727

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10728

10728 - قال : و أنا عبد الله بن المبارك أخبرني حفص بن النضر السلمي حدثتني أمي أن عمران بن حصين : كان يكرهه و أنه لم يتخذ إلا غرفة لخزانته قال : حفص كراهة أن يشرف على الناس

فرمایا کہ ہمیں خبر دی عبداللہ بن مبارک نے ان کو خبر دی حفص بن نضر سلمی نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی میری امی نے یہ کہ عمران بن حصین اوپر بنانے کو نا پسند کرتے تھے۔ اور وہ جب بھی اوپر کوئی کمرہ یا بالا خانہ بناتے تو اس کو سامان رکھنے کے اسٹور کے طور پر استعمال کرتے تھے حفص نے کہا ہے کہ یہ بات وہ نا پسند کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو اوپر سے دیکھیں۔

عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10728

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10729

10729 - قال : و أنا أبو بكر نا سوار بن عبد الله نا مرحوم بن عبد العزيز نا القعقاع بن عمر و قال : صعد الأحنف بن قيس فوق بيته فأشرف على جاره فقال : سوءة سوءة دخلت على جاري بغير إذن لا صعدت فوق هذا البيت أبدا

فرماتے ہیں۔ کہ ہمیں خبر دی ابو بکر نے ان کو سوار بن عبداللہ نے ان کو مرحوم بن عبد العزیز نے ان کو قعقاع بن عمر نے وہ کہتے ہیں احنف بن قیس اپنے گھر کی چھت پر چڑ ھے اور اوپر سے انہوں نے اپنے پڑوسی کو دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ عیب عیب میں اپنے پڑوسی کے اوپر بغیر اجازت کے داخل ہوا ہوں آج کے بعد میں کبھی بھی اس گھر کی چھت نیز نہیں پڑھوں گا۔

صعد الأحنف بن قيس فوق بيته فأشرف على جاره ← القعقاع بن عمر و ← مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10729

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10730

10730 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا حميد بن غياث الرملي نا مؤمل نا حماد بن سلمة نا إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن عبد الرحمن بن أبي رافع أو ابن رافع عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ملك بباب من أبواب السماء يقول : من يقرض اليوم يجد غدا و ملك بباب آخر يقول : اللهم أعط منفقا خلفا و أعط ممسكا تلفا و ملك بباب آخر يقول : يا أيها الناس هلموا إلى ربكم فإن ما قل و كفى خير مما كثر و ألهى و ملك بباب آخر يقول : يا بني آدم لدوا للتراب و ابنوا للخراب

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حمید بن عیاش رملی نے ان کو مومل نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو اسحٰق بن عبداللہ بن ابو طلحہ نے اس نے عبد الرحمٰن بن ابو رافع نے یا کہا کہ ابن رافع نے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ایک فرشتہ ہے جو یہ کہتا رہتا ہے آج کون ہے جو قرض دےدے آنے والی کل صبح کو اس کو مل جائے گا اور دوسرے دروازے پر ایک اور فرشتہ ہے وہ یہ کہتا ہے کہ اے اللہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے کو اس کے پیچھے اور عطا فرما اور اللہ کی راہ سے خرچ روکنے والے کے مال کو ضائع فرما اور ایک دوسرے دروازے پر ایک فرشتہ یہ کہتا ہے اے لوگو! اپنے رب کے پاس جاؤ بے شک وہ مال جو قلیل ہو مگر پور اپڑ جائے وہ اس مال سے بہتر ہے جو کثیر ہومگر مالک کو غافل بنادے اور ایک فرشتہ دروازے پر یہ کہتا ہے اے اولا و آدم بچے جنومٹی میں دفن کرنے کے لئے اور عمارتیں بناؤ ویران اور تباہ کرنے کے لئے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عبد الرحمن بن أبي رافع أو ابن رافع ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← حميد بن غياث الرملي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10730

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10731

10731 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن عبد الله بن قريش أنا الحسن بن سفيان نا عمرو بن زرارة نا بكار الزيدي صاحب موسى بن عبيدة نا موسى بن عبيدة نا محمد بن ثابت عن أبي حكيم مولى الزبير : عن النبي صلى الله عليه و سلم : ما من صباح يصبحه العباد إلا و صارخ يصرخ يا أيها الناس لدوا للتراب و اجمعوا للفناء و ابنوا للخراب

ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمٰن سلمی نے ان کو ابو مسعود بن عبد اللہ بن قریش نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو عمرو بن زارہ نے ان کو بکار زیدی صاحب موسیٰ بن عبیدہ نے ان کو موسیٰ بن عبیدہ نے ان کو محمد بن ثابت نے ان کو ابو حکیم مولی ٰزبیر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ( آپ نے فرمایا ) ہر صبح کو جب بندے صبح کرتے ہیں تو ایک چیخ والا فرشتہ چیخ کر اعلان کرتا ہے اے لوگو مٹی کے لئے بچے جنو فنا کرنے کے لئے مال جمع کرو۔ اور تباہ اور ویران کرنے کے لئے عمارتیں بناؤ۔

أبي حكيم مولى الزبير ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ← موسى بن عبيدة ← بكار الزيدي صاحب موسى بن عبيدة ← عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرَيْشٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10731

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10732

10732 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي قالا : نا أبو العباس الأصم نا عباس الدوري نا قبيصة بن عقبة نا حماد بن سلمة نا سعيد بن جهمان من سفينة أبي عبد الرحمن عن أم سلمة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا ينبغي لرجل أن يدخل بيتا مزوقا

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور احمد بن حسن قاضی نے دونوں نے کہا ان کو ابو العباس اصم نے ان کو عباس دوری نے ان کو قبیصہ بن عقبہ نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو سعید بن جھمان نے سفینہ ابو عبد الرحمٰن نے ان کو ام سلمہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی آدمی کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ ایسے گھر میں داخل ہو جس میں پردے لگائے گئے ہوں۔ (یا جس پر کپڑوں کے ٹکڑے لگائے گئے ہوں۔)

أُمِّ سَلَمَةَ ← سعيد بن جهمان من سفينة أبي عبد الرحمن ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10732

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10733

10733 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا محمد بن العباس نا عفان بن مسلم نا حماد بن سلمة نا سعيد بن طهمان عن سفينة أبي عبد الرحمن : أن رجلا أضافه علي بن أبي طالب فصنع له طعاما فقالت فاطمة : لو دعونا رسول الله صلى الله عليه و سلم فأكل معنا فدعاه فوضع يده على عضادة الباب فرأى قراما في ناحية البيت فرجع فقالت فاطمة لعلي : ألحقه فقل له : ما رجعك فقال له : ما رجعك يا رسول الله قال : إنه ليس لي أن أدخل بيتا مزوقا

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبیدہ صفار نے ان کو محمد بن عباس نے ان کو عفان بن مسلم نے ان کو حمادین سلمہ نے ان کو سعید بن طہمان نے ان کو سفینہ بن ابو عبد الرحمٰن نے کہ حضرت علی نے ایک آدمی کی ضیافت کی اور اس کے لئے کھانا تیار کروایا اتنے میں سیدہ فاطمہ بنت رسول زوجہ علی نے کہا اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کھانے پر بلا لیتے تو بہت ہی اچھا ہوتا وہ ہمارے ساتھ کھا لیتے حضرت علی نے ان کو دعوت دے دی آپ تشریف لائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے کی دونوں چوکھٹوں پر ہاتھ رکھ کر اندردیکھا اور گھر کے کونے میں سرخ پر دہ لگا ہوادیکھا۔ لہٰذاوہیں سے آپ واپس چلے گئے۔ سیدہ فاطمہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے شوہر علی سے کہا آپ پیچھے پیچھے جائیے اور پوچھئے کہ آپ کیوں واپس چلے گئے ہیں انہوں نے جا کر پوچھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے لئے مناسب نہیں ہے کہ میں ایسے گھر میں داخل ہوں جو پردوں سے ڈھکا ہوا ہو۔

سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سعيد بن طهمان ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10733

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10734

10734 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار أنا أبو بكر بن أبي الدنيا نا إسحاق بن إسماعيل نا محمد بن مقاتل أنا ابن المبارك عن حريث بن السائب قال : سمعت الحسن يقول : كنت أدخل بيوت أزواج النبي صلى الله عليه و سلم في خلافة عثمان فأتناول سقفها بيدي

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالدنیا نے ان کو اسحاق بن اسماعیل نے ان کو محمد بن مقاتل نے ان کو ابن مبارک نے ان کو حریث بن سائب نے وہ کہتے ہیں نے سنا حضرت حسن سے وہ کہتے ہیں میں ازواج رسول کے گھروں میں داخل ہوتا تھا حضرت عثمان کی خلافت میں اور میں ان کی چھتوں کو ہاتھ سے پکڑ سکتا تھا۔ پشم اور بالوں کے ٹاٹ باہر سے ڈلے ہوئے تھے۔

الْحَسَنِ، ← حُرَيْثٌ بْنِ السَّائِبَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، ← إسحاق بن إسماعيل ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10734

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10735

10735 - قال : و أنا أبو بكر حدثني إسحاق بن إسماعيل بن أبي الحارث نا محمد بن مقاتل أنا ابن المبارك أنا داود بن قيس قال : رأيت الحجرات من جريد مغشى من خارج بمسوح الشعر و أظن عرض الحجرة من باب الحجرة إلى باب البيت نحوا من ستة أو سبعة أذرع و أحرز البيت الداخل خمسة أذرع و أظن سمكه بين الثمان و التسع نحو ذلك قال : و وقفت عند باب عائشة فإذا هو مستقبل المغرب

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے اسحاق بن اسماعیل بن ابوالحارث نے ان کو محمد بن مقاتل نے ان کو ابن مبارک نے ان کو داؤ دین قیس نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حجرے دیکھے تھے جو کھجور کی چھڑیوں سے ڈھکے ہوئے تھے۔ میں خیال کرتا ہوں کہ حجرے کا عرض حجرے کے دروازے سے گھر کے دروازے تک چھ۔ سات ہاتھ تھا اور اندر کا محفوظ حصہ پندرہ ہاتھ اور میرے خیال میں اس کی بلندی آٹھ نو ہاتھ ہوگی یا اسی کے قریب قریب ہوگی کہتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس کھڑا ہوا تو وہ مغرب کی طرف تھا ( یعنی دروازے کا رخ مغرب کی جانب تھا۔ )

دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، ← إسحاق بن إسماعيل بن أبي الحارث ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10735

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10736

10736 - قال : و أنا أبو بكر قال : قال الحسن بن الصباح نا سفيان عن الأحوص بن حكيم عن راشد بن سعد قال : بلغ عمر : أن أبا الدرداء ابتنى كنيفا بحمص فكتب أما بعد يا عويمر أما كانت لك كفاية فيما بنت الروم عن تزيين الدنيا و قد أذن الله بخرابها فإذا أتاك كتابي هذا فانتقل من حمص إلى دمشق قال : سفيان عاقبه بهذا

کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی حضرت حسن بن صباح نے فرمایا ہمیں خبر دی سفیان نے احوص بن حکیم نے اس نے راشد بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس یہ خبر پہنچی کہ حضرت ابو درداء نے حمص شہر میں ایک کلیف یا خانہ اور بیت الخلا بنایا ہے حضرت عمر نے لکھا اما بعد اے کمتر تعمیر کرنے والے کیا آپ کے لئے اس میں ضرورت پوری کرنے کی کفایت نہیں تھی جو کچھ رومیوں نے بنارکھے ہیں دنیا کی تزئین و آرائش میں سے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ویران کرنے کا حکم دیا جب تیرے پاس میرا یہ خط پہنچے تو آپ حمص سے دمشق شہر منتقل ہو جائیے سفیان ثوری کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے ان کو یہ سزا دی تھی۔

بَلَغَ عُمَرَ ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10736

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10737

10737 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أبو عتبة نا ضمرة نا ابن شوذب عن ثابت البناني قال : مر أبو ذر بأبي الدرداء و هو يبني بيتا فمر فلم يسلم عليه فلحقه فقال : يا أخي كأنك مفتتن قال : لأن أكون مررت بك و أنت في عذرة أهلك أحب إلي مما رأيتك تصنع

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور ابو بکر قاضی نے دونوں نے کہا کہ آپ کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو عقبہ نے ان کو عمر نے ان کو ابن شوذب نے ان کو ثابت بنانی نے وہ کہتے ہیں حضرت ابوذر حضرت ابو درداء کے پاس سے گذرے اور وہ ایک گھر بنارہے تھے وہ ان کے پاس سے گذر گئے مگر ان پر انہوں نے سلام نہ کیا پھر حضرت ابو درداء ان کے پیچھے پیچھے گئے اور ان سے کہا بھائی لگتا ہے کہ آپ کسی فتنے میں واقع ہو گئے ہیں انہوں نے فرمایا کہ اگر میں آپ کے پاس سے گذرتا اور آپ اپنے گھر والوں کی کسی ضرورت پوری کرنے میں لگے ہوتے تو مجھے یہ بات زیادہ پسند آتی اس سے جس کام کو کرتے ہوئے میں نے آپ کو دیکھا۔

ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← ابْنِ شَوْذَبٍ ← ضَمْرَةُ ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بَكْر القاضي

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10737

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10738

10738 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري قالا : نا أبو العباس بن يعقوب نا الخضر بن أبان نا سيار نا جعفر قال ثابت البناني قال : بنى أبو الدرداء مسكنا قدر بسطة فمر عليه أبو ذر فقال : ما هذا تعمر دارا أمر الله بخرابها لأن أكون رأيتك متمرغا في عذرة أحب إلي من أن أكون رأيتك فيه فلما فرغ أبو الدرداء من بنائه قال : إن قائل على بنائي هذا شيئا : ( بنيت دارا و لست عامرها و لقد علمت إذ بنيت أين داري )

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور ابو محمد بن ابو حامد مقری نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابوالعباس بن یعقوب نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے وہ کہتے ہیں کہ ثابت بنانی نے کہا کہ حضرت ابو درداء نے اپنی بساط کے مطابق گھر بنایا ان کے ہاں حضرت ابوذ رضی اللہ عنہ گئے تو انہوں نے فرمایا آپ یہ کیا گھر تعمیر کر رہے ہیں؟ اللہ نے جس کے ویران ہونے یا کرنے کا حکم دیا ہے اگر میں آپ کو کسی نجاست میں لتھڑا ہوا دیکھ لیتا تو وہ اس سے زیادہ پسند ہوتا جو میں نے اس وقت آپ کو دیکھا ہے۔ حضرت ابو درداء جب اس کی تعمیر سے فارغ ہو گئے تو فرمانے لگے کہ میں اپنی اس عمارت پر ایک چیز کہتا ہوں۔ بنيت داراً ولست عامرها. ولقد علمت اذبنیت این داری. میں نے گھر تو بناڈالا ہے مگر میں اس کو آباد نہیں کر سکتا اس لئے کہ میں جانتا ہوں جب میں نے بنایا ہے۔ کہ میرا گھر کہاں ہے۔

بنى أبو الدرداء مسكنا قدر بسطة فمر عليه أبو ذر ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10738

chevron_left Previous
1…414243…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood