شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10715
10715 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي نا إبراهيم بن الحسين نا آدم نا شعبة عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال : دخلنا على خباب بن الأرت نعوده و قد اكتوى كيات فقال : إن أصحابنا الذين أسلموا مضوا و لم ينقصهم الدنيا و أنا أصبنا ما لا نجد له موضعا إلا التراب ثم أتيناه مرة أخرى نعوده و هو يبني حائطا فقال : إن المسلم يؤجر في كل شيء ينفقه إلا في شيء يجعله في التراب و لولا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهانا أن ندعو بالموت لدعوت به رواه البخاري في الصحيح عن آدم بن أبي إياس و قد روى ذلك عنه و عن غيره مرفوعا إلى النبي صلى الله عليه و سلم
ہمیں خبر دی محمد بن عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی عبد الرحمٰن بن حسن قاضی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم نے ان کو شعبہ نے اسماعیل بن ابو خالد سے اس نے قیس بن ابو حازم سے وہ کہتے ہیں ہم لوگ حضرت خباب بن ارت کے پاس ان کی بیمار پرسی کرنے کے لئے گئے جب کہ ان کو کئی داغ دیئے جاچکے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہمارے وہ دوست جو اسلام لے آئے تھے وہ دنیا سے گذر گئے مگر دنیانے ان کا کچھ نہ بگاڑا اور ہم لوگوں کا یہ حال ہے کہ ہمیں وہ کیفیت لاحق ہوگئی ہے کہ ہم اس کے لئے کوئی جگہ نہیں پائے سوائے مٹی کے اس کے بعد ۔ ہم لوگ دوبارہ ان کی عیادت کے لئے ان کے پاس گئے تو وہ دیوار بنارہے تھے فرمانے لگے کہ مسلمان کو ہر عمل میں اجر دیا جائے گا جہاں بھی وہ خرچ کرے۔ مگر اس چیز میں اجر نہیں ملے گا جس کو وہ اس مٹی میں خرچ کرے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت مانگنے سے منع فرمایا تھا تو میں اس کو مانگتا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں آدم بن ابوایاس سے اور تحقیق یہ ان سے مروی ہے اور دیگر سے بھی بطور مرفوع روایت کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک ۔
دخلنا على خباب بن الأرت نعوده و قد اكتوى كيات ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10715
