Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10703

10703 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد الدوري نا محاضر بن المورع نا الأعمش ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن يوسف و أبو سعيد بن أبي عمرو قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الجبار نا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي السفر عن عبد الله بن عمرو قال : مر علينا النبي صلى الله عليه و سلم و نحن نعالج خصا لنا فقال : ما هذا فقلنا خص لنا وهى فنحن نصلحه فقال : ما أرى الأمر إلا أعجل من ذلك لفظ حديث أبي معاوية و في رواية محاضرة : مر بنا النبي صلى الله عليه و سلم و أنا و أبي نعالج خصا لنا فقال : ما هذا يا عبد الله قلت : يا رسول الله خص لنا وهى فنحن نعالجه فقال : الأمر أسرع مما ترون أخرجه أبو داود في السنن و رواه حفص عن الأعمش و أنا أطين حائطا لي أنا و أبي

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو محافربن مورع نے ان کو اعمش نے’’ ح“ اور ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور ابومحمد بن یوسف بن عمرو نے انہوں نے کہا ان کو خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبد الجبار نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو ابو السفر نے ان کو عبد اللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گذرے اور ہم لوگ اپنا گھر یا اپنی جھونپڑی درست کر رہے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے؟ ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ یہ ہماری جھونپڑی ہے گر رہی ہے ہم اس کو درست کر رہے ہیں آپ نے فرمایا کہ میں نے نہیں دیکھا اس امر کو ( دنیا کے معاملے کو ) مگر اس سے زیادہ عجلت والا ہے یہ ابو معاویہ کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ اور محاضرہ کی ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گذرے جب کہ میں اور میرے والد اپنے گھر کوٹھیک کر رہے تھے ۔ آپ نے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ اے عبد اللہ میں نے کہا یا رسول اللہ یہ ہمارا ٹھکانہ ہے گر رہا ہے ہم اس کو درست کر رہے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ معاملہ (دنیا) اس سے کہیں زیادہ عجلت والا ہے جو تم لوگ سمجھ رہے ہو۔ اس کو ابو داؤد نے نقل کیا ہے سنن میں اور اس کو روایت کیا ہے حفص نے اعمش سے۔ کہ میں اپنی دیوار کو گارے سے لیپ رہا تھا میں بھی اور میرے والد بھی۔

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10703

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10704

10704 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا إسماعيل بن إسحاق القاضي نا أحمد بن عبد الله بن يونس نا زهير بن معاوية نا عثمان بن حكيم أخبرني إبراهيم بن محمد بن حاطب القرشي عن أبي طلحة الأسدي عن أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج فإذا قبة مشرفة فقال : ما هذا قال : قال أصحابه : لفلان رجل من الأنصار قال : فسكت و جعلها في نفسه حتى إذا جاء صاحبها رسول الله صلى الله عليه و سلم يسلم في الناس أعرض عنه صنع به ذلك مرارا حتى عرف الرجل الغضب فيع و الإعراض عنه شكى ذلك إلى أصحابه فقال : و الله إني لأنكر رسول الله صلى الله عليه و سلم ما أدري ما حدث لي و ما صنعت قالوا : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم فرأى قبتك فسأل لمن هي قالوا : فأخبرناه قال : فخرج إلى قبته فهدمها حتى سواها بالأرض فخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم فلم يرها قال : ما فعلت القبة التي كانت قال : شكى إلينا صاحبها إعراضك عنه فأخبرناه فهدمها قال : أما إن كل بناء وبال على صاحبه يوم القيامة إلا مالا إلا مالا رواه أبو داود عن أحمد بن يونس

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو اسماعیل بن اسحاق قاضی نے ان کو احمد بن عبد اللہ بن یونس نے ان کو زہیر بن معاویہ نے ان کو عثمان بن حکیم نے ان کو خبر دی ابراہیم بن محمد بن حاطب قرشی نے ان کو ابوطلحہ اسدی نے ان کو انس بن مالک نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اچانک آپ کی نظر ایک اونچے قبے یعنی گنبد پر پڑی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ آپ کے اصحاب نے بتایا کہ یہ فلاں انصاری جو ان کا ہے۔ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور دل ہی دل میں غصہ کرنے لگے حتی ٰ کہ جب وہ آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اس نے لوگوں میں سلام کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا اس نے پھر سلام کیا۔ پھر کیا مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم بار بار اس سے منہ پھیر تے رہے یہاں تک کہ اس آدمی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی اور غصہ آپ کے چہرے پر دیکھ لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے بار بار منہ پھیرنا بھی تو اس نے اس بات کی شکایت آپ کے اصحاب سے کی ۔ اور کہا کہ میں اللہ کی قسم نہیں سمجھ سکا کہ مجھے کیا ہو گیا اور میں نے کیا کر لیا ہے ( کیوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں ؟ ) لوگوں نے اس کو بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تھے انہوں نے آپ کا قبہ ( گنبد ) دیکھا تھا۔ آپ نے ہم سے پوچھا تھا کہ یہ کس کا ہے؟ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا تھا کہ فلاں انصاری کا ہے۔ چنانچہ وہ انصاری صاحب جاتا ہے اور جا کر اس قبے کو گرا دیتا ہے یہاں تک کہ اس کو زمین کے برابر کر دیتا ہے۔ لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر ایک دن نکلے تو وہ گنبد آپ کو نظر نہ آیا۔ پھر آپ نے پوچھا کہ اس قبے کا کیا ہوا؟ جو اس جگہ بنا ہوا تھا۔ اس صحابی نے کہا۔ ہمارے اس دوست نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پھیرنے کی ہم لوگوں سے شکایت کی تھی۔ ہم نے اس کو وجہ بتادی تھی۔ اس نے جا کر اس کو تو ڑ دیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خبردار بے شک ہر عمارت قیامت کے روز اپنے مالک کے لئے وبال ہوگی مگر مال مگر مال۔ اس کو ابو داؤد نے روایت کیا ہے احمد بن یونس سے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي طَلْحَةَ الْأَسَدِيِّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْقُرَشِيُّ ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10704

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10705

10705 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا أبو خيثمة نا أسود بن عامر عن شريك عن عبد الملك بن عمير عن أبي طلحة عن أنس قال : مررت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في طريق من طرق المدينة قال : فرأى قبة من لبن فقال : لمن هذه قيل لفلان فقال : أما إن كل بناء وبال على صاحبه يوم القيامة إلا ما كان في مسجد أو بناء مسجد أو و قال : ثم مر فلم يرها فقال : ما فعلت القبة قال : قلت : بلغ صاحبها ما قلت : فهدمها فقال : رحمه الله

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالدنیا نے ان کو ابو خثیمہ نے ان کو اسود بن عامر نے ان کو شریک نے ان کو عبداللہ بن عمیر نے ان کو ابوطلحہ نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا مد ینے کے راستوں میں سے ایک راستے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں اینٹوں کا بنا ہوا ایک گنبد دیکھا تو پوچھ لیا کہ یہ کس کا ہے؟ بتایا گیا کہ فلاں شخص کا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہر حال ہر عمارت اس کے مالک کے لئے قیامت کے دن وہال ہوگئی مگر جو عمارت مسجد کی ہو یا فر مایا کہ مسجد کا بناء ہو ۔ پھر ایک دن گذرے تو وہ گنبد نظر نہ آیا۔ پھر آپ نے پوچھا کہ وہ گنبد کہاں گیا ؟ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ حضور آپ نے جو کچھ فرمایا تھا اس کی خبر اس کے مالک تک پہنچ گئی تھی لہٰذا اس نے اسے گرادیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے۔

أَنَسٍ، ← أَبِي طَلْحَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شَرِيکٍ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10705

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10706

10706 - و رواه مروان بن معاوية عن محمد بن أبي زكريا التيمي و قيل عنه عن محمد بن جابر بن أبي زكريا عن عمار شيخ له عند أنس : عن النبي صلى الله عليه و سلم في البناء

اور اس کو روایت کیا ہے مروان بن معاویہ نے ان کو محمد بن ابوز کر یا تیمی نے اور کہا گیا کہ اس سے مروی ہے اس نے محمد بن جابر بن ابوز کریا سے اس نے عمار شیخ سے حضرت انس کے سامنے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمارت کے بارے میں ۔

النبي صلى الله عليه و سلم في البناء ← عمار شيخ له عند أنس ← محمد بن جابر بن أبي زكريا ← محمد بن أبي زكريا التيمي و قيل عنه ← و رواه مروان بن معاوية

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10706

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10707

10707 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس الدوري نا شبابة بن سوار حدثني قيس بن الربيع عن أبي حمزة عن أنس بن مالك قال : مر النبي صلى الله عليه و سلم بقبة قد بنيت فقال : من بنى هذه فقالوا : فلان فقال : كل بناء وبال على صاحبه يوم القيامة إلا مسجدا قال : فبلغ ذلك الرجل فهدم القبة فمر بها النبي صلى الله عليه و سلم فرآها مهدومة فأخبر بما صنع الرجل لما بلغه قول النبي صلى الله عليه و سلم فقال : رحم الله فلانا هكذا وجدته

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابوسعید بن ابو عمر و دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس بن یعقوب نے ان کو عباس دوری نے ان کو شبابہ بن سواد نے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی قیس بن ربیع نے ان کو ابوحمزہ نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبے کے پاس سے گذرے جو تعمیر کیا گیا تھا آپ نے پوچھا کہ یہ کس نے بنوایا ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ فلاں نے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بنا و بال ہوگی اپنے بنانے والے کے لئے قیامت کے دن سواہ مسجد کے۔ کہتے ہیں کہ یہ بات اس متعلق شخص تک پہنچ گئی لہٰذا اس نے اس قبے کوگر ادیا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں سے گذرے اور اس کو گر اہوا پایا تو آپ کو وہ بات بتائی گئی جو کچھ اس کے مالک نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بارے میں بات سن کر کیا تھا لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی ٰاس فلاں شخص پر رحم فرمائے۔ راوی کہتے ہیں کہ اسی طرح میں نے اس کو پایا ہے۔

فُلَانٌ ← من بنى هذه ← مر النبي صلى الله عليه و سلم بقبة قد بنيت ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10707

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10708

10708 - و قد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا علي بن الجعد نا قيس بن الربيع أنا أبو حمزة عن إبراهيم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل نفقة ينفقها المسلم يؤجر فيها على نفسه و على عياله و على صديقه و على بهيمة إلا في بناء مسجد يبتغي به وجه الله فقلت لإبراهيم : أرأيت إن كان بناء كفاف قال : لا أجر و لا وزر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالد نیا نے ان کو علی بن جعد نے ان کو قیس بن ربیع نے ان کو ابوحمزہ نے ان کو ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نفقہ جو مسلمان خرچ کرتا ہے اپنے نفس پر اور اپنے اہل و عیال پر ۔اپنے دوست پر اور اپنے مویشی پر اس پر اس کو اجر دیا جاتا ہے۔ ہاں مگر جو عمارت پر خرچ کرتا ہے اس پر اجر نہیں ملتا۔ مگر مسجد کی عمارت پر جو خرچ کرے اس پر اجر ملتا ہے۔ بھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اگر تعمیر بقدر ضرورت ہو۔ فرمایا کہ یہ وہ چیز ہے جس کا نہ اس کے لئے ثواب ہے اور نہ ہی اس کے لئے وبال ہے پس اگر وہ عمارت ضرورت سے زیادہ ہو اس میں اس کے لئے بوجھ ہی ہے اس کے لئے اس میں اجر نہیں ہے۔

إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو حَمْزَةَ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و قد

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10708

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10709

10709 - قال : و حدثنا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني إبراهيم بن راشد نا أبو ربيعة نا حماد بن سلمة عن أبي حمزة عن إبراهيم عن ابن مسعود قال : نفقة الرجل على نفسه و أهله و صديقه و بهيمته له فيها أجر إلا نفقة في بناء إلا أن يكون مسجدا فقيل له : فإن كان بناء كفاف قال : فذلك الذي لا له و لا عليه فقيل له : فإن كان فوق الكفاف قال : عليه وزره و لا أجر له فيه

فرماتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر بن ابوالدنیا نے ان کو ابراہیم بن راشد نے ان کو ابو ربیعہ نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ابوحمز ہ نے ان کو ابراہیم نے ابن مسعود سے وہ کہتے ہیں کہ ہر خرچہ جو مسلمان اس کو خرچ کرتا ہے اپنے نفس پر اور اپنے اہل و عیال پر اور اپنے دوست پر اور اپنے چوپائے پر اس پر اس کو اجر دیا جاتا ہے۔ ہاں جو عمارت پر خرچ کرتا ہے اس پر اجر نہیں ملتا۔ سوائے تعمیر مسجد جس کے ساتھ اللہ کی رضا طلب کی جائے۔ میں نے کہا ابراہیم سے آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر عمارت بقدر ضرورت ہو تو فرمایا کہ اس پر نہ اجر ہوگا نہ گناہ ہوگا۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو رَبِيعَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَاشِدٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10709

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10710

10710 - حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو إسحاق إبراهيم بن فراس المكي نا جعفر بن محمد السوسي نا كثير بن عبيد نا بقية بن الوليد عن الضحاك بن حمزة عن ميمون عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من بنى بناء أكثر مما يحتاج إليه كان عليه وبالا يوم القيامة

ہمیں حدیث بیان کی محمد بن عبد اللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو اسحاق ابراہیم بن فراس مکی نے ان کو جعفر بن محمد سوسی نے ان کو کثیر بن عبید نے ان کو بقیہ بن ولید نے ان کو ضحاک نے ان کو حمزہ نے میمون سے اس نے انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ان کو عمارت بنائے اس سے زیادہ جو اس کی ضرورت ہو تو وہ اس پر وبال ہو گی قیامت کے دن۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مَيْمُونٍ، ← الضحاك بن حمزة ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← جعفر بن محمد السوسي ← أبو إسحاق إبراهيم بن فراس المكي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10710

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10711

10711 - و حدثنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن إبراهيم الديلي بمكة نا محمد بن علي بن يزيد الصائغ نا المسيب بن واضح ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو محمد عبد العزيز بن عبد الرحمن بن سهل الدباس بمكة نا محمد بن علي بن زيد المكي نا المسيب بن واضح و أخبرنا عفيف بن محمد الخطيب أنا أبو بكر بن خنب محمد بن أحمد نا عبد الله بن محمد بن عبيد حدثني أبو جعفر أحمد بن عبد الله الصياد نا المسيب بن واضح نا يوسف بن أسباط عن سفيان بن سلمة بن كهيل عن أبي عبيدة عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من بنى من البنيان فوق ما يكفيه كلف أن يحمله من سبع أرضين يوم القيامة و في رواية المكي من بنى بناء فوق ما يكفيه كلف أن يحمله يوم القيامة من سبع أرضين

اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابواسحٰق ابراہیم بن محمد بن ابراہیم دہلی نے مکہ میں ان کو محمد بن علی بن یزید صائغ نے ان کو مسیب بن واضح نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابومحمد عبد العزیز بن عبد الرحمٰن بن سہل دباس نے مکہ مکرمہ میں ان کو محمد بن علی بن زید مکی نے ان کو مسیب بن واضح نے۔ اور ہمیں خبر دی ہے ضعیف بن محمد خطیب نے ان کو ابو بکر بن خنب محمد بن احمد نے ان کو عبداللہ بن محمد بن عبید نے ان کو حدیث بیان کی ابو جعفر احمد بن عبد اللہ صیاد نے ان کو مسیّب بن واضح نے ان کو یوسف بن اسباط نے ان کو سفیان بن سلمہ بن کہیل نے ان کو ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کوئی عمارت بنائے اس سے بڑھ کر جو اس کو کفایت کر سکے اس کو قیامت کے دن یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ اس کو ساتوں زمینوں سمیت اپنے سر پر اٹھالے اور مکی کی ایک روایت میں ہے جو شخص کوئی عمارت بنائے اس سے بڑھ کر جو اس کو کفایت کرے اس کو قیامت کے دن ساتوں زمینوں سمیت اٹھانے کی تکلیف دی جائے گی۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← سفيان بن سلمة بن كهيل ← يُوسُفُ بْنُ أَسْبَاطٍ ← الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ ← أبو جعفر أحمد بن عبد الله الصياد ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← أبو بكر بن خنب محمد بن أحمد ← عفيف بن محمد الخطيب ← المسيب بن واضح و ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الْمَكِّيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ الدَّبَّاسُ، بِمَكَّةَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ الصَّايِغُ، ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن إبراهيم الديلي بمكة ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10711

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10712

10712 - أخبرنا أبو الحسين عفيف بن محمد بن شهيد الخطيب البوشنجي نا أبو بكر بن خنب ببخارى نا أبو بكر عبد الله بن محمد بن عبيد القرشي حدثني عمر بن يحيى بن نافع الثقفي نا عبد الحميد بن الحسن الهلالي أنا محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : كل ما أنفق العبد من نفقة فعلى الله خلفها ضامنا إلا نفقة في بنيان أو معصية و رواه أيضا سور أحمد الصلت عن ابن المنكدر

ہمیں خبر دی ابوالحسین عفیف بن محمد بن شہید خطیب بوشنجی نے ان کو ابو بکر بن خنب نے بخارا میں ان کو ابو بکر عبداللہ بن محمد بن عبید قرشی نے ان کو عمر بن یحییٰ بن نافع ثقفی نے ان کو عبد الحمید بن حسن ہلالی نے ان کو محمد بن منکد رنے ان کو جابر بن عبد اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتے ہیں کہ ہر وہ جو بندہ کوئی چیز خرچ کرتا ہے اللہ کے ذمے ہے اس کے بعد اس کی جگہ اور دینا۔ مگر وہ خرچ جووہ عمارت بنانے میں کرتا ہے یا گناہ کرنے کے لئے خرچ کرتا ہے۔ (اس میں اس کی جگہ مزید اس کو دینے کی ذمہ داری اور ضمانت اللہ تعالیٰ کے ذمے نہیں ہے۔ ) اور اس کو سور بن صلت نے بھی ابن المنکد رسے روایت کیا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ← عمر بن يحيى بن نافع الثقفي ← أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ ← أبو الحسين عفيف بن محمد بن شهيد الخطيب البوشنجي

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10712

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10713

10713 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا الحسن بن أحمد بن منصور نا صالح بن مالك الخوارزمي نا المسور بن الصلت نا محمد بن المنكدر عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل معروف صدقة و ما أنفق المرء على نفسه و أهله كتب له به صدقة و ما وقى به عرضه كتب له به صدقة و كل نفقة أنفقها مؤمن فعلى الله خلفها ضامن إلا نفقة في معصية أو بنيان فقلنا لابن المنكدر يا أبا عبد الله ما أراد بما وقي المرء عرضه كتب له به صدقة قال : ما أعطى الشاعر و ذا اللسان المتقي

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو حسن بن سعد بن منصور نے ان کو صالح بن مالک خوارزمی نے ان کو مسور بن صلت نے ان کو محمد بن منکد رنے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر اچھا کام کرنا صدقہ ہے اور جو چیز انسان اپنی ذات پر اور اپنے اہل خانہ پر خرچ کرتا ہے وہ بھی اس کے لئے صدقہ لکھا جاتا ہے اور وہ مال جس کے ذریعے وہ اپنی عزت بچاتا ہے اس کے بدلے میں بھی اس کے لئے ایک صدقہ لکھا جاتا ہے۔ اور ہر وہ خرچ جو مو من کرتا ہے اللہ تعالیٰ سے اس کے پیچھے اور دینے کی ضمانت ہے۔ ہاں مگر اس پر ضمانت نہیں جو کچھ کسی گناہ کے کام میں خرچ کرے یا کسی عمارت بنانے میں خرچ کرے۔ ہم لوگوں نے حضرت ابن منکدر سے پوچھا کہ اے ابوعبد اللہ اس جملہ سے آپ کی کیا مرا تھی کہ وہ مال جس کے ذریعے انسان اپنی عزت کی حفاظت کرے تو اس کے بدلے میں اس کے لئے صدقہ لکھا جائے گا۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس سے مراد وہ مال ہے جو انسان شاعر کو اور زبان دراز کو دے ( اپنی ہجو اور برائی کرنے سے بچنے کے لئے ۔ )

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← المسور بن الصلت ← صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ الْخُوَارِزْمِيُّ ← الحسن بن أحمد بن منصور ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10713

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10714

10714 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار نا ابن أبي الدنيا نا أبو علي الحسن بن عرفة العبدي حدثني زافر بن سليمان عن إسرائيل عن شبيب بن بشر عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : النفقة تحلها في سبيل الله إلا هذا البناء فإنه لا خير فيه

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد الله صفار نے ان کو ابن ابوالد نیا نے ان کو ابو علی حسن بن عرفہ عبدی نے ان کو حدیث بیان کی زافر بن سلیمان نے اسرائیل سے اس نے شعیب بن بشر سے اس نے انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ خرچ کرنا درست ہے جو انسان اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔ ہاں مگر یہ عمارت وغیرہ پس بے شک اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← شبيب بن بشر ← اِسْرَائِیْلُ ← زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أبو علي الحسن بن عرفة العبدي ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10714

chevron_left Previous
1…394041…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood