Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10271

10271 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد بن أحمد المصري نا يحيى بن أيوب نا سعيد بن أبي مريم نا يحيى بن أيوب و ابن لهيعة عن ابن غزية عن عبد الله بن محمد بن معقل : فذكره بإسناده مثله غير أنه قال : افترقت

اور ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسن علی بن محمد بن احمد مصری نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو سعید بن ابو مریم نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے اور ابن لہیعہ نے ان کو ابن غزیہ نے ان کو عبداللہ بن محمد معاذ نے اس نے اس کو اس کی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے اسی کی مثل ۔ سوائے اس کتے کہ اس میں لفظ تفرقت کی جگہ افترقت ہے۔

افترقت ← عبد الله بن محمد بن معقل فذكره بإسناده مثله غير أنه ← ابْنُ غَزِيَّةَ ← يحيى بن أيوب و ابن لهيعة ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Hadith 10271

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10272

10272 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد نا أحمد بن حباب نا عيسى بن يونس نا سعيد بن عثمان السلولي عن عاصم بن أبي البداح عن أبيه عن جده عاصم بن عدي قال : اشتريت أنا و أخي مائة سهم من سهام خيبر فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا عاصم ما ذئبان عاديان أصابا فريقة غنم أضاعها ربها بأفسد لها من حب المرء المال و الشرف لدينه و قال غيره فريسة غنم

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسن اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ہے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد نے ان کو محمد نے ان کو احمد بن حباب نے ان کو عیسیٰ بن یونس نے ان کو سعید بن عثمان سلولی نے ان کو عاصم بن ابو البداح نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا عاصم بن عدی نے کہ میں نے اور میرے بھائی نے خیبر کے حصص میں سے ایک سو حصص خریدے۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو فرمایا اے عاصم کہ دو ظالم بھیڑیے جو بکریوں کے ایسے ریوڑ میں جا پہنچیں جن کا مالک موجود نہ ہو وہ اس قدر فساد برپا نہیں کرتے بکریوں میں جس قدر کہ جب مال و حب جاہ جو ایک آدمی کے دین میں کرتی ہے۔ دیگر نے فریقتہ غنم کی جائے فریسۃ غنم کہا ہے۔

جَدِّهِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ ← أَبِيهِ ← عاصم بن أبي البداح ← سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ السَّلُولِيِّ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← أحمد بن حباب ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو بكر أحمد بن الحسن و محمد بن موسى

Hadith 10272

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10273

10273 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن محمد بن محمد بن الحسن الكارزي نا محمد بن علي بن زيد الصائغ نا سعيد بن منصور نا يعقوب بن عبد الرحمن الزهري نا عمرو بن أبي عمرو عن محمد بن كعب القرظي : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما ذئبان جائعان أرسلا في غنم تفرقت من راعيها أحدهما في أولها و الآخر في آخرها أشد فيها فسادا من حب الشرف و الغنى هذا مرسل جيد شاهد لما تقدم

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو الحسن محمد بن محمد بن حسن کارزی نے ان کو محمد بن علی بن زید صائغ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو یعقوب بن عبدالرحمٰن زہری نے ان کو عمرو بن ابو عمرو نے ان کو محمد بن کعب قرظی نے یہ کہ رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں جو بکریاں اپنے چرواہے سے بھٹک کر الگ ہوئی ہوں ایک بھیڑیا پہلی بکری پر جھپٹ کر اور دوسرا آخری بکری پر جھپٹ کر اتنا سخت نساد و تباہی نہیں مچاتے جتنا شرف و مرتبہ ومقام کی محبت اور دولت و غنیٰ کی محبت یعنی وہ اس سے زیادہ سخت فساد و خرابی پیدا کرتے ہیں۔

مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 10273

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10274

10274 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أبو مسلم نا أبو عاصم عن ابني جريج أخبرني عطاء أنه سمع ابن عباس يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و أخبرنا أبو نصر محمد بن علي بن محمد الشيرازي الفقيه قال : نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشيباني نا إبراهيم بن عبد الله نا أبو عاصم عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لو كان لابن آدم واديان من ذهب لابتغى إليهما مثله و في رواية ابن عبدان ثالثا لا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب و يتوب الله على من تاب زاد الفقيه في روايته قال ابن عباس فلا أدري من القرآن هي أم لا رواه البخاري في الصحيح عن أبي عاصم دون قول ابن عباس و أخرجه من وجه آخر عن ابن جريج و ذكر قول ابن عباس

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابو مسلم نے ان کو ابو عاصم نے ابن جریج سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی عطاء نے کہ اس نے سنا ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔۔۔۔اور ہمیں خبر دی ابو نصر محمد بن علی بن محمد شیرازی فقیہ نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب شیبانی نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو ابو عاصم نے ان کو ابن جریج نے ان کو عطاء نے ان کو ابن عباس نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا: اگر ابن آدم کے لئے سونے کی دو وادیاں بھری ہوتی ہوں تو وہ ایک تیسری وادی بھی ضرور طلب کرے گا اس کی مثل۔ اور ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ تیسری وادی طلب کرے گا ابن آدم کے پیٹ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھرے گی ۔ اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا جو شخص توبہ کرے گا۔ اور فقیہ نے اپنی روایت نے یہ اضافہ کیا ہے کہ ابن عباس نے فرمایا تھامجھے نہیں معلوم کہ یہ بات قرآن میں سے ہے یا نہیں ۔ بخاری نے اس کو راویت کیا ہے صحیح میں ابن عاصم سے سوا قول ابن عباس کے ۔ اور اس نے اس کو دوسرے طریق سے ابن جریج سے نقلی کیا ہے اور اس نے ابن عباس کا قول بھی ذکر کیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٌ، اَنَّہٗ ← ابني جريج ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 10274

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10275

10275 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن عبيد الله المنادي نا حجاج بن محمد ح و أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عمر الحمامي المقري ببغداد أنا أحمد بن سلمان الفقيه قال قرىء على الحسن بن مكرم و أنا أسمع قال : نا حجاج بن محمد قال : قال ابن جريج سمعت عطاء يقول سمعت ابن عباس يقول : سمعت نبي الله صلى الله عليه و سلم يقول : لو أن لابن آدم ملء واد مالا أحب أن يكون له مثله و لا يملأ نفس ابن آدم إلا التراب و يتوب الله على من تاب قال فقال ابن عباس فلا أدري في القرآن هو أم لا لفظ حديث المقري رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب و غيره عن حجاج بن محمد

اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبداللہ منادی نے ان کو حجاج بن محمد نے ’’ح‘‘ ۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن احمد بن عمر حمامی مقری نے بغداد میں ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے وہ کہتے ہیں کہ حسن بن مکرم کے سامنے پڑھا گیا اور میں سن رہا تھا۔ فرمایا کہ ہمیں خبر دی حجاج بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ ابن جریج نے کہا میں نے عطاء سے سنا ہے اس نے ابن عباس سے وہ کہتے ہیں میں نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے سنا: فرماتے تھے۔ اگر ابن آدم کے لئے مال و دولت کی ایک وادی بھری ہوئی ہو تو وہ ضرور یہ چاہئے گا کہ اس جیسی ایک وادی اور بھی بھری ہوئی ضرور ہونی چاہئے ابن آدم کے نفس کو کوئی چیز سیر نہیں کر سکتی مٹی ہی اس کو سیر کرے گی اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا جو توبہ کرے۔کہتے ہیں کہ ابن عباس نے کہا۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ بات قرآن میں بھی ہے یا نہیں ہے یہ الفاظ مقری کی حدیث کے ہیں۔ اور مسلم نے اس کو روایت کیا صحیح میں زہیر بن حرب سے اور اس کے علاوہ دیگر نے حجاج بن محمد سے۔

لَوْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أسمع ← قرىء على الحسن بن مكرم و ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْحَمَّامِيُّ الْمُقْرِئُ، ← و، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمُنَادِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Hadith 10275

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10276

10276 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن تميم القنطري نا جعفر بن محمد بن شاكر نا أبو نعيم نا عبد الرحمن بن الغسيل عن عباس بن سهل بن سعد قال : سمعت ابن الزبير على منبر مكة يقول : في خطبته يا أيها الناس : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لو أن ابن آدم أعطي واديا مليئا ذهبا أحب إليه ثانيا و لو أعطي ثانيا أحب إليه ثالثا و أنه لا يسد جوف ابن آدم إلا التراب و يتوب الله على من تاب رواه البخاري في الصحيح عن أبي نعيم و أخرجاه من حديث يونس بن مالك

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسین محمد بن احمد بن تمیم قنطری نے ان کو جعفر بن محمد بن شاکر نے ان کو ابو نعیم نے ان کو عبدالرحمٰن بن غسیل نے ابن عباس بن سہل بن سعد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن زبیر سے مکہ کے منبر پر فرماتے تھے اپنے خطبے میں۔ اے لوگو بے شک رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اگر ابن آدم کو ایک بھری ہوئی وادی سونا مل جائے۔ تو اس کو ایک اور ایسی وادی کی خواہش بھی ہو گی ۔ اگر اس کو دوسری مل جائے تو تیسری کی خواہش بھی ہو گی اور حقیقت یہ ہے کہ اس کا پیٹ نہیں بھرے گی مگر مٹی ۔ اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا جو اس کی طرف توبہ کرے گا۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں ابو نعیم سے۔ اور بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے یونس بن مالک کی حدیث سے۔

في خطبته يا أيها الناس ← ابن الزبير على منبر مكة ← عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أبو الحسن محمد بن أحمد بن تميم القنطري ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 10276

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10277

10277 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا عبد الله بن أحمد بن سعد البزاز نا محمد بن إبراهيم البوشنجي نا ابن بكير حدثني الليث بن سعد عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي واقد الليثي قال : كنا نأتي رسول الله صلى الله عليه و سلم فيتلو علينا ما يوحى إليه فأتيناه في ذات يوم فقرأ علينا إنا أنزلنا هذا المال لإقام الصلاة و إيتاء الزكاة و لو أن لابن آدم واديا من ذهب لأحب أن يكون له ثانيا و لو أعطي ثانيا لأحب أن يكون له ثالثا و لا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب و يتوب الله على من تاب

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو عبداللہ بن احمد بن سعد بزاز نے ان کو محمد بن ابراہیم بوشنجی نے ان کو ابن بکیر نے ان کو حدیث بیان کی لیث بن سعد نے ہشام بن سعد سے اس نے زید بن اسلم سے اس نے عطاء بن یسار سے اس نے ابو واقد لیثی سے، وہ کہتے ہیں کہ نام لوگ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آتے جاتے تھے آپ کی طرف جو وحی آتی تھی آپ وہ ہمارے سامنے تلاوت کرتے تھے حسب معمول ایک دن ہم لوگ آپ کے پاس آئے تو آپ نے ہمارے سامنے یہ الفاظ تلاوت فرمائے کہ بے شک یہ مال ہم نے اتارا ہے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے اور اگر ابن آدم کے پاس سونے کی پوری ایک وادی ہو وہ یہ چاہے گا کہ اس کے پاس دوسری بھی ہو پھر وہ اگر دوسری وادی بھی دے دیا جائے تو وہ یہ چاہے گا کہ اس کے پاس سونے کی تیسری وادی بھی ہو ابن آدم کا پیٹ مٹی کے سوا کوئی شئی نہیں بھرے گی اور اللہ تعالیٰ توبہ اس شخص کی قبول کرے گا جو شخص توبہ کرے۔

أبي واقد الليثي ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← عبد الله بن أحمد بن سعد البزاز ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 10277

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10278

10278 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا حنبل بن إسحاق نا محمد بن محبب نا هشام بن سعد : فذكره بإسناده و معناه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو حنبل بن اسحٰق نے ان کو محمد بن محبب نے ان کو ہشام بن سعد نے اس نے اس کو ذکر کیا ہے اسی کی اسناد کے ساتھ اور اسی کے مفہوم کے ساتھ۔

هشام بن سعد فذكره بإسناده و معناه ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَبَّبٍ، ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Hadith 10278

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10279

10279 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن أبي المعروف الفقيه أنا أبو الفضل العباس بن الحسين بن أحمد الصفار بالري نا إبراهيم بن يوسف بن خالد الهسنجاني نا عبد الأعلى بن حماد النرسي نا حماد بن مسلم عن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم : منهومان لا يشبعان منهوم في العلم لا يشبع منه و منهوم في الدنيا لا يشبع منها

ہمیں خبر دی ابو الحسن محمد بن ابو المعروف فقیہ نے ان کو ابو الفضل عباس بن حسین بن احمد صفار نے مقام رئے میں ان کو ابراہیم بن یوسف بن خالد ہسنجانی نے ان کو عبدالاعلیٰ بن حماد نرسی نے ان کو حماد بن مسلم نے ان کو انس نے یہ کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو پیاسے ایسے ہوتے ہیں کہ جو کبھی سیر نہیں ہوتے ایک علم کا پیاسا وہ بھی علم سے سیر نہیں ہوتا اور دنیا کا حریص اور پیاسا وہ بھی اس سے سیر نہیں ہوتا۔

أَنَسٍ، ← حماد بن مسلم ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ← إبراهيم بن يوسف بن خالد الهسنجاني ← أبو الفضل العباس بن الحسين بن أحمد الصفار بالري ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ

Hadith 10279

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10280

10280 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا مسدد نا يحيى بن سعيد عن مجالد عن عامر عن مسروق قال : قلت لعائشة هل كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول شيئا إذا دخل البيت ؟ قالت : نعم كان إذا دخل البيت يمثل لو كان لابن آدم واديان من مال لابتغى واديا ثالثا و لا يملأ فاه إلا التراب و ما جعلنا المال إلا لإقام الصلاة و إيتاء الزكاة و يتوب الله على من تاب

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو خبر دی حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو مسدد نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو مجالد نے عامر سے اس نے مسروق سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ سے کہا کیا نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کوئی بات فرماتے تھے جب آپ گھر میں داخل ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جی ہاں آپ جب گھر میں داخل ہوتے تھے۔ یہ مثال دیا کرتے تھے کہ اگر ابن آدم کے پاس مال بھری ہوئی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری بھی طلب کرے گا اور اس کے منہ کو مٹی ہی بھرے گی۔ ہم نے تو مال کو نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کے لئے بنایا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا جو توبہ کرے۔

شيئا إذا دخل البيت ← قلت لعائشة هل كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ← مَسْرُوقٍ ← عَامِرٍ، ← مجالد ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Hadith 10280

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10281

10281 - و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد أحمد بن محمد بن يحيى بن بلال نا أبو الأزهر نا ابن أبي فديك نا ربيعة بن عثمان عن زيد بن أسلم عن أبي واقد الليثي عن أبي مرواح قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال الله تبارك و تعالى : إنا أنزلنا المال لإقام الصلاة و إيتاء الزكاة و لو كان لابن آدم واد أحب أن يكون له واديان و لو كان له واديان لأحب أن يكون له ثالثهما و لا يملأ بطن ابن آدم إلا التراب و يتوب الله على من تاب كذا وجدته في كتابي و الصواب عن أبي مرواح عن أبي واقد الليثي و رواية همام بن سعد أصح و كذلك رواه عبد الله بن جعفر عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي واقد

ہم کو خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد احمد بن محمد بن یحییٰ بن بلال نے ان کو ابو الازہر نے ان کو ابن ابو فدیک نے ان کو ربیعہ بن عثمان نے ان کو زید بن اسلم نے حضرت ابو واقد لیثی سے اس نے ابو مرواح سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے۔ بے شک ہم نے مال اتارا ہے نماز قائم کرنے کے لئے اور زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے اگر ابن آدم کے پاس مال کی ایک بھری ہوئی وادی ہو تو وہ پھر بھی یہ چاہے گا کہ وہ دو ہونی چاہیں اور اگر دو وادیاں ہوں تو وہ چاہے گا کہ تیسری بھی ہوا ابن آدم کے پیٹ کو نہیں بھرے گی مگر مٹی۔ اور اللہ تعالیٰ اس پر رجوع فرمائے گا جو رجوع کرے۔ میں نے اپنی کتاب میں اس کو اسی طرح پایا ہے۔ اور درست جو ہے وہ ہے ابو مرواح سے ابو واقد لیثی سے اور ھمام بن سعد کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ اور اس کو اسی طرح روایت کیا ہے عبداللہ بن جعفر نے زید بن اسلم سے اس نے عطاء بن یسار سے اس نے ابو واقد سے۔

أبي مرواح ← أبي واقد الليثي ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلاَلٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و،

Hadith 10281

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10282

10282 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الجبار نا وكيع عن هشام الدستوائي عن قتادة عن مطرف بن عبد الله بن الشخير عن أبيه قال : انتهى النبي صلى الله عليه و سلم إلى رجل و هو يقرأ { ألهاكم التكاثر * حتى زرتم المقابر } قال : يقول ابن آدم مالي هل لك من مالك إلا ما تصدقت فأمضيت أو لبست فأبليت أو أكلت فأفنيت أخرجه مسلم في الصحيح من حديث هشام

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبد الجبار نے ان کو وکیع نے ہشام دستوائی سے اس نے قتادہ سے اس نے مطرف بن عبداللہ بن شحثیر سے اس نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس گئے وہ پڑھ رہاتھا۔ الحاکم التکاثر حتٰی ذرتم المقابر تمہیں مال کی کثرت کی طلب نے اتنا غافل کر دیا ہے کہ تم مرکز قبروں سے جا ملتے ہو ۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابن آدم کہتا ہے میر امال۔ حالانکہ وہ تیرا نہیں ہے تیرا مال تو صرف اسی قدر ہے جو آپ نے اللہ واسطے صدقہ کر کے روانہ کر دیا آگے کو یا لباس پہن کر پرانا کر دیایا کھا کر ختم کر دیا۔ اس کو مسلم نے صحیح میں نقل کیا ہے ہشام کی حدیث سے۔

انتهى النبي صلى الله عليه و سلم إلى رجل و هو يقرأ ← أَبِيهِ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← وَكِيعٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Hadith 10282

chevron_left Previous
12345…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood