Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10691

10691 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الله إسحاق بن محمد السوسي و أبو سعيد بن أبي عمرو قالوا : نا أبو العباس الأصم نا بحر بن نصر أنا بشر بن بكر أخبرني الأوزاعي عن ابن سيرين أنه قال : سمعت أبا هريرة يقول لابنته : لا تلبسي الذهب فإني أخشى عليك اللهب

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور ابو عبد اللہ اسحاق بن محمد سوسی سے اس نے ابو سعید بن ابوعمرو سے انہوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو بشر بن بکر نے ان کو خبر دی اوزاعی نے ان کو ابن سیرین نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا تھا وہ اپنی بیٹی کو فرمارہے تھے بیٹی سونا نہ پہننا میں تمہارے اوپر جہنم کی آگ کے شعلوں سے ڈرتا ہوں۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← ابْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10691

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10692

10692 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا أبو سهل بن زياد نا إسماعيل القاضي نا سليمان بن حرب نا حماد بن زيد عن ابن عون عن عبيد بن باب قال : مررنا بأبي هريرة قال : أين تريد قال : السوق قال : إن استطعت أن تشتري الموت فاشتره

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل سے اس نے ابو سہل بن زیاد سے اس نے اسماعیل قاضی سے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو حماد بن زید نے ان کو ابن عون نے ان کو عبید بن باب نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابو ہریرہ کے پاس تھے انہوں نے پوچھا کہ تم کہاں جاتے ہو۔ بتایا کہ بازار جاتا ہوں۔ ابوہریرہ نے فرمایا اگر تم موت خرید سکو تو اسے ضرور خرید کر لینا۔

إن استطعت أن تشتري الموت فاشتره ← السوق ← أين تريد ← مررنا بأبي هريرة ← عبيد بن باب ← ابْنِ عَوْنٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10692

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10693

10693 - أخبرنا أبو الفوارس الحسن بن أحمد بن أبي الفوارس ببغداد و أبو أحمد الحسين بن علوشا الأسد أبادي بها قالا : أنا أحمد بن جعفر بن حمدان القطيعي نا أبو علي بشر بن موسى نا المقري نا حيوة أخبرني شرحبيل بن شريك أنه سمع أبا عبيد الرحمن الحبلي يقول : أنه سمع عبد الله بن عمرو بن العاص لخير أعمله اليوم أحب إلي من مثليه مع رسول الله صلى الله عليه و سلم لأنا كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم تهمنا الآخرة و لا تهمنا الدنيا و أنا اليوم قد مالت بنا الدنيا

ہمیں خبر دی ابو الفوارس حسن بن احمد بن ابو الفوارس نے بغداد میں اور ابو احمد بن حسین بن علوشا اسدی آبادی نے وہاں پر دونوں نے کہا ہمیں خبر دی احمد بن جعفر بن حمدان قطیعی نے ان کو ابو علی بشر بن موسیٰ نے ان کو مقری نے ان کو حیوۃ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی شرحبیل بن شریک نے اس نے سنا ابو عبد الرحمٰن حبلی نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے کہ البتہ کوئی خیر کا کام جو ہم آج کے دور میں کرتے ہیں وہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے ہوئے اس سے دھرے عمل سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے کیونکہ ہم جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے تو اس وقت ہمیں آخرت کی فکر لگی ہوتی تھی ہم دنیا کا خیال بھی نہیں کرتے تھے اور میں آج کے دور میں ۔ہمیں دنیا نے اپنی طرف مائل کر لیا ہے۔

أَنَّهُ ← أبا عبيد الرحمن الحبلي ← شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ، أَنَّهُ ← حَيْوَةُ، ← الْمُقْرِئُ ← أبو علي بشر بن موسى ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ الْقَطِيعِيُّ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10693

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10694

10694 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا بشر بن موسى نا عمر بن سهل نا إسحاق بن الربيع أبو حمزة العطار عن الحسن عن سمرة قال : مثل ابن آدم و فراره من الموت كمثل الثعلب و الأرض و لها عليه دين فانطلق و له عي خصاص حتى انحجر في حجر فلما رفع رأسه قالت له : الأرض عن سبلته يا ثعلب أقص ديني قال : فخرج فانحجر في حجر مثل ذلك و له خصاص و لا يجد من الأرض مفرا و كذلك ابن آدم لا يجد من الموت مفرا أينما توجه لم يجد من الموت مفرا و هذا موقوف و روي مرفوعا و ليس بمحفوظ

ہمیں خبر دی ابوز کریا بن ابو اسحٰق نے ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو عمر بن سہل نے ان کو اسحٰق بن ربیع ابوحمزہ عطار نے ان کو حسن نے ان کو سمرہ نے وہ کہتے ہیں کہ ابن آدم کی مثال اور اس کی موت سے بھاگنے کی مثال لو مٹر اور زمین کی سی ہے۔ کہ جیسے زمین کا اس پر قرض ہو اور اس کو زمین میں بل کھودنے کی ضرورت ہو اور وہ کسی بل میں چھپ جائے اور جب وہ اوپر کو سراٹھا کر دیکھے جب اس کو بارش بھی آن گھیرے تو زمین اس سے کہے کہ اے لو مڑ میرا قرض دے دے۔ مگر وہ بھاگ کر کسی اور سراخ اور بل میں گس جائے پھر اس سے نکل کر کسی اور اسی جیسے سراخ میں گھس جائے مگر جہاں جائے زمین سے بچنے کا اس کو کوئی چارہ نہ ہو۔ اسی طرح ابن آدم بھی ہے کہ اس کے پاس بھی موت سے بچنے کا کوئی چارہ نہیں ہے۔ جہاں بھی منہ کرے موت سے نہیں بچ سکتا کہیں بھی اس کے لئے جائے فرار نہیں ہے۔ یہ روایت موقوف ہے اور یہ مرفوع طور پر بھی مروی ہے مگر محفوظ نہیں ہے۔

سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← إسحاق بن الربيع أبو حمزة العطار ← عُمَرُ بْنُ سَهْلٍ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10694

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10695

10695 - أخبرناه أبو حامد أحمد بن أبي خلف الأسفرايني بها نا محمد بن يزداد بن مسعود نا محمد بن أيوب الرازي نا حفص بن عمر نا معاذ بن محمد الهذلي عن يونس بن عبيد عن الحسن عن أبي الحسن عن سمرة بن جندب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل الذي يفر من الموت كالثعلب يطلبه الأرض بدين فجعل يسعى حتى إذا عي و ابتهر دخل حجره فقالت له الأرض : عند سبلته ديني ديني يا ثعلب فخرج له خصاص فلم يزل كذلك حتى انقطعت عنقه فمات

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو حامد احمد بن ابو خلف اسفرائنی نے وہاں پر ان کو محمد بن نیز داد بن مسعود نے ان کو محمد بن ایوب رازی نے ان کو حفص بن عمر نے ان کو معاذ بن محمد ھذلی نے ان کو یونس بن عبید نے ان کو حسن نے ان کو ابوالحسن نے سمرہ بن جندب سے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کی مثال جو موت سے فرار اختیار کرے لومڑے جیسی ہے جس کو زمین قرض کے لئے طلب کرے اور لومڑا اس سے بچنے کے لئے ادھر ادھر بھاگنا شروع کر دے حتی ٰکہ جب بھاگ بھاگ کر تھک جائے تو اپنے سوراخ میں گس جائے اور اس کو بارش بھی مجبور کر دے تو زمین قرض مانگنا شروع کر دے لہٰذا وہ اس بل سے نکل کر بھاگے اور مجبور ہو جائے حتیٰ کہ اسی حالت میں بھاگتے بھاگتے گر کر اس کی گردن ٹوٹ جاتی ہے اور وہ مر جاتا ہے۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبِي الْحَسَنِ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← مُعَاذُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهُذَلِيُّ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ ← محمد بن يزداد بن مسعود ← أبو حامد أحمد بن أبي خلف الاسفرايني بها

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10695

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10696

10696 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا الحسن بن علي بن عفان نا أبو أسامة قال مسعر : حدثني عن زياد بن علاقة قال : قال عبد الله بن عمرو : و الله لوددت أني هذه السارية

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسین بن علی بن عفان نے ان کو ابو اسامہ نے ۔ مسعر نے کہا مجھے حدیث بیان کی ہے زیاد بن علاقہ نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عبد اللہ بن عمرو نے اللہ کی قسم البتہ میں چاہتا ہوں کہ میں یہ ستون ہوتا۔ (یعنی حساب وکتاب سے بچ جاتا ۔)

عبد الله بن عمرو و الله لوددت أني هذه السارية ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← مِسْعَرٍ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10696

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10697

10697 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو بكر أحمد بن سعيد المصري بمكة أنا أبو بكر بن أبي موسى نا محمد بن عبد الرحمن بن سهم نا عبد الله بن المبارك نا يونس بن يزيد عن الزهري عن أنس بن مالك قالا : ألا أخبركم بيومين و ليلتين لم تسمع الخلائق بمثلهما أول يوم يجيئك البشير من الله إما برضى الله و إما بسخطه و يوم تقف بين يدي الله يأخذ فيه كتابك إما بيمينك و إما بشمالك و ليلة يبيت الميت في قبره و لم يبت قبلها مثلها و ليلة صبيحتها يوم القيامة ليس بعدها ليلة هكذا روي موقوفا

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابو بکر احمد بن سعید مصری نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو بکر بن ابو موسیٰ نے ان کو محمد بن عبد الرحمٰن بن ہاشم نے ان کو عبد اللہ بن مبارک نے ان کو یونس بن یزید نے زہری سے اس نے انس بن مالک سے دونوں نے کہا کیا میں آپ کو نہ بتاؤں دو دنوں اور دوراتوں کے بارے میں کہ ان جیسی کبھی مخلوقات نے نہ دیکھی ہیں نہ کبھی سنی ہیں پہلا تو وہ دن جب تیرے پاس بشارت دینے والا آئے گا اللہ کی طرف سے یا تو اللہ کی رضا کے ساتھ یا اس کی ناراضگی کے ساتھ۔ اور دوسرا وہ دن جب آپ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے اور تیرا اعمال نامہ سامنے آئے گا یا تو دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یا بائیں ہاتھ میں۔ اور ایک وہ رات جب پہلی رات میں قبر میں گذارتا ہے اس سے پہلے اس جیسی رات نہیں گذری ہوتی اور دوسری وہ رات جس کی صبح کو قیامت قائم ہو جائے گی اور اس کے بعد پھر کوئی رات نہیں ہو گی۔ اسی طرح یہ روایت موقوف آئی ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ، ← أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي مُوسَی ← أبو بكر أحمد بن سعيد المصري بمكة ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10697

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10698

10698 - و قد أخبرناه أبو محمد بن يوسف من أصل كتابه فلم يذكر في إسناده يونس بن يزيد و قال : عن الزهري يبلغ به أنس بن مالك : و هذا أشبه و الله أعلم

تحقیق ہمیں خبر دی ہے ابومحمد بن یوسف نے اپنی اصل کتاب میں مگر اس نے اس کی اسناد میں یونس بن یزید کا ذکر نہیں کیا۔ اور فرمایا کہ زہری سے مروی ہے وہ اس کو حضرت انس بن مالک تک پہنچاتے تھے اور یہ اسی طرح زیادہ مناسب اور بہتر ہے واللہ اعلم۔

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10698

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10699

10699 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا بشر بن موسى نا أبو عبد الرحمن المقري نا موسى بن علي قال : سمعت أبي يقول : سمعت عمرو بن العاص يخطب بمصر يقول : ما أبعد هديكم من هدى نبيكم صلى الله عليه و سلم أما هو فكان أزهد الناس في الدنيا و أما أنتم فأرغب الناس فيها

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحاق نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن مقری نے ان کو موسیٰ بن علی نے وہ کہتے ہیں میں نے اپنے والد سے سنا وہ کہتے تھے میں نے سنا عمرو بن العاص سے وہ مصر میں خطبہ دے رہے تھے ۔ فرمارہے تھے ۔ تم لوگوں کی سیرت کس قدر بعید ہے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے بہر حال وہ سب لوگوں سے زیادہ دنیا سے بے رغبت تھے اور بہر حال تم اس میں سب لوگوں سے زیادہ رغبت کرنے والے ہو۔

عمرو بن العاص يخطب بمصر ← أَبِي ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10699

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10700

10700 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الزبير بن عبد الواحد بأسد أباد أخبرني أبو بكر محمد بن القاسم بن مطر قال : سمعت الربيع بن سليمان قال : قال الشافعي : يا ربيع عليك بالزهد فللزهد على الزاهد أحسن من الحلى على المرأة الناهد

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو زبیر بن عبد الواحد نے اسد آباد میں ان کو خبر دی ابو بکرمحمد بن قاسم بن مطر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ربیع بن سلیمان سے وہ کہتے ہیں امام شافعی نے فرمایا اے ربیع تم زہد اور ترک دنیا کو اپنے اوپر لازم کر لو پس البتہ زہد زاہد پر اس سےزیادہ خوبصورت لگتا ہے جس قدر کہ خوبصورت جوڑا خوبصورت لڑکی کو سجتا ہے۔

الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أبو بكر محمد بن القاسم بن مطر ← الزبير بن عبد الواحد بأسد آباد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10700

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10701

10701 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن خالد الحمصي نا بشر بن شعيب بن أبي حمزة عن أبيه شعيب عن أبي الزناد عن الأعرج أنه سمع أبا هريرة يحدث قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تقوم الساعة حتى يتطاول الناس البنيان رواه البخاري عن أبي اليمان عن شعيب

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حمد بن خالد حمصی نے ان کو بشر بن شعیب بن ابوحمزہ نے کو ان کے والد شعیب نے ابوالزناد سے اس نے اعرج سے کہ اس نے سنا حضرت ابو ہریرہ سے وہ حدیث بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ لوگ تعمیرات کرنے اور مکان بنانے میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ اور ایک دوسرے سے سبقت کرنے لگیں گے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے ابوالیمان سے اس نے شعیب سے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← الْأَعْرَجُ أَنَّهُ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← أبيه شعيب ← بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← محمد بن خالد الحمصي، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10701

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10702

10702 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد عبد الرحمن بن إبراهيم المقري و أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي و أبو صادق أحمد بن محمد العطار قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن مكرم نا أبو النضير نا إسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص عن أبيه قال : مررت مع ابن عمر برجل يبني بيتا له فنظرته فقال ابن أخي : لقد رأيتني بنيت على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم بيتا بيدي يكنني من المطر و يظلني من الشمس ما أعانني عليه أحد من خلق الله عز و جل رواه البخاري عن أبي نعيم عن إسحاق

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور ابومحمد عبد الرحمٰن بن ابراہیم مقری نے اور ابو بکر احمد بن حسن قاضی نے اور ابو صادق احمد بن محمد عطار نے انہوں نے کہا ان کو خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو ابو النضیر نے ان کو اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک آدمی کے پاس سے گذرا جو اپنا گھر بنار ہا تھا میں نے حضرت کی طرف دیکھا تو انہوں نے فرمایا اے بھتیجے آپ نے مجھے دیکھا تھا کہ میں نے عہد رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے ہاتھ سے اپنا گھر بنایا تھا جو مجھے بارش سے بچاتا اور مجھے دھوپ سے سایہ بھی فرائم کرتا تھا اس کے بنانے میں اللہ کی مخلوق میں سے کسی نے بھی میری امانت اور امداد نہیں کی تھی۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے ابو نعیم سے اس نے اسحاق سے۔

أَبِيهِ ← إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ← أبو النضير ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10702

chevron_left Previous
1…383940…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood