شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10691
10691 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الله إسحاق بن محمد السوسي و أبو سعيد بن أبي عمرو قالوا : نا أبو العباس الأصم نا بحر بن نصر أنا بشر بن بكر أخبرني الأوزاعي عن ابن سيرين أنه قال : سمعت أبا هريرة يقول لابنته : لا تلبسي الذهب فإني أخشى عليك اللهب
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور ابو عبد اللہ اسحاق بن محمد سوسی سے اس نے ابو سعید بن ابوعمرو سے انہوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو بشر بن بکر نے ان کو خبر دی اوزاعی نے ان کو ابن سیرین نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا تھا وہ اپنی بیٹی کو فرمارہے تھے بیٹی سونا نہ پہننا میں تمہارے اوپر جہنم کی آگ کے شعلوں سے ڈرتا ہوں۔
أَبَا هُرَيْرَةَ ← ابْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10691
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10692
10692 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا أبو سهل بن زياد نا إسماعيل القاضي نا سليمان بن حرب نا حماد بن زيد عن ابن عون عن عبيد بن باب قال : مررنا بأبي هريرة قال : أين تريد قال : السوق قال : إن استطعت أن تشتري الموت فاشتره
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل سے اس نے ابو سہل بن زیاد سے اس نے اسماعیل قاضی سے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو حماد بن زید نے ان کو ابن عون نے ان کو عبید بن باب نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابو ہریرہ کے پاس تھے انہوں نے پوچھا کہ تم کہاں جاتے ہو۔ بتایا کہ بازار جاتا ہوں۔ ابوہریرہ نے فرمایا اگر تم موت خرید سکو تو اسے ضرور خرید کر لینا۔
إن استطعت أن تشتري الموت فاشتره ← السوق ← أين تريد ← مررنا بأبي هريرة ← عبيد بن باب ← ابْنِ عَوْنٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10692
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10693
10693 - أخبرنا أبو الفوارس الحسن بن أحمد بن أبي الفوارس ببغداد و أبو أحمد الحسين بن علوشا الأسد أبادي بها قالا : أنا أحمد بن جعفر بن حمدان القطيعي نا أبو علي بشر بن موسى نا المقري نا حيوة أخبرني شرحبيل بن شريك أنه سمع أبا عبيد الرحمن الحبلي يقول : أنه سمع عبد الله بن عمرو بن العاص لخير أعمله اليوم أحب إلي من مثليه مع رسول الله صلى الله عليه و سلم لأنا كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم تهمنا الآخرة و لا تهمنا الدنيا و أنا اليوم قد مالت بنا الدنيا
ہمیں خبر دی ابو الفوارس حسن بن احمد بن ابو الفوارس نے بغداد میں اور ابو احمد بن حسین بن علوشا اسدی آبادی نے وہاں پر دونوں نے کہا ہمیں خبر دی احمد بن جعفر بن حمدان قطیعی نے ان کو ابو علی بشر بن موسیٰ نے ان کو مقری نے ان کو حیوۃ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی شرحبیل بن شریک نے اس نے سنا ابو عبد الرحمٰن حبلی نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے کہ البتہ کوئی خیر کا کام جو ہم آج کے دور میں کرتے ہیں وہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے ہوئے اس سے دھرے عمل سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے کیونکہ ہم جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے تو اس وقت ہمیں آخرت کی فکر لگی ہوتی تھی ہم دنیا کا خیال بھی نہیں کرتے تھے اور میں آج کے دور میں ۔ہمیں دنیا نے اپنی طرف مائل کر لیا ہے۔
أَنَّهُ ← أبا عبيد الرحمن الحبلي ← شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ، أَنَّهُ ← حَيْوَةُ، ← الْمُقْرِئُ ← أبو علي بشر بن موسى ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ الْقَطِيعِيُّ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10693
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10694
10694 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا بشر بن موسى نا عمر بن سهل نا إسحاق بن الربيع أبو حمزة العطار عن الحسن عن سمرة قال : مثل ابن آدم و فراره من الموت كمثل الثعلب و الأرض و لها عليه دين فانطلق و له عي خصاص حتى انحجر في حجر فلما رفع رأسه قالت له : الأرض عن سبلته يا ثعلب أقص ديني قال : فخرج فانحجر في حجر مثل ذلك و له خصاص و لا يجد من الأرض مفرا و كذلك ابن آدم لا يجد من الموت مفرا أينما توجه لم يجد من الموت مفرا و هذا موقوف و روي مرفوعا و ليس بمحفوظ
ہمیں خبر دی ابوز کریا بن ابو اسحٰق نے ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو عمر بن سہل نے ان کو اسحٰق بن ربیع ابوحمزہ عطار نے ان کو حسن نے ان کو سمرہ نے وہ کہتے ہیں کہ ابن آدم کی مثال اور اس کی موت سے بھاگنے کی مثال لو مٹر اور زمین کی سی ہے۔ کہ جیسے زمین کا اس پر قرض ہو اور اس کو زمین میں بل کھودنے کی ضرورت ہو اور وہ کسی بل میں چھپ جائے اور جب وہ اوپر کو سراٹھا کر دیکھے جب اس کو بارش بھی آن گھیرے تو زمین اس سے کہے کہ اے لو مڑ میرا قرض دے دے۔ مگر وہ بھاگ کر کسی اور سراخ اور بل میں گس جائے پھر اس سے نکل کر کسی اور اسی جیسے سراخ میں گھس جائے مگر جہاں جائے زمین سے بچنے کا اس کو کوئی چارہ نہ ہو۔ اسی طرح ابن آدم بھی ہے کہ اس کے پاس بھی موت سے بچنے کا کوئی چارہ نہیں ہے۔ جہاں بھی منہ کرے موت سے نہیں بچ سکتا کہیں بھی اس کے لئے جائے فرار نہیں ہے۔ یہ روایت موقوف ہے اور یہ مرفوع طور پر بھی مروی ہے مگر محفوظ نہیں ہے۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10694
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10695
10695 - أخبرناه أبو حامد أحمد بن أبي خلف الأسفرايني بها نا محمد بن يزداد بن مسعود نا محمد بن أيوب الرازي نا حفص بن عمر نا معاذ بن محمد الهذلي عن يونس بن عبيد عن الحسن عن أبي الحسن عن سمرة بن جندب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل الذي يفر من الموت كالثعلب يطلبه الأرض بدين فجعل يسعى حتى إذا عي و ابتهر دخل حجره فقالت له الأرض : عند سبلته ديني ديني يا ثعلب فخرج له خصاص فلم يزل كذلك حتى انقطعت عنقه فمات
ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو حامد احمد بن ابو خلف اسفرائنی نے وہاں پر ان کو محمد بن نیز داد بن مسعود نے ان کو محمد بن ایوب رازی نے ان کو حفص بن عمر نے ان کو معاذ بن محمد ھذلی نے ان کو یونس بن عبید نے ان کو حسن نے ان کو ابوالحسن نے سمرہ بن جندب سے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کی مثال جو موت سے فرار اختیار کرے لومڑے جیسی ہے جس کو زمین قرض کے لئے طلب کرے اور لومڑا اس سے بچنے کے لئے ادھر ادھر بھاگنا شروع کر دے حتی ٰکہ جب بھاگ بھاگ کر تھک جائے تو اپنے سوراخ میں گس جائے اور اس کو بارش بھی مجبور کر دے تو زمین قرض مانگنا شروع کر دے لہٰذا وہ اس بل سے نکل کر بھاگے اور مجبور ہو جائے حتیٰ کہ اسی حالت میں بھاگتے بھاگتے گر کر اس کی گردن ٹوٹ جاتی ہے اور وہ مر جاتا ہے۔
سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبِي الْحَسَنِ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← مُعَاذُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهُذَلِيُّ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ ← محمد بن يزداد بن مسعود ← أبو حامد أحمد بن أبي خلف الاسفرايني بها
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10695
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10696
10696 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا الحسن بن علي بن عفان نا أبو أسامة قال مسعر : حدثني عن زياد بن علاقة قال : قال عبد الله بن عمرو : و الله لوددت أني هذه السارية
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسین بن علی بن عفان نے ان کو ابو اسامہ نے ۔ مسعر نے کہا مجھے حدیث بیان کی ہے زیاد بن علاقہ نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عبد اللہ بن عمرو نے اللہ کی قسم البتہ میں چاہتا ہوں کہ میں یہ ستون ہوتا۔ (یعنی حساب وکتاب سے بچ جاتا ۔)
عبد الله بن عمرو و الله لوددت أني هذه السارية ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← مِسْعَرٍ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10696
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10697
10697 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو بكر أحمد بن سعيد المصري بمكة أنا أبو بكر بن أبي موسى نا محمد بن عبد الرحمن بن سهم نا عبد الله بن المبارك نا يونس بن يزيد عن الزهري عن أنس بن مالك قالا : ألا أخبركم بيومين و ليلتين لم تسمع الخلائق بمثلهما أول يوم يجيئك البشير من الله إما برضى الله و إما بسخطه و يوم تقف بين يدي الله يأخذ فيه كتابك إما بيمينك و إما بشمالك و ليلة يبيت الميت في قبره و لم يبت قبلها مثلها و ليلة صبيحتها يوم القيامة ليس بعدها ليلة هكذا روي موقوفا
ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابو بکر احمد بن سعید مصری نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو بکر بن ابو موسیٰ نے ان کو محمد بن عبد الرحمٰن بن ہاشم نے ان کو عبد اللہ بن مبارک نے ان کو یونس بن یزید نے زہری سے اس نے انس بن مالک سے دونوں نے کہا کیا میں آپ کو نہ بتاؤں دو دنوں اور دوراتوں کے بارے میں کہ ان جیسی کبھی مخلوقات نے نہ دیکھی ہیں نہ کبھی سنی ہیں پہلا تو وہ دن جب تیرے پاس بشارت دینے والا آئے گا اللہ کی طرف سے یا تو اللہ کی رضا کے ساتھ یا اس کی ناراضگی کے ساتھ۔ اور دوسرا وہ دن جب آپ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے اور تیرا اعمال نامہ سامنے آئے گا یا تو دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یا بائیں ہاتھ میں۔ اور ایک وہ رات جب پہلی رات میں قبر میں گذارتا ہے اس سے پہلے اس جیسی رات نہیں گذری ہوتی اور دوسری وہ رات جس کی صبح کو قیامت قائم ہو جائے گی اور اس کے بعد پھر کوئی رات نہیں ہو گی۔ اسی طرح یہ روایت موقوف آئی ہے۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ، ← أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي مُوسَی ← أبو بكر أحمد بن سعيد المصري بمكة ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10697
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10698
10698 - و قد أخبرناه أبو محمد بن يوسف من أصل كتابه فلم يذكر في إسناده يونس بن يزيد و قال : عن الزهري يبلغ به أنس بن مالك : و هذا أشبه و الله أعلم
تحقیق ہمیں خبر دی ہے ابومحمد بن یوسف نے اپنی اصل کتاب میں مگر اس نے اس کی اسناد میں یونس بن یزید کا ذکر نہیں کیا۔ اور فرمایا کہ زہری سے مروی ہے وہ اس کو حضرت انس بن مالک تک پہنچاتے تھے اور یہ اسی طرح زیادہ مناسب اور بہتر ہے واللہ اعلم۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10698
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10699
10699 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا بشر بن موسى نا أبو عبد الرحمن المقري نا موسى بن علي قال : سمعت أبي يقول : سمعت عمرو بن العاص يخطب بمصر يقول : ما أبعد هديكم من هدى نبيكم صلى الله عليه و سلم أما هو فكان أزهد الناس في الدنيا و أما أنتم فأرغب الناس فيها
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحاق نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن مقری نے ان کو موسیٰ بن علی نے وہ کہتے ہیں میں نے اپنے والد سے سنا وہ کہتے تھے میں نے سنا عمرو بن العاص سے وہ مصر میں خطبہ دے رہے تھے ۔ فرمارہے تھے ۔ تم لوگوں کی سیرت کس قدر بعید ہے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے بہر حال وہ سب لوگوں سے زیادہ دنیا سے بے رغبت تھے اور بہر حال تم اس میں سب لوگوں سے زیادہ رغبت کرنے والے ہو۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10699
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10700
10700 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الزبير بن عبد الواحد بأسد أباد أخبرني أبو بكر محمد بن القاسم بن مطر قال : سمعت الربيع بن سليمان قال : قال الشافعي : يا ربيع عليك بالزهد فللزهد على الزاهد أحسن من الحلى على المرأة الناهد
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو زبیر بن عبد الواحد نے اسد آباد میں ان کو خبر دی ابو بکرمحمد بن قاسم بن مطر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ربیع بن سلیمان سے وہ کہتے ہیں امام شافعی نے فرمایا اے ربیع تم زہد اور ترک دنیا کو اپنے اوپر لازم کر لو پس البتہ زہد زاہد پر اس سےزیادہ خوبصورت لگتا ہے جس قدر کہ خوبصورت جوڑا خوبصورت لڑکی کو سجتا ہے۔
الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أبو بكر محمد بن القاسم بن مطر ← الزبير بن عبد الواحد بأسد آباد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10700
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10701
10701 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن خالد الحمصي نا بشر بن شعيب بن أبي حمزة عن أبيه شعيب عن أبي الزناد عن الأعرج أنه سمع أبا هريرة يحدث قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تقوم الساعة حتى يتطاول الناس البنيان
رواه البخاري عن أبي اليمان عن شعيب
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حمد بن خالد حمصی نے ان کو بشر بن شعیب بن ابوحمزہ نے کو ان کے والد شعیب نے ابوالزناد سے اس نے اعرج سے کہ اس نے سنا حضرت ابو ہریرہ سے وہ حدیث بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ لوگ تعمیرات کرنے اور مکان بنانے میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ اور ایک دوسرے سے سبقت کرنے لگیں گے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے ابوالیمان سے اس نے شعیب سے۔
أَبَا هُرَيْرَةَ ← الْأَعْرَجُ أَنَّهُ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← أبيه شعيب ← بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← محمد بن خالد الحمصي، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10701
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10702
10702 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد عبد الرحمن بن إبراهيم المقري و أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي و أبو صادق أحمد بن محمد العطار قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن مكرم نا أبو النضير نا إسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص عن أبيه قال : مررت مع ابن عمر برجل يبني بيتا له فنظرته فقال ابن أخي : لقد رأيتني بنيت على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم بيتا بيدي يكنني من المطر و يظلني من الشمس ما أعانني عليه أحد من خلق الله عز و جل
رواه البخاري عن أبي نعيم عن إسحاق
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور ابومحمد عبد الرحمٰن بن ابراہیم مقری نے اور ابو بکر احمد بن حسن قاضی نے اور ابو صادق احمد بن محمد عطار نے انہوں نے کہا ان کو خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو ابو النضیر نے ان کو اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک آدمی کے پاس سے گذرا جو اپنا گھر بنار ہا تھا میں نے حضرت کی طرف دیکھا تو انہوں نے فرمایا اے بھتیجے آپ نے مجھے دیکھا تھا کہ میں نے عہد رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے ہاتھ سے اپنا گھر بنایا تھا جو مجھے بارش سے بچاتا اور مجھے دھوپ سے سایہ بھی فرائم کرتا تھا اس کے بنانے میں اللہ کی مخلوق میں سے کسی نے بھی میری امانت اور امداد نہیں کی تھی۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے ابو نعیم سے اس نے اسحاق سے۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10702