شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10679
10679 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا عبد الرحمن بن صالح عن مالك بن مغول عن مجاهد قال : مررنا بخربة فقال لي ابن عمر : يا مجاهد قل يا خربة ما فعل أهلك فأجابني ابن عمر فقال : هلكوا و بقيت أعمالهم
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالدنیا نے ان کو عبد الرحمٰن بن صالح نے مالک بن مغول سے اس نے مجاہد سے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ویران جگہ کے پاس سے گذرے تو حضرت ابن عمر نے مجھ سے کہا اے مجاہد اس ویران جگہ سے پوچھئے اے ویرانے کیا کیا ہے تیرے رہنے والوں نے ۔ پھر حضرت ابن عمر نے مجھے خود ہی جواب دیا کہ وہ سب کے سب ہلاک ہو گئے ہیں اور ان کے اعمال باقی رہ گئے ہیں۔ ۱۰۶۸۰ وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابو بکر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی محمد بن حسین نے ان کو قبیصہ نے ان کو سفیان نے حبیب بن ثابت سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ ایک ویران شدہ بستی کے پاس سے گذرے تو کہنے لگے اے ویران شدہ بستی تیرے باسی‘ کہاں ہیں پھر خود ہی اپنے سوال کا جواب دیا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں اور ان کے اعمال باقی رہ گئے ہیں۔
مُجَاهِدٍ ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← عبد الرحمن بن صالح ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10679
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10680
10680 - قال : و أنا أبو بكر حدثني محمد بن الحسين نا قبيصة نا سفيان عن حبيب بن أبي ثابت قال : مر أبو الدرداء بقرية خربة فقال : يا خربة أين أهلك ثم يرد على نفسه ذهبوا و بقيت أعمالهم
وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابو بکر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی محمد بن حسین نے ان کو قبیصہ نے ان کو سفیان نے حبیب بن ثابت سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ ایک ویران شدہ بستی کے پاس سے گذرے تو کہنے لگے اے ویران شدہ بستی تیرے باسی‘ کہاں ہیں پھر خود ہی اپنے سوال کا جواب دیا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں اور ان کے اعمال باقی رہ گئے ہیں۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10680
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10681
10681 - قال : و نا أبو بكر نا هارون بن عبد الله نا سيار نا جعفر نا مالك قال : كان عيسى بن مريم عليه السلام إذا مر بدار و قد مات أهلها وقف عليها فقال : ويح لأربابك الذين يتوارثونك كيف لم يعتبروا فعلك بإخوانهم الماضين
فرماتے ہیں کہ اور ہمیں خبر دی ابو بکر نے ان کو ہارون بن عبد اللہ نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے ان کو مالک نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام جب کسی ایسے گھر کے پاس سے گذرے جس کے باسی مرچکے ہوں تو اس کے پاس رک جاتے تھے اور فرماتے تھے افسوس ہے تیرے ان مالکوں کے لئے جو تیرے وارث بنے ہیں انہوں نے اپنے گذر جانے والے بھائیوں کے ساتھ تیرے کردار اور تیرے روپے سے عبرت کیوں نہ حاصل کی۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10681
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10682
10682 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا محمد بن عبد الملك الدقيقي نا يزيد بن هارون أنا محمد بن عمرو عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب قال : قال أبو واقد الليثي : تابعنا الأعمال فلم نجد شيئا أبلغ في طلب الآخرة من الزهد في الدنيا
ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو محمد بن عبد الملک دقیقی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو واقد لیثی نے کہا ہم نے اعمال کا تحقیقی جائز ہ لیا تو ہم نے طلب آخرت کے لئے دنیا سے زہد و بے رغبتی سے زیادہ مکمل اور کامیاب شئی کوئی نہیں پائی۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10682
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10683
10683 - قال : و أنا أبو سعيد نا جعفر بن محمد نا أبو مسهر نا سعيد بن عبد العزيز قال : قال أبو واقد ما وجدنا شيئا أعود على الأخلاق الإيمان من الزهادة
وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابوسعید نے ان کو جعفر بن محمد نے ان کو ابو مسہر نے ان کو سعید بن عبدالعزیز نے وہ کہتے ہیں کہا ابو واقد نے ایمان کے اخلاق پر زاہد ہونے سے زیادہ اثر انداز ہونے والی ہم نے کوئی چیز نہیں پائی۔
أبو واقد ما وجدنا شيئا أعود على الأخلاق الإيمان من الزهادة ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← اَبُوْ مُسْھِرٍ، ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَبُو سَعِيدٍ ← و،
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10683
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10684
10684 - حدثنا أبو سعد بن أبي عثمان الزاهد الواعظ أنا عبد الله بن عبد ربه الشيرازي بمصر نا أحمد بن محمد بن الفرح نا سعيد بن هاشم نا دحيم قال : قال ابن المبارك : عن عبد الوهاب بن الورد عن سالم بن بشير : أن أبا هريرة بكى في مرضه فقيل له : ما يبكيك فقال : أبكي لبعد سفري و قلة زادي و إني أصبحت في صعود مهبطه على جنة أو نار فلا أدري إلى أيتها يسلك بي
ہمیں خبر دی ابو عثمان زاہد واعظ نے ان کو عبد اللہ بن عبداللہ شیرازی نے مصر میں۔ ان کو احمد بن محمد بن فرح نے ان کو سعید بن ہاشم نے ان کو دحیم نے وہ کہتے ہیں ابن مبارک نے فرمایا کہ عبدالوہاب بن ورد سے مروی ہے اس نے سالم بن بشیر ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے مرض میں رو پڑے تھے ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو کس چیز نے رولایا ہے انہوں نے جواب دیا کہ میں اس لئے رورہا ہوں کہ سفر بعید ہے اور میرے پاس سامان سفر بہت قلیل ہے میں ایسی چڑھائی پر جارہا ہوں جس کا ڈھلوان یا جنت ہوگا یا جہنم اور مجھے معلوم نہیں ہے کہ ان میں سے کون سی چیز کی طرف مجھے لے جایا جائے گا۔
عبد الوهاب بن الورد ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← دُحَيْمٌ، ← سَعِيدُ بْنُ هَاشِمٍ، ← أحمد بن محمد بن الفرح ← عبد الله بن عبد ربه الشيرازي ← أبو سعد بن أبي عثمان الزاهد الواعظ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10684
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10685
10685 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني محمد بن عمرو بن الحكم نا عبد الله بن يزيد المقرىء نا سعيد بن أبي أيوب نا عبد الله بن الوليد عن عبد الرحمن بن حجيرة عن أبي هريرة قال : تعودوا الخير عادة و إياكم و عادة السواف من سوف إلى سوف
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد الله صفار نے ان کو ابوبکر بن ابوالدنیا نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن عمرو بن حکم نے ان کو عبد اللہ بن یزید مقری نے ان کو سعید بن ابو ایوب نے ان کو عبد اللہ بن ولید نے ان کو عبدالرحمٰن بن حجیر ہ نے ان کو ابو ہریرہ نے انہوں نے فرمایا۔ خیر و بھلائی کے کاموں کی عادت بناؤ اور اپنے آپ کو سواف کی عادت سے بچاؤ (یعنی ہاں ہاں کر لیں گے۔ یا اچھا کل کر لیں گے۔ )
تعودوا الخير عادة و إياكم و عادة السواف من سوف إلى سوف ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُجَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عبد الله بن يزِيد المقرىء ← محمد بن عمرو بن الحكم ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10685
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10686
10686 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو سهل بن زياد القطان نا إسماعيل بن إسحاق نا معاذ بن أسد نا عبد الله بن المبارك نا شعبة عن سماك عن أبي الربيع قال : سمعت أبا هريرة و نظر إلى مزبلة فقال : أن هذه لمذهبة دنياكم و آخرتكم
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو سہل بن زیاد قطان نے ان کو اسماعیل بن اسحاق نے ان کو معاذ بن اسد نے کو عبد اللہ بن مبارک نے ان کو شعبہ نے سماک نے اس نے ابوربیع سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے ان گوبر کے ڈھیر کی طرف دیکھ کر فرمایا تھا کہ یہ تمہاری دنیا اور تمہاری آخرت کو لے ڈوبنے والی ہے۔
أن هذه لمذهبة دنياكم و آخرتكم ← أبا هريرة و نظر إلى مزبلة ← أَبِي الرَّبِيعِ ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10686
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10687
10687 - قال : و نا إسماعيل نا الحوطي نا شعبة عن سماك عن أبي الربيع قال : سمعت أبا هريرة يقول : أن هذه الكناسة مهلكة دنياكم و آخرتكم
وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی اسماعیل نے ان کو حوطی نے ان کو خبر دی شعبہ نے ان کو سماک نے ان کو ابو الربیع نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو ہریرہ سے فرماتے تھے یہ کوڑے خانے تمہاری دنیا اور تمہاری آخرت کی ہلاکت و تباہ گاہ ہے
أن هذه الكناسة مهلكة دنياكم و آخرتكم ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي الرَّبِيعِ ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← الْحَوْطِيِّ ← إِسْمَاعِيلُ ← و،
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10687
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10688
10688 - أخبرنا أبو علي الروذباري و حدثنا أبو الحسين بن بشران قالا : نا إسماعيل بن محمد الصفار نا سعدان بن نصر نا يزيد بن هارون أنا هشام عن محمد قال : كنا عند أبي هريرة فتمخط فمسح بردائه و قال : الحمد لله الذي تمخط أبو هريرة في الكتان و لقد رأيتني أني لأخر فيما بين منزل عائشة و بين منبر رسول الله صلى الله عليه و سلم مغشيا علي من الجوع فيمر الرجل فيجلس على صدري فأرفع رأسي فأقول ليس بي الذي ترى إنما هو من الجوع
أخرجه البخاري من حديث أيوب عن ابن سيرين
ہمیں خبر دی ابو علی روذ باری نے اور ہمیں حدیث بیان کی ابوالحسین بن بشران نے ان دونوں نے کہا۔ ان کو خبر دی اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو ہشام نے ان کو محمد نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابو ہریرہ کے پاس بیٹھے تھے انہوں نے اپنی چادر پر کھنکھار ڈالا پھر اس کو مسل دیا۔ اور فرمانے لگے اللہ کا شکر ہے جس نے ابو ہریرہ کوسوتی کپڑے میں تھوکنے دیئے۔ میں نے اپنا وہ وقت بھی دیکھا ہے کہ میں سیدہ عائشہ کے حجرے اور منبر رسول کے درمیان بیہوش ہو کر گر جاتا تھا کوئی گذرنے والا گزرتا اور وہ میرے سینے پر بیٹھ جاتا اور میں اپنا سر اٹھا کر اس سے یہ کہتا کہ مجھے وہ تکلیف نہیں ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں یہ محض بھوک کی وجہ سے ہے۔ اس کو بخاری نے نقل کیا ہے حدیث ایوب سے اس نے ابن سیرین سے۔
مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← أبو علي الروذباري و
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10688
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10689
10689 - أخبرنا أبو الحسن المقري نا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا سليمان بن حرب نا حماد بن زيد ح و أخبرنا أبو الخير جامع بن أحمد المحمد أبادي بها أنا أبو طاهر المحمد أباذي بها نا عثمان بن سعيد نا الزهري أبو الربيع نا حماد بن أيوب عن محمد قال : كنا عند أبي هريرة و عليه ثوبان ممشقان من كتان فتخط فيها و قال : بخ بخ أبو هريرة يتمخط في الكتان و لقد رأيتني أخر فيما بين المنبر و حجرة عائشة مغشيا علي من الجوع فيمر بي المار فيضع رجله على عنقي فيقول الناس : أنه لمجنون و ما بي من جنون إلا الجوع و في رواية سليمان إني لأخر بين منبر رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى حجرة عائشة مغشيا علي فيضع رجله على عنقي و يرى أن بي جنون ما بي من جنون إلا الجوع
رواه البخاري في الصحيح عن سليمان بن حرب عن حماد
ہمیں خبر دی ابوالحسین مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو حماد بن زید نے ’’ح‘‘اور ہمیں خبر دی ابوالخیر جامع بن احمد محمد آبادی نے وہاں پر ان کو ابو طاہر محمد آبادی نے وہاں پر ان کو عثمان بن سعید زہری نے ابوالربیع نے ان کو حماد بن ایوب نے ان کو محمد نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے ان کے جسم پر دو منقش ہوتی چادریں تھیں انہوں نے اس میں بلغم گر ایا اور پھر فرمانے لگے ٹھہر ٹھہر ابو ہریرہ تو کپڑوں میں بلغم تھوکتا ہے۔ قسم خدا میں نے اپنے آپ کو اس وقت بھی دیکھا ہے کہ میں منبر رسول اور سیدہ عائشہ کے حجرے کے درمیان بیہوش ہو کر گر جایا کرتا تھا بھوک کی وجہ سے کوئی گذرنے والا میرے پاس سے گذرتا تو میری گدی پر اپنا پیر رکھ لیتا۔ اور لوگ یہ کہتے کہ یہ پاگل ہے (اس کو جنوں اور پاگل پن کا دورہ پڑ گیا ہے ) حالانکہ مجھے کوئی جنون وغیرہ نہیں ہوتا تھا۔ اور سلمان کی ایک روایت میں یوں ہے کہ میں بیہوش ہو کر گر جایا کرتا تھا منبر رسول سے لے کر حجرۃعائشہ تک کوئی آتا تو وہ اپنا پیر میری گردن پر رکھ لیتا اور وہ یہ خیال کرتا تھا کہ مجھے جنون ہو گیا ہے حالانکہ مجھے بھوک کے علاوہ کوئی جنون وغیرہ نہیں ہوا کرتا تھا۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں سلمان بن حرب سے اس نے حماد سے۔
مُحَمَّدٍ ← حَمَّادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← الزهري أبو الربيع ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو طاهر المحمد أباذي بها ← أبو الخير جامع بن أحمد المحمد أبادي بها ← و، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10689
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10690
10690 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن جعفر نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا حماد بن زيد عن عباس الجريري قال : سمعت أبا عثمان النهدي يقول : سمعت أبا هريرة يقول : قسم رسول الله صلى الله عليه و سلم بين أصحابه تمرا فأصابني سبع تمرات أحداهن حشفه ما كان فيهن شيء أعجب إلي منها لأنها شدت مضاغي
رواه البخاري عن مسدد عن حماد بن زيد
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن جعفر نے ان کو عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو حماد بن زید نے ان کو عباس حریری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نےا بو عثمان نھد دی سے سنا وہ کہتے ہیں کہ اس نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں کھجوریں تقسیم فرما ئیں مجھے سات دانے ملے ان میں سے ایک بغیر گٹھلی والی تھی (خصی تھی ) مجھے ان میں سے وہ زیادہ پسندیدہ تھی کیونکہ وہ میری داڑھوں کو بہت اچھی لگتی تھی۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے مسدد سے اس نے حماد بن زید سے۔
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10690